نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- چنددوست ناراض ہیں منانےکی کوشش کررہےہیں،لیاقت شاہوانی
  • بریکنگ :- 5ارکان کوغائب کرنے کا الزام لگایا گیا،لیاقت شاہوانی
  • بریکنگ :- ارکان کوغائب کرنےکےالزام کی مذمت کرتاہوں،لیاقت شاہوانی
  • بریکنگ :- شکست دیکھ کرالزامات لگائےجارہےہیں،لیاقت شاہوانی
  • بریکنگ :- ہمارےدوست ہماراساتھ دیں گے،ترجمان بلوچستان حکومت
  • بریکنگ :- ہم دعویٰ نہیں کررہےحالات ثابت کررہےہیں،لیاقت شاہوانی
  • بریکنگ :- پکچرکلیئرہے،ناراض ارکان واپس آجائیں گے،لیاقت شاہوانی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:وزیراعظم اوراتحادی جام کمال کےساتھ ہیں،لیاقت شاہوانی
  • بریکنگ :- متعددبارکہااکثریت ہمارےساتھ ہےآج واضح ہوگیا،لیاقت شاہوانی
  • بریکنگ :- ثابت ہوگیااکثریت جام کمال کے ساتھ ہے،لیاقت شاہوانی
Coronavirus Updates

نثری نظم کے محافظ ، عارف عبدالمتین

خصوصی ایڈیشن

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


عارف عبدالمتین نے اپنی نثری نظم کا جو لسانی اسلوب تشکیل دیا ہے وہ ان کی انفرادیت کا آئینہ دار ہے

نثری نظم کی وکالت کرنے والوں میں عارف عبدالمتین پیش پیش رہے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب نثری نظم کو متنازعہ صنف ادب قرار دیا جارہا تھا۔ جناب احمد ندیم قاسمی نے ہمیشہ نثری نظم کی مخالفت کی اور اپنے مؤقف کی صداقت کیلئے بڑے مضبوط دلائل دیتے رہے۔ نثری نظم کی وکالت کرنے والوں کا استدلال یہ تھا کہ شاعری کی اصل روح تو نفس مضمون (Content) ہے۔ اسلوب تو ظاہر ہے شاعر کا اپنا وضح کردہ ہوتا ہے جو اس کی الگ شناخت کی تعمیر کرتا ہے۔ خیالات و افکار کا وہ سمندر جو ایک شاعر کے دل میں ٹھاٹھیں ما ررہا ہے، پابند شاعری کے تکنیکی لوازمات اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔پھر کیوں نہ شاعری کی فنی اور تکنیکی باریکیوں میں پڑنے کی بجائے ایک ایسی راہ اختیار کی جائے جس میں فنکار کو اپنے احساسات اور جذبات کو بیان کرنے کیلئے کھلا میدان دے دیا جائے۔ شروع شروع میں اس تاثر نے تقویت پکڑی کہ نثری نظم میں شاعری کرنا بہت سہل کام ہے کچھ ہی عرصہ بعد یہ خیال غلط ثابت ہوا اور یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ نثری نظم میں شاعری کرنا بہت مشکل اور کٹھن کام ہے۔بنیادی سبب یہ ٹھہرا کہ پابند شاعری میں توبعض اوقات عامیانہ موضوعات کو شعر کے پیکر میں ڈال لیا جاتا ہے کیونکہ پابندشاعری خاص طورپر غزل میں عامیانہ مضامین کو ایک کہنہ مشق شاعر تکنیکی اور فنی محاسن کے زیور سے آراستہ کر کے قاری کے لئے اسے قابل قبول بنادیتا ہے لیکن نثری نظم میں ایسا نہیں ہے۔ نثری نظم میں شاعر تجربے کی بھٹی میں پگھلنے پر مجبور ہے کیونکہ نثری نظم کا سارا دارومدار اس کے مواد پر ہے، اسلوب یہاں ثانوی اہمیت کا ہے بلکہ بسا اوقات شاعر کے احساس کی شدت اس کے اسلوب پر غلبہ حاصل کرلیتی ہے۔ لیکن یہاں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ احساس کی شدت سے جو لہجہ جنم لیتا ہے وہ لہجہ اسلوب کی راہ متعین کرتا جاتا ہے اور ظاہر ہے وہ لہجہ ہی بھر پور اور توانا ہوتا ہے جس نے تجزیئے کی کوکھ سے جنم لیا ہو۔عارف عبدالمتین کے احساس کے بدن نے عصری آشوب کا لباس پہنا ہے۔ ان کی نظموں کا لہجہ کبھی جارحانہ نہیں ہوا۔ تلخیوں کا زہر پینے کے باوجود عارف صاحب اپنے معتدل مزاج سے جدا نہیں ہوئے۔وہ سچائی کی آبرو کے پاسبان بن کر ابھرتے ہیں۔ منافقت سے انہیں شدید نفرت ہے۔ وہ فرسودہ روایات کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کیلئے کمر بستہ رہتے ہیں۔ صداقت کے پرچم کو سربلند رکھنے کے لئے موت سے آنکھیں چار کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

عارف صاحب کو عصر حاضر کا سقراط بننے پر فخر ہے 

’’میں سقراط ہوں

ایتھنز کے رب مجھے مجرم قرار دے چکے ہیں

 کیونکہ ان کے نزدیک

میرے خیالات ایتھنز کے نوجوانوں کے اخلاق بگاڑتے ہیں

نظم ’’میں سقراط ہوں‘‘

عارف صاحب کی نثری نظم فکری توانائی سے اس قدر معمور ہے کہ اس کی شرح کا ضابطہ خود بخود مرتب ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی نظم’’میں سقراط ہوں‘‘ میں ہی کہتے ہیں!

’’مں جانتا ہوں کہ ایتھنز کے رب 

میرے جسم کو تو ابدی نیند سے ہمکنار کرسکتے ہیں

مگر میری روح کی ہلاکت پر قادر نہیں

مجھے یقین ہے کہ میرے افکار کے افق سے نئے اخلاق کا جو سورج طلوع ہو رہا ہے

اس کی کرنوں کے نیزے ایک دن

فرسودہ اخلاق کے اندھیروں کا سینہ چھلنی کردیں گے‘‘۔

ان کی ایک اور نظم ’’سورج میں اور کائنات‘‘ مکمل طورپر تصوراتی تجربے کی عکاس ہے۔ انہوں نے اس نظم کی واقعیت کے عنصر کو قوت متخیلہ سے اس قدر مربوط کیا ہے کہ شاعر کا تجزیہ اس کے ویژن کی حدود سے باہر نکل کر جیتی جاگتی صورت حال کی تشکیل کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ معنوی اعتبارسے اس نظم کا پس منظر اجتماعی فلاح کی خاطر خود کو فنا کے کنوئیں میں اتارنے کی جستجو ہے۔ سورج نے اگرچہ شاعر کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا لیکن شاعر نے بھی اجتماعی بقا کیلئے سورج کو نئے سرے سے جوڑا اور سالم سورج کو دوبارہ فضائوں میں اچھال دیا کیونکہ کائنات کواپنی بقا کے لئے اس کی اشد ضرورت تھی۔

اسی طرح ایک اور نظم ’’آسودگی کا میثاق‘‘ بھی عارف عبدالمتین کی حق گوئی اور صداقت سے بے پایاں محبت کا بہت ہی واضح اشارہ دیتی ہے کیونکہ شاعر اپنی صداقتوں کو سماجی تضادات سے ہم آہنگ کرنے سے قاصر ہے۔ وہ اایسا کر بھی نہیں سکتا اس لئے وہ رب کریم سے دعا گو ہے کہ لوگ اس کی صداقتوں کو پرکھیں اور سچائی کی عمارت تعمیر کرنے میں اس کا ساتھ دیں۔

’’اے میرے کرم فرما

مجھے اپنے احساسات کی سچائی کے اظہار پر قائم رکھ

مگر اس اظہار کو حق شناسی کے غرور میں ڈھلنے سے بچا 

اور لوگوں کو میرے احساسات میں شرکت کی توفیق ارزانی کر

تا کہ وہ میرے ہر کشف کی تصدیق کرسکیں اور اسے پا سکیں اور یوں تیرے یہ احساسات 

میرے لئے عذاب کی بجائے آسودگی کا میثاق بن جائیں‘‘۔

اسی طرح نثری نظم کا ایک اور مقبول و معروف اسلوب داستان یا کہانی کا ہے۔ شاعر اس میں اپنے اوپر بیتی واردات کو اپنے احساس اور جذبات کی زبان دیتا ہے۔ اور پھر فکر کے نئے دریچے کھلتے ہیں۔ اسی طرز کی ایک اور نظم ’’آزادی کا لمحہ ‘‘ میں عارف عبدالمتین کہتے ہیں

’’میں یونان کے ایک آقا کا مفرور غلام ہوں

میں نے زنداں کی دیوار توڑ ڈالی ہے

اور اپنی آزادی کی بازیافت کیلئے وہاں سے بھاگ نکلا ہوں

زندان کے محافظ مجھے دوبارہ گرفتار کرنے کے اراد ے سے 

ہاتھوں میں نیزے اور زنجیریں تھامے

اپنے گھوڑوں کو سر پٹ دوڑاتے ہوئے میرا پیچھا کر رہے ہیں‘‘

 افضال حسین سید ثروت حسین اور جاوید شاہین کی طرح عارف عبدالمتین نے بھی اپنی نثری نظم کو جو لسانی اسلوب تشکیل دیا ہے وہ ان کی انفرادیت کا آئینہ دار ہے۔ عارف صاحب کی نثری نظم براہ راست ابلاغ کی نظم قرار پائی ہے جس کا اسلوب اپنے تندو تیز لہجے اور تلخی بھرے جذبات کے سبب کامل طورپر حقیقت پسندانہ طرز فکر کا آئینہ دار ہے۔

اپنے نہ ہونے کی شہادت پر کھڑا ہوں‘‘

مجموعی طورپر عارف صاحب کی نثری نظم جس تخلیقی تجربے کی حامل ہے اس سے کم از کم ایک نتیجہ تو اخذ کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ ان کی نثری نظم سے ان کی فکری کلیت کی شناخت کرنا ہرگز مشکل نہیں اور یہ حقیقت بلا تامل نثری نظم میں ان کی ارفع حیثیت متعین کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

وہ دانائے سبل ،ختم الرسل، مولائے کل ﷺجس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

سرور کونین ﷺکی آمد سے عرب سے جہالت کے اندھیرے چھٹےآپ ﷺ کی تعلیمات کی بدولت خون کے دشمن بھائی بھائی بن گئے،اللہ نے آپ ﷺ کو تما م جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجاآپ ﷺ بڑے سے بڑے دشمن کو بھی معاف فرما دیا کرتے تھے

اتباع مصطفیٰ ﷺ کی برکات ،آپ ﷺ کا پیروکار اللہ تعالیٰ کا مجبوب ہے

’’اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ (آل عمران: آیت31)محبت ایک مخفی چیز ہے کسی کو کسی سے محبت ہے یا نہیں اور کم ہے یا زیادہ، اس کا کوئی پیمانہ بجز اس کے نہیں کہ حالات اور معاملات سے اندازہ کیا جائے۔ محبت کے کچھ آثار اور علامات ہوتی ہیں ان سے پہچانا جائے، یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعویدار اور محبوبیت کے متمنی تھے وہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان آیات میں اپنی محبت کا معیار بتایا ہے۔ یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ ہو تو اس کے لئے لازم ہے کہ اس کو اتباعِ محمدیﷺکی کسوٹی پر آزما کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہوجائے گا۔

آمد مصطفیٰ ﷺ مرحبا مرحبا ،نبی کریم ﷺ کی آمد تمام جہانوں کے لئے رحمت

’’اور بیشک آپﷺ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں‘‘۔ (القلم ۶۸:۴)اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاوّل شریف ہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع یعنی فصل بہار کا آغاز تھا، یہ مہینہ فیوض وبرکات کے اعتبار سے بہت ہی افضل و اعلیٰ ہے کیوں کہ اس ماہ مبارک میں باعث تخلیق کائنات فخر موجودات حضور ﷺ نے دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ 12 ربیع الاوّل بروز پیر مکۃ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں آپﷺ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔

نعت ِ شریف

رہتے تھے ان کی بزم میں یوں با ادب چراغ,جیسے ہوں اعتکاف کی حالت میں سب چراغ,جتنے ضیا کے روپ ہیں، سارے ہیں مستعار

بگل بج گیا،سٹیج سج گیا، 20 ورلڈ کپ کا آغاز،27 روزہ ٹورنامنٹ میں 45 میچ کھلیے جائیں گے،فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالرز ملیں گے

’’آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ2021ء ‘‘16ٹیموں پر مشتمل ہے، جو ٹاپ ٹین ٹیموں اور ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر کے ذریعے منتخب ہونے والی چھ دیگر ٹیموں پر مشتمل ہے۔یہ ایونٹ عام طور پر ہر دو سال بعدہوتا ہے، ٹورنامنٹ کا 2020ء کا ایڈیشن بھارت میں شیڈول تھا، لیکن کورونا کی وجہ سے ٹورنامنٹ کو 2021 ء تک ملتوی کرکے متحدہ عرب امارات اوراومان منتقل کر دیا گیا۔

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے