نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نسلہ ٹاورکےتمام کنکشن منقطع کردیئےجائیں گے،ضلعی انتظامیہ
  • بریکنگ :- ایم ڈی واٹربورڈ،سی ای اوکےالیکٹرک،ایم ڈی سوئی گیس کوخط لکھ دیا گیا
  • بریکنگ :- کراچی:27 اکتوبرتک نسلہ ٹاورکےتمام کنکشن منقطع کیےجائیں،خط
  • بریکنگ :- کراچی:نسلہ ٹاورگرانےکےلیےضلعی انتظامیہ متحرک
Coronavirus Updates

کراچی میں بدلتی سیاسی ہوائیں

خصوصی ایڈیشن

تحریر : اسلم خان


کراچی میں چھ کنٹونمنٹ بورڈ کے بیالیس وارڈز میں ہونے والے انتخابات نے پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کیلئے توامید کے چراغ روشن کر دیئے ہیں لیکن تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کلفٹن کے ہوم گرائونڈ پر پی ٹی آئی بمشکل دو نشستیں جیت سکی، چھ کنٹونمنٹ بورڈ میں ایم کیو ایم سکڑ کر تین نشستوں تک محدود ہوگئی، پاک سرزمین پارٹی کیلئے انتخابات ایک اور ڈرائونا خواب ثابت ہوئے ہیں، ایسا لگتا ہے شکست کا بھوت مصطفیٰ کمال سے چمٹ کر رہ گیا ہے، حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم نہ ہونے کے برابر رہی، ٹکٹوں کی تقسیم پر ہونے والے جھگڑے کے اثرات انتخابی نتائج پر نمایاں نظر آئے، تین سیٹوں پر کامیابی مسلم لیگ ن کی قیادت سے زیادہ امیدواروں کی انفرادی کوششوں کے باعث ہوئی۔

انتخابی نتائج نے پیپلز پارٹی رہنمائوں کے حوصلوں کو مزید بڑھا دیا ہے، 2015 میں پیپلزپارٹی تین نشستوں کے ساتھ صرف کلفٹن کنٹونمنٹ تک محدود تھی حالیہ انتخابات میں کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے دس میں سے چاروارڈز جیت کر وہ اکثریتی جماعت بن گئی ہے، پیپلزپارٹی رہنما اس بات پر زیادہ خوش ہیں کہ تحریک انصاف کو اس کے ہوم گرائونڈ کلفٹن میں مشکلات سے دوچار کردیا ہے، جس علاقے سے صدر مملکت عارف علوی، گورنر سندھ عمران اسماعیل،رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی، اراکین صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان، شہزاد قریشی سمیت اہم رہنما منتخب ہوئے اور جو علاقہ تحریک انصاف کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے ، اس میں پیپلزپارٹی نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں ، تحریک انصاف کا مضبوط قلعہ سمجھے جانے والے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں حکومتی جماعت محض دو نشستیں لے سکی ہے، جماعت اسلامی ،پی ٹی آئی اور آزاد امیدوار بھی دو ، دو نشستیں جیت گئے، انتخابات سے پہلے تاثر تھا کہ تحریک انصاف کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی، لیکن اب یہ قلعہ اس کے ہاتھ سے نکلتا محسوس ہورہا ہے۔ نتائج سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پوش علاقوں میں پی ٹی آئی کا گراف گرا ہے، تحریک انصاف کی قیادت، امیدوار اور کارکن ان علاقوں میں رہنے والے اپنے ووٹرز اورسپورٹرز کو باہر نکالنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، ماضی میں اس علاقے کی تاجر برادری، سماجی شخصیات، کھیلوں سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ اہم افراد پی ٹی آئی کے مضبوط سپورٹر رہے لیکن کنٹونمنٹ  بورڈ انتخابات میں بیشتر لاتعلق نظر آئے، ناقدین کہتے ہیں پوش علاقوں میں پی ٹی آئی کا گراف گرنے کی وجہ یہاں سے منتخب ہونے والے صدر، گورنر اور اہم رہنمائوں کا اس علاقے کو نظرانداز کرنا ہے۔ تحریک انصاف شکست کی وجہ انتخابات سے چند ماہ پہلے دیہی سندھ سے ووٹوں کے کنٹونمنٹ بورڈ میں اندراج کو ٹھہرا رہی ہے۔

2015کے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں تحریک انصاف نے تین نشستیں حاصل کی تھیں، حالیہ انتخابات میں اس کی مجموعی نشستوں کی تعداد چودہ ہے اور گیارہ نشستوں پر اس کے امیدوار دوسرے نمبر پررہے ہیں،لیکن یہ بات مدنظر رہنی چاہئے کہ2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے کراچی سے قومی اسمبلی کی چودہ اور صوبائی اسمبلی کی تئیس نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں اس کے حاصل کردہ وٹوں کی تعداد انیس ہزار چار سو تراسی ہے۔

گیارہ نشستیں لینے والی پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جسے کراچی کے چھ کنٹونمنٹ بورڈز میں نمائندگی حاصل ہوگئی ہے اور اس کے امیدواروں نے سب سے زیادہ بائیس ہزار ایک سو پینتیس ووٹ بھی حاصل کئے، دس نشستوں پر اس کے امیدوار رنر اپ رہے۔

جماعت اسلامی کیلئے بھی صورتحال حوصلہ افزاء رہی ہے، 2015 کے کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں کلفٹن اور کورنگی سے ایک، ایک نشست جیت سکی تھی، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں بھرپور انتخابی مہم کے ثمرات پانچ نشستوں جن میں فیصل کنٹونمنٹ ، ملیر کنٹونمنٹ سے دو، دو اور فیصل کنٹونمنٹ سے ایک نشست جیتنے کی صورت میں سمیٹے، ساتھ ہی جماعت اسلامی کے امیدوار چار کنٹونمنٹ بورڈ کی پندرہ نشستوں پر دوسرے نمبر پر بھی رہے ہیں، گویا سب سے زیادہ نشستوں پر جماعت اسلامی کے امیدوار رنر اپ رہے ہیں، ووٹوں کے تناسب سے جماعت اسلامی سولہ ہزار چار سو بائیس ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہے۔

 ماضی میں کراچی میں بلاشرکت غیرے حکمرانی کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ کیلئے بدترین صورتحال رہی، گزشتہ کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں چودہ نشستیں حاصل کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ، دو کنٹونمنٹ بورڈ میں صرف تین نشستیں حاصل کرسکی اور اس کے چار امیدوار رنر اپ رہے، چار کنٹونمنٹ بورڈ میں ایم کیو ایم کاصفایا ہوگیا، انتخابات میں دس ہزار سات سو نوے ووٹ کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ جواز یہ دیا جارہا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ایم کیو ایم کے گڑھ تصور کئے جانے والے علاقوں میں نہیں ہوئے ہیں اور بلدیاتی انتخابات میں صورتحال مختلف ہوسکتی ہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آرہے ہیں، کراچی سے زیادہ ایم کیو ایم کی توجہ حیدرآباد پر نظر آتی ہے اور وہاں کے انتخابی نتائج بھی اس کا ثبوت ہیں۔ 

 مسلم لیگ ن کراچی قیادت کے بحران کا شکار ہے، رہنمائوں کی چپقلش انتخابات سے قبل ہی نظر آنا شروع ہوگئی تھی۔کنٹونمنٹ بورڈ انتخابی نتائج سے لگتا ہے کراچی کی سیاست میں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کیلئے راہیں کھلی ہیں اور اب پیپلزپارٹی رہنما چھ سے آٹھ ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا عندیہ بھی دے رہے ہیں، دوسری طرف تحریک انصاف نے عوامی مسائل کے حل کیلئے کردار ادا نہ کیا تو آنے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج پریشان کن ہوسکتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

پاکستان بمقابلہ بھارت : زور کا جوڑ ,ٹی 20 ورلڈ کپ کا ہائی وولٹیج میچ

یوں تو ’’ٹی 20 کرکٹ‘‘ کی عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے لیکن اس جنگ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز معرکہ ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہوتا ہے، جسے دنیا بھر میں کرکٹ شائقین کسی بھی بین الاقوامی ایونٹ کے فائنل سے بھی زیادہ دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ دونوں روایتی حریف ہمسایہ ممالک کے شہری توگویا اسے کھیل نہیں بلکہ حقیقی جنگ تصور کر لیتے ہیں۔ میچ والے دن سڑکیں سنسان اور بازار ویران ہو جاتے ہیں۔ ہر کوئی ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ جاتا ہے اور ایک ایک گیند پر ایسے تبصرے ہوتے ہیں جیسے شاید دونوں ایشیائی ممالک کا کرکٹ کے سوا تو کوئی کام یا مسئلہ ہے ہی نہیں۔

کھلاڑی پریشر سے آزاد ہوکر کھیلیں، وسیم اکرم،مشتاق احمد، شعیب اختر،یونس خان کا ٹیم کو مشورہ

بہترین منصوبہ بندی اور اوپننگ پارٹنرشپ ضروری ہے: وسیم اکرم،پاکستانی ٹیم کو ہار کا خوف نکال کر کھیلنا ہو گا: مشتاق احمد،کھلاڑیوں کو خود کو پر سکون رکھنا ہو گا: شعیب اختر،ہمیں بھارت کے خلاف 4 فاسٹ باؤلرز کو کھلانا چاہئے:یونس خان

ٹی 20 ورلڈکپ میں بننے والے ریکارڈز

فاتح ٹیمیں،ٹی 20 کے 2007 ء میں ہوئے پہلے عالمی میلے کو بھارت نے اپنے نام کیا۔ 2009ء کا ایونٹ پاکستان کے نام رہا۔ 2010ء میں انگلینڈ فاتح رہی، 2012ء کے ایونٹ کو جیت کر ویسٹ انڈیز اس ٹی ٹوئنٹی کا حکمران بن گیا۔ 2014ء میں سری لنکا نے بھی ٹی 20 کا عالمی کپ جیت کر اپنا کھاتا کھولا جبکہ 2016ء میں ویسٹ انڈیز نے دوسری مرتبہ اس ایونٹ کو جیت کر تاریخ رقم کی۔

ایک بھوکا لکھ پتی

واٹسن نامی لکھ پتی سوداگر ایک دن صبح کے وقت کہیں جانے کو تیار تھا ۔ نوکر ناشتے کی میز لگائے منتظر کھڑے تھے۔ ایک فقیر نے دروازے پرآکر سوال کیا۔سوداگر صاحب! میں تین دن سے بھوکا ہوں، کچھ کھانا ہو تو خدا کی راہ میں دے دو تاکہ میں بھی پیٹ کے دورخ کو بھر لوں۔

ہنر کی دولت

کسی جزیرے میں ایک امیرشخص رہتا تھا، جسے شکار کا بہت شوق تھا۔ایک دن شکار کو جاتے ہوئے اس کی نظر ایک غریب ٹوکریاں بنانے والے کی زمین پر پڑی۔ اس زمین میں نرسل(ایک پودہ)اُگے ہوئے تھے۔اس کھیت کی ناہمواری اور نرسلوں میں سے گزرنے کی تکلیف امیر کو بہت ناگوار گزرتی تھی۔ایک دن امیر نے غریب کو بلا کر کہا ’’تم یہ زمین ہمیں دے دو‘‘۔ غریب نے جواب دیا ’’ حضور! میرا تو گزارہ اسی پر ہے، میں بیچنا نہیں چاہتا‘‘۔ اس پر امیر ناراض ہو گیا، اس نے غریب کو خوب پٹوایا پھرتمام نرسلوں کو جلوا دیا،جس پر غریب روتا ہوا بادشاہ کے پاس چلا گیا۔

کچھ دے دیں گے۔۔

ایک مسافر نے کسی شہر کی سرائے میں اتر کر سرائے والے سے کہا کوئی نائی بلوا دو تو میں خط بنوا لوں۔سرائے والے نے ایک نائی بلوا لیا۔نائی نے حجامت بنانے سے پہلے مسافر سے پوچھا،حضور مزدوری کیا ملے گی؟۔