نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- افواج پاکستان کی اقوام متحدہ کیساتھ امن کیلئےخدمات کی طویل تاریخ
  • بریکنگ :- پاکستان نے 30 ستمبر 1947کویواین امن مشن میں شمولیت اختیارکی
  • بریکنگ :- پاکستان نے 28ممالک میں 2لاکھ سےزائدافواج کےہمراہ 48مشنزمیں حصہ لیا
  • بریکنگ :- امن مشنزمیں 160 سےزائدجوانوں بشمول 24 افسران نےجانوں کانذرانہ پیش کیا
  • بریکنگ :- گزشتہ سال نائیک نعیم رضاشہیدکواقوام متحدہ کاخصوصی میڈل بھی عطاکیا گیا
  • بریکنگ :- پاکستان اقوام متحدہ کےحوالےسےبہترین خدمات سرانجام دےرہاہے
  • بریکنگ :- پاکستانی خواتین بھی یواین امن مشن کانگومیں امن کیلئےسرگرم عمل ہیں
  • بریکنگ :- پاکستان 19جون 2019میں کانگومیں خواتین دستےتعینات کرنیوالاپہلاملک ہے
  • بریکنگ :- 24 اکتوبر،اقوام متحدہ کادن،پاکستان کی عالمی امن کیلئےکوششوں کی دنیامعترف
  • بریکنگ :- یہ ایک ناموردورکاآغازتھاجس کی تاریخ بےمثال ہے
  • بریکنگ :- پاکستان کااقوام متحدہ کےامن مشن کاآغاز 1960 میں ہوا
  • بریکنگ :- پاکستان نےکانگومیں اقوام متحدہ کےآپریشنزمیں پہلادستہ تعینات کیا
Coronavirus Updates

سونے کا دروازہ

خصوصی ایڈیشن

تحریر : روزنامہ دنیا


سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اولیا ء کرام سے خاص عقیدت رکھتے تھے اور مزار ات پر باقاعدہ فاتحہ خوانی کیلئے جایا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایران کے دورہ پر گئے اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے مزار شریف پر حاضری دی تو وہاں سونے چاندی سے مزین ایک عالیشان دروازہ دیکھا جو ذوالفقار علی بھٹو کے دل کو بھا گیا ۔

 ذوالفقا ر علی بھٹو حضر ت علی ہجویری ؒسے بھی گہری عقیدت رکھتے تھے ۔ لہٰذا دل میں خیال آیا کیاخوب ہو کہ اسی طرح کا خوبصورت سونے کا دروازہ یہاں نصب ہو ۔ اس قسم کے دروازے اصفہان میں تیار ہوتے تھے جن میں مختلف دھاتوں کا استعمال ہوتا تھا ۔ بھٹو کی فرمائش پر ایران کے ماہر کاریگر استاد آقائے پویوش کی خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے تقریباً 6ماہ کے عرصہ میں یہ دروازہ تیار کر کے پاکستان بھجوایا۔ یہ دروازہ پاک و ہند میں اپنی نوعیت کا پہلا سونے کا دروازہ تھا۔ اس دروازے کی چوڑائی 9فٹ اور لمبائی 12فٹ تھی ۔ اس دروازے میں سونے اور چاندی کی بھرائی کی گئی ہے ۔ اس دروازے پر آیت الکرسی کو خط نسخ میںلکھا گیا ہے ۔ ا س دروازے میں آسمانی رنگ نمایاں ہے۔د دسمبر1974ء کو وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے دربار کے صدر دروازے کی ڈیوڑھی میں سونے کے دروازے کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اوقاف ملک حاکمین نے اس دروازے کی چابی مسٹر بھٹو کو پیش کی اورذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ہاتھوں سے چابی لگا کردروازے کا افتتاح کیا ۔آپکا مزار مرجع خلائق ہے ۔جہاں ہر روز ہزاروں لوگ آ تے ہیں ۔آپؒ کا عرس مبارک ہر سال ماہ صفر کی بیس تاریخ کو منایا جاتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

پاکستان بمقابلہ بھارت : زور کا جوڑ ,ٹی 20 ورلڈ کپ کا ہائی وولٹیج میچ

یوں تو ’’ٹی 20 کرکٹ‘‘ کی عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے لیکن اس جنگ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز معرکہ ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہوتا ہے، جسے دنیا بھر میں کرکٹ شائقین کسی بھی بین الاقوامی ایونٹ کے فائنل سے بھی زیادہ دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ دونوں روایتی حریف ہمسایہ ممالک کے شہری توگویا اسے کھیل نہیں بلکہ حقیقی جنگ تصور کر لیتے ہیں۔ میچ والے دن سڑکیں سنسان اور بازار ویران ہو جاتے ہیں۔ ہر کوئی ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ جاتا ہے اور ایک ایک گیند پر ایسے تبصرے ہوتے ہیں جیسے شاید دونوں ایشیائی ممالک کا کرکٹ کے سوا تو کوئی کام یا مسئلہ ہے ہی نہیں۔

کھلاڑی پریشر سے آزاد ہوکر کھیلیں، وسیم اکرم،مشتاق احمد، شعیب اختر،یونس خان کا ٹیم کو مشورہ

بہترین منصوبہ بندی اور اوپننگ پارٹنرشپ ضروری ہے: وسیم اکرم،پاکستانی ٹیم کو ہار کا خوف نکال کر کھیلنا ہو گا: مشتاق احمد،کھلاڑیوں کو خود کو پر سکون رکھنا ہو گا: شعیب اختر،ہمیں بھارت کے خلاف 4 فاسٹ باؤلرز کو کھلانا چاہئے:یونس خان

ٹی 20 ورلڈکپ میں بننے والے ریکارڈز

فاتح ٹیمیں،ٹی 20 کے 2007 ء میں ہوئے پہلے عالمی میلے کو بھارت نے اپنے نام کیا۔ 2009ء کا ایونٹ پاکستان کے نام رہا۔ 2010ء میں انگلینڈ فاتح رہی، 2012ء کے ایونٹ کو جیت کر ویسٹ انڈیز اس ٹی ٹوئنٹی کا حکمران بن گیا۔ 2014ء میں سری لنکا نے بھی ٹی 20 کا عالمی کپ جیت کر اپنا کھاتا کھولا جبکہ 2016ء میں ویسٹ انڈیز نے دوسری مرتبہ اس ایونٹ کو جیت کر تاریخ رقم کی۔

ایک بھوکا لکھ پتی

واٹسن نامی لکھ پتی سوداگر ایک دن صبح کے وقت کہیں جانے کو تیار تھا ۔ نوکر ناشتے کی میز لگائے منتظر کھڑے تھے۔ ایک فقیر نے دروازے پرآکر سوال کیا۔سوداگر صاحب! میں تین دن سے بھوکا ہوں، کچھ کھانا ہو تو خدا کی راہ میں دے دو تاکہ میں بھی پیٹ کے دورخ کو بھر لوں۔

ہنر کی دولت

کسی جزیرے میں ایک امیرشخص رہتا تھا، جسے شکار کا بہت شوق تھا۔ایک دن شکار کو جاتے ہوئے اس کی نظر ایک غریب ٹوکریاں بنانے والے کی زمین پر پڑی۔ اس زمین میں نرسل(ایک پودہ)اُگے ہوئے تھے۔اس کھیت کی ناہمواری اور نرسلوں میں سے گزرنے کی تکلیف امیر کو بہت ناگوار گزرتی تھی۔ایک دن امیر نے غریب کو بلا کر کہا ’’تم یہ زمین ہمیں دے دو‘‘۔ غریب نے جواب دیا ’’ حضور! میرا تو گزارہ اسی پر ہے، میں بیچنا نہیں چاہتا‘‘۔ اس پر امیر ناراض ہو گیا، اس نے غریب کو خوب پٹوایا پھرتمام نرسلوں کو جلوا دیا،جس پر غریب روتا ہوا بادشاہ کے پاس چلا گیا۔

کچھ دے دیں گے۔۔

ایک مسافر نے کسی شہر کی سرائے میں اتر کر سرائے والے سے کہا کوئی نائی بلوا دو تو میں خط بنوا لوں۔سرائے والے نے ایک نائی بلوا لیا۔نائی نے حجامت بنانے سے پہلے مسافر سے پوچھا،حضور مزدوری کیا ملے گی؟۔