نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ہوا،ترجمان وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- روپےکی قدرمیں کمی سےپٹرول مہنگاہورہا ہے،ترجمان وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- حکومت نے اوگرا کی سفارشات پر قیمتیں بڑھائیں،ترجمان وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- حکومت عوام سےصرف 2روپے پٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- اوگراکی سفارش کےبرعکس اضافے کی خبر درست نہیں ،ترجمان وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- حکومت 30 کےبجائے 5.62 روپے پٹرولیم لیوی چارج کر رہی ہے، وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پٹرول کی قیمت میں سواآٹھ فیصد کےقریب اضافہ کیاگیا،ترجمان وزارت خزانہ
Coronavirus Updates

بچوں کی نفسیات : والدین اور اساتذہ کا کردار(دوسری قسط)

خصوصی ایڈیشن

تحریر : قمر فلاحی


ہر کسی کو صاحب اولاد ہونے کی تمنا ہوتی ہے، ایک اولاد پہ کوئی قانع نہیں ہوتا،بڑھاپے میں ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ بچے ان کے پاس رہیں اور زیادہ تعداد میں رہیں، مال کی طرح انہیں بچوں کو برتنے اور اس پہ حکم چلانے کا اختیار ہو کوئی ان سے یہ نہ کہے کہ یہ مال آپ کا نہیں ہے۔جن کی اولاد نہیں وہ اپنی لاولدی فخر سے نہیں بیان کرتے، اور اپنے بچوں کو عموما سماجی کاموں میں نہیں لگاتے۔

 یہ سارے امور فتنہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں جو اسلامی ہدایات کے خلا ف جاتے ہیں۔ چنانچہ مال کے فتنہ سے بچنے کا استعمال اس کاجائز استعمال ہے، صدقات و خیرات اور زکوٰ? میں اسے صرف کرنا ہے،اہل خانہ کی جائز ضروریات پہ اسے صرف کرنا ہے اور مال تو صرف اسے کہا گیا ہے جسے کھا لیا پہن لیا یا اللہ کی راہ میں خرچ کردیا جاتا ہے۔اسی طرح اولاد کے فتنہ سے بچنے کا ذریعہ اس کی مناسب تربیت کرنا، اس کے لیے اچھے دوست مہیا کرانا، اچھے استاد اور مربی کا انتخاب کرنا،مناسب ادارہ میں داخلہ کرانا،اور اچھے اطوار سکھاناہے۔ کیونکہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ’’اولاد وہ کتاب ہے جسے لکھتے تم ہو اور پڑھ کر تمہاری اولاد سناتی ہے "      (جاری ہے)

بچوں کی صحیح سمت میں تربیت کیلئے کے لیے ان کی نفسیات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، اور اس کے لئے بنیادی شرط بچوں سے قربت ہے اور اس قربت کے ساتھ ساتھ ان سے بے پناہ لگائو بھی ہے۔ آئیے ہم بچوں کی چند نفسیات کا مطالعہ کرتے ہیں :

1۔ پٹنہ میں میرے ایک فلاحی دوست ہیں ان کی گود میں بچیوں کا کھیلنا اور شمع کی طرح اپنے والد کے گرد چکر لگانا اگر دیکھنا ہو تو ان کے گھر میں دیکھا جاسکتاہے، لوگ کہتے ہیں کہ بچے اپنی ماں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں یہ غلط ہے، ماں سے قربت کی وجہ والد کی محبت سے محرومی ہوتی ہے، جب والدیہ محبت دینے کو تیار ہوجائے تو بچے قطعی یہ فرق نہیں سمجھتے ہیں، یہ ہمارے ذہنوں کا فطور ہے۔ بچے آئے دن یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ابو ہمارے لیے مٹھائیاں لاتے ہیں، کپڑے اور کھلونے لاتے ہیں، ہماری ساری ضروریات پوری کرتے ہیں لہذا وہ ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ میں خود چند گھنٹوں کیلئے جب اپنے بچوں سے دور ہوتا ہوں تو بچے میری کمی کا تذکرہ اپنی ماں سے بار بار کرتے ہیں اور جب اپنے دروازے کے قریب آتاہوں تو والہانہ استقبا ل کرتے ہیں اور ایسا احساس دلاتے ہیں کہ آپ بہت دنوں سے ہم سے دور رہے ہیں۔

میں عرض کر رہا تھاکہ پٹنہ کے اس فلاحی دوست نے اپنی چار پانچ سال کی بچی کی فراک سرکاکر یہ پوچھا کہ آپ نے اندر کپڑا پہن رکھا ہے ؟اس پہ بلا تاخیر اس پیاری سی معصوم سی بچی نے جو جواب دیا وہ قابل غور ہے بچی نے جواب دیا’’کیا آپ یہ بات اپنی زبان سے نہیں پوچھ سکتے تھے، کیا اس کے لیے کپڑا سرکا نا ضروری تھا؟’’ یہ چھوٹے سے جملہ میں بچوں کی ایک خاص نفسیات پوشیدہ ہے کہ بچے بھی شرم کا پتلا ہوا کرتے ہیں جنہیں ہم والدین بے پردگی سکھا دیتے ہیں۔

2۔  المنار ایجو کیئر ارریہ کے ایک مہذب اور منکسر المزاج استاد قاری اطہر صاحب ایک دفعہ اپنے بچے کو نصیحت کر رہے تھے کہ بابو پڑھنا لکھنا چاہیے، شرارت نہیں کرنی چاہیے وغیرہ۔۔۔ اور اس جملہ کو کء دفعہ دہرادیا  تو اس پہ وہ بچہ گویا ہوا کہ’’ ابو زیادہ تیز مت بولیے نہیں تو عبداللہ [اس کا چھوٹا بھاء ]جگ جائے گا۔’’ یہاں بچہ اپنے جملے سے یہ سگنل دے رہا ہے ایک ہی بات کو بار بار نا دہرائیں میں سمجھ چکا جو آپ کہنا چاہتے ہیں۔ ایک ہی بات کو باربار دہرانے سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔اور یہاں میں یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بچے اس عمر میں باتوں کو مان کر دینے والے نہیں  ہوتے، یہ انکے شوخی کرنے کی عمر ہے اگر آپ کوء بات منوانا چاہتے ہیں تو انہیں ساتھ لیکر بیٹھیں وہ سارا کام کریں گے۔

3۔ الحرائبپلک اسکول سلطان گنج پٹنہ کی بات ہے میں سیڑھیوں سے اوپر جارہا تھا اور ایک چار پانچ سال کا بچہ نیچے اتر رہا تھا اس کے جوتے کا تسمہ کھلا ہوا تھا جو اسے تکلیف دے رہا تھا، جیسے ہی اس نے مجھے دیکھا بلا جھجک بول اٹھا سر ذرا میرا فیتا باندھ دیجئے نا اور میں نے بلا جھجھک ایسا کردیا۔ یہ بچوں کی وہ نفسیات ہے جس میں بچہ اپنے علاوہ تمام لوگوں کو اپنا خادم سمجھتا ہے اور ہر ایک سے خدمت لینا اپنا بنیادی حق خیال کرتاہے، یہ فطرت اللہ تعالی نے اس لیے  ان کے اندر رکھی ہے تاکہ محتاجی کے وقت وہ پریشان ہونے کے بجائے اپنے ارد گرد موجود افراد سے اپنی حاجت دور کرنے کی کوشش کرے۔ اگر ڈانٹ ڈپٹ کرکے یہ فطرت دبائی نہ گء ہو تو بچہ ہر مانوس و غیر مانوس سے مدد لینا چاہتا ہے اور اگر انہیں ڈانٹا دبایا گیا ہو وہ تو اپنی مصیبتوں میں جوجھتا رہتاہے مگر اظہار نہیں کر پاتاہے، یہی وجہ ہے کہ آپ اکثر دیکھتے ہوں گے کہ بچے کپڑے میں پیشاب پاخانہ کرڈالتے ہیں اور کسی کو اس خوف سے نہیں بتاتے کہ لوگ انہیں ڈانٹیں گے۔لہذا بچوں کو کھلنے کا کا موقعہ فراہم کریں انہیں دوست بنائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے

قائد ملتؒ، مسلم قومیت کے نقیب ،لیاقت علی خان ؒ کا مکا قومی اتحاد کی علامت بن گیا

’’لیاقت علی خانؒ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں دن رات ا یک کر دئیے وہ اگرچہ نوابزادہ ہیں لیکن وہ عام افراد کی طرح کام کرتے ہیں ،میں دوسرے نوابوں کو بھی مشورہ دوں گا کہ ان سے سبق حاصل کریں‘‘:قائد اعظمؒ

نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے، اسلامی معاشرہ اور ہماری ذمہ داریاں ،اسلام نے ہر فرد کو آداب و اطوار کے ساتھ زندگی گزارنے کا پابندکیا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، لہٰذا نہ خود اس پر ظلم و زیادتی کرے نہ دوسروں کو ظالم بننے کے لیے اس کو بے یارو مددگار چھوڑے، نہ اس کی تحقیر کرے۔ آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تین مرتبہ سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘۔ کسی شخص کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے، ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے اس کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو‘‘(مسلم شریف)۔

محبت اور دشمنی صرف اللہ کیلئے ،ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس نے اللہ کے لیے کسی سے محبت کی اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھی اور اللہ ہی کے لیے دیا (جس کسی کو کچھ دیا) اور اللہ ہی کے لیے منع کیا اور نہ دیا تو اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کر لی‘‘(ابوداؤد)۔ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس لیے مسلمان کی کوشش اپنے ہر قول و فعل سے یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرنے کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے یعنی جس شخص نے اپنی حرکات و سکنات، اپنے جذبات اور احساسات اس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دیئے کہ وہ جس سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہی جوڑتا ہے اور جس سے تعلقات توڑتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے توڑتا ہے۔ جس کو کچھ دیتا ہے اللہ ہی کے لیے دیتا ہے اور جس کو دینے سے ہاتھ روکتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے۔

اسلام میں تجارت کا تصور،نبی کریمﷺ نے تجارت میں بددیانتی کو سخت نا پسند فرمایاہے

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تاجر پر لازم ہے کہ وہ شے کی کوالٹی کے متعلق صحیح معلومات خریدار کو بتا دے اور کسی چیز کے کسی بھی نقص کو مت چھپائے۔ اگر چیز میں کوئی نقص پڑ گیا ہو تو وہ خریدار کو سودا طے کرنے سے پہلے آگاہ کر دے۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں کاروباری دیانت کی سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ سودا طے ہوتے وقت فروخت کار خریدار کو مال میں موجود نقص کے متعلق بتانا بھول گیا یا دانستہ چھپا گیا۔ بعد میں جب فروخت کار کو یاد آیا تو وہ میلوں خریدار کے پیچھے مارا مارا پھرا اور غیر مسلم، مسلم تاجر کی اس دیانت داری کو دیکھ کر اسلام لے آیا۔ انڈونیشیا کے باشندے دیانتدارمسلم تاجروں کے ذریعے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے۔

مسائل اور ان کا حل

بیٹے کی وراثت میں ماں کا حصہ ؟سوال:کیا بیٹے کی پراپرٹی میں ماں کا حصہ ہوتا ہے جبکہ بیٹے کی اولاد میں بیٹے کے آگے4 بیٹے ہیں بیٹی کوئی نہیں نیز بیٹے کی وفات ہو چکی ہے۔(سعد شیخ، لاہور)جواب: جی ہاں !سگے بیٹے کی جائیداد میں ماں کا شرعی حصہ وراثت ہے جو بہر صورت ماں کو دیا جانا شرعاً ضروری ہے اور مذکورہ صورت میں ماں کو کل مال کا چھٹا حصہ ملے گا کیونکہ بیٹے کی اولاد موجود ہے ۔