نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ سےامریکی نمائندہ خصوصی برائےایران رابرٹ میلےکی ملاقات
  • بریکنگ :- دونوں رہنماؤں کی ایران جوہری معاہدےسےمتعلق بات چیت،خبرایجنسی
  • بریکنگ :- ایران معاہدےمیں واپس نہ آیاتوامریکاکےپاس تمام آپشن کھلےہیں،رابرٹ میلے
Coronavirus Updates

میک اپ میں کی جانے والی عام غلطیاں

خصوصی ایڈیشن

تحریر : فائزہ بٹ


کیا جری بوٹیوں سے بنی مصنوعات بہتر ہوتی ہیں؟ کیا زیادہ گاڑھا شیمپو اچھا ہوتا ہے؟کیا ہر شخص کو روزانہ موئسچر ز لگانا چاہیے؟ کیا گورا کرنے والی کریمیں کرشمے دکھا سکتی ہیں؟ اس کے علاوہ اور بہت سے سوال ذہن میں اٹھنے ہیں۔ذیل میں ہم آپ کی رہنمائی کیلئے پوری فہرست شائع کررہے ہیں تاکہ مغالطے اور غلطیاں آپ کا میک اپ خراب نہ کریں اور کاسمیٹکس کا غلط استعمال بھی نہ ہو۔

غلط

٭:فاؤنڈیشن کو پورے چہرے پر پھیلانا چاہئے ، یہ رنگ گورا کر دیتی ہے۔

٭:فاؤنڈیشن داغوں کو چھپانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

٭:کہتے ہیں کہ فیس پاؤڈر صرف چکنی جلد کیلئے موزوں ہوتا ہے۔

٭:آئی شیڈز کو آنکھوں کے رنگ سے ملتا جلتا ہونا چاہئے۔

٭:بھنوؤں پر ویکسنگ کرنے سے جلد پر لکیریں پڑ جاتی ہیں۔ اوپری ہونٹ کے بولوں پر ویکسنگ کے عمل سے بال زیادہ موٹے ہو کر اگتے ہیں۔ 

٭:اگر بالوں کو اکثر و بیشتر آخری سروں سے تراشا جائے تو یہ تیزی سے اگتے ہیں اور زیادہ گھنے بھی ہوجاتے ہیں۔

متوقع مائیں بالوں کو ڈائی کریں تو بچے کی جان کر خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

٭:قدرتی اور جڑی بوٹیوں سے بنی مصنوعات جلد کیلئے بہتر ہوتی ہیں۔

صحیح

٭:فاؤنڈیشن کا مقصد آپ کے چہرے کا رنگ بدلنا نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف جلد کے رنگ کو یکساں بنانے کی ایک کوشش ہے ، اس حصے کو Coverکیجئے جہاں ضرورت ہو، یہ حصے عموماً ٹھوڑی ، ناک اور پیشانی ہوسکتے ہیں۔

٭:کنسیلر کے شیڈ پر منحصر ہے کہ وہ کتنا گہرا دھبہ چھپا سکتا ہے۔

٭:در اصل پاؤڈر تین مقاصد کیلئے استعمال ہوتا ہے۔، فاؤنڈیشن کو Setکرنا ، اسکن Toneکو درست کرنا اور میک اپ کو کنٹرول کرنا لہٰذا صرف چکنی جلد کیلئے موزوں قرار دینا درست نہیں۔

٭:آنکھ کے رنگ سے الگ ہونے سے تضادیا Contrastپیدا ہوتا ہے اور اچھا لگتا ہے۔

٭:لکیریں، دکنیں اور جھریاں بڑھتی عمر کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں ، ویکسنگ سے نہیں۔

٭:بال کسی بھی طرح Removeکئے جائیں و ہ دوبارہ اگ آتے ہیں حتیٰ کہ شیونگ کے عمل سے بھی بالوں کے اگنے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 

٭:بالوں کو لمبائی سے کچھ بھی کریں ، ان کی جڑیں متاثر نہیں ہوتیں بلکہ بڑھنے کا تعلق بالوں کی جڑوں سے ہوتا ہے، چھوٹے بال ہرگز تیزی سے نہیں اگتے

٭:ایسی کوئی بات نہیں اس سے بچے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، اگر کسی ہیئر ڈائی سے الرجی ہو تو گریز کرنا بہتر ہے۔

٭:جڑی بوٹیوں سے بنی اشیاء کا رد عمل بھی ہوسکتا ہے۔ سائنا سائڈ جیسا زہر بھی قدرتی ہی ہوتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ایک بار پھر اب کیا ہوگا کی گونج

بڑھتی مہنگائی، ڈالر کی اونچی اڑان، آئی ایم ایف کا دباؤ۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے پیدا ہونے والا تناؤ۔ نئے چیرمین نیب کی تعیناتی سمیت نیب کا قانون اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے احتجاج مظاہروں کا ایک بار پھر اعلان۔ وزیراعظم عمران خان اکثر اپنے کرکٹ کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے پریشر کے دوران پرفارم کرنے والے کو اصل کھلاڑی مانتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ اپنے چاہنے والوں کو تجویز کرتے سنائی دیتے ہیں۔ ان کا مشہور زمانہ قول بھی ہے کہ ’’ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘‘۔ مشکل سے مشکل صورتحال کا اگر سامنا ہو تو بھی خندہ پیشانی سے اس کا نہ صرف سامنا کرنا ہے بلکہ ڈٹ کے مقابلہ کرنا ہے۔

بلدیاتی اداروں کی بحالی کا عمل ،عدالت عظمیٰ کا تحقیقات کا اعلان

مہنگائی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ایک ہی روز میں بجلی، پٹرولیم اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے ہر چیز پر اپنے اثرات قائم کئے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اشیائے خورو نوش ہوں یا دیگر اشیائے ضروریہ، کسی پر چیک نہیں رہا۔ ہر دکاندار اپنی من مرضی سے خریدار کی جیب کاٹتا نظر آ رہا ہے اور خود کو جوابدہ نہیں سمجھتا۔ اس حوالے سے قائم مجسٹریٹ سسٹم بھی دم توڑ چکا ہے ۔اپوزیشن جو تقریباً تین سال سے مہنگائی،بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی غربت پر خاموش تھی اور محض میڈیا پر احتجاج کرتی نظر آتی تھی اب اسے بھی بجلی اورپٹرولیم کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے پر ہوش آیا ہے اور اس نے ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

مہنگائی بم کے اثرات۔۔۔اپوزیشن متحرک!

گزشتہ دنوں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام پر ایک اور’’مہنگائی بم‘‘ گرایا گیا۔حکومتی حلقے اسے مجبوری اور دنیا کے دیگر ممالک سے کم مہنگائی قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومت مخالف حلقے اسے حکومت کی نااہلی اور بدترین ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ادھر حکومت اور اپوزیشن کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان میں عوام بے چارے ہمیشہ کی طرح پسے جارہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مہنگائی کا یہ بم حکومت کے لیے خودکتنا نقصان دہ اور اپوزیشن کے لیے کتنا مفید ثابت ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات یقینی کے کہ اس لڑائی میں نقصان صرف غریب عوام کا ہی ہو گا۔ بڑھتی مہنگائی کی خبروں کے درمیان ایک خوشخبری بھی ہے ۔گوکہ اس خوشخبری کا تعلق براہ راست عوام کے مفادات سے تو نہیں ہے البتہ خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ماموںبن گئے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کے ہاں بیٹے کی ولادت نے بھٹواور زرداری خاندان میں خوشیاں بکھیر دی ہیں۔بیٹے کی ولادت کی اطلاع خود بختاور بھٹو نے ٹویٹ کے ذریعے شیئر کی تھی۔

بلدیاتی انتخابات اور قبائلی اضلاع کی مشکلات

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں کی جارہی ہیں اس بات کا قوی امکان ہے کہ مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات آئندہ ماہ سے شروع ہوں گے۔بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک کافی لیت ولعل سے کام لیاجاچکا ہے تاہم اب عدالت کے حکم پر یہ انتخابات کروانے ہی ہوں گے ۔نئے ایکٹ کے تحت خیبرپختونخوا میں تحصیل کونسل کی نشستوں کی تعداد 120ہے صوبے بھر میں سٹی کی چھ اور ایک میٹروپولیٹن کی کی نشست ہے ،تحصیل کونسل کی 120 نشستوں میں سے پچیس قبائلی اضلاع کی بھی ہیں ۔یعنی قبائلی اضلاع بھی اب اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے نظام سے مستفید ہوسکیں گے۔

سیاسی جوڑ توڑ عروج پر، تحریک عدم اعتماد پیش

بلوچستان میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری سیاسی بحران اور غیر یقینی صورتحال کا اب فیصلہ کن موڑ آن پہنچا ہے۔ جام کمال خان وزارت اعلیٰ کے منصب پر براجمان رہیں گے یا پھر ناراض اراکین کی حکمت عملی کام کر جائے گی اسکا فیصلہ 25 اکتوبر تک ہوجائے گا۔ البتہ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد 20 اکتوبر کو بی اے پی ، ان کے اتحادیوں اور متحدہ اپوزیشن نے اسمبلی میں پیش کردی ہے ۔جس پر ووٹنگ 25 اکتوبر تک ہوگی۔ ایک بڑا بریک تھرو سیاسی حوالے سے یہ رہا کہ ناراض اراکین نے تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کیلئے اپنے پتے شو کرادیئے۔

جنوبی پنجاب ،وزیرخارجہ پارٹی کی ساکھ بچانے کیلئے سرگرم

تحریک انصاف کی حکومت کو تین سال سے زائد کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ سہانے خواب خوف میں تبدیل ہونے لگے اور تمام امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری کے سونامی نے سب کچھ ملیامیٹ کر دیا اب تو حکومت کی جانب سے اچھے اقدامات بھی جھوٹ کا پلندہ لگنے لگ گئے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی نے عوام کو ذہنی مریض بناڈالا جس کیلئے فوری طور پر بھاشن کی بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ صورت حال انتہائی خوفناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ عوام کی نظر اب صرف روٹی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے قانون سازی ، ڈویلپمنٹ ، آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک سمیت کسی سے کوئی سروکار نہیں اب تو لگتا ہے کہ مہنگائی کے علاوہ کوئی ایشو ہی نہیں رہا۔