نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اجلاس میں ملکی معاشی اورمہنگائی کی صورتحال کاجائزہ،ذرائع
  • بریکنگ :- کم آمدن والےافرادکوپٹرولیم مصنوعات پرسبسڈی دینےکی تجویزپرغور،ذرائع
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی کم آمدن والوں کیلئےپٹرول پرسبسڈی دینےپرپلان بنانےکی ہدایت
  • بریکنگ :- موٹرسائیکل،رکشہ،عوامی سواری کوپٹرول پرسبسڈی دینےکاپلان آئندہ ہفتےپیش کیاجائےگا
  • بریکنگ :- مہنگائی میں کمی کےلیےضلعی سطح پرکمیٹیاں بنانےکافیصلہ،ذرائع
  • بریکنگ :- یوٹیلیٹی اسٹورزکےذریعےکم آمدن والےافرادکوٹارگٹڈسبسڈی دینےکافیصلہ،ذرائع
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی زیرصدارت پارٹی رہنماؤں کااجلاس
Coronavirus Updates

پاکیزہ خیالات

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا’’ بدگمانی سے بچو کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے‘‘۔ (ترمذی)

اللہ رب العزت نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر284میں فرمایا ۔

’’جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور اگر تم ان باتوں کو ظاہر کرو گے جو تمہارے نفسوں میں ہیں یا ان باتوں کو چھپائو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے ان کا حساب لے گا۔ پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘اِس آیت کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھا جائے تو یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے گواہی کو ظاہر کرنے کا حکم دیا اور گواہی کے چھپانے سے منع فرمایا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص معاملے کو جانتے ہوئے اصل بات چھپائے تو اللہ تعالیٰ دلوں کا حال بخوبی جانتا ہے، وہ ضرور حساب لے گا۔

جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے تمام اعمال کا محاسبہ فرمائیں گے، ان اعمال کا جو انسان کر چکا اور اس بات کا بھی کہ جس چیز کے چھپانے اور جس چیز کے ظاہر کرنے کا حکم فرمایا ۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا ’’مومن کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے قریب کیا جائے گا ،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک گناہ کو یاد دلائیں گے اور سوال کریں گے کہ تو جانتاہے کہ تو نے یہ گناہ کیا تھا؟ مومن بندہ اقرار کرے گا۔ حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے دنیا میں بھی تیری پردہ پوشی کی اور تیرا گناہ لوگوں میں ظاہر نہیں ہونے دیا، آج میں اسے معاف کرتا ہوں اور نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دے دیا جائے گا۔

ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے جس میں پوشیدہ چیزوں کا جائزہ لیا جائے گا اور دلوں کے پوشیدہ راز کھولے جائیں گے اور اعمال لکھنے والے فرشتوں نے تو صرف تمہارے وہ اعمال لکھے ہیں جو ظاہر تھے اور میں ان چیزوں کو بھی جانتا ہوں جن کے بارے میں فرشتے بھی نہیں جانتے اور نہ انہوں نے وہ چیزیں تمہارے نامہ اعمال میں لکھی ہیں، میں وہ سب بتاتا ہوں اور اب ان کا حساب لوں گا۔

جب سورہ بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فکر لاحق ہوئی کہ دل میں پتہ نہیں کیا کیا خیالات آتے ہیں۔ اگر ان کا حساب ہونے لگا تو پھر نجات کیسے ہو گی؟ صحابہ کرامؓ نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے دریافت کیا ۔ آپؐ نے فرمایا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اسے سن لو اور اس کی اطاعت کرو اور مان لو۔ پھر  قرآن مجید  میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

ترجمہ: ’’یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی قدرت سے زائد تکلیف نہیں دیتا۔‘‘

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ انسان کی فطرت ہی ایسی ہے اگر اس کے ذہن میں کوئی خیال آئے تو اس کو روکا نہیں جا سکتا۔ لہٰذا جب انسان خیالات کے خود بخود آنے پر قدرت نہیں رکھتا تو اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ بھی نہیں فرمائیں گے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ایک ہے خیالات کا آنا ایک ہے خیالات کا لانا۔ دونوں میں فرق واضح ہے ۔خیالات آجائیں تو ان کو روکنے پر قدرت نہیں لیکن خیالات لانے یا نہ لانے پر تو انسان قادر ہے، لہٰذا اگر کوئی جان بوجھ کر برے خیالات کو ذہن میں لائے تو اس پر پکڑ ہو گی۔ جیسے تکبر کا خیال، حسد، بغض، کینہ، دشمنی، لالچ اور دوسرے گناہوں کا خیال لانا اور ذہن میں اسے جگہ دینا ، اگر یہ خیالات خود بخود آجائیں تو پکڑ نہیں ہو گی۔ اس لیے کہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہے:

ترجمہ: ’’فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں آنے والے خیالات کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ ان خیالات کو زبان سے نہ کہا اور نہ ان پر عمل کیا۔‘‘

برے خیالات انسان کے ذہن میں جب آئیں تو ان کا علاج بہت آسان ہے، ماہرین نفسیات کی تحقیق کے مطابق ایک صحت مند انسان کے ذہن میں ایک وقت میں ایک طرح کا خیال رہ سکتا ہے لہٰذا جب بھی کوئی برا خیال ذہن میں آئے تو اپنے ذہن کو کسی اچھے کام اور اچھے خیال کی طرف مائل کر دیا جائے۔جب اچھا خیال ذہن میں آئے گا تو برا خیال خود بخود نکل جائے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ معاشرے میں بعض انسان وہ بھی ہیں جن کا ذہن ہر وقت برے خیالات اور گناہوں بھرے وسوسوں سے بھرا رہتا ہے اس کی ایک بڑی وجہ ہے اور وہ یہ کہ انسان کا ذہن ایک کیسٹ کی طرح ہے۔ انسان جو کچھ کانوں سے سنتا ہے وہ آوازیں ذہن میں ریکارڈ ہو جاتی ہیں اور جو کچھ آنکھوں سے دیکھتا ہے وہ تصویر بھی ذہن میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ اب اگر انسان کیسٹ میں گناہوں بھری آوازیں محفوظ کرتا رہے اور ممنوعہ مناظر کو ذہن میں نقش کرتا چلا جائے اور جب ذہن میں وہ کیسٹ چلے تو  پھریہ انسان پریشان ہو کر چاہتا ہے کہ اس میں سے نیک باتیں سنائی دیں اور اچھے مناظر دکھائی دیں ۔ یہ ناممکن ہے، خلافِ فطرت ہے۔

اس لیے اگر انسان اپنے سننے کی چیزوں کو پاکیزہ بنا لے۔ دیکھنے اور پڑھنے کی چیزوں کو پاکیزہ بنا لے تو   انشاء اللہ دل میں آنے والے برے خیالات سے چھٹکارا مل جائے گا۔اللہ تعالیٰ چونکہ ہمارے ذہن میں چھپائی جانے والی اور ظاہر کی جانے والی باتوں کا بہرحال حساب لے گا اس لیے ہمیں زندگی اس طرح گزارنی ہو گی کہ اگر کچھ باتیں ہمارے ذہن میں دوسروں کے فائدہ کی ہوں وہ ضرور بتائیں، انہیں نہ چھپائیں۔ جیسے گواہی چھپانے سے منع فرمایا اور ایسی باتیں جن سے دوسروں کی اصلاح ہو سکتی ہو اور بہت سی ایسی باتیں جن سے کسی کو دینی یا دنیاوی فائدہ پہنچ سکتا ہو اور اگر کسی کے بارے میں بری باتیں معلوم ہو جائیں تو اسے چھپایا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے یہی ہدایت دی ہے کہ جو کوئی دوسرے مسلمان کا عیب چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب کو چھپائے گا۔

اس لئے ضروری ہے کہ  انسان برے خیالات پر پریشان ہونے کی بجائے ان کا علاج کرے۔ اپنے دیکھنے سننے اور پڑھنے کی چیزوں کو پاکیزہ بنائے اس لیے کہ اللہ رب العزت دل میں چھپی اور ظاہر کی جانے والی چیزوں کا حساب لے گا۔ اس بات کا پختہ یقین رکھنے والا شخص یقینا دنیا و آخرت میں کامیاب انسان شمار ہو گا اور معاشرے میں ایک تندرست ذہن رکھنے والا انسان شمار ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

وہ دانائے سبل ،ختم الرسل، مولائے کل ﷺجس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

سرور کونین ﷺکی آمد سے عرب سے جہالت کے اندھیرے چھٹےآپ ﷺ کی تعلیمات کی بدولت خون کے دشمن بھائی بھائی بن گئے،اللہ نے آپ ﷺ کو تما م جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجاآپ ﷺ بڑے سے بڑے دشمن کو بھی معاف فرما دیا کرتے تھے

اتباع مصطفیٰ ﷺ کی برکات ،آپ ﷺ کا پیروکار اللہ تعالیٰ کا مجبوب ہے

’’اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ (آل عمران: آیت31)محبت ایک مخفی چیز ہے کسی کو کسی سے محبت ہے یا نہیں اور کم ہے یا زیادہ، اس کا کوئی پیمانہ بجز اس کے نہیں کہ حالات اور معاملات سے اندازہ کیا جائے۔ محبت کے کچھ آثار اور علامات ہوتی ہیں ان سے پہچانا جائے، یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعویدار اور محبوبیت کے متمنی تھے وہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان آیات میں اپنی محبت کا معیار بتایا ہے۔ یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ ہو تو اس کے لئے لازم ہے کہ اس کو اتباعِ محمدیﷺکی کسوٹی پر آزما کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہوجائے گا۔

آمد مصطفیٰ ﷺ مرحبا مرحبا ،نبی کریم ﷺ کی آمد تمام جہانوں کے لئے رحمت

’’اور بیشک آپﷺ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں‘‘۔ (القلم ۶۸:۴)اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاوّل شریف ہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع یعنی فصل بہار کا آغاز تھا، یہ مہینہ فیوض وبرکات کے اعتبار سے بہت ہی افضل و اعلیٰ ہے کیوں کہ اس ماہ مبارک میں باعث تخلیق کائنات فخر موجودات حضور ﷺ نے دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ 12 ربیع الاوّل بروز پیر مکۃ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں آپﷺ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔

نعت ِ شریف

رہتے تھے ان کی بزم میں یوں با ادب چراغ,جیسے ہوں اعتکاف کی حالت میں سب چراغ,جتنے ضیا کے روپ ہیں، سارے ہیں مستعار

بگل بج گیا،سٹیج سج گیا، 20 ورلڈ کپ کا آغاز،27 روزہ ٹورنامنٹ میں 45 میچ کھلیے جائیں گے،فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالرز ملیں گے

’’آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ2021ء ‘‘16ٹیموں پر مشتمل ہے، جو ٹاپ ٹین ٹیموں اور ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر کے ذریعے منتخب ہونے والی چھ دیگر ٹیموں پر مشتمل ہے۔یہ ایونٹ عام طور پر ہر دو سال بعدہوتا ہے، ٹورنامنٹ کا 2020ء کا ایڈیشن بھارت میں شیڈول تھا، لیکن کورونا کی وجہ سے ٹورنامنٹ کو 2021 ء تک ملتوی کرکے متحدہ عرب امارات اوراومان منتقل کر دیا گیا۔

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے