نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کےاہم رہنماؤں کااجلاس
  • بریکنگ :- اجلاس میں عبدالقدوس بزنجواورظہوربلیدی کی شرکت
  • بریکنگ :- میرجان محمدجمالی اورسردارصالح بھوتانی کی بھی شرکت
  • بریکنگ :- اتحادیوں کےتعاون سےبننےوالی نئی حکومت سےمتعلق تبادلہ خیال
  • بریکنگ :- پارٹی کی جانب سےنئےقائدایوان کیلئےعبدالقدوس بزنجوکےنام پراتفاق
  • بریکنگ :- اسپیکرکےعہدےکیلئےمیرجان محمدجمالی مشترکہ امیدوارہوں گے
  • بریکنگ :- کابینہ کیلئےناموں کاحتمی فیصلہ اتحادیوں کی رائےسےکیاجائےگا
Coronavirus Updates

حکومت الیکشن کمیشن تناؤ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

خصوصی ایڈیشن

تحریر : سلمان غنی


قومی سطح پر الیکشن کمیشن کی جانب سے دو حکومتی وزرا وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وزیرریلوے اعظم سواتی کو نوٹس جاری کرنے کے اقدام نے سیاسی محاذ پر نئی صورتحال کو جنم دیا ہے اور اپنے اس عمل کے ذریعے الیکشن کمیشن نے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے چڑھائی پر پسپائی اختیار کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی وہ اپنی ساکھ اور شہرت پر حرف آنے دے گا مذکورہ عمل سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو انتخابات کے لیے ناگزیر قرار دینے کا عمل تو پیچھے چلا گیا البتہ بڑا سوال یہ کھڑا ہو گیا کہ حکومت اور خصوصاً وفاقی وزرا الیکشن کمیشن کی جانب سے اختیار کیے جانے والے اس طرز عمل کو ہضم کر پائیں گے اور نوٹس کا جواب دیں گے اور اگر اس حوالے سے لیت و لعل برتا جاتا ہے تو پھر الیکشن کمیشن اس پر کیا پیش رفت کرے گا، ویسے تو وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادارے کو ٹارگٹ نہیں کیا،یہ کہا ہے کہ الیکشن کمشنر کو غیر جانبدار ہونا چاہیے اور نوٹس بارے ان کا کہنا ہے کہ نوٹس انہیں ملے گا تو وہ پھر اس پر جواب دیں گے۔

 مذکورہ صورتحال الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ایشو پر انتخابات کی شفاف حیثیت بارے پیش کئے جانے والے 37 نکات پر مؤقف کے باعث پیدا ہوئی جس پر سینیٹ کی مجلس قائمہ میں وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے الیکشن کمیشن پر پیسے کھانے کا الزام لگاتے ہوئے اسے آگ لگانے کی بات کی، بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے الیکشن کمیشن کو اپوزیشن کا ہیڈ کوارٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے مائوتھ پیس کے طور پر کام کر رہے ہیں، جلتی پر تیل کا کام کر دیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے اسی روز ہی ان الزامات کے جواب میں دوروز بعد اجلاس طلب کیا اور اجلاس کے ذریعے وفاقی وزرا کو اپنے الزامات کے حوالے سے شواہد پیش کرنے کے لیے کہا۔ قانونی ماہرین تو اس سارے عمل کو اتنا سادہ قرار نہیں دے رہے، ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف الیکٹرانک مشین کا ہی نہیں الیکشن کمیشن میں زیر سماعت فارن فنڈنگ کیس سمیت دیگر مقدمات کا بھی ہے جس پر حکومت پر تلوار پھینک دی گئی ہے اور اب اس ایشو پر الیکشن کمیشن کو ٹارگٹ کر کے دفاعی محاذ پر لانے کی کوشش کی گئی ہے مگر الیکشن کمیشن کی جانب سے آنے والا رد عمل ظاہر کر ر ہا ہے کہ وہ اپنی ساکھ پر حرف آنے کے لیے تیار نہیں اور اسے ابھی عام انتخابات کا چیلنج بھی در پیش ہے لہٰذا دیکھنا ہو گا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان پیدا شدہ تنائو کا انجام کیا ہوتا ہے؟

 اس صورتحال سے متعلقہ قانونی حلقے یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ حکومت کو اس پر پسپائی اختیار کرنا پڑے گی کیونکہ ایک آئینی ادارے کے طور پر اس کی پسپائی موجودہ حالات میں ریاست کے مفاد میں نہیں اور الیکشن کمیشن آزادانہ کردار کی ادائیگی پر مصر ہے اور ویسے بھی سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمیشن کی تقرری بارے درخواست نمٹا کر پیغام دے دیا اگر حکومت سمجھنے کی کوشش کرے ۔ ملکی سیاسی تاریخ میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کی کبھی غیر معمولی حیثیت اور اہمیت نہیں رہی ، لیکن موجودہ سیاسی حالات خصوصاً حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تنائو کی کیفیت نے انہیں اہم بنا دیا تھا اور اہم سیاسی جماعتوں خصوصاً حکمران تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم سمیت دیگر نے اپنے امیدوار کی جیت کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا اور بعد ازاں ان انتخابات کے نتائج نے پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی اگرچہ ملک بھر میں ہونے والے ان انتخابات کے نتائج کو دیکھا جائے تو اب بھی تحریک انصاف ان میں آگے ہے لیکن پنجاب میں خاص طور پر تحریک انصاف کو بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ شدید مشکل صورتحال اور پارٹی کے اندر بیانیہ کی جنگ کے باوجود مسلم لیگ ن اس میں پہلی پوزیشن پر رہی اور پارٹی کی لیڈر شپ کی جانب سے بھی ان انتخابات میں کوئی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں نہیں آئی تھیں۔ خصوصاً لاہور کے محاذ پر سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق اور سابق سپیکر ایاز صادق متحرک دکھائی دئیے تھے۔ پنجاب کے محاذ پر مسلم لیگ ن کی انتخابی جیت کا بڑا فائدہ انہیں یہ ہوا کہ ن لیگ مایوسی کی کیفیت سے نکل آئی اور ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نائب صدر مریم نواز اس جیت کو حکمران جماعت تحریک انصاف پر عوام کا یوم اعتماد قرار دیتے ہوئے تحسین کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں منعقدہ ان انتخابات کے نتائج کا نوٹس لیتے ہوئے اس انتخابی شکست پر تحقیقات کے لیے باقاعدہ کمیٹی بنائی ہے جو اپنی لیڈر شپ کو ان عوامل سے آگاہ کرے گی جس بنا پر انہیں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات خصوصاً لاہور، ملتان، راولپنڈی اور پشاور میں انتخابی شکست سے دو چار ہونا پڑا۔

 پنجاب جو مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے وہاں مسلم لیگ ن کی پی ٹی آئی پر سیاسی برتری اہم ہے اور یہ حکمران جماعت کیلئے بڑا سیاسی دھچکا ہے، لیکن خود وزیراعظم عمران خان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ مسلسل بلدیاتی نتخابات کرانے میں سنجیدہ رہے مگر پارٹی کے لوگوں نے اس میں دلچسپی ظاہر نہیں کی خصوصاً اراکین اسمبلی کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ اراکین اسمبلی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں اصل رکاوٹ رہے ہیں ۔ حکمران جماعت میں یہی ہوا کہ وزیراعظم عمران خان جو بلدیاتی سسٹم میں سنجیدگی کا اظہار کرتے یہ کہتے دکھائی دیتے تھے کہ اراکین اسمبلی کا ترقیاتی عمل میں کردار نہیں ہونا چاہیے یہ عمل بلدیاتی اداروں کے ذریعے ہی ممکن بننا چاہیے بعد ازاں وہ اراکین اسمبلی کے دبائو کے سامنے سرنڈر کرتے دکھائی دیئے اور پھر انہیں ترقیاتی فنڈز بھی فراہم کرنے پر مجبور ہوئے۔ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی یقینی نہ بن سکا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

پاکستان بمقابلہ بھارت : زور کا جوڑ ,ٹی 20 ورلڈ کپ کا ہائی وولٹیج میچ

یوں تو ’’ٹی 20 کرکٹ‘‘ کی عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے لیکن اس جنگ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز معرکہ ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہوتا ہے، جسے دنیا بھر میں کرکٹ شائقین کسی بھی بین الاقوامی ایونٹ کے فائنل سے بھی زیادہ دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ دونوں روایتی حریف ہمسایہ ممالک کے شہری توگویا اسے کھیل نہیں بلکہ حقیقی جنگ تصور کر لیتے ہیں۔ میچ والے دن سڑکیں سنسان اور بازار ویران ہو جاتے ہیں۔ ہر کوئی ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ جاتا ہے اور ایک ایک گیند پر ایسے تبصرے ہوتے ہیں جیسے شاید دونوں ایشیائی ممالک کا کرکٹ کے سوا تو کوئی کام یا مسئلہ ہے ہی نہیں۔

کھلاڑی پریشر سے آزاد ہوکر کھیلیں، وسیم اکرم،مشتاق احمد، شعیب اختر،یونس خان کا ٹیم کو مشورہ

بہترین منصوبہ بندی اور اوپننگ پارٹنرشپ ضروری ہے: وسیم اکرم،پاکستانی ٹیم کو ہار کا خوف نکال کر کھیلنا ہو گا: مشتاق احمد،کھلاڑیوں کو خود کو پر سکون رکھنا ہو گا: شعیب اختر،ہمیں بھارت کے خلاف 4 فاسٹ باؤلرز کو کھلانا چاہئے:یونس خان

ٹی 20 ورلڈکپ میں بننے والے ریکارڈز

فاتح ٹیمیں،ٹی 20 کے 2007 ء میں ہوئے پہلے عالمی میلے کو بھارت نے اپنے نام کیا۔ 2009ء کا ایونٹ پاکستان کے نام رہا۔ 2010ء میں انگلینڈ فاتح رہی، 2012ء کے ایونٹ کو جیت کر ویسٹ انڈیز اس ٹی ٹوئنٹی کا حکمران بن گیا۔ 2014ء میں سری لنکا نے بھی ٹی 20 کا عالمی کپ جیت کر اپنا کھاتا کھولا جبکہ 2016ء میں ویسٹ انڈیز نے دوسری مرتبہ اس ایونٹ کو جیت کر تاریخ رقم کی۔

ایک بھوکا لکھ پتی

واٹسن نامی لکھ پتی سوداگر ایک دن صبح کے وقت کہیں جانے کو تیار تھا ۔ نوکر ناشتے کی میز لگائے منتظر کھڑے تھے۔ ایک فقیر نے دروازے پرآکر سوال کیا۔سوداگر صاحب! میں تین دن سے بھوکا ہوں، کچھ کھانا ہو تو خدا کی راہ میں دے دو تاکہ میں بھی پیٹ کے دورخ کو بھر لوں۔

ہنر کی دولت

کسی جزیرے میں ایک امیرشخص رہتا تھا، جسے شکار کا بہت شوق تھا۔ایک دن شکار کو جاتے ہوئے اس کی نظر ایک غریب ٹوکریاں بنانے والے کی زمین پر پڑی۔ اس زمین میں نرسل(ایک پودہ)اُگے ہوئے تھے۔اس کھیت کی ناہمواری اور نرسلوں میں سے گزرنے کی تکلیف امیر کو بہت ناگوار گزرتی تھی۔ایک دن امیر نے غریب کو بلا کر کہا ’’تم یہ زمین ہمیں دے دو‘‘۔ غریب نے جواب دیا ’’ حضور! میرا تو گزارہ اسی پر ہے، میں بیچنا نہیں چاہتا‘‘۔ اس پر امیر ناراض ہو گیا، اس نے غریب کو خوب پٹوایا پھرتمام نرسلوں کو جلوا دیا،جس پر غریب روتا ہوا بادشاہ کے پاس چلا گیا۔

کچھ دے دیں گے۔۔

ایک مسافر نے کسی شہر کی سرائے میں اتر کر سرائے والے سے کہا کوئی نائی بلوا دو تو میں خط بنوا لوں۔سرائے والے نے ایک نائی بلوا لیا۔نائی نے حجامت بنانے سے پہلے مسافر سے پوچھا،حضور مزدوری کیا ملے گی؟۔