نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عالمی سازش کےتحت مسلم امہ میں خون ریزی ہورہی ہے،غلام سرور
  • بریکنگ :- پٹرول،ڈیزل اوربجلی کی قیمت میں اضافہ ہوا،غلام سرورخان
  • بریکنگ :- عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنےسےحکومت کوپٹرول کی قیمت بڑھاناپڑی، غلام سرور
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی کی حکومت لیوی اورٹیکسیشن میں کمی کررہی ہے،غلام سرور
  • بریکنگ :- حکومت نے 20کلوآٹےکےتھیلےکی قیمت 1120 روپےمقررکی ہے،غلام سرور
Coronavirus Updates

اقصیٰ کا پودا

خصوصی ایڈیشن

تحریر : صائمہ مبارک


ماہین اور اقصیٰ بہت خوش تھیں کیونکہ اْن کے سکول میں سب بچوں کے درمیان ایک بہت مزے کا مقابلہ کروایا جا رہا تھا یہ سکول کی گراونڈ میں پودے لگانے کا مقابلہ تھا۔تمام بچوں کو کہا گیا کہ وہ اپنی اپنی پسند کے پودوں کے بیج لے کر آئیں اور سکول کے میدان میں فراہم کی گئی جگہ پرپودے لگائے اور ان کی نشوونما کا پورا پورا خیال رکھیں۔ جس طالبِ علم کا پودا جلد بڑھنا شروع ہو جائے گا اْسے انعام دیا جائے گا۔

ماہین اور اقصیٰ نے بھی اس مقابلے میں حصہ لیا۔ اقصی نے اپنی دادی جان کی مدد لی کیونکہ وہ باغبانی کا شوق رکھتی تھی اور انہوں نے گھر میں بہت سے پودے لگا رکھے تھے۔وہ ان کی دیکھ بھال کا بھی بہت خیال رکھتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے آپ ایک گڑھا کھودنا اور پھر اس میں کچھ مٹی اور کھاد ملا کرڈال دینا اگلے دن پھر اس کو نرم کرناپھر اس میں بیج ڈال دینا۔ پھر روزانہ آپ اس کی دیکھ بھال کرتے رہنا۔ زمین کو جتنا زرخیز رکھیں گے پودوں کی نشوونما بھی اتنی ہی اچھی ہو گی۔

اس کے لیے ہمیں کیا کرنا پڑے گا دادی جان! دونوں نے پوچھا۔ اس کے لیے آپ کو تھوڑی سی محنت کرنی پڑے گی آپ نے زمین کی کھدائی  کر کے اسے نرم رکھنا ہے اسے کوڈی کرنا کہتے ہیں۔اس نرم زمین میں کھاد ڈالتے رہنا ہے۔میں آپ کو بھی یہ مشورہ دوں گی کہ بازاری کھادوں کی بجائے آپ قدرتی کھاد کا استعمال کریں تو زیادہ فائدہ ہو گا دادی جان نے کہا۔ قدرتی کھاد کیا ہوتی ہے اقصیٰ نے پوچھا

قدرتی کھاد میں آپ کے کچن میں سے ہی مل جاتی ہے آپ کو اس کے لیے زیادہ خرچہ نہیں کرنا پڑتا۔سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے،چائے کی پتی اور اسی قسم کی باقی چیزوں سے زمین کی زرخیزی کو بڑھایا جاتا ہے۔

دادی جان نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کہ ہم اپنے گھر کے گارڈن میں آج سے ایک پودا لگانے کی تیاری کرتے ہیں جو آپ آج یہاں کرو گی کل سکول میں بھی ویسے ہی کر لینا۔جی یہ طریقہ بالکل ٹھیک رہے گا دونوں بچیاں بہت خوش ہو گئیں ۔

دادی جان جو طریقہ گھر پر بتاتی رہی دونوں نے سکول میں اْسی طریقے سے اپنے پودے کی نشوونما کے لیے تیاری کی۔ بہت جلد گھر اور سکول کے لان میں چھوٹے چھوٹے پودے نکل آئے۔ سکول میں وہ تمام بچے بہت خوش تھے جن کے لگائے گئے بیجوں سے پودے نکل آئے۔

سکول کی طرف سے دی گئی مدت ختم ہو چکی تھی اب ایک فنکشن میں اْن تمام بچوں کو انعام دئیے جانے تھے جن طالبِ علموں کے پودوں کی نشوونما اچھی ہو رہی تھی۔

ماہین اور اقصیٰ کو تو اپنے ہی پودے سب سے زیادہ اچھے لگ رہے تھے اور اساتذہ کے خیال میں بھی وہ دونوں انعام کی مستحق تھیں لیکن ایک مہمانِ خصوصی کو مدعو کیا گیا تھا اور انعام دینے کا حق بھی اْن کو ہی دیا گیا تھا۔انعام ملنے کا دن بھی آگیا تمام بچے اپنے اپنے پودوں کے پاس سکول کے میدان میں جمع تھے۔مسز عطیہ بخاری مہمانِ خصوصی تشریف لائیں سب بچوں نے تالیاں بجا کر اْن کا استقبال کیا۔

جیسا کہ سب کا خیال تھا کہ انعام کی حقدار اقصیٰ اور ماہین ہیں مسز عطیہ بخاری کا بھی یہی فیصلہ تھا۔جب بچیاں انعام لینے سٹیج پر آئیں تو مہمانِ خصوصی نے اْن سے پوچھا کہ آپ نے ان پودوں کی اتنی اچھی نشوونما کیسے کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ سب اْن کی دادی کی وجہ سے ہوا ہے انہوں نے بہت اچھے طریقے سے پودے لگانے سیکھائے۔

پرنسپل صاحبہ نے بتایا کہ آج وہ آپ کو راز کی بات بتانا چاہتی ہے کہ یہ سکول میں انار کا درخت ہے یہ عطیہ صاحبہ کے ہاتھ سے لگایا ہوا ہے اسی طرح کے اور بھی بہت سے درخت اور بہت سے بچوں نے لگائے تھے جیسے آج آپ نے لگائے جب تک یہ بچے سکول میں رہے انہوں نے ان کا خیال رکھا اور ان کے جانے کے بعد سکول انتظامیہ نے خیال رکھا۔

اقصیٰ نے اپنا انعام دادی جان کو دیا اور کہا کہ یہ آپ کی وجہ سے ملا ہے۔دادی جان بھی بہت خوش ہوئیں امی جان بھی بہت خوش ہوئی اور کہا اب ان پودوں کے درخت بننے تک ایسے ہی محنت کرو۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے

قائد ملتؒ، مسلم قومیت کے نقیب ،لیاقت علی خان ؒ کا مکا قومی اتحاد کی علامت بن گیا

’’لیاقت علی خانؒ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں دن رات ا یک کر دئیے وہ اگرچہ نوابزادہ ہیں لیکن وہ عام افراد کی طرح کام کرتے ہیں ،میں دوسرے نوابوں کو بھی مشورہ دوں گا کہ ان سے سبق حاصل کریں‘‘:قائد اعظمؒ

نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے، اسلامی معاشرہ اور ہماری ذمہ داریاں ،اسلام نے ہر فرد کو آداب و اطوار کے ساتھ زندگی گزارنے کا پابندکیا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، لہٰذا نہ خود اس پر ظلم و زیادتی کرے نہ دوسروں کو ظالم بننے کے لیے اس کو بے یارو مددگار چھوڑے، نہ اس کی تحقیر کرے۔ آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تین مرتبہ سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘۔ کسی شخص کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے، ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے اس کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو‘‘(مسلم شریف)۔

محبت اور دشمنی صرف اللہ کیلئے ،ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس نے اللہ کے لیے کسی سے محبت کی اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھی اور اللہ ہی کے لیے دیا (جس کسی کو کچھ دیا) اور اللہ ہی کے لیے منع کیا اور نہ دیا تو اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کر لی‘‘(ابوداؤد)۔ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس لیے مسلمان کی کوشش اپنے ہر قول و فعل سے یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرنے کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے یعنی جس شخص نے اپنی حرکات و سکنات، اپنے جذبات اور احساسات اس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دیئے کہ وہ جس سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہی جوڑتا ہے اور جس سے تعلقات توڑتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے توڑتا ہے۔ جس کو کچھ دیتا ہے اللہ ہی کے لیے دیتا ہے اور جس کو دینے سے ہاتھ روکتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے۔

اسلام میں تجارت کا تصور،نبی کریمﷺ نے تجارت میں بددیانتی کو سخت نا پسند فرمایاہے

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تاجر پر لازم ہے کہ وہ شے کی کوالٹی کے متعلق صحیح معلومات خریدار کو بتا دے اور کسی چیز کے کسی بھی نقص کو مت چھپائے۔ اگر چیز میں کوئی نقص پڑ گیا ہو تو وہ خریدار کو سودا طے کرنے سے پہلے آگاہ کر دے۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں کاروباری دیانت کی سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ سودا طے ہوتے وقت فروخت کار خریدار کو مال میں موجود نقص کے متعلق بتانا بھول گیا یا دانستہ چھپا گیا۔ بعد میں جب فروخت کار کو یاد آیا تو وہ میلوں خریدار کے پیچھے مارا مارا پھرا اور غیر مسلم، مسلم تاجر کی اس دیانت داری کو دیکھ کر اسلام لے آیا۔ انڈونیشیا کے باشندے دیانتدارمسلم تاجروں کے ذریعے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے۔

مسائل اور ان کا حل

بیٹے کی وراثت میں ماں کا حصہ ؟سوال:کیا بیٹے کی پراپرٹی میں ماں کا حصہ ہوتا ہے جبکہ بیٹے کی اولاد میں بیٹے کے آگے4 بیٹے ہیں بیٹی کوئی نہیں نیز بیٹے کی وفات ہو چکی ہے۔(سعد شیخ، لاہور)جواب: جی ہاں !سگے بیٹے کی جائیداد میں ماں کا شرعی حصہ وراثت ہے جو بہر صورت ماں کو دیا جانا شرعاً ضروری ہے اور مذکورہ صورت میں ماں کو کل مال کا چھٹا حصہ ملے گا کیونکہ بیٹے کی اولاد موجود ہے ۔