نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان سےسعودی ولی عہدمحمدبن سلمان کی ملاقات
  • بریکنگ :- ریاض:ملاقات مڈل ایسٹ گرین انیشی ایٹوسمٹ کی سائیڈلائن پرہوئی
  • بریکنگ :- ملاقات میں دوطرفہ امورپرتبادلہ خیال کیاگیا،وزیراعظم آفس
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےسعودیہ کی ترقی کیلئےشاہ سلمان بن عبدالعزیزکی قیادت کوسراہا
  • بریکنگ :- سعودی وژن 2030 کےلیےولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان کی بھی تعریف
  • بریکنگ :- مڈل ایسٹ گرین انیشی ایٹوسربراہی اجلاس کےانعقادپرمحمدبن سلمان کومبارکباد
  • بریکنگ :- پاکستان گرین انیشی ایٹوکی تکمیل میں تعاون اورحمایت کرےگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاسعودی عرب کیساتھ مضبوط برادرانہ تعلقات کےعزم کااعادہ
  • بریکنگ :- سعودی عرب کیساتھ پاکستان کےاسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت پربھی بات چیت
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےہراہم موڑپرپاکستان کی مددپرسعودی عرب کاشکریہ اداکیا
  • بریکنگ :- دونوں رہنماؤں کاتمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزیدمضبوط بنانےپراتفاق
  • بریکنگ :- دونوں رہنماؤں کاافغانستان میں تازہ ترین پیشرفت کابھی جائزہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاافغانستان کی مددکیلئےبین الاقوامی برادری کےکردارکی اہمیت پرزور
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاافغانستان میں بگڑتی انسانی صورتحال پرتشویش کااظہار
  • بریکنگ :- عالمی برادری افغانستان میں انسانی ومعاشی بحران روکنےکیلئےاقدامات کرے،وزیراعظم
Coronavirus Updates

پارلیمان کا چوتھا سال ،حکومتی چیلنجز۔۔۔؟

خصوصی ایڈیشن

تحریر : خاور گھمن


موجودہ قومی اسمبلی جس میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادی اکثریت میں ہونے کی وجہ سے حکومتی بینچوں پر براجمان ہیں اپنا چوتھا پارلیمانی سال شروع کرنے جا رہی ہے۔ کسی بھی حکومت کیلئے اس کا چوتھا سال ہر لحاظ سے اہم ہوتا ہے۔ حکومت پر میڈیا کی طرف سے تنقید بڑھ جاتی ہے ۔ اس کی کارکردگی پر سوال اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور ایسا ہر جمہوری ملک میں ہوتا ہے۔ دوسری طرف حکومت اپنے اچھے کاموں کی تشہیر تیز کر دیتی ہے۔

 اگر پارلیمانی سطح پر حکومتی چیلنجز کا احاطہ کیا جائے تو وزیراعظم عمران خان اور انکی پارٹی تحریک انصاف کے لیے آنے والے سالوں میں کافی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال کو اگر سامنے رکھیں تو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی بھی لیول پر کوئی ورکنگ ریلیشن شپ قائم نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ حکومت کے سامنے ایک لمبا چوڑا اصلاحاتی ایجنڈا موجود ہے جس کو وہ آنے والے سال میں مکمل کرنا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے اس کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہو گی۔ اور قانون سازی کے لیے دونوں ایوانوں میں اکثریت کا ہونا ضروری ہے جو کہ حکومت کے پاس موجود نہیں۔ حکومت ان قوانین کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے پاس تو کروا سکتی ہے لیکن اس کے لیے ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ پہلے قومی اسمبلی کسی قانون کو پاس کرے وہ پھر سینٹ کو بھیجا جائے اس کے بعد سینٹ کی متعلقہ کمیٹی کے پاس دو مہینے اس پر بحث کیلئے موجود ہوتے ہیں اور سینٹ کی کمیٹی کسی نیشنل اسمبلی سے پاس شدہ بل کو رد کرتی ہے تو پھر حکومت کے پاس اختیار موجود ہوتا ہے کہ اس بل کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں لے جا کر پاس کروا لے۔

 جیسا کہ حکومت ای ووٹنگ اور بیرون ممالک میں موجود پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حوالے سے قوانین اب پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے پاس کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ الیکشن کمیشن میں دو ممبران کی تعیناتی کا معاملہ بھی اب پارلیمان کی ایک مشترکہ کمیٹی کے سامنے آنا ہے۔ کیونکہ وزیراعظم عمران خان کے تجویز کردہ ناموں کو اپوزیشن رد کر چکی ہے۔ لہٰذا اب یہ معاملہ بھی پارلیمان کے ذریعے ہی حل ہو گا۔ اکتوبر میں چیئرمین نیب کی مدت ملازمت بھی ختم ہو رہی ہے۔ آئین کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو با مقصد مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنا مطلب نئے چیئرمین کاتقرر کرناہے۔ لیکن ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت آرڈیننس کے ذریعے موجودہ چیئرمین کو مزید چار سال دینا چاہتی ہے جیسا کہ نیب کے موجودہ پراسیکیوٹر کو ایک اور ٹرم دے دی گئی ہے۔ ظاہر ہے یہ معاملہ بھی پارلیمان کے سامنے آئے گا۔ سب سے اہم اور عام لوگوں کیلئے فائدہ مند کریمنل اور سول قوانین کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت نے ایک آئینی پیکج تیار کیا ہے اس کیلئے بھی حکومت کو پارلیمان کا ہی رخ کرنا پڑے گا۔ حکومت میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ایک بااختیار اتھارٹی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کو فی الحال تمام میڈیا کی تنظیمیں کلی طور پر رد کر چکی ہیں۔ یہ کام بھی پارلیمان کے ذریعے ہی ہو گا۔لیکن جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ جس طرح کے لڑائی جھگڑے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری ہیں یہ سب کچھ معمول اور پارلیمانی روایات کے مطابق ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ یہ سب کچھ کیسے ہو گا؟حکومتی ارکان اس حوالے سے پر یقین ہیں کہ وہ ان تمام قوانین کو جلد یا دیر سے پاس کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایک سینئر حکومتی وزیر سے جب اس بارے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا تحریک انصاف کوئی بھی ایسا کام نہیں کر رہی جو اس کے انتخابی منشور کے خلاف ہو۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان موجود شدید تناؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک اور تحریک انصاف کے وزیر کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر اس بارے میں بات ہوئی ہے۔ ہمارے کچھ ساتھیوں کا خیال ہے کہ ہمیں اپوزیشن کے رہنماؤں کے ساتھ روابط بڑھانے چاہیں۔ ظاہر ہے بہت سارے معاملات میں ان رابطوں کی ضرورت رہتی ہے۔ لیکن جب مزید پوچھا تو وزیر موصوف کا کہنا تھا ویسے تو سیاست میں سب کچھ ممکن ہوتا ہے لیکن پارٹی کے اندر یہ ایک متفقہ رائے پائی جاتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کسی بھی صورت میں شہباز شریف ہوں یا پھر آصف علی زرداری، ملاقات تو دور کی بات وہ ان سے کبھی رسمی طور پر ہاتھ بھی نہیں ملائیں گے۔ یہی پارلیمانی روایت ہے کہ حکومتی بینچز نرم رویہ دکھاتے ہیں لیکن تحریک انصاف نے تمام روایتوں کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔ لہٰذا اب یہ درد سر حکومت کا ہے کہ وہ کیسے قانون سازی کرتی ہے۔ ہم انکو ہر سطح پر نہ صرف چیلنج کریں گے کے بلکہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ حکومت کوئی بھی قانون پاس نہ کروا سکے۔ ہمیں معلوم ہے کچھ قوانین عام لوگوں کی بہتری کے لیے بننے جارہے ہیں لیکن حکومتی رویے کو سامنے رکھتے ہوئے ہم ان قوانین پر بھی حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔

 اسلام آباد میں موجود سیاسی تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کا آپس میں لڑنا اختلاف رکھنا ایک فطری عمل ہے اور ایسا ہی جمہوری معاشروں میں ہوتا ہے۔ لیکن جس انداز سے ہمارے موجودہ سیاستدان ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں، ایسا لگتا ہے سیاست نہیں پانی پت کی لڑائی ہو رہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا یہی ماننا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں ایک اچھی خاصی تعداد میں آزاد امیدواروں کا کامیاب ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ لوگ سیاستدانوں اور ان کی پارٹیوں سے متنفر ہو رہے ہیں۔ لہٰذا اب یہ بات سیاستدانوں کو سوچنی ہے کہ وہ ملک میں کیسا کلچر چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے اس کی زیادہ ذمہ داری حکومت کے سر عائد ہو تی ہے۔ لیکن فی الوقت موجودہ سیاسی تناؤ میں کمی ہوتی نظر نہیں آرہی اور اس کا زیادہ نقصان حکومت کو ہی ہوگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

پاکستان بمقابلہ بھارت : زور کا جوڑ ,ٹی 20 ورلڈ کپ کا ہائی وولٹیج میچ

یوں تو ’’ٹی 20 کرکٹ‘‘ کی عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے لیکن اس جنگ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز معرکہ ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہوتا ہے، جسے دنیا بھر میں کرکٹ شائقین کسی بھی بین الاقوامی ایونٹ کے فائنل سے بھی زیادہ دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ دونوں روایتی حریف ہمسایہ ممالک کے شہری توگویا اسے کھیل نہیں بلکہ حقیقی جنگ تصور کر لیتے ہیں۔ میچ والے دن سڑکیں سنسان اور بازار ویران ہو جاتے ہیں۔ ہر کوئی ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ جاتا ہے اور ایک ایک گیند پر ایسے تبصرے ہوتے ہیں جیسے شاید دونوں ایشیائی ممالک کا کرکٹ کے سوا تو کوئی کام یا مسئلہ ہے ہی نہیں۔

کھلاڑی پریشر سے آزاد ہوکر کھیلیں، وسیم اکرم،مشتاق احمد، شعیب اختر،یونس خان کا ٹیم کو مشورہ

بہترین منصوبہ بندی اور اوپننگ پارٹنرشپ ضروری ہے: وسیم اکرم،پاکستانی ٹیم کو ہار کا خوف نکال کر کھیلنا ہو گا: مشتاق احمد،کھلاڑیوں کو خود کو پر سکون رکھنا ہو گا: شعیب اختر،ہمیں بھارت کے خلاف 4 فاسٹ باؤلرز کو کھلانا چاہئے:یونس خان

ٹی 20 ورلڈکپ میں بننے والے ریکارڈز

فاتح ٹیمیں،ٹی 20 کے 2007 ء میں ہوئے پہلے عالمی میلے کو بھارت نے اپنے نام کیا۔ 2009ء کا ایونٹ پاکستان کے نام رہا۔ 2010ء میں انگلینڈ فاتح رہی، 2012ء کے ایونٹ کو جیت کر ویسٹ انڈیز اس ٹی ٹوئنٹی کا حکمران بن گیا۔ 2014ء میں سری لنکا نے بھی ٹی 20 کا عالمی کپ جیت کر اپنا کھاتا کھولا جبکہ 2016ء میں ویسٹ انڈیز نے دوسری مرتبہ اس ایونٹ کو جیت کر تاریخ رقم کی۔

ایک بھوکا لکھ پتی

واٹسن نامی لکھ پتی سوداگر ایک دن صبح کے وقت کہیں جانے کو تیار تھا ۔ نوکر ناشتے کی میز لگائے منتظر کھڑے تھے۔ ایک فقیر نے دروازے پرآکر سوال کیا۔سوداگر صاحب! میں تین دن سے بھوکا ہوں، کچھ کھانا ہو تو خدا کی راہ میں دے دو تاکہ میں بھی پیٹ کے دورخ کو بھر لوں۔

ہنر کی دولت

کسی جزیرے میں ایک امیرشخص رہتا تھا، جسے شکار کا بہت شوق تھا۔ایک دن شکار کو جاتے ہوئے اس کی نظر ایک غریب ٹوکریاں بنانے والے کی زمین پر پڑی۔ اس زمین میں نرسل(ایک پودہ)اُگے ہوئے تھے۔اس کھیت کی ناہمواری اور نرسلوں میں سے گزرنے کی تکلیف امیر کو بہت ناگوار گزرتی تھی۔ایک دن امیر نے غریب کو بلا کر کہا ’’تم یہ زمین ہمیں دے دو‘‘۔ غریب نے جواب دیا ’’ حضور! میرا تو گزارہ اسی پر ہے، میں بیچنا نہیں چاہتا‘‘۔ اس پر امیر ناراض ہو گیا، اس نے غریب کو خوب پٹوایا پھرتمام نرسلوں کو جلوا دیا،جس پر غریب روتا ہوا بادشاہ کے پاس چلا گیا۔

کچھ دے دیں گے۔۔

ایک مسافر نے کسی شہر کی سرائے میں اتر کر سرائے والے سے کہا کوئی نائی بلوا دو تو میں خط بنوا لوں۔سرائے والے نے ایک نائی بلوا لیا۔نائی نے حجامت بنانے سے پہلے مسافر سے پوچھا،حضور مزدوری کیا ملے گی؟۔