نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کااجلاس آج 10بجےہوگا
  • بریکنگ :- عبدالقدوس بزنجوایوان میں اکثریت ثابت کرکےاعتمادکاووٹ لیں گے
  • بریکنگ :- عبدالقدوس بزنجوکو 65کےایوان میں 33ارکان کی حمایت درکارہے
  • بریکنگ :- عبدالقدوس بزنجواعتمادکاووٹ لینےکےبعدایوان سےخطاب کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ: 4بجےگورنرہاؤس میں تقریب حلف برداری ہوگی
  • بریکنگ :- گورنربلوچستان ظہورآغانومنتخب وزیراعلیٰ سےحلف لیں گے
Coronavirus Updates

بچوں کی نفسیات : والدین اور اساتذہ کا کردار(تیسری قسط)

خصوصی ایڈیشن

تحریر : قمر فلاحی


بچوں کی صحیح سمت میں تربیت کیلئے کے لیے اُن کی نفسیات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے لئے بنیادی شرط بچوں سے قریبی تعلق ہے اور اس قربت کے ساتھ ساتھ ان سے بے پناہ لگائو بھی ہے۔

 آئیے! ہم بچوں کی کچھ نفسیاتی باتوں پہ غور کرتے ہیں :

1۔ میرے ایک بہت اچھے دوست ہیں۔ ان کی گود میں بچوں کا کھیلنا ایک معمول ہے ، وہ شمع کی طرح اپنے والد کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں۔ ، لوگ کہتے ہیں کہ بچے اپنی ماں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں، یہ بالکل غلط ہے، ماں سے قربت کی وجہ دراصل والد کی محبت سے محرومی ہوتی ہے، جب والدیہ محبت دینے کو تیار ہوجائے تو بچے قطعی یہ فرق نہیں سمجھتے ہیں، یہ ہمارے ذہنوں کا فتور ہے۔ بچے آئے دن یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ابو ہمارے لیے مٹھائی لاتے ہیں، کپڑے اور کھلونے لاتے ہیں، ہماری ساری ضروریات پوری کرتے ہیں لہٰذا وہ ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ میں خود چند گھنٹوں کیلئے جب اپنے بچوں سے دُور ہوتا ہوں تو بچے میری کمی کا تذکرہ اپنی ماں سے بار بار کرتے ہیں ۔جب اپنے دروازے کے قریب آتاہوں تو والہانہ استقبا ل کرتے ہیں اور  احساس دلاتے ہیں کہ آپ بہت دنوں ہم سے ُدور رہے ہیں۔  (جاری ہے)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کے وفاق پر اثرات

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے استعفے کے ساتھ ہی ملک میں سیاسی چہ مگوئیوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ خاص طور پر اس حوالے سے اسلام آباد میں ہر طرف اب ایک ہی موضوع زیر بحث ہے اور وہ یہ کہ کیا بلوچستان میں اس تبدیلی کی ہوا کا وفاق پر بھی کچھ اثر پڑے گا ؟ کیا اب حزب اختلاف کی جماعتیں خاص طور پرن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی تبدیلی کی ہوا سے کچھ فائدہ اٹھانے کیلئے کسی متفقہ لائحہ عمل کا سوچ سکتی ہیں؟پیپلزپارٹی تو شروع سے ہی ن لیگ کو تجویز دیتی رہی ہے کہ وہ پنجاب میں سردار عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائیں۔ اگر پنجاب میں کامیابی ملتی ہے تو اس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھی ایسی ہی تحریک لائی جا سکتی ہے۔ اگر پنجاب تحریک انصاف کے ہاتھوں سے جاتا ہے تو وفاق کا ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔ اگر پنجاب اور وفاق میں بلوچستان والی صورتحال نہیں بھی بنتی تو کیا جام کمال کے جانے کا کچھ اثر اسلام آباد پر پڑ سکتا ہے؟

شہباز شریف کی پر اسرار ملاقاتیں۔۔حقیقت کیا ہے؟

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایشوز کے حوالے سے وہی پہلی سی کیفیت، وہی ڈیڈ لاک کی کیفیت طاری ہے۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیاں جن کے وجود کا مقصد قومی و عوامی مسائل کے حوالے سے سفارشات اور حکومت کیلئے ان پر عملدرآمد کا موقع ہوتا ہے لیکن اس حوالے سے بھی کوئی سنجیدگی اور یکسوئی نظر نہیں آتی ہے ۔ عام تاثر یہ ہے کہ اگر ایوانوں کے اندر قوم و ملک کو در پیش مسائل اور دیگر خارجی اور داخلی ایشوز پر سیر حاصل بحث ہو تو یقینا مسائل کے حل میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔ سیاسی اتار چڑھائو اور جمہوری امور پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر جمہوریت اور جمہوری عمل کو چلنا ہے تو سیاسی قوتوں کو ہر مسئلہ پر پارلیمنٹ کو بروئے کار لانا ہوگا اور خود اپوزیشن کو بھی پارلیمنٹ کا رخ کرنا پڑے گا۔

حکومت کے خلاف اپوزیشن کی احتجاجی تحریک میں تیزی ۔۔۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تین سال میں اپوزیشن سرتوڑ کوشش کے باوجود جو نہ کرسکی، وہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں نے حالیہ چند روز میں کر دیاہے۔ لگتا ہے اپوزیشن سے زیادہ حکومت اپنے لئے پریشانیاں کھڑی کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اوگرا کی بھیجی جانے والی پانچ روپے فی لیٹر اضافے کی سمری کے برخلاف یکدم 10 روپے49 پیسے اضافے پر عوام حکومت سے شدید ناراض ہے۔ صرف پٹرولیم مصنوعات کی بات نہیں کراچی سے خیبر تک ہوش ربا مہنگائی نے عام آدمی کی مشکلات بے انتہا بڑھا دی ہیں۔ چینی 113 روپے، چکی کا آٹا80 روپے کلو فروخت ہورہا ہے،تین برسوں میں مہنگائی نے 70سال کے ریکارڈ توڑ دیئے، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں۔تین برس میں بجلی کے نرخ میں 57 فیصد اضافہ ہوا، پٹرول کی قیمت میں تین سال میں 49 فیصد اضافہ ہوا، گھی کی فی کلو قیمت 108 فیصد اضافے سے 356 روپے تک پہنچ گئی ہے۔خوردنی تیل کا پانچ لیٹر کا کین 87 فیصد اضافے سے 1783 روپے کا ہو گیا ہے۔ دودھ کی قیمت 130 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ مہنگائی صرف پاکستان کا نہیں عالمی مسئلہ ہے، ساتھ ہی یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ساری ذمہ داری صرف وفاق کی نہیں صوبائی حکومتیں بھی اس کے تدارک کیلئے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کررہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں ہو ں یا گراں فروشی کے خلاف قوانین ،عملدرآمد کہیں بھی نہیں ہورہا اور خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

بلدیاتی انتخابات: سیاسی جوڑ توڑ عروج پر

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مہنگائی میں کمی لانے کیلئے کئی بار اعلان کرچکے ہیں لیکن صوبے کی موجودہ معاشی صورتحال میں ان اعلانات پر عملدرآمد مشکل ہے ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی معاشی ٹیم کی کارکردگی بھی اس حوالے سے کچھ خاص نہیں ۔موجودہ حکومت میں کئی پالیسیاں تو بنائی گئی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ ایک قانون ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کیلئے بھی پاس کیاگیاتھا جس کی بڑی شدومد سے تشہیر بھی کی گئی تھی لیکن اس قانون کے تحت ابھی تک کوئی بڑی کارروائی نہیں کی جاسکی۔ موجودہ حالات میں ذخیرہ اندوزوں کے بھی وارے نیارے ہیں۔ مہنگائی کے باعث نہ صرف وفاقی بلکہ صوبائی حکومت کی بھی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔

عبدالقدوس بزنجو ان۔۔۔جام کمال آوٹ!،آئندہ کیا صورتحال ہوگی!

بلوچستان کا سیاسی بحران آخر کار حل ہو گیا ہے۔جام کمال خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے 13 گھنٹے قبل ہی مستعفی ہو گئے ۔وہی جام کمال خان جو خود اور انکے حامی وزراء و ترجمان بارہا یہ کہتے رہے کہ جام کمال خان کسی صورت عدم اعتماد سے قبل مستعفی نہیں ہونگے اور اس تحریک کاجم کر مقابلہ کرینگے ۔اگر ہم جام کمال خان کے خلاف اس تحریک کی تاریخ پر نظر ڈالیں توبلوچستان میں جاری سیاسی بحران کے آثار سب سے پہلے رواں سال جون میں نمایاں ہوئے تھے۔ جب اپوزیشن اراکین نے صوبائی اسمبلی کی عمارت کے باہر کئی دنوں تک جام کمال خان کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام تھا کہ صوبائی حکومت نے بجٹ میں ان کے حلقوں کیلئے ترقیاتی فنڈز مختص نہیں کئے ۔جس کے بعد یہ احتجاج بحرانی شکل اختیار کر گیا اور بعد میں پولیس نے احتجاج کرنے والے حزب اختلاف کے 17اراکین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

آزاد کشمیر: پی ٹی آئی اندرونی بحران کا شکار!

آزاد جموں و کشمیر میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف میں تقسیم واضح ہوگئی ہے ۔ حکومت پر وزیر اعظم سردار عبدا لقیوم خان نیازی تاحال اپنی گرفت مضبوط نہیں کر سکے۔ کابینہ تقسیم نظر آرہی ہے ۔ سینئر وزیر سردار تنویر الیاس جو کہ پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں وکشمیر کے صد ر بھی ہیں پارلیمانی جماعت میں خاموش اکثریت اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری انوار الحق کو مہاجرین کے ارکان اسمبلی کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے بعض ممبران کی بھی خاموش حمایت حاصل ہے ۔ وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار عبدا لقیوم نیازی میر پور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئر مین کی تعیناتی میں صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے تحفظات کو دور کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ میر پور ،صدر آزاد جموں وکشمیر کا آبائی حلقہ ہے اور اس شہر کے اہم ادارے میں چیئر مین کی تقرری پر ان کو اعتماد میں نہ لینے سے پارٹی کے اندر تقسیم مزید واضح ہو گئی ہے۔