نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- صوبائی حکومت 5سالہ مدت پوری کرےگی،ترجمان بلوچستان حکومت
  • بریکنگ :- حکومت گرنے سےمتعلق پروپیگنڈاکاحقیقت سےتعلق نہیں،لیاقت شاہوانی
  • بریکنگ :- حکومت میں شامل تمام جماعتیں وزیراعلیٰ جام کمال کیساتھ ہیں،ترجمان
  • بریکنگ :- اپوزیشن ناکام ہوگی،ان کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی،لیاقت شاہوانی
  • بریکنگ :- مخلوط حکومت میں کئی معاملات پراختلافات ہوجاتےہیں،لیاقت شاہوانی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:اختلافات کامقصدحکومت کوگرانانہیں ہوتا،لیاقت شاہوانی
Coronavirus Updates

شہادت حضرت عثمان غنیؓ

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مفتی عبدالرزاق نقشبندی


رسول اللہﷺ کے تمام اصحاب پیکرِ صدق و وفا ،ہدایت کا سرچشمہ اور ظلمتوں کے اندھیرے میں روشنی کا وہ عظیم مینارہیں جن سے جہان ہدایت پاتاہے ،وہ قیامت تک آنے والی نسلِ انسانی کیلئے پیکرِرُشدوہدایت ہیں۔حضرت عثمان غنیؓ کو اللہ تعالیٰ نے عظیم صفات سے متصف فرمایا حیاکا ایساپیکر تھے کہ فرشتے بھی آپؓ سے حیا کرتے تھے۔آپؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں جنت کی بشارت دی۔حضرت حسان بن عطیہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ اے عثمان !اللہ تعالیٰ نے تمہارے اگلے اور پچھلے کام بخش دیئے اور وہ کام جو تم نے پوشیدہ کیے اورجو ظاہر کیے اوروہ جو قیامت تک ہونے والے ہیں ‘‘۔

ایامِ جاہلیت میں بھی آپؓ کا خاندان غیر معمولی وجاہت وحشمت کا حامل تھا۔اُمیہ بن عبدشمس کی طرف نسبت کے سبب آپؓ کا خاندان بنو اُمیہ کہلاتا ہے۔آپؓ کی ولادت عام الفیل سے چھٹے سال ہوئی۔رسول اللہ ﷺ کے اعلانِ نبوت کے بعد آپؓ چوتھے شخص ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا۔

حضرت مرہ بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺنے فتنوں کا بیان کیا،اُس وقت ایک شخص کپڑا اوڑھے ہوئے گزرا ، آپ ؐ نے فرمایا : ’’یہ شخص اُس دن(یعنی فتنوں کے دورمیں) ہدایت پر ہوگا ‘‘،میں نے جاکر دیکھا تو وہ شخص حضرت عثمان غنیؓ تھے۔‘‘ (ترمذی ) 

ہر انسان فطری طور پر دولت سے محبت کرتا ہے۔ مستقبل کیلئے کچھ پس انداز کر رکھنا شرعاً درست ہے ،صدقات وفطرات کے علاوہ اپنے مال سے انفاق فی سبیل اللہ کا بڑا اجر وثواب ہے اور جو دولت اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کی جائے اللہ تعالیٰ اُس کا اجر کئی سو گُنا بڑھا کر عطافرماتا ہے۔سورہ بقرہ کی آیت261تا 266صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائی گئی ہے ،ایک جگہ ارشاد فرمایا:ترجمہ؛’’جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے ،جس نے7 ایسے خوشے اُگائے کہ ہر خوشے میں سودانے ہیں اور اللہ جس کیلئے چاہے ان کو دگنا کردیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا بہت علم والا ہے۔‘‘ (البقرہ:261)صحابہ کرامؓ کی زندگیاں صدق واخلاص وفاشعاری وجاں نثاری کا عملی اظہار ہیں۔حضرت صدیق اکبرؓ اپنا تمام مال راہِ خدا میں لٹادیتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی رضا کو اپنی متاعِ حیات کا بیش بہا خزانہ بنالیتے ہیں ،یہی جذبہ حضرت عمر فاروقؓ وحضرت علی ؓکی زندگی میں نظر آتاہے لیکن حضرت عثمان غنیؓہرمشکل موقع پر اسلام اور عظمتِ اسلام کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرتے نظرآتے ہیں۔صحابہ کرام ؓجو صدق ووفاکا پیکر تھے اور راہِ خدا میں اپنا مال بے دریغ لٹاتے رہے ان آیاتِ قرآنی کی عملی تفسیر ہیں۔مدینہ منورہ میں جب قحط پڑا تو حضرت عثمان غنی ؓ نے اپنا تمام مال صدقہ کردیا ۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں قحط پڑا،اگلے دن صبح یہ خبر ملی کہ حضرت عثمانؓ نے ایک ہزاراونٹ گندم اور اشیائے خوراک کے منگوائے ہیں ، مدینے کے تاجر حضرت عثمان غنیؓکے پاس گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا ، آپؓ گھر سے باہر تشریف لائے ،اس حال میں کہ چادر کاندھوں پر تھی اور اُس کے دونوں سرے مخالف سمت میں کاندھے پر ڈالے ہوئے تھے۔آپؓ نے تاجروں سے پوچھا کس لئے آئے ہو ؟،کہنے لگے : ہمیں خبر ملی ہے کہ آپؓ کے پاس ایک ہزار اونٹ غلے کے آئے ہیں ، آپ اُنہیں ہمارے ہاتھ فروخت کردیجیے تاکہ ہم مدینے کے فقراء پر آسانی کریں ،آپؓ نے کہا: اندر آئو ، پس وہ اندر داخل ہوئے ،تو ایک ہزار تھیلے حضرت عثمانؓ کے گھر میں رکھے ہوئے تھے ،آپؓ نے کہا: اگرمیں تمہارے ہاتھ فروخت کروں، تم مجھے کتنا منافع دوگے ؟۔اُنہوں نے کہا : دس پر بارہ ، آپؓ نے کہا : کچھ اور بڑھائو ،اُنہوں نے کہا دس پر چودہ ، آپ ؓنے کہا: اور بڑھائو ، اُنہوں نے کہا : دس پر پندرہ ،آپ ؓنے کہا: اور بڑھائو ، اُنہوں نے کہا : اِس سے زیادہ کون دے گا جبکہ ہم مدینے کے تاجر ہیں۔آپؓ نے کہا: اور بڑھائو ، ہر درہم پر دس درہم تمہارے لئے زیادہ ہیں۔اُنہوں نے کہا :نہیں ، پھر آپؓ نے کہا: اے گروہِ تجار تم گواہ ہوجائو کہ (یہ تمام مال)میں نے مدینہ کے فقراء پر صدقہ کردیا۔ حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رات گزری رسول اللہ ﷺ میرے خواب میں تشریف لائے ، آپ ﷺ سیاہی مائل سفید سواری پر تشریف فرماتھے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ عثمان نے ایک ہزار اونٹ اللہ کی راہ میں صدقہ کیے اور اللہ تعالیٰ نے اُسے قبول فرمایا۔‘‘ (اِزالۃ الخفاء، جلد2، ص: 224)

حضرت عثمان غنیؓکے 12 سالہ دورِ خلافت میں اسلامی سلطنت کادائرہ وسیع ہوتاگیا ، آذربائیجان ،آرمینیا ،طرابلس ،الجزائر اور مراکش فتح ہوئے۔ 28ھ میں بحیرۂ روم میں شام کے قریب قبرص بحری جنگ کے ذریعے فتح کیا ،30ھ میں طبرستان ، 33ھ میں قسطنطنیہ سے متصل مرودر، طالستان اور جوزجان فتح ہوئے  فتوحات کا یہ سلسلہ آپؓ کی شہادت کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا۔ آپؓکے دورِ خلافت کے اخیر حصے میں فتنوں اور سازشوں نے سر اٹھا لیا کابل سے مراکش تک مفتوحہ علاقوں میں مختلف مذاہب کی ماننے والی سینکڑوں اقوام آباد تھیں فطری طورپر مسلمانوں کے خلاف انتقامی جذبات اُن میں موجودتھے ،نتیجتاً مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بچھایا گیاجس میں یہودی اور مجوسی پیش پیش تھے۔اِسی سازش کے نتیجے میں بصرہ ، کوفہ اور مصر سے تقریباً  2 ہزار فتنہ پرداز (باغی) اپنے مطالبات منوانے کیلئے مدینہ پہنچے ، حضرت عثمان غنی ؓ کے مکان کا محاصرہ کرلیا جو 40روزتک جاری رہا ،باغیوں نے کھانا پانی سب جانے کے راستے بند کر دیئے ۔ حضرت ام حبیبہؓنے کچھ کھانے پینے کی چیزیں پہنچانے کی کوشش کی تو باغیوں نے مزاحمت کی اور اُنہیں واپس کردیا۔حالات کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے حضرت علی ؓنے حضرات حسنین کریمین ؓکو حضرت عثمانؓکی حفاظت کیلئے بھیج دیا ، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ بھی جانثاروں کے ساتھ حضرت عثمانؓ کے گھر میں موجود تھے ۔ محاصرے کے دوران حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے عرض کی کہ آپؓ کے حامیوں کی عظیم جماعت یہاں موجود ہے ،ان باغیوں کو نکال باہر کیجیے۔دوسری صورت یہ ہے کہ پچھلی جانب سے مکہ چلے جائیں ،مکہ حرم ہے وہاں یہ آپؓ پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرسکیں گے۔

حضرت عثمان غنیؓ نے پہلی صورت کا جواب یہ دیاکہ اگر میں باہر نکل کر ان سے جنگ کروں تو میں اس اُمّت کا وہ پہلا خلیفہ نہیں بننا چاہتا جو اپنی حکومت کی بقا ء کیلئے مسلمانوں کا خون بہائے ،دوسری صورت کا جواب دیاکہ مجھے ان لوگوں سے یہ توقع نہیں ہے کہ یہ حرم مکہ کی حرمت کا کوئی لحاظ رکھیں گے اور میں نہیں چاہتاکہ میری وجہ سے اس مقدّس شہر کی حرمتیں پامال ہوں اور میں دارالہجرت اور دیارِ رسولؐ کو چھوڑ کر کہیں بھی نہیں جانا چاہتا۔(مسند امام احمد بن حنبل )

حضرت زید بن ثابتؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ نے آکر جنگ کی اجازت چاہی کہ انصار دروازے پر منتظر کھڑے ہیں ۔آپؓ نے اُنہیں منع کر دیا ، اگرآپؓ کا محاصرہ کرنے والے 2ہزار سے بھی کم افراد تھے تو آپؓکے مکان کے اندر اور باہر آپؓ کے جانثار اس سے کہیں زیادہ تعداد میں تھے ،آخری وقت تک یہ سب آپؓ سے اجازت طلب کرتے رہے کہ ہم باغیوں کا مقابلہ کریں گے اور اُن کا محاصرہ توڑیں گے ،لیکن آپؓ نے اس کی اجازت نہ دی۔آپؓ کا ایک ہی جواب تھا : ’’میں اپنی ذات یا اپنی خلافت کی خاطر مسلمانوں کی تلواریں باہم ٹکراتے نہیں دیکھ سکتا ‘‘ جمعۃ المبارک 18 ذوالحجہ 35ھ کو آپ ؓنے خواب میں دیکھاکہ رسول اللہﷺ اور حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓتشریف فرما ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرمارہے ہیں ’’عثمان جلدی کرو ،ہم تمہارے افطار کے منتظر ہیں۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’ عثمان آج جمعہ میرے ساتھ پڑھنا ۔‘‘ (طبقات ابن سعد)بیدار ہوکر آپؓ نے لباس تبدیل کیا اور قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہوگئے ،تھوڑی دیر بعد باغیوں نے حملہ کیا اور آپؓ کو تلاوت کرتے ہوئے شہید کردیا ،اس وقت آپؓ سورہ بقرہ کی آیت: 137 ترجمہ؛ ’’تمہارے لئے اللہ کافی ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ کی تلاوت فرما رہے تھے۔حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت اور عظمت پر لاکھوں سلام ،کہ آپؓ نے اپنی ذات اور خلافت کے دفاع کیلئے مدینہ کی سرزمین اور مسلمانوں کی حرمت کو پامال نہ ہونے دیا۔جانثار آپؓ پر قربان ہونے کی اجازت طلب کرتے رہے لیکن آپؓ نے اجازت نہ دی۔

آپؓ کی شہادت 18ذی الحجہ سن35ھ میں ہوئی۔ یہ جمعہ کے دن عصر کا وقت تھا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

لکڑہارے کی ایمانداری (آخری قسط)

بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔؟ لکڑہارے نے بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ اس کے پاس ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔ لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے ۔ لکڑہارا بدستور آوازیں نکالتا رہا ۔اچانک ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔

سچ جھوٹ

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے لبنان میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہاں کے لوگوں کو اپنے بادشاہ سے بہت محبّت تھی۔ بادشاہ بھی رعایا کا بیحد خیال رکھتا تھا۔ وہ اپنے بزرگوں کی تقلید کرتے ہوئے روزانہ سادہ کپڑوں میں شہر کی گلیوں میں گھوم پھر کر لوگوں کے بارے میں معلوم کرتا تھا کہ لوگ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر کوئی دُکھی ہوتا تو بادشاہ اس کی مدد بھی کر دیا کرتا۔

بچوں کی نفسیات : والدین اور اساتذہ کا کردار(تیسری قسط)

بچوں کی صحیح سمت میں تربیت کیلئے کے لیے اُن کی نفسیات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے لئے بنیادی شرط بچوں سے قریبی تعلق ہے اور اس قربت کے ساتھ ساتھ ان سے بے پناہ لگائو بھی ہے۔

پہیلیاں

پہیلی ۱۔مٹی سے نکلی اک گوریسر پر لیے پتوں کی بوریجواب :مولی

ذرا مُسکرائیے

ٹھنڈا پانی سخت سردی ک موسم تھا۔ ایک بیوقوف مسلسل پانی بھرے جارہا تھا۔ ایک صاحب نے پوچھا’’ تم صبح سے اتنا پانی کیوں بھر رہے ہو۔ آخر اتنے پانی کا کیا کرو گے؟‘‘بیوقوف بولا:’’ پانی بہت ٹھنڈا ہے، گرمیوں میں کام آئے گا‘‘۔

اسلام میں کسب حلال کی فضیلت

حضور پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے