نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرداخلہ شیخ رشیدکی قومی ٹیم کی جیت کیلئےنیک خواہشات
  • بریکنگ :- ہماری دعائیں،جوش اورجذبہ پاکستانی ٹیم کےساتھ ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- روایتی حریف کیخلاف میچ ہے،اللہ تعالیٰ پاکستان کوکامیابی دے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ہمارااصل فائنل میچ توآج ہے،وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید
Coronavirus Updates

جلد بازی

خصوصی ایڈیشن

تحریر : اسد بخا ری


بارہ سالہ پنکی کو تین دن سے سخت بخار تھا اور اُس کا خوبصورت ساکتا میکی اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔میکی بار بار پنکی کی طرف دیکھتا اورجب پنکی کو سویا ہوا پاتاتو افسردگی سے اپنی گردن فرش پر رکھ لیتا۔ اُسے اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ اُس کی سب سے اچھی دوست بیمار ہے اوروہ اپنی دوست کے لیے کچھ کر بھی نہیں سکتا۔

پنکی کو بھی یہ دن بہت بو رلگ رہے تھے اور وہ تندرست ہونا چاہتی تھی اس لئے وہ ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر تین دن سے بیڈ ریسٹ کر رہی تھی۔

پنکی ایک کروٹ لیٹ لیٹ کر تھک گئی تھی، جب پنکی نے دوسری طرف کروٹ لی تو اس کی آہٹ پر میکی نے فوراً سر اُٹھا کر پنکی کے چہرے کی طرف دیکھا ۔پنکی نے غنودگی میں اپنی آنکھیں کھولیں اور میکی کی طرف دیکھا تواس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ میکی بھی اپنی دم ہلانے لگا اسے اچھا لگا کہ آج بہت دنوں کے بعد پنکی مسکرائی تھی۔ باہر سے بچوں کے کھیلنے کی آوازیں آرہی تھیں تو میکی نے چھلانگ لگائی اور پنکی کی گود میں آ گیا۔ میکی پنکی کو پیار کرنے لگا اور اسے کچھ سمجھانے کی کوشش بھی کرنے لگا۔ میکی بار بار کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھتاجہاں باہرسے بچوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ پنکی سمجھ گئی کہ میکی اس سے کیا کہنا چاہتا ہے ۔

 پنکی نے کہا۔’’میکی تم پریشان مت ہو، ہم بھی بہت جلد باہر کھیلیں گے ،بس مجھے تھوڑا ٹھیک ہونے دو۔‘‘

یہ سن کر میکی خوش ہوگیا اور بھونکنے لگا  اسے خیال آیا کہ کیوں نہ پنکی کو اس کی پسندیدہ گڑیا لاکر دی جائے تاکہ وہ کچھ دیر اس کے ساتھ کھیل سکے اس طرح اُس کا دل بہل جائے گا۔میکی نے بیڈسے چھلانگ لگائی اور پنکی کی الماری سے پنکی کی پسندیدہ گڑیا لینے چلا گیا ۔

پنکی کو پتا چل گیا تھاکہ میکی کہاں گیا ہے۔ وہ خوش تھی کہ اپنی گڑیا کے ساتھ کھیلے گی۔ابھی پنکی سوچ ہی رہی تھی کہ میکی پنکی کی گڑیالے آیااور اس نے جوش میں آکر گڑیا پنکی کی طرف اُچھالی تو گڑیا ایک طرف دیوار کے قریب جا کر گری ،گڑیا کو دیکھتے ہی پنکی جیسے ہی بیڈ سے اُتری تو فرش پر بکھرے کچھ کیلوں پر اُس کا پائوں آگیا اور پنکی کے پائوں سے خون بہنے لگا۔ پنکی درد سے رونے لگی تو میکی اسے دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ اس کے ارد گرد چکر کاٹنے لگااور زور زور سے بھونکنے لگا۔میکی کی آواز سن کرامی ابو بھی آگئے اور وہ پنکی کو فوراًہسپتال لے گئے۔

میکی بیچارہ پنکی کے بغیر اُداس ہوگیا اور باربار اس جگہ کو دیکھ کر غمگین ہوگیاکہ اس کی وجہ سے اس کی دوست کو چوٹ لگ گئی ہے ۔

 وہ گیٹ کے باہر جا کر بیٹھ گیااور پنکی کا انتظار کرنے لگاجب کافی دیر ہوگئی تو اُسے اچانک کچھ خیال آیا تو وہ اند ربھاگ گیا۔!

پنکی کو تھوڑی گہری چوٹ لگی تھی جس کی وجہ سے اس کو شام تک ہسپتال میں رکنا پڑا اور جب ڈاکٹر کی تسلی ہوگئی تو پنکی کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔

 پنکی گھر آئی تو میکی دروازے پر ہی بیٹھا ہوا تھااور وہ پنکی کو دیکھ کر خوش ہوگیا اور دم ہلاتے ہوئے پنکی کے پائوں چاٹنے لگا ۔ پنکی نے اسے اُٹھایا اور پیار کرنے لگی ۔سب اندر آگئے تو میکی پنکی کو کچھ دکھانا چاہتا تھا ،باربار اس کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا لیکن امی میکی کوپنکی سے دور کر رہی تھیں جب پنکی نے دیکھا توپنکی نے کہا ۔!

’’ا می ۔۔۔مجھے لگتا ہے میکی مجھے کچھ دکھانا چاہ رہا ہے میں اپنے کمرے میں جانا چاہتی ہوں ‘‘

پنکی کے بابا پنکی کوسہارا دے کر کمرے میں لے گئے تو میکی بھی ان کے پیچھے پیچھے آگیا،جب سب کمرے میں آئے تو میکی اس جگہ پر جا کر کھڑا ہوگیا جہاں پنکی کو کیل لگا تھا اور پنکی نے دیکھا اس جگہ پر کوئی بھی کیل نہیں تھے۔ پھر میکی ایک نکر میں گیا تو سب نے دیکھا اب سارے کیل ایک طرف رکھے ہوئے ہیں جو کہ میکی نے کیے تھے تاکہ دوبارہ پنکی کا پائوں ان پر نہ آجائے۔سب نے میکی کی طرف دیکھا تو ان کو احساس ہوگیا کہ میکی کو لگ رہا تھا کہ پنکی کو اس کی وجہ سے چوٹ لگی ہے تو پنکی نے بڑے پیار سے میکی کو پیار کرتے ہوئے کہا۔

’’میکی اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں تھا،تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے، بس میں نے تھوڑی جلد بازی کی مجھے بستر سے نہیں اُٹھنا چاہیے تھا۔  میری ذرا سی غلطی سے مجھے مزید دودن اور بستر پر رہنا پڑے گالیکن تم فکر مت کرو۔ دودن بعد ہم بھی باہر کھیلنے جائیں گے۔ یہ سن کر میکی نے چھلانگ لگائی اور پنکی کی گود میں بیٹھ گیا، پنکی اسے پیار کرنے لگی۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

پاکستان بمقابلہ بھارت : زور کا جوڑ ,ٹی 20 ورلڈ کپ کا ہائی وولٹیج میچ

یوں تو ’’ٹی 20 کرکٹ‘‘ کی عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے لیکن اس جنگ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز معرکہ ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہوتا ہے، جسے دنیا بھر میں کرکٹ شائقین کسی بھی بین الاقوامی ایونٹ کے فائنل سے بھی زیادہ دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ دونوں روایتی حریف ہمسایہ ممالک کے شہری توگویا اسے کھیل نہیں بلکہ حقیقی جنگ تصور کر لیتے ہیں۔ میچ والے دن سڑکیں سنسان اور بازار ویران ہو جاتے ہیں۔ ہر کوئی ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ جاتا ہے اور ایک ایک گیند پر ایسے تبصرے ہوتے ہیں جیسے شاید دونوں ایشیائی ممالک کا کرکٹ کے سوا تو کوئی کام یا مسئلہ ہے ہی نہیں۔

کھلاڑی پریشر سے آزاد ہوکر کھیلیں، وسیم اکرم،مشتاق احمد، شعیب اختر،یونس خان کا ٹیم کو مشورہ

بہترین منصوبہ بندی اور اوپننگ پارٹنرشپ ضروری ہے: وسیم اکرم،پاکستانی ٹیم کو ہار کا خوف نکال کر کھیلنا ہو گا: مشتاق احمد،کھلاڑیوں کو خود کو پر سکون رکھنا ہو گا: شعیب اختر،ہمیں بھارت کے خلاف 4 فاسٹ باؤلرز کو کھلانا چاہئے:یونس خان

ٹی 20 ورلڈکپ میں بننے والے ریکارڈز

فاتح ٹیمیں،ٹی 20 کے 2007 ء میں ہوئے پہلے عالمی میلے کو بھارت نے اپنے نام کیا۔ 2009ء کا ایونٹ پاکستان کے نام رہا۔ 2010ء میں انگلینڈ فاتح رہی، 2012ء کے ایونٹ کو جیت کر ویسٹ انڈیز اس ٹی ٹوئنٹی کا حکمران بن گیا۔ 2014ء میں سری لنکا نے بھی ٹی 20 کا عالمی کپ جیت کر اپنا کھاتا کھولا جبکہ 2016ء میں ویسٹ انڈیز نے دوسری مرتبہ اس ایونٹ کو جیت کر تاریخ رقم کی۔

ایک بھوکا لکھ پتی

واٹسن نامی لکھ پتی سوداگر ایک دن صبح کے وقت کہیں جانے کو تیار تھا ۔ نوکر ناشتے کی میز لگائے منتظر کھڑے تھے۔ ایک فقیر نے دروازے پرآکر سوال کیا۔سوداگر صاحب! میں تین دن سے بھوکا ہوں، کچھ کھانا ہو تو خدا کی راہ میں دے دو تاکہ میں بھی پیٹ کے دورخ کو بھر لوں۔

ہنر کی دولت

کسی جزیرے میں ایک امیرشخص رہتا تھا، جسے شکار کا بہت شوق تھا۔ایک دن شکار کو جاتے ہوئے اس کی نظر ایک غریب ٹوکریاں بنانے والے کی زمین پر پڑی۔ اس زمین میں نرسل(ایک پودہ)اُگے ہوئے تھے۔اس کھیت کی ناہمواری اور نرسلوں میں سے گزرنے کی تکلیف امیر کو بہت ناگوار گزرتی تھی۔ایک دن امیر نے غریب کو بلا کر کہا ’’تم یہ زمین ہمیں دے دو‘‘۔ غریب نے جواب دیا ’’ حضور! میرا تو گزارہ اسی پر ہے، میں بیچنا نہیں چاہتا‘‘۔ اس پر امیر ناراض ہو گیا، اس نے غریب کو خوب پٹوایا پھرتمام نرسلوں کو جلوا دیا،جس پر غریب روتا ہوا بادشاہ کے پاس چلا گیا۔

کچھ دے دیں گے۔۔

ایک مسافر نے کسی شہر کی سرائے میں اتر کر سرائے والے سے کہا کوئی نائی بلوا دو تو میں خط بنوا لوں۔سرائے والے نے ایک نائی بلوا لیا۔نائی نے حجامت بنانے سے پہلے مسافر سے پوچھا،حضور مزدوری کیا ملے گی؟۔