نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں عالمی رہنماؤں کی تقاریر
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کا ایک اور اعزاز
  • بریکنگ :- عمران خان مسلسل تیسرےسال سب سےزیادہ دیکھےاورسنےجانیوالےعالمی رہنمابن گئے
  • بریکنگ :- اقوام متحدہ کےآفیشل چینل پرعمران خان کی تقریرکوسب سےزیادہ لوگوں نے دیکھا
  • بریکنگ :- امریکی صدر اوربھارتی وزیراعظم ویورشپ میں پیچھے
Coronavirus Updates

امیج کی پروا کیے بغیر کام کیا اور کامیاب ہوا , فلم و ٹی وی کے اداکار سمیع خان کی روزنامہ دنیا سے باتیں

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مرزا افتخاربیگ


میری قسمت میں شہرت فلموں سے نہیں ڈراموں سے وابستہ تھی،پاکستان میں زیادہ تر ڈرامے خاندانی مسائل کے گرد گھومتے ہیں ,سمیع خان متعدد ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں جن میں تمغۂ امتیاز بھی شامل ہے

  شوبز کی دنیا میں کچھ لوگ اداکاری کا شوق لیکر آتے ہیں اور فلموں میں شہرت پانے کے لئے رات دن ایک کردیتے ہیں لیکن شہرت انہیں  ان کے پسندیدہ شعبے میں ملنے کے بجائے دوسرے شعبے میں مل جاتی ہے ، کوئی گلوکار بننے کی دھن میں گائیکی کا سفر جاری رکھنا چاہتاتھا تو اس کو شہرت بطور فلمی ہیرو ملی۔ ان فنکاروں میں لیونگ لیجنڈ ندیم کا نام سب سے نمایاں نظر آتاہے وہ ڈھاکہ گلوکارہ شہناز بیگم کے ساتھ فلم کے لئے پلے بیک سنگر کے طور پر گئے تو ہدایتکار احتشام نے فلم چکوری کے لئے ہیرو کاسٹ کرلیا یوں پہلی فلم کی کامیابی نے راتوں رات ندیم کو ملک بھر میں شہرت دلادی ، اس نوعیت کے حادثات فلمی صنعت میں ہوتے رہے ہیں ، ایسا ہی واقعہ منصور اسلم خان نیازی المعروف سمیع خان کے ساتھ بھی پیش آیا ،6 جولائی 1980 ء کو لاہور شہر میں جنم لینے والے آج کے معروف ٹی وی اداکار سمیع خان نے بھی فلموں کا نامور ہیرو بننے کا خواب دیکھا تھا لیکن وہ فلموں سے وہ شہرت نہ پا سکا جو اس نے ٹی وی ڈراموں اور ماڈلنگ کی دنیامیں کمائی۔ انہوں نے یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے الیکڑونک اینڈ کمیونیکیشن انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد اداکاری کی جانب توجہ دی تو ہدایتکار و فلمساز شہزاد رفیق نے انہیں فلم ’’ سلاخیں‘‘ میں ہیر و کاسٹ کیا۔اس کے بعد ان کو مزید فلموں میں کام نہ مل سکا تو انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں کام کرنیکا فیصلہ کیا۔2005 میں پہلا ڈرامہ دل سے دل تک کیا جو پی ٹی وی کا تیار کردہ تھا۔مذکورہ ڈرامے میں عمدہ اداکاری پر 16ویں پی ٹی وی ایوارڈ کیلئے بہترین اداکار قرار پائے۔اب تک سمیع خان ٹی وی ڈراموں میں چپ، تیرے پہلومیں، جناح کے نام، پارٹیشن ایک سفر، یاد پیا کی آئے، کنارہ، شیر دل، ہاروں تو پیا تیری، کبھی نہ ہوں ہم جدا،کاغذ کے پھول، مہمان، بول میری مچھلی، خان صاحب، سیج، لو،لائف اور لاہور، موم، گھر کی خاطر،یہ دل ہی تو ہے،انوکھا بندھن، جیون کی راہوں میں، بس ایک تیرا انتظار، ماہی نی،میں چاند سی، جو چلے تو جان سے گزر گئے ، پرواز،کالا جادو،ٹوٹے ہوئے پر، جب نام پکارے جائیں گے، آخری بارش، امبر، تیری راہ میں رل گئی، ڈرے ڈرے نینا، خوشی ایک روگ،میری لاڈلی، سبز پری لال کبوتر، میں، ٹوپی ڈرامہ، شادی مبارک، مائی ڈیئر سوتن، انوشکا، امہ کلثوم،گواہ،میری دلاری، میری ہرجائی،میں گناہ گا ر نہیں، زندگی دھوپ تم گھنا سایہ، برف، دل محلے کی حویلی، ایک تھی پارو،مس فائر،دو قدم دور تھے، بشر مومن، بکھرامیر ا نصیب، سلطنت دل، دیمک، پیا من بھائے، کانچ کی گڑیا، عنایہ تمہاری ہوئی، عشق وے، پارس، تیری میری جوڑی، من چلی، دھانی، میرا درد بے زباں، منت، تیرے بینا، بے انتہا، رسم دنیا، مشک، تو دل کا کیا ہوا ، ایسی ہے تنہائی، وہ میرا دل تھا، انکار،عشق زہے نصیب، سراب ، دلہن، پھانس، مہلت،محبت داغ کی صورت دیگر شامل ہیں، پہلی فلم کے 15 سال بعد فیچر فلم گم ، رانگ نمبر، کاف کنگنا جو 2019  میں ریلیز کی گئیں ، بعدازاں کورونا کی وبا کے باعث دو فلمیں لفنگے ،یارا وئے 2020 میں شروع ہوئیں جو اب تک تعطل کا شکار ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ فلمی کیرئر میں کامیابی ان کے نصیب میں نہیں لکھی گئی ہے۔ البتہ ٹیلی فلمیں پاپا مان جائیں گے، ہونا تھا پیار، یہ دوستی، دیور بھابھی وہ کرچکے ہیں۔ ان ڈراموں و فلموں میں کام کرنے پر وہ اب تک گھر کی خاطر میں بہترین اداکار کے لئے پی ٹی وی ایوارڈ ، دیور بھابی کے لئے ترنگ ہائو س فل ایوارڈ، فلم '' گم '' کے لئے کینیڈا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور میڈرڈ انٹر نیشنل فلم فیسٹیول میں بہترین اداکار غیر ملکی فیچر فلم حاصل کرچکے ہیں۔ عمدہ کار کردگی اور فنی خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ ان سے گزشتہ دنوں شوبز کی دنیا میں کام کے حوالے سے نشست رہی۔ان کا کہنا تھا کہ شوبز میں آمد میرے بھائی طیفور خان کی وجہ سے ہوئی وہ این سی اے کے گریجویٹ ہیں ،وہ اداکار اور ماڈل کے ساتھ ساتھ میوزیشن بھی ہیں انہوں نے 2008 تک کامیابی کے ساتھ اپنا بینڈ'' جادو '' بنا رکھا تھا۔ ان کی سرگرمیاں دیکھ کرمجھے بھی شوق ہوا کہ شوبز کی دنیا میں آئوں۔

دنیا : شوبز میں آنے کے لئے فلم انڈسٹر ی کا ہی کیوں انتخاب کیا؟

سمیع خان : اس دورمیں میری عمر کے لڑکے فلم انڈسٹری کا رخ کرتے تھے، تعلیمی مراحل مکمل کرنے کے بعد شہزاد رفیق کی جانب سے آفر ملی تو سوچا کوشش کرنی چاہئے۔ سو فلم سائن کی۔ اس فلم نے ملکی سطح پر ہی نہیں پڑوسی ملک میں بھی شہرت پائی۔ شہزادرفیق نے فلم پر خرچہ بھی خوب کیاتھا۔

دنیا : کیا وجہ ہے کہ فلم کے بجائے ٹی وی ڈراموں کو مسکن بنالیا آپ نے ؟

سمیع : شاید میری قسمت میں شہرت فلموں سے نہیں ڈراموں سے وابستہ تھی۔ سو ڈراموں کے ساتھ ماڈلنگ کی دنیا میں بھی مجھے خوب چانس ملتے رہے اور بطور ماڈل میں نے خوب شہرت پائی۔

دنیا : اب کیا ڈراموں تک ہی محدود رہنے کا ارادہ ہے؟

سمیع : ایسا نہیں ہے ،کئی برسوں بعد فلموں میں کام ملا تو ایک ہی سال میں تین فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئیں اور آدھے درجن کے قریب فلموں کی آفر ز موجود تھی کہ کورونا وائرس نے بریک لگا دیا۔اس کے باوجود میری دو فلمیں زیر تکمیل ہیں۔سینما مسلسل بند ہیں نئی فلمیں اگر آجائیں گی تو نمائش کے لئے کہا ں لگائی جائیں گی۔

دنیا :  ڈراموں میں مختلف قسم کے کر داروں کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے ؟

سمیع : اچھے اداکار سے اس کے مداح برے کردار میں بھی محبت کرتے ہیں،ایسے وقت میں جہاں زیادہ تر اداکار روایتی ڈراموں میں کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ مختلف قسم کے کردار ادا کرنے سے ایک اداکار کو جو تجربہ ملتا ہے، اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔بیک وقت میرے دوڈرامے نشر ہوئے ایک ڈرامے میں میرا کردار ایک مثبت اور اچھے شخص کا ہے جبکہ دوسرے ڈرامے میں میراکردار بالکل بھی اچھا نہیں۔میری نظرمیں اچھے موضوعات پر ڈرامے بننے سے نہ صرف ناظرین کی ٹی وی میں دلچسپی بڑھی ہے بلکہ اچھے ڈراموں نے فلموں کی کمی کو بھی پورا کیا ہے۔

دنیا :  پاکستان میں زیادہ تر ڈرامے خاندانی مسائل کے گرد گھومتے ہیں؟

سمیع : ہمارے  زیادہ تر ڈرامے خاندانی مسائل کے گرد گھومتے ہیں۔ اس میں کوئی دو آراء نہیں ناظرین کچھ نیا دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اگر کوئی ڈرامہ ’’الگ‘‘ سا مل جائے تو اسے کر کے ثابت کر سکیں کہ دوسری قسم کے ڈرامے بھی پسند کیے جاتے ہیں۔'ہمارے ہاں زیادہ تر ڈرامے ساس بہو کے جھگڑوں، جائز اور ناجائز تعلقات پر بنتے ہیں۔ جہاں 90 فیصد ایک جیسا کام ہو رہا ہو وہیں اگر 10 فیصد کچھ الگ کرنے کو ملے تو یہ ایک اچھے اداکار کے لیے اپنے آپ کو جانچنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔'سپائڈر مین کا ایک ڈائیلاگ ہے کہ 'زیادہ پاور کے ساتھ زیادہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے' میرا بھی یہی ماننا ہے کہ اگر اللہ تعالی نے ہمیں عزت دی ہے اور لوگ ہمیں دیکھتے، پسند کرتے اور فالو کرتے ہیں تو وہیں ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ کچھ ایسے ڈرامے بھی بنائیں جس سے ان کو کچھ نیا سیکھنے کو ملے۔نئے موضوعات پر بہت کم کام ہوتا ہے۔ 'سراب' میں نہ صرف اس موضوع پر بات کرنے کا موقع ملا بلکہ لوگوں کو یہ بھی بتانے کی کوشش کی کہ سکٹزوفرینا جیسی بیماری کیا ہوتی ہے، اور اس کا علاج کیسے ہوتا ہے۔سب سے اچھا سبق وہی ہوتا ہے جو کسی کہانی کے ذریعے سْنایا جائے۔

دنیا :  ڈراموں کے ذریعے کیا بیماریوں کے بارے میں آگاہی دی جاسکتی ہے؟

سمیع : کیوں نہیں۔ اب زمانہ بدل گیا ہے ، دنیاسمٹ رہی ہے لمحہ بھر میں خبر آجاتی ہے۔ایسے میں ہم ڈراموں کے ذریعے ایسی کہانیاں تخلیق کرکے جو کسی نہ کسی بیماری کے حوا لے سے ہو   ناظرین تک آگاہی دے سکتے ہیں۔میرا ایک ڈرامہ سیریل سراب ایسی ہی ایک کہانی ہے، جو سکٹزوفرینا جیسی بیماری کے گرد گھومتی ہے۔ اس ڈرامے سے ایک اچھا میسج لوگوں تک پہنچا، مجھے تو کچھ لوگوں نے یہ تک کہا کہ اس ڈرامے کی وجہ سے ہمیں پتا چلا کہ ہماری فیملی میں بھی ایک ایسا کیس ہے، جس کے بعد انھیں ڈاکٹر کو دکھایا۔ مجھ جیسے اداکار کے لیے یہ فیڈبیک ہی بہت ہے۔ہدایتکار محسن طلعت  کی کاوش '' سرا ب جتنے بھی لوگوں نے دیکھا پسند کیا ان کے کام کو سراہا۔ جن کو شکایت ہوتی تھی کہ الگ قسم کے ڈرامے نہیں بناتے، ان کی شکایت اس کے ذریعے یقینا ً دور ہوگئی ہوگی۔

 دنیا : کسی ڈرامے میں کردار کو کامیاب بنانے میں ساتھی فنکار کیاکردارادا کر سکتیں ہیں ؟

 سمیع : کوئی بھی ڈرامہ جب تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اس کے ساتھی فنکار ایک ٹیم کی صورت میں یکجا ہوکر کام نہ کریں۔جہاں تک ڈرامے میں کردار کو کامیاب بنانے میں ساتھی فنکار وں کے کردار کا تعلق ہے تو میرے لئے تو ہر فنکار ہر ڈرامے میں کھلے دل کے ساتھ میرے ساتھ رہا۔ کردار کو کامیاب بنانے میں ہدایتکار اور میرے ساتھ ساتھ ساتھی فنکاروں کا بھی ہاتھ ہے، ایک اچھی اداکارہ کے ساتھ کام کرنا بھی ایک ٹینس میچ کی طرح ہے، اچھے ریٹرنز پر اچھے شاٹس مارتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ساتھی فنکار کے ایکشن پر مجھے ری ایکشن دینے میں مزہ بھی آتا ہے اورا سکرین پر یہ 'میچ' بھی اچھا لگتا  ہے۔

دنیا :  آپ نے کبھی امیج کا خیال رکھا ؟

سمیع : امیج کا خیال رکھتاتو مداح بْرا مان جا تے ،اپنے امیج کی پروا کیے بغیر کام کیا اور کامیاب ہوا۔ جہاں 'سراب' میں اسفندیار جیسا فرمانبردار لڑکا ہے، وہیں 'دلہن' میں میکال ہے، جو ایک گاڑی کے لیے ایک لڑکی کو دائوپر لگا دیتا ہے۔ آج کل اگر الگ قسم کا رول کرنے کو ملے تو وہ بھی ایک نعمت ہے۔یہ اس لیے ہو سکا کیونکہ میں نے اپنا امیج ایک جیسا نہیں رکھا۔ ماضی میں فیصل قریشی اور آج کل عمران اشرف اپنی ورسٹائل ایکٹنگ کی وجہ سے ناظرین کو سرپرائز کرتے ہیں، میں ان دونوں اداکاروں کا فین ہوں، ان سے بچ کر اگر مجھے کوئی ایسا رول مل جائے جس میں کھل کر کھیلنے کا مارجن ہو، تو کیا اچھا کیا بْرا۔

دنیا :  آپ کے لئے ٹی وی ڈرامہ کیریئر میں کبھی کوئی کردار چیلنج رہا ؟

سمیع :کسی بھی اداکار کے لئے ہر کردار چیلنج کی حیثیت رکھتاہے۔ویسے میرے لئے 'دلہن میں میکال کا کردار اس لیے بھی ایک چیلنج تھا۔ 

دنیا :  اداکار ہونے کا کیا فائدہ ہوا؟

سمیع : ایکٹر ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ میں دوسروں کی زندگی جی سکتا ہوں۔منفی و مثبت کردارکرکے ایک اور فائدہ ہواکہ جب میرے دوستوں اور خود میری والدہ نے کہا تھا کہ اس قسم کے رول مت کیا کرو۔ بہت برے لگتے ہو۔ احساس ہوا کہ میں نے ہر کردار میں عمدہ پرفارمنس دی ہے۔

دنیا : کبھی ہیرو، کبھی ولن: مداحوں کا سامنا کیسے کرتے ہیں؟

سمیع خان : میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر ڈرامہ الگ کر وں۔ 'ایسی ہے تنہائی' ایک ایسے موضوع پر تھا جس پر ہمارے ہاں ڈرامے نہیں بنتے۔ 'خود غرض' ایک خود پسند، بے حس انسان کی کہانی تھی۔ 'عشق زہ نصیب' کے ذریعے یہ بتایا گیا کہ محبت سے بڑی فیملی جبکہ 'انکار' آپ کو اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا درس دے گیا، جسے میں تو ویمن ایمپاورمنٹ کہوں گا۔'سراب کو ایک آگاہی پراجیکٹ کے طور پر لیں اور دلہن کو ایک ایسی کہانی کے جس کے ذریعے معاشرے کی برائیوں کو سامنے لایا جا رہا ہے ۔

د نیا : اداکاری کے علاوہ کس شعبے میں جانے کا شوق ہے؟

 سمیع خان : اداکاری کا شوق اب پورا ہوچکاہے لیکن پروڈکشن سے زیادہ ہدایت کاری کا شوق ہے'سنہ 2020 میں پروڈکشن اور ہدایتکاری کے میدان میں قدم رکھنے والا تھا لیکن کورونا کی وجہ سے منصوبہ بندی پر عملی جامہ نہ پہنا سکا۔ پروڈکشن کا شوق ہے اور کرنے بھی والا تھا لیکن کرونا کی وجہ سے سب رْک گیا۔ اللہ کے کام میں بہتری ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ وقت زندہ رہنے کا ہے، تجربہ کرنے کا نہیں، جب حالات بہتر ہوں گے تو میں بھی چاہوں گا کہ ہدایتکاری کی طرف جائوں اور کچھ ایسا کام کروں جو دوسرے نہ کر پا رہے ہوں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

جنوبی ایشیاء میں اسلامی تصوف کے بانی حضرت سید علی ہجویریؒ ،برِصغیر کی معروف روحانی شخصیت کے سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات کاآ ج سے آ غاز

حضرت سید علی ہجویریؒ جب لاہور تشریف لائے تو شہر قدیم سے باہر راوی کے کنارے قیام فرمایا۔ کتابوں میں ذکر ملتاہے کہآ پؒ نے لاہور میں قیام پذیر ہونے کے بعد سب سے پہلے مسجد کی تعمیر کی اور اس پر اٹھنے والے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ اس سے قبل لاہور شہر کے گلی کوچوں میں اگر قدیمی مساجد تھیں تو وہ بادشاہوں نے تعمیر کرائی تھیں ۔یہ مسجد اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ لاہور شہر کی سرزمین پر کسی ولی اللہ نے مسجد کی تعمیر ذاتی اخراجات سے کی۔،ڈاکٹر نکلسن نے تحقیق کے بعد سنہ پیدائش کے بارے میں اندازہ لگایا ہے، وہ لکھتے ہیں: ’’ان کی پیدائش دسویں صدی کے آخری عشرے یا گیارہویں صدی کے ابتدائی عشرے میں متعین کی جا سکتی ہے‘‘

حضرت عثمان الہجویری ؒ کے علمی کارنامے

جنوبی ایشیا بالخصوص بر صغیر پاک و ہند کی مذہبی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ اگر چہ محمد بن قاسم کی سندھ میں آمد سے اشاعت اسلام کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا تا ہم بھر پور طریقے سے اسلام کی تبلیغ و تعلیم اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کی یہاں تشریف آوری سے شروع ہوئی۔ان بوریا نشینوں نے متاثر کن حکمت عملی کے تحت اسلام کی دعوت اخلاقی ،روحانی اور انسانی بنیادوںپر پیش کی، جس کے باعث لاکھوں غیر مسلم افراد نے اسلام قبول کر لیا اور ہند میںعظیم اسلامی انقلاب برپا ہوا۔ عرب، ترکی، افغانستان عراق اور دیگر خطوں سے آنے والے صوفیاء کرام کی کوشش سے دین متین خوب پھیلا۔صوفیاء کرام اس قدر با عمل اور عظیم البرکت تھے کہ ہندو اور غیر مسلم لوگ ان کی زیارت کرتے ہی کلمہ طیبہ پڑھتے اور مسلمان ہو جاتے تھے۔اس سے موجودہ خطے پاکستان، ہندوستان،بنگلہ دیش میں اسلام کو بڑی تقویت ملی۔اسلام کی ابتدائی پانچ صدیو ں میں جن اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے وعظ و تبلیغ سے دین متین کو وسیع بنیا دو ں پر فروغ ملااْن میں مخدوم الاولیاء حضرت عثمان الہجویری رحمتہ اللہ علیہ بڑے نمایاںاور قابل فخر ہیں۔آپ جتنے بڑے صوفی اور ولی تھے اتنے ہی بڑے عالم بھی تھے۔حضرت علی ہجویریؒ یہ حقیقت بخوبی جانتے تھے کہ اصحاب ِصفہ میں سے ہر ایک پاک دیدہ و پاک ہیں ،توکل و رضا کا پیکر تھا۔تاریخ اسلام میںانہی نفوس قدسیہ کو صوفیاء کرام کہا جاتا ہے۔صحابہ کرام اور اصحابہ صفہ رضی اللہ عنہم میں سے ہر ہستی انہی اوصاف حمیدہ اور فضائل کی آئینہ دار تھی۔

لاہور آمد

آپؒ کی لاہور آمد کے متعلق مورخین کی آراء یہ ہیں کہ آپ پہلی مرتبہ سلطان مسعود غزنوی کے حملہ ہانسی کے وقت اور دوسری مرتبہ ترکمانوں سے مسعود غزنوی کی شکست کے بعد 431ہجری 1039-40عیسوی میں لاہور تشریف لائے۔ (بحوالہ مقالہ ڈاکٹریٹ کشف المحجوب)۔

سونے کا دروازہ

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اولیا ء کرام سے خاص عقیدت رکھتے تھے اور مزار ات پر باقاعدہ فاتحہ خوانی کیلئے جایا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایران کے دورہ پر گئے اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے مزار شریف پر حاضری دی تو وہاں سونے چاندی سے مزین ایک عالیشان دروازہ دیکھا جو ذوالفقار علی بھٹو کے دل کو بھا گیا ۔

سیاحت اور حصول علم

آپؒ نے زندگی کا زیادہ حصہ علمی و روحانی غرض سے سیاحت میں گزارا ۔اکا براولیا ء کرام کی زیارت کی اور ان سے فیض پایا ۔

جلد بازی

بارہ سالہ پنکی کو تین دن سے سخت بخار تھا اور اُس کا خوبصورت ساکتا میکی اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔میکی بار بار پنکی کی طرف دیکھتا اورجب پنکی کو سویا ہوا پاتاتو افسردگی سے اپنی گردن فرش پر رکھ لیتا۔ اُسے اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ اُس کی سب سے اچھی دوست بیمار ہے اوروہ اپنی دوست کے لیے کچھ کر بھی نہیں سکتا۔