نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- طالبان کاایک بارپھرامریکاسےافغانستان کےاثاثےغیرمنجمدکرنےکامطالبہ
  • بریکنگ :- تمام ممالک متفق ہیں امریکاافغانستان پرپابندیاں بھی ختم کرے،نگران وزیراطلاعات افغانستان
  • بریکنگ :- ساڑھے 9ارب ڈالرکے اثاثے افغان عوام کی ملکیت ہیں ،خیراللہ خیرخواہ
Coronavirus Updates

Tote Bags فیشن بھی سہولت بھی

خصوصی ایڈیشن

تحریر : صائمہ اسلم


Tote Bags نہ صرف یونیورسٹی طالبات میں مقبول ہیں بلکہ گھریلو خواتین کی بھی اولین ترجیح ہیں

لیدر(چمڑے) سے لے کر سوتی کپڑے، رنگین میٹریل سے لے کر پلاسٹک تک، آپ کو ہر ساخت کے بیگز دستیاب ہو جاتے ہیں۔ کئی دفعہ ہم ایک سے زائد اشیاء پر س میں اپنے ہمراہ باہر لے جانا چاہتے ہیں لیکن یہ پرس سائز میں چھوٹے ہونے کی وجہ سے ہمیں آدھی چیزیں گھر پر رکھ کر آنا پڑتی ہیں۔

Tote Bagsنے ہماری یہ مشکل آسان کر دی ہے۔ اب آپ کو اسٹائل کے ساتھ ساتھ اضافی سہولت بھی میسر آسکتی ہے۔ ان کو استعمال کرتے ہوئے اشیاء  لے جانے کے لئے اب آپ کودوسری چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔

پرنٹڈ پھولدار نقوش سے لے کر ایمبرائیڈری تک اور کاٹن سے لے کر چمڑے تک کے مٹیریل میں ہر رنگ کے Toteبیگز استعمال کرنے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔

پاکستان میں متعدد آن لائن خریداری کے ایسے مراکز موجود ہیں جو آپ کو بے حد خوبصورت اور تخلیقی انداز سے بنائے گئے بیگز گھر پر پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں۔اگر آپ بے پناہ مصروف  رہتی ہیں یا آپ کو کسی ویب سائٹ پر کوئی چیز پسند آگئی ہے تو آپ آن لائن آرڈر کرسکتی ہیں۔ حیرت انگیز حد تک دلچسپ مواد پر مشتمل ان Tote بیگز کو مقامی دستکاروں نے تخلیق کیا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی کلیکشن میں مزائر قائد، تین تلوار، کلفٹن،CNGرکشہ، حبیب بینک پلازہ اور ساحل سمندر کو موضوع بنایا گیا ہے۔

پارٹی سے لے کر سفری بیگ تک

کچھ حیرت نہیں ہوتی کہ جہاں موضوعات ، تصاویر، بنیادی تخیل اور ہیئت کے ساتھ رنگوں کا خوبصورت امتزاج ہمیں متوجہ کرتا ہے۔وہیں ان بیگز کی ہمہ صفتی کو بھی سراہا جانا چاہئے۔ آپ چاہیں تو دفتری استعمال کیلئے بھی ان بیگز کو استعمال کرسکتی ہیں اور چاہیں تو پارٹی بیگز کے طور پر استعمال کر لیں۔ اہل کراچی کے ہنر کاروں نے خواتین کو عمدہ مگر مہنگے برانڈ سے چھٹکارا دلانے کے لئے موٹے کا ٹن سے بنے ہوئے یہ اسٹائلش بیگز پیش کئے ہیں۔ یوں کراچی میں اب پاکستانی مصنوعات کی خریداری کا رحجان بڑھنے لگا ہے۔ دور اور قریب کے سفر کیلئے بھی یہ با سہولت بیگز ہیں ، ان میں اسٹرابیری ایمبرائیڈری شدہ بیگز بھی دستیاب ہیں جو نوجوان لڑکیوں کو خوب بھاتے ہیں۔

سیلیبرٹی ٹرینڈ

 دنیا بھر میں آئی کونز اور سیلیبریٹیز فیشن کے جدید ترین رحجانات کے مطابق نئی نئی چیزیں آزماتے ہیں ، یہی بعد میںTrendsاور فیشن کہلاتی ہیںمشہوربرانڈ نے چمڑے کے Tote Bags بنائے اسی طرح ایک اور مشہوربرانڈ ہے جس نے سرخ، سبز، زرد اور دیگر کھلتے رنگوں میں بغیر کسی نقش کا سہارہ لئے چمڑے کے Toteپیش کئے۔ 

پاکستانی دستکاریوں نے پھولوں ، پھلوں ، مقامی سیر گاہوں یعنی مقامات کی تصاویر کو موضوع بنایا اور اسے Womaniyaکا عنوان دیا۔ یہ رحجان موسم بہار سے شروع ہوا اور اب گرما کے دنوں میں بھی جوں کا توں مقبول ہے۔

یونیورسٹی کی لڑکیوں میں کلچ کا رجحان کم ہو رہا ہے اس کی جگہ ٹوٹی بیگز نے لے لی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس میں کتابیں اور نوٹس آسانی سے آجاتے ہیں ٹوٹی بیگز کی مانگ میں دن با دن اضافہ ہو تا جا رہا ہے سکولوں کی بچیاں ٹوٹی بیگز کو کاٹن کے کپڑے کی شکل میں استعمال کر رہی ہیں کئی خواتین لیدر کے بنے ہوئے ٹوٹی بیگز بھی استعمال کرتی ہیں ٹوٹی بیگز کو اگر ہم نوے کی دہائی میں دیکھیں تو دیہاتوں کے بچے بچیاں کپڑے کا بیگ سلوا کر اس میں کتابیں لے جایا کرتے تھے اس وقت کسی کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ دنیا اس کو فیشن کے طور پر استعمال کرے گی اوریہ باقائدہ طور پر ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر لے گی ٹوٹی بیگز کا رواج نا صرف سکولوں کالجوںکی لڑکیوں میں مقبول ہے بلکہ گھریلو خواتین بھی اس طرح کے بیگ کی شوقین ہیں وہ مارکیٹ میں اس کو لے جانے میں آسانی محسوس کرتی ہیں ٹوٹی بیگز قیمت میں بھی مناسب ہوتے ہیں امیرغریب دونوں طرح کے طبقات اس کو خرید سکتے ہیں ٹوٹی بیگز کا فیشن سدا بہار ہے آپ ان کو گرمیوں سردیوں دونوں میں استعمال کر سکتے ہیں عام طور پر لوگ اس کو چھوٹے سفر میں بھی استعمال کرتے ہیں اس طرح کے بیگز کو کیری کرنا  نہایت آسان ہوتا ہے جدید طرز کے ٹوٹی بیگز کو رنگوں کے مختلف امزاج سے مزین کر کے نت نئے ڈیزائنوں میں ڈالا جا رہا ہے جو دیکھنے میں انتہائی دلکش لگتے ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ایک بار پھر اب کیا ہوگا کی گونج

بڑھتی مہنگائی، ڈالر کی اونچی اڑان، آئی ایم ایف کا دباؤ۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے پیدا ہونے والا تناؤ۔ نئے چیرمین نیب کی تعیناتی سمیت نیب کا قانون اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے احتجاج مظاہروں کا ایک بار پھر اعلان۔ وزیراعظم عمران خان اکثر اپنے کرکٹ کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے پریشر کے دوران پرفارم کرنے والے کو اصل کھلاڑی مانتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ اپنے چاہنے والوں کو تجویز کرتے سنائی دیتے ہیں۔ ان کا مشہور زمانہ قول بھی ہے کہ ’’ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘‘۔ مشکل سے مشکل صورتحال کا اگر سامنا ہو تو بھی خندہ پیشانی سے اس کا نہ صرف سامنا کرنا ہے بلکہ ڈٹ کے مقابلہ کرنا ہے۔

بلدیاتی اداروں کی بحالی کا عمل ،عدالت عظمیٰ کا تحقیقات کا اعلان

مہنگائی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ایک ہی روز میں بجلی، پٹرولیم اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے ہر چیز پر اپنے اثرات قائم کئے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اشیائے خورو نوش ہوں یا دیگر اشیائے ضروریہ، کسی پر چیک نہیں رہا۔ ہر دکاندار اپنی من مرضی سے خریدار کی جیب کاٹتا نظر آ رہا ہے اور خود کو جوابدہ نہیں سمجھتا۔ اس حوالے سے قائم مجسٹریٹ سسٹم بھی دم توڑ چکا ہے ۔اپوزیشن جو تقریباً تین سال سے مہنگائی،بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی غربت پر خاموش تھی اور محض میڈیا پر احتجاج کرتی نظر آتی تھی اب اسے بھی بجلی اورپٹرولیم کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے پر ہوش آیا ہے اور اس نے ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

مہنگائی بم کے اثرات۔۔۔اپوزیشن متحرک!

گزشتہ دنوں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام پر ایک اور’’مہنگائی بم‘‘ گرایا گیا۔حکومتی حلقے اسے مجبوری اور دنیا کے دیگر ممالک سے کم مہنگائی قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومت مخالف حلقے اسے حکومت کی نااہلی اور بدترین ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ادھر حکومت اور اپوزیشن کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان میں عوام بے چارے ہمیشہ کی طرح پسے جارہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مہنگائی کا یہ بم حکومت کے لیے خودکتنا نقصان دہ اور اپوزیشن کے لیے کتنا مفید ثابت ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات یقینی کے کہ اس لڑائی میں نقصان صرف غریب عوام کا ہی ہو گا۔ بڑھتی مہنگائی کی خبروں کے درمیان ایک خوشخبری بھی ہے ۔گوکہ اس خوشخبری کا تعلق براہ راست عوام کے مفادات سے تو نہیں ہے البتہ خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ماموںبن گئے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کے ہاں بیٹے کی ولادت نے بھٹواور زرداری خاندان میں خوشیاں بکھیر دی ہیں۔بیٹے کی ولادت کی اطلاع خود بختاور بھٹو نے ٹویٹ کے ذریعے شیئر کی تھی۔

بلدیاتی انتخابات اور قبائلی اضلاع کی مشکلات

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں کی جارہی ہیں اس بات کا قوی امکان ہے کہ مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات آئندہ ماہ سے شروع ہوں گے۔بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک کافی لیت ولعل سے کام لیاجاچکا ہے تاہم اب عدالت کے حکم پر یہ انتخابات کروانے ہی ہوں گے ۔نئے ایکٹ کے تحت خیبرپختونخوا میں تحصیل کونسل کی نشستوں کی تعداد 120ہے صوبے بھر میں سٹی کی چھ اور ایک میٹروپولیٹن کی کی نشست ہے ،تحصیل کونسل کی 120 نشستوں میں سے پچیس قبائلی اضلاع کی بھی ہیں ۔یعنی قبائلی اضلاع بھی اب اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے نظام سے مستفید ہوسکیں گے۔

سیاسی جوڑ توڑ عروج پر، تحریک عدم اعتماد پیش

بلوچستان میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری سیاسی بحران اور غیر یقینی صورتحال کا اب فیصلہ کن موڑ آن پہنچا ہے۔ جام کمال خان وزارت اعلیٰ کے منصب پر براجمان رہیں گے یا پھر ناراض اراکین کی حکمت عملی کام کر جائے گی اسکا فیصلہ 25 اکتوبر تک ہوجائے گا۔ البتہ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد 20 اکتوبر کو بی اے پی ، ان کے اتحادیوں اور متحدہ اپوزیشن نے اسمبلی میں پیش کردی ہے ۔جس پر ووٹنگ 25 اکتوبر تک ہوگی۔ ایک بڑا بریک تھرو سیاسی حوالے سے یہ رہا کہ ناراض اراکین نے تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کیلئے اپنے پتے شو کرادیئے۔

جنوبی پنجاب ،وزیرخارجہ پارٹی کی ساکھ بچانے کیلئے سرگرم

تحریک انصاف کی حکومت کو تین سال سے زائد کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ سہانے خواب خوف میں تبدیل ہونے لگے اور تمام امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری کے سونامی نے سب کچھ ملیامیٹ کر دیا اب تو حکومت کی جانب سے اچھے اقدامات بھی جھوٹ کا پلندہ لگنے لگ گئے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی نے عوام کو ذہنی مریض بناڈالا جس کیلئے فوری طور پر بھاشن کی بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ صورت حال انتہائی خوفناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ عوام کی نظر اب صرف روٹی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے قانون سازی ، ڈویلپمنٹ ، آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک سمیت کسی سے کوئی سروکار نہیں اب تو لگتا ہے کہ مہنگائی کے علاوہ کوئی ایشو ہی نہیں رہا۔