نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مسلم لیگ ن کامہنگائی کیخلاف احتجاج کااعلان
  • بریکنگ :- احسن اقبال کی صوبائی تنظیموں کومہنگائی کیخلاف احتجاج کی ہدایت
  • بریکنگ :- پیرکوقومی اسمبلی میں دیگرجماعتوں کیساتھ مل کراحتجاج کریں گے،احسن اقبال
  • بریکنگ :- حکومت نےاپنی ناکامیوں اورنااہلی کابوجھ غریب عوام پرڈال دیا،احسن اقبال
  • بریکنگ :- پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فی الفورواپس لیاجائے،احسن اقبال
Coronavirus Updates

خبردار!میک اپ کے ساتھ ورزش نہیں کریں،کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہوجاتے ہیں

خصوصی ایڈیشن

تحریر : روزنامہ دنیا


بہت سی لڑکیاں اور خواتین اپنے چہرے پر مکمل میک اپ کے ساتھ ورزش کرتی ہیں اور جلد پر اس کے منفی اثرات اور نتائج سے واقف نہیں ۔ طبی ماہرین منع کرتے ہیں کہ ورزش کے دوران چہرے پر کاسمیٹکس کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہو جاتے ہیں ۔

 پسینہ آنے سے رک جاتا ہے اور یہ چیز جلد کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق انسانی جسم کو ورزش کے دوران پسینہ آنے کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ جسم مسلسل طور پر ٹھنڈا رہے۔ تاہم ورزش کے دوران جلد کے مسام کھلتے ہیں، اس پر میک اپ کی تہہ کی موجودگی میں غیرضروری کثافت باہر نہیں آ پاتی اور مسام پر گندگی جمع ہو کر سیاہ مہاسوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔لندن میں ڈاکٹرز کلینک کی میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر بریتھی ڈینیئل کا کہنا ہے  "پسینے کو تبخیر کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ جسم ٹھنڈا رہے اور کثافتوں سے چھٹکاراحاصل ہو سکے۔ تاہم مسامات بند ہونے کے باعث اس عمل کا رک جانا دانوں ، کیل اور مہاسوں کے جراثیم کو جنم دیتا ہے"۔ڈاکٹر ڈینیئل نے خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ورزش سے قبل اپنا میک اپ اتار دیا کریں اور ورزش کے اختتام کے بعد ایک بار پھر چہرے کو دھولیا کریں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے

قائد ملتؒ، مسلم قومیت کے نقیب ،لیاقت علی خان ؒ کا مکا قومی اتحاد کی علامت بن گیا

’’لیاقت علی خانؒ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں دن رات ا یک کر دئیے وہ اگرچہ نوابزادہ ہیں لیکن وہ عام افراد کی طرح کام کرتے ہیں ،میں دوسرے نوابوں کو بھی مشورہ دوں گا کہ ان سے سبق حاصل کریں‘‘:قائد اعظمؒ

نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے، اسلامی معاشرہ اور ہماری ذمہ داریاں ،اسلام نے ہر فرد کو آداب و اطوار کے ساتھ زندگی گزارنے کا پابندکیا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، لہٰذا نہ خود اس پر ظلم و زیادتی کرے نہ دوسروں کو ظالم بننے کے لیے اس کو بے یارو مددگار چھوڑے، نہ اس کی تحقیر کرے۔ آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تین مرتبہ سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘۔ کسی شخص کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے، ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے اس کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو‘‘(مسلم شریف)۔

محبت اور دشمنی صرف اللہ کیلئے ،ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس نے اللہ کے لیے کسی سے محبت کی اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھی اور اللہ ہی کے لیے دیا (جس کسی کو کچھ دیا) اور اللہ ہی کے لیے منع کیا اور نہ دیا تو اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کر لی‘‘(ابوداؤد)۔ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس لیے مسلمان کی کوشش اپنے ہر قول و فعل سے یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرنے کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے یعنی جس شخص نے اپنی حرکات و سکنات، اپنے جذبات اور احساسات اس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دیئے کہ وہ جس سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہی جوڑتا ہے اور جس سے تعلقات توڑتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے توڑتا ہے۔ جس کو کچھ دیتا ہے اللہ ہی کے لیے دیتا ہے اور جس کو دینے سے ہاتھ روکتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے۔

اسلام میں تجارت کا تصور،نبی کریمﷺ نے تجارت میں بددیانتی کو سخت نا پسند فرمایاہے

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تاجر پر لازم ہے کہ وہ شے کی کوالٹی کے متعلق صحیح معلومات خریدار کو بتا دے اور کسی چیز کے کسی بھی نقص کو مت چھپائے۔ اگر چیز میں کوئی نقص پڑ گیا ہو تو وہ خریدار کو سودا طے کرنے سے پہلے آگاہ کر دے۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں کاروباری دیانت کی سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ سودا طے ہوتے وقت فروخت کار خریدار کو مال میں موجود نقص کے متعلق بتانا بھول گیا یا دانستہ چھپا گیا۔ بعد میں جب فروخت کار کو یاد آیا تو وہ میلوں خریدار کے پیچھے مارا مارا پھرا اور غیر مسلم، مسلم تاجر کی اس دیانت داری کو دیکھ کر اسلام لے آیا۔ انڈونیشیا کے باشندے دیانتدارمسلم تاجروں کے ذریعے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے۔

مسائل اور ان کا حل

بیٹے کی وراثت میں ماں کا حصہ ؟سوال:کیا بیٹے کی پراپرٹی میں ماں کا حصہ ہوتا ہے جبکہ بیٹے کی اولاد میں بیٹے کے آگے4 بیٹے ہیں بیٹی کوئی نہیں نیز بیٹے کی وفات ہو چکی ہے۔(سعد شیخ، لاہور)جواب: جی ہاں !سگے بیٹے کی جائیداد میں ماں کا شرعی حصہ وراثت ہے جو بہر صورت ماں کو دیا جانا شرعاً ضروری ہے اور مذکورہ صورت میں ماں کو کل مال کا چھٹا حصہ ملے گا کیونکہ بیٹے کی اولاد موجود ہے ۔