نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- امریکی براڈکاسٹ جرنلسٹ گلین بیک کی وزیراعظم عمران خان کی تعریف
  • بریکنگ :- افغانستان میں انسانی جانیں یقینی موت کےخدشات سےدوچارتھیں،گلین بیک
  • بریکنگ :- کل ٹی وی شومیں عمران خان سےخط کےتبادلےکاتذکرہ کروں گا،گلین بیک
  • بریکنگ :- ہم نےکئی ممالک کےوزرائےاعظم کوخط لکھ کرمددکاتقاضاکیا،گلین بیک
  • بریکنگ :- بہت سےممالک کےوزرائےاعظم نےمختصرجواب دیا،گلین بیک
  • بریکنگ :- عمران خان نےمذہب،نسل اورثقافت سےمبراہوکرپہل کی،گلین بیک
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان نےفوری اورمثبت جواب دیا،گلین بیک
  • بریکنگ :- کسی اورعالمی لیڈرنےاس طرح کی پہل نہیں کی،گلین بیک
  • بریکنگ :- عمران خان کی مددسے 3 جہازمزارشریف سےلوگوں کونکالنےمیں کامیاب ہوئے،گلین بیک
  • بریکنگ :- عمران خان کی کوشش اورپاک فوج کی سپورٹ سےطالبان نےجہازریلیزکیے،گلین بیک
  • بریکنگ :- آپ کوافغانستان سےانخلاکی مزیدکہانیاں بھی سننےکوملیں گی،گلین بیک
  • بریکنگ :- لوگوں کی جانیں بچانے کیلئےعمران خان کاقیمتی وقت کام آیا،گلین بیک
  • بریکنگ :- عمران خان پردوسرےمیڈیا کی تنقیدان کااپناایجنڈاہوسکتاہے، گلین بیک
  • بریکنگ :- فیفا،فٹبال ٹیم،خواتین کاانخلاعمران خان کی کوششوں سےہوا،گلین بیک
  • بریکنگ :- ان خدمات نےامریکا،اتحادیوں کووعدےپورےکرنےکےقابل بنایا،گلین بیک
  • بریکنگ :- وزیراعظم پاکستان نےبغیرکسی وقفےیاسوچ بچار کےان کی مددکی،گلین بیک
Coronavirus Updates

خیبر پختونخوا کابینہ میں پھر اکھاڑ پچھاڑ

خصوصی ایڈیشن

تحریر : عابد حمید


خیبرپختونخوا میں اختیارات کی کشمکش پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے آغاز سے ہی چل رہی ہے ۔گورنر شاہ فرمان اور وزیراعلیٰ محمود خان بظاہر ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں لیکن دیکھا جائے تو اختیارات کا منبع گورنر ہائوس ہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بنتے ہی پہلا تنازعہ سابق آئی جی پولیس صلاح الدین محسود کے تبادلے کے وقت پیش آیا۔ ایک شخصیت تبادلہ نہیں چاہتی تھی لیکن دوسری شخصیت کا پلڑا بھاری نکلا اسی طرح کابینہ سے دیگر افراد بھی ایک شخصیت کی پسند وناپسند سے باہر کئے گئے۔ دوسری جانب گورنر شاہ فرمان نے ثالثی کا کردار بھی بخوبی ادا کیا۔

وزیراعلیٰ محمود خان اور عاطف خان کے مابین اختلافات اس وقت عروج پر پہنچ گئے تھے جب وزیراعلیٰ نے عاطف خان کو شہرام ترکئی سمیت کابینہ سے نکال باہر کیا ،یہ دونوں وزراء طویل عرصے تک کابینہ سے باہر رہے ،تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر گورنر شاہ فرمان آگے آئے اور اس بار انہوں نے ثالثی کا کردار بخوبی ادا کیا ۔ عاطف خان اور وزیراعلیٰ محمود خان کو ایک ہی میز پر بٹھایا،دونوں کے گلے شکوے دور کئے جس کے بعد عاطف خان کابینہ میں واپسی پر رضامند ہوئے لیکن اب ایک بارپھر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے اپنی ٹیم میں ایک بارپھر تبدیلی کی ہے اور صوبائی وزیر بہبود ہشام انعام اللہ اور مشیر قلندر لودھی سے نہ صرف قلمدان واپس لے لئے ہیں بلکہ ان کو کابینہ سے بھی فارغ کردیاہے ،ابتداء میں تو اسے کابینہ میں معمول کاردوبدل سمجھا گیا جو پہلے ہی سے متوقع تھا لیکن بعدازاں ہشام انعام اللہ کی جانب سے وزیراعلیٰ کے نام لکھے گئے خط نے معاملے کا رخ بدل دیا۔ ہشام انعام اللہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو لکھے گئے خط میں انہیں کابینہ سے نکالنے کی تمام تر ذمہ داری گورنر شاہ فرمان اور وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور پر ڈال دی۔ ہشام انعام اللہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہاگیا تھا کہ وہ گورنر شاہ فرمان اور علی امین گنڈا پورکو ابتداء ہی سے ناپسند رہے ہیں۔ انہیں کابینہ سے نکالنے کی کوششیں کی جارہی تھیں اور بالآخر وہ اس میں کامیاب رہے ۔یہ ایک سنگین الزام ہے جو ایک سابق صوبائی وزیر کی جانب سے گورنر اور وفاقی وزیر پر لگایاگیا ہے۔ اس حوالے سے گورنر شاہ فرمان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ ہشام انعام اللہ کا تعلق لکی مروت سے ہے، اس سے قبل ان کے پاس صحت کا محکمہ تھا جس میں انہوں نے بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کی کوشش کی تھی تاہم انہیں ڈاکٹروں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرناپڑا بالآخر ان کی وزارت تبدیل کردی گئی تھی اور انہیں سماجی بہبود کا محکمہ دیدیاگیا تھا۔ اس محکمے میں بھی وہ انتھک محنت کررہے تھے اس سے قبل بھی ہشام انعام اللہ کو کابینہ سے باہر کرنے کی خبریں آئی تھیں لیکن وہ خود کو بچانے میں کامیاب رہے تھے۔ لیکن یوں لگتاہے کہ وفاق اور صوبے کی دو طاقتور شخصیات سے تصادم اس بار انہیں مہنگا پڑا۔ وزیراعلیٰ محمود خان پر وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کے بھائی فیصل امین گنڈاپور اور سپیکر اسد قیصر کے بھائی کو بھی وزارتیں دینے کیلئے شدید دبائو کا سامنا ہے۔ تجزیہ کار کابینہ میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کو بھی اسی سے جوڑ رہے ہیں لیکن ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ گورنر ہا ئوس اس وقت بھی صوبے میں طاقت کا مرکز ہے۔ اس کا بخوبی اندازہ سینیٹ انتخابات میں امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر بھی ہوگیا تھا جہاں وزیراعلیٰ کے بجائے گورنر شاہ فرمان کا عمل دخل زیادہ رہا ۔ یقینا وزیراعلیٰ محمود خان بھی اس صورتحال سے خوش نہیں ہوں گے لیکن وہ اس معاملے پر کھل کر نہیں بول رہے ۔ہشام انعام اللہ کے خط سے ایک اور بات واضح ہوگئی ہے کہ یہ خط انہوں نے دوپہر کو وزیراعلیٰ کو لکھا تھا جس میں واضح کیاگیاتھا کہ اسی خط کو ان کا استعفیٰ بھی سمجھا جائے، اس کے باوجود کہ ان کا استعفیٰ منظور کیاجاتا انہیں پھر بھی برطرف کیاگیا جو انتہائی اچھنبے کی بات ہے۔ اس طریقے سے شاید ہشام انعام اللہ کو ’’زوربازو‘‘ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔سوات سے تعلق رکھنے والے 2 مشیر ایسے بھی ہیں کہ جنہیں کب کا فارغ کردیاجاناچاہئے تھا ان دونوں مشیروں کے بارے میں متعدد رپورٹس بھی وزیراعلیٰ کو پیش کی جاچکی ہیں لیکن وہ بدستور اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں ،ان وزیر اور مشیروں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر ان کے کریڈٹ پر کچھ ہے تو صرف ان کا تعلق وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع سے ہونا ہے،اسی طرح سپیکر ،وفاقی وزراء کے بھائی اور بیٹے بھی اس کابینہ میں شامل ہیں جن کو صرف ان شخصیات کو خوش رکھنے کیلئے رکھا گیا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو اگلے 2 سال تک جو الیکشن کے سال ہیں پی ٹی آئی کے پاس کچھ نہیں رہے گا۔ خطے کے سیاسی حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ ہمسایہ ملک افغانستان میں حالات انتہائی غیر متوقع ہیں جس کے یقینی طورپر اثرات خیبرپختونخوا پر بھی پڑیں گے اس میں کوئی شک نہیں کہ سرحدوں کے حوالے سے معاملات وفاق کی ذمہ داری ہے لیکن اگر افغانستان سے نقل مکانی ہوتی ہے تو اس کے یقینی طورپر اثرات خیبرپختونخوا پر بھی پڑیں گے ۔ان تمام تر حالات میں خیبرپختونخوا میں ایسی مضبوط قیادت ضروری ہے جو فوری فیصلے کرسکے ،وفاق کے ساتھ مشاورت کرے اور کسی بھی ایمرجنسی صورتحال کو سنبھال سکے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں صوبائی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی بجائے ایک دوسرے سے ہی الجھ پڑی ہیں ، جے یو آئی اور اے این پی کی ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری جاری ہے پی ڈی ایم کی چھتری تلے کچھ عرصے تک حکومت کو للکارنے والی دونوں جماعتیں اب ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں ۔ اس معاملے کی ابتداء جے یو آئی کے جنوبی وزیرستان کے جلسے سے ہوئی جہاں مولانا فضل الرحمن نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اے این پی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس پر اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار نے جے یو آئی پر پرویز مشرف اور انتہا پسندوں کے حمایتی ہونے کا الزام عائد کیا ،جس کے بعد دونوں جماعتوں کی جانب سے لفظی گولہ باری شروع ہو گئی اور دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے قائدین پر مختلف الزامات عائد کئے ۔جنوبی وزیرستان میں جمعیت علمائے اسلام کا مضبوط ووٹ بنک ہے۔ اے این پی بھی قوم پرست جماعت ہونے کی حیثیت سے اس علاقے میں مضبوط پوزیشن کی دعویدار ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ دونوں جماعتیں حکومت کو بھول کر ایک دوسرے پر حملے کررہی ہیں اور حکومت کیلئے فی الحال چین ہی چین والی صورتحال ہے ۔ اس وقت دو چیزیںعوام کو کھائے جارہی ہیں جن میں ایک شدید حبس اور گرمی میں بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی ہے ۔اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس حوالے سے جلسے جلوس تو درکنار بیانات تک جاری نہیں کئے جارہے ۔اپوزیشن جماعتوں کا کام ہوتا ہے حکومت پر دبائو بڑھانا تاکہ اس کی کارکردگی بہتر کی جاسکے اور عوام کی مشکلات کا ازالہ ممکن ہو لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔

 اپوزیشن جماعتیں صرف اسی وقت باہر نکلتی ہیں جب ان پر یا ان کے قائدین پر بادل نخواستہ کوئی براوقت آئے ۔اے این پی کو پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے سب سے بڑا اختلاف ہی یہی تھا کہ یہ جماعتیں صرف اور صرف اپنے قائدین کو بچانے اور اپنے اوپر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کو ہٹانے کیلئے جلسے جلوس کررہی ہیں ۔اے این پی کی قیادت پر اس طرح کا کوئی کیس نہیں لہٰذا اس اتحاد سے نکلا جائے اور ایسا ہی ہوا ۔اے این پی اس اتحاد سے تو نکل گئی لیکن عوامی مسائل کیلئے بھی اس جماعت نے کوئی آواز نہیں اٹھائی ۔یہی حال پیپلزپارٹی کا بھی ہے۔

 اس تمام تر صورتحال کا فائدہ حکومت کو مل رہا ہے جو نہ صرف مہنگائی اور لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں ناکام ہے بلکہ اندرونی اختلافات میں بھی گھری ہوئی ہے لیکن اپوزیشن کی نااہلی کے باعث اس کی مقبولیت میں بدستور اضافہ ہورہا ہے جس کی ایک جھلک آزادکشمیر انتخابات میں دیکھنے کو مل گئی ہے جہاں تحریک انصاف کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

لمبی فراکس کا بدلتا فیشن ،ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جائے ہیں

یوں تو لمبی قمیضیں اور فراکس گزشتہ کئی سال سے فیشن میں’’اِن‘‘ ہیں لیکن آج کل خاص طور پرگھیر دار اور فلور لینتھ یعنی پاؤں تک آنے والے ڈریسزبھی فیشن کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔حتیٰ کہ ماڈرن ڈریسرز میں بھی ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جا رہے ہیں۔ویسے بھی لمبی فراکس کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ جب لڑکیاں بالیاں انہیں زیب تن کرتی ہیں تو ان کی شان ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کپڑوں کے ڈیزائن بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور زیادہ تر خواتین موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے کپڑے پہننے کے انداز کو بھی بدلنا شروع کر دیتی ہیں تاکہ وہ بھی وقت کے ساتھ الگ نظر آئیں۔ ہر عورت کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ وہ اچھی نظر آئے۔بناؤ سنگھار کرنا، اپنی جلد کا خیال رکھنا،اچھے کپڑے پہننا کس عورت کو پسند نہیں ہوتا۔ زمانہ چاہے کوئی بھی ہو نیا یا پرانا ۔ہر زمانے کے ساتھ کپڑوں کے نئے اور جدید کٹس فیشن میں آتے رہتے ہیں ۔

جلد کو خوبصورت اور چمکدار بنانے والی ہربل وائٹنگ کریم :خود تیار کریں

افرا تفری کے اس دور میں خواتین اپنے چہرے کو نکھارنے کیلئے پوری طاقت صرف کر دیتی ہیں۔ جلد کو خوبصورت،نکھری اور چمکدار بنانے کیلئے نسخے آج بھی اتنے ہی کار آمد ہیں جتنے آج سے صدیوں پہلے تھے۔اگر آپ خود پر تھوڑی توجہ دیں تو آپ کا رنگ بھی دنوں میں نکھر سکتا ہے۔ رنگت نکھارنے اور جلد کو تروتازہ رکھنے کیلئے گھریلو ٹوٹکوں کا استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف جلد جوان رہتی ہے بلکہ داغ دھبوں اور جھریوں سے بھی پاک رہتی ہے۔

خبردار!میک اپ کے ساتھ ورزش نہیں کریں،کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہوجاتے ہیں

بہت سی لڑکیاں اور خواتین اپنے چہرے پر مکمل میک اپ کے ساتھ ورزش کرتی ہیں اور جلد پر اس کے منفی اثرات اور نتائج سے واقف نہیں ۔ طبی ماہرین منع کرتے ہیں کہ ورزش کے دوران چہرے پر کاسمیٹکس کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہو جاتے ہیں ۔

آج کا پکوان سبزیوں کے چپلی کباب

اجزاء: پالک 200گرام، آلو دو عدد درمیانے، گاجر ایک عدد، مٹر ایک پیالی، سیم کی پھلی دس سے بارہ عدد، نمک حسبِ ذائقہ، ادرک لہسن پسا ہوا ایک چائے کا چمچ، پیاز دو عدد درمیانی، ٹماٹر دو عدد درمیانے، کٹی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچ، بھنا کٹا دھنیا زیرہ ایک چائے کا چمچ، پسی ہوئی کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ، انار دانہ ایک چائے کا چمچ، انڈے دو عدد، مکئی کا آٹا دو کھانے کے چمچ، کوکنگ آئل حسبِ ضرورت۔

نیوزی لینڈٹیم کی کھیلے بغیر واپسی، سازش یا کچھ اور؟ سیریز کی اچانک منسوخی کے بعد بھارتی صحافی نندن مشرا کی خبر کو اُ ن کے میڈیا نے خوب نشر کیا

معلوم نہیں نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے، نیوزی لینڈ بورڈ اب ہمیں آئی سی سی میں سُنے گا،چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ,کیوی کرکٹرز ، آفیشلز اورسیکیورٹی حکام پاکستان کی جانب سے بہترین انتظامات اور فول پروف سیکیورٹی کی مسلسل تعریف کرتے رہے

لکڑہارے کی ایمانداری (آخری قسط)

بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔؟ لکڑہارے نے بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ اس کے پاس ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔ لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے ۔ لکڑہارا بدستور آوازیں نکالتا رہا ۔اچانک ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔