نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی سےایرانی ہم منصب کاٹیلیفونک رابطہ
  • بریکنگ :- افغانستان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- ایرانی وزیرخارجہ کی افغانستان کےہمسایہ ممالک کےوزارتی اجلاس میں شرکت کی دعوت
  • بریکنگ :- شاہ محمودقریشی کی اجلاس کےبروقت انعقادپرایرانی وزیرخارجہ کومبارکباد
  • بریکنگ :- اجلاس اورمشاورت سےعلاقائی سطح پرتعاون مستحکم ہوگا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- افغانستان سےمتعلق پاک ایران نقطہ نظرمیں ہم آہنگی خوش آئندہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- افغانستان میں امن کیلئےعلاقائی سطح پرتعاون ناگزیرہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغانستان میں معاشی بحران سےنمٹنےکیلئےمشترکہ کاوشیں ضروری ہیں،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates

پانچ سوال اورشاندار جواب

خصوصی ایڈیشن

تحریر : قمر فلاحی


پیارے بچو!مولانا جلال الدین رومیؒ ایک عظیم ہستی تھے اور ان کے اقوال ہمارے لئے مشعل راہ ہیںان سے 5 سوال پوچھے گئے جن کے جواب غور طلب ہیں،آ پ بھی مطالعہ کریں ۔

سوال۔ 1۔ زہر کسے کہتے ہیں ؟

جواب۔ ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہو ’’ زہر‘‘ بن جاتی ہے خواہ وہ قوت یا اقتدار ہو۔ انانیت ہو۔ دولت ہو۔ بھوک ہو۔ لالچ ہو۔ سْستی یا کاہلی ہو۔ عزم و ہِمت ہو۔ نفرت ہو یا کچھ بھی ہو۔

سوال۔ 2۔ خوف کس شے کا نام ہے ؟

جواب۔ غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کر لیں تو وہ ایک مْہِم جْوئی میں تبدیل ہو جاتا ہے

سوال۔ 3۔ حَسد کسے کہتے ہیں ؟

جواب۔ دوسروں میں خیر و خْوبی تسلیم نہ کرنے کا نام حَسَد ہے۔ اگر اِس خوبی کو تسلیم کر لیں تو یہ رَشک اور کشَف یعنی حوصلہ افزائی بن کر ہمارے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

سوال۔ 4۔ غْصہ کس بلا کا نام ہے ؟

جواب۔ جو امر ہمارے قابو سے باہر ہو جائے اُسے تسلیم نہ کرنے کا نام غْصہ ہے۔ اگر کوئی انسان اسے قابو کر لے تو اس کی جگہ عَفوو درگذر اور تحَمّل لے لیتے ہیں

سوال۔ 5۔ نفرت کسے کہتے ہیں ؟

جواب۔ کسی شخص کو جیسا وہ ہے ویسا تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اْسے تسلیم کر لیں تو یہ محبت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

بگل بج گیا،سٹیج سج گیا، 20 ورلڈ کپ کا آغاز،27 روزہ ٹورنامنٹ میں 45 میچ کھلیے جائیں گے،فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالرز ملیں گے

’’آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ2021ء ‘‘16ٹیموں پر مشتمل ہے، جو ٹاپ ٹین ٹیموں اور ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر کے ذریعے منتخب ہونے والی چھ دیگر ٹیموں پر مشتمل ہے۔یہ ایونٹ عام طور پر ہر دو سال بعدہوتا ہے، ٹورنامنٹ کا 2020ء کا ایڈیشن بھارت میں شیڈول تھا، لیکن کورونا کی وجہ سے ٹورنامنٹ کو 2021 ء تک ملتوی کرکے متحدہ عرب امارات اوراومان منتقل کر دیا گیا۔

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے

قائد ملتؒ، مسلم قومیت کے نقیب ،لیاقت علی خان ؒ کا مکا قومی اتحاد کی علامت بن گیا

’’لیاقت علی خانؒ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں دن رات ا یک کر دئیے وہ اگرچہ نوابزادہ ہیں لیکن وہ عام افراد کی طرح کام کرتے ہیں ،میں دوسرے نوابوں کو بھی مشورہ دوں گا کہ ان سے سبق حاصل کریں‘‘:قائد اعظمؒ

نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے، اسلامی معاشرہ اور ہماری ذمہ داریاں ،اسلام نے ہر فرد کو آداب و اطوار کے ساتھ زندگی گزارنے کا پابندکیا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، لہٰذا نہ خود اس پر ظلم و زیادتی کرے نہ دوسروں کو ظالم بننے کے لیے اس کو بے یارو مددگار چھوڑے، نہ اس کی تحقیر کرے۔ آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تین مرتبہ سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘۔ کسی شخص کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے، ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے اس کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو‘‘(مسلم شریف)۔

محبت اور دشمنی صرف اللہ کیلئے ،ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس نے اللہ کے لیے کسی سے محبت کی اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھی اور اللہ ہی کے لیے دیا (جس کسی کو کچھ دیا) اور اللہ ہی کے لیے منع کیا اور نہ دیا تو اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کر لی‘‘(ابوداؤد)۔ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس لیے مسلمان کی کوشش اپنے ہر قول و فعل سے یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرنے کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے یعنی جس شخص نے اپنی حرکات و سکنات، اپنے جذبات اور احساسات اس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دیئے کہ وہ جس سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہی جوڑتا ہے اور جس سے تعلقات توڑتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے توڑتا ہے۔ جس کو کچھ دیتا ہے اللہ ہی کے لیے دیتا ہے اور جس کو دینے سے ہاتھ روکتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے۔

اسلام میں تجارت کا تصور،نبی کریمﷺ نے تجارت میں بددیانتی کو سخت نا پسند فرمایاہے

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تاجر پر لازم ہے کہ وہ شے کی کوالٹی کے متعلق صحیح معلومات خریدار کو بتا دے اور کسی چیز کے کسی بھی نقص کو مت چھپائے۔ اگر چیز میں کوئی نقص پڑ گیا ہو تو وہ خریدار کو سودا طے کرنے سے پہلے آگاہ کر دے۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں کاروباری دیانت کی سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ سودا طے ہوتے وقت فروخت کار خریدار کو مال میں موجود نقص کے متعلق بتانا بھول گیا یا دانستہ چھپا گیا۔ بعد میں جب فروخت کار کو یاد آیا تو وہ میلوں خریدار کے پیچھے مارا مارا پھرا اور غیر مسلم، مسلم تاجر کی اس دیانت داری کو دیکھ کر اسلام لے آیا۔ انڈونیشیا کے باشندے دیانتدارمسلم تاجروں کے ذریعے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے۔