نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسحاق ڈارکی سیٹ پرالیکشن کمیشن کوانتخاب کرانا پڑے گا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- عدالت سے اسٹے آرڈرختم کرانے کی کوشش کررہےہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- اسحاق ڈارملک سے باہربیٹھ کرسینیٹرمنتخب ہوگئے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- اسحاق ڈاراب حلف لینےکوبھی تیارنہیں،وزیرمملکت فرخ حبیب
  • بریکنگ :- قانونی سازی کردی گئی ہے 60روزمیں حلف اٹھاناہوگا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- 60 روزمیں حلف نہیں اٹھایاگیاتوسیٹ خالی کرنا پڑے گی،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- شوکت ترین کوبطورسینیٹرمنتخب کرالیں گے،وزیرمملکت فرخ حبیب
  • بریکنگ :- سینیٹرفیصل جاوید کی سیٹ خالی کرانے کی بات نہیں ہورہی،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- ملکی ایکسپورٹ میں اضافہ ہورہا ہے،وزیرمملکت فرخ حبیب
  • بریکنگ :- ایف بی آراپنے ریونیوسے زیادہ ٹارگٹ پورا کررہا ہے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- ملک کےمعاشی حالات بہترہورہے ہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- شوکت ترین بطورمشیرخزانہ اپنا کام جاری رکھیں گے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- شوکت ترین کوکہاں سےمنتخب کراناہےوزیراعظم فیصلہ کریں گے،فرخ حبیب
Coronavirus Updates

جنوبی ایشیاء میں اسلامی تصوف کے بانی حضرت سید علی ہجویریؒ ،برِصغیر کی معروف روحانی شخصیت کے سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات کاآ ج سے آ غاز

خصوصی ایڈیشن

تحریر : ڈاکٹر غافر شہزاد


حضرت سید علی ہجویریؒ جب لاہور تشریف لائے تو شہر قدیم سے باہر راوی کے کنارے قیام فرمایا۔ کتابوں میں ذکر ملتاہے کہآ پؒ نے لاہور میں قیام پذیر ہونے کے بعد سب سے پہلے مسجد کی تعمیر کی اور اس پر اٹھنے والے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ اس سے قبل لاہور شہر کے گلی کوچوں میں اگر قدیمی مساجد تھیں تو وہ بادشاہوں نے تعمیر کرائی تھیں ۔یہ مسجد اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ لاہور شہر کی سرزمین پر کسی ولی اللہ نے مسجد کی تعمیر ذاتی اخراجات سے کی۔،ڈاکٹر نکلسن نے تحقیق کے بعد سنہ پیدائش کے بارے میں اندازہ لگایا ہے، وہ لکھتے ہیں: ’’ان کی پیدائش دسویں صدی کے آخری عشرے یا گیارہویں صدی کے ابتدائی عشرے میں متعین کی جا سکتی ہے‘‘

 عظیم صوفی حضرت سید علی ہجویریؒ کے 978 ویں سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات

 آ ج سے لاہور میں شروع ہوں گی۔

جنوبی ایشیاء میں اسلامی تصوف کی روایت کا نقطہ آغاز عظیم صوفی شیخ علی بن عثمان ا لہجویریؒ کو قرار دیا جا سکتا ہے جو زمانے بھر میں اپنی تعلیمات اور تبلیغ دین کے حوالے سے معروف و مقبول ہیں۔ آپؒ نے کشف المحجوب میں مسلمانوں کے بارہ گروہوں کا ذکر کیا ہے جن میں دس مقبول اور دو مردود قرار دیئے ہیں مگر آپؒ نے اپنی طرف سے کسی سلسلے کا آغاز نہیں کیا اور اس معاملے میں نہایت اعتدال کا راستہ اپنایا۔ آپؒ کے نزدیک اسلامی تصوف کا آغاز حضرت ابوبکر صدیق ـؓسے ہوتا ہے تاہم آپؒ سلسلہ نسبت کے اعتبار سے حسنی و حسینی مشہور ہیں۔ آپؒ کا اصل نام علی تھا، والد گرامی کا نام عثمان جبکہ دادا کا نام علی تھا۔ مولانا سید محمد متین ہاشمی نے ’’سید ہجویر‘‘ میں حکیم سید امین الدین احمد کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ:’’شاہان غزنیہ کے زمانے میں حضرت زید کے خاندان کے ایک بزرگ جن کا نام سید عثمان بن علی جلابی تھا، غزنی تشریف لائے اور وہاں سکونت اختیار کی۔‘‘ (مقالات دینی وعلمی۔ صفحہ 222 )اپنی جائے پیدائش کے حوالے سے حضرت علی ہجویریؒ اپنی کتاب ’’کشف الاسرار‘‘ میں رقم طراز ہیں:’’میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ میری پیدائش کا مقام ہجویر ہے۔ خدا تعالیٰ اسے آفتوں، حادثوں اور ظالم بادشاہوں سے بچائے۔‘‘نفحات الانس میں مولانا جامی نے تحریر کیا ہے کہ آپؒ ؒکی کنیت ابوالحسن تھی اور نام علی بن عثمان بن علی الجلابی غزنوی تھا۔ آپؒ سید حسنی ہیں یعنی حضرت امام حسنؓ کی اولاد سے ہیں۔ نوواسطوں سے آپؒ کا سلسلہ نسبت رسول پاک حضرت محمد ﷺسے جا ملتا ہے۔داراشکوہ ’’سفینتہ الاولیاء‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ’’ شہر غزنی میں جلاب اور ہجویر دو محلے تھے، حضرت کی والدہ ماجدہ ہجویر کی رہنے والی تھیں اور آپؒ کی پیدائش بھی اسی محلہ کی ہے۔ آپؒکے والد ماجد محلہ جلاب کے سکونتی تھے لیکن بعد میں آپ ؒنے ہجویر ہی میں سکونت اختیار کی، اسی وجہ سے آپؒ ہجویری اور جلابی مشہور ہوئے۔‘‘داراشکوہ نے مزید لکھا ہے کہ آپ ؒکی والدہ کی قبر غزنی میں پیر علی ہجویریؒ کے ماموں تاج الاولیاء کے مزارسے متصل واقع ہے۔ آپؒ کا تمام خاندان زہد و تقویٰ کے لیے مشہور تھا۔

آپؒ سید الطائف جنید بغدادی کے پیرو ہیں۔ آپؒ کے مرشد خواجہ ابوالفضل ختلی غزنوی کا تعلق سلسلہ جنیدیہ سے تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ عظیم صوفی حضرت سید عثمان ہجویری کے سال پیدائش کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی معلوم نہیں۔ محمد دین فوق آپ ؒکی سوانح حیات تحریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’لاہور میں ان کا قیام 34 سال تک رہا۔ اس کے ساتھ اگر تیس سال ان کی غزنوی زندگی کے شامل کر لیے جائیں (جو ممکن ہے زیادہ ہوں) تو ان کی کل عمر چونسٹھ سال  بننی چاہیے، اس حساب سے ان کی پیدائش کا فخر 400 ھ یا 401 ھ کو حاصل ہونا چاہیے‘‘۔مختلف کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے محمد دین فوق لکھتے ہیں: ’’کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سنہ وفات 465 ھ  ہے اور آپ ؒ کی لاہور آمد 431 ھ میں ہوئی؟۔‘‘ڈاکٹر نکلسن نے خاصی تحقیق کے بعد سنہ پیدائش کے بارے میں اندازہ لگایا ہے، وہ لکھتے ہیں: ’’ان کی پیدائش دسویں صدی کے آخری عشرے یا گیارہویں صدی کے ابتدائی عشرے میں متعین کی جا سکتی ہے ۔جب محمود غزنوی کی وفات 421 ھ میں ہوئی تو حضرت علی ہجویریؒ عنفوان شباب کے دور میں رہے ہوں گے۔‘‘مولانا سید محمد متین ہاشمی تمام تر تحقیق و مطالعہ کے بعد لکھتے ہیں۔ ’’آپؒ کا زمانہ ولادت 381 ھ تا 401 ھ کے درمیان میں متعین کیا جا سکتا ہے۔‘‘حضرتؒ کی پیدائش کے وقت لاہور میں سلطان محمود کی حکومت تھی۔ اس وقت غزنی میں علماء و فقہا، شیوخ اور شعراء کا بہت چرچا تھا اور سلطان محمود غزنوی خود بھی اہل علم و تصوف اور گوشہ نشینوں کا انتہائی قدردان تھا۔آپ ؒکی پیدائش کا زمانہ وہ ہے جب امیرسبکتگین کی وفات (387 ھ 999 ء)کو تیرہ برس گزر چکے تھے۔ لاہور شہر اس کے حملوں سے پامال ہوچکا تھا اور ہندوستان کا راستہ سلطان محمود غزنوی کی یلغار کے لیے بالکل کشادہ تھا اور کوئی مزاحمت نہ تھی۔’’ کشف الاسرار‘‘ میں حضرت علی ہجویریؒ خود لکھتے ہیں: ’’جب میں ہندوستان پہنچا تو نواح لاہور کو جنت نظیر پایا تو یہیں بیٹھ گیا اور لڑکوں کو پڑھانا شروع کیا لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ اس طرح سے حکومت کی بُودماغ میں پیدا ہو رہی ہے تو میں نے لوگوں کو درس دینا چھوڑ دیا۔‘‘ محمد دین فوق نے لکھا ہے کہ: ’’جہاں حوض ہے وہاں حضرت ؒ نے قیام کیا۔ اس جگہ ایک بلند ٹیلا تھا اور اس پر کریر کا ایک درخت بھی تھا۔ اس درخت کی لکڑی اب تک دربار میں موجود ہے۔‘‘ (صفحہ 47 مطبوعہ 1914 ء)جب آپؒ کے پیر روشن ضمیر حضرت شیخ ابوالفضل بن حسن ختلیؒ نے لاہور جانے کا فرمایا تو آپ ؒنے ان کو جواب دیا کہ وہاں میرے پیر بھائی حضرت حسین زنجانیؒ موجود ہیں، میرے جانے کی کیا ضرورت ہے؟مرشد نے فرمایا ’’ان باتوں میں بحث مباحثہ کی ضرورت نہیں ، جائو اور بلاتوقف جائو۔‘‘چنانچہ جب آپؒ لاہور پہنچے اور بیرون شہر رات کو قیام کرکے صبح کو شہر کی جانب روانہ ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک جنازہ آ رہا ہے اور لوگوں کا ایک جم غفیر اس کے پیچھے ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ جنازہ حضرت حسین زنجانیؒ کا ہے تو حضرت خود جنازہ میں شامل ہو گئے اور تکفین و تدفین فرمائی۔ 

جب حضرت علی ہجویریؒ لاہور تشریف لائے تو آپ ؒکے ہمراہ آپ کے پیر بھائی اور دوست شیخ احمد سرخسیؒ اور شیخ ابو سعید ہجویریؒ بھی تھے۔لاہور تشریف لانے سے قبل ’’کشف المحجوب‘‘ کے مطابق حضرت علی ہجویریؒ خراسان، ماورالنہر، مرو اور آذربائیجان تک کی سیاحت کر چکے تھے۔ ۔سید علی ہجویری’’کشف المحجوب ‘‘کی تصنیف کا سبب بتاتے ہیں کہ ان کے ایک رفیق ابوسعید ہجویریؒ نے عرض کی کہ :’’مجھ سے طریق تصوف کی حقیقت اور مقامات صوفیہ کی کیفیت اور ان کے مذاہب اور مقالات کا حال بیان فرمایئے اور مجھ پر ان کے رموز و اشارات اور خدائے عزوجل کی محبت کی نوعیت اور دلوں میں اس کے ظاہر ہونے کی کیفیت اور اس کی ماہیت کے ادراک سے قبل کے حجاب اور اس کی حقیقت سے نفس کی نفرت اور اس کی برگزیدگی و پاکیزگی سے روح کی تسکین اور دوسر ے متعلقہ تصور کا اظہار فرمائیے۔‘‘حضرت ؒنے ساری کتاب اسی سوال کے جواب میں تحریر فرمائی اور اس میں تصوف کی اصل تاریخ، مختلف فرقوں اور گروہوں کے عقائد، اکابر صوفیہ کے حالات ، سلوک و طریقت کے مصطلحات ، تصوف کے عملی مسائل ا ور راہ سلوک میں حجابات کی تشریح کی ہے۔’’کشف المحجوب‘‘ کے مطالعہ سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ اس کا مصنف علوم ظاہری و باطنی میں یدطولیٰ رکھتا ہے داراشکوہ کے بقول۔ ’’اس کتاب کی شہرت و عظمت میں کسی کو کلام نہیں۔ یہ ایک مرشد کامل کی حیثیت رکھتی ہے اور فارسی میں تصوف کے موضوع پر اس پائے کی کوئی کتاب تصنیف نہیں ہوئی۔‘‘ (سفینتہ الاولیاء) ۔ تحقیقا ت چشتی میں درج ہے: ’’رائے راجو حاکم پنجاب کا نائب تھا، وہ حضرت کا مرید ہو کر مسلمان ہو گیا‘‘ چونکہ یہ پہلا ہندو بلکہ پہلا ہندوستانی تھا جو حضرت سید علی ہجویریؒکے ہاتھ پر مسلمان ہوا، اس لیے حضرت نے اپنی دلی خواہش کے بطور یادگار اس کا نام شیخ ہندی رکھا۔

 موجودہ مجاور اور خدام جن کا تعلق محکمہ اوقاف سے قبل آپؒ کے روضہ مبارک کی آمدنی سے تھا، اسی شیخ ہندیؒ کی اولاد سے ہے۔حضرت علی ہجویریؒ نے لاہورمیں تشریف لا کر سب سے پہلے اپنی گرہ سے ایک مسجد تعمیر کرائی۔ شہزادہ داراشکوہ’’ سفینتہ الاولیاء ‘‘میں لکھتا ہے: ’’جب حضرت نے یہ مسجد بنائی تو اور مسجدوں کی نسبت اس کے قبلہ کا رخ ذرا سا جنوبی سمت میں تھا، علماء لاہور نے اس پر اعتراض کیا۔ حضرت اعتراض سن کر خاموش ہو رہے۔ جب تعمیر مسجد سے فراغت پائی تو آپ ؒنے کل علماء و فضلاء کو بلایا اور خود امام بن کر نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد تمام حضرات سے فرمایا کہ تم لوگ اس مسجد کے قبلہ پر اعتراض کرتے تھے، ا ب دیکھو قبلہ کس طرف ہے؟ جب انہوں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو یکبارگی قبلہ بالمشافہ بچشم ظاہر نظر آیا۔ حضرت نے فرمایا بتائو قبلہ کدھر ہے؟ قبلہ کو سیدھے رخ دیکھ کر سب معترضین نادم ہوئے اور آپ ؒسے معذرت چاہی۔یہ پہلی کرامت تھی جو لاہور میں آپ ؒسے ظاہر ہوئی اور جس نے سارے شہر میں آپ ؒکو مشہور کر دیا اور رفتہ رفتہ تمام ہندوستان میں حضرت ’’قطب الاقطاب‘‘ مشہور ہو گئے۔

‘‘داراشکوہ، ’’سفینتہ الاولیاء‘‘ میں لکھتے ہیں۔’’آپ ؒ کی وفات 456 ھ یا 454 ھ کو ہوئی ،قبر مبارک لاہور کے مغربی قلعہ میں واقع ہے۔‘‘مزار حضرت علی ہجویریؒکی تعمیر کے بارے میں’’ تحقیقات چشتی ‘‘کا مصنف لکھتا ہے کہ آپ ؒکا مزار سلطان محمود غزنوی کے برادر زادہ ظہیر الدولہ سلطان ابراہیم بن سلطان مسعود غزنوی نے تعمیر کرایا۔ چبوترہ اور نواح مزار اسی کا تعمیر کردہ ہے اور اب 1278 ھ میں مسمی نور محمد سادھو نے ایک گنبد بالائے پنجرہ چوبی تعمیر کرایا ہے اور پنجرہ سے لے کر تا عمارت گنبد ڈاکٹر محمد حسین متعینہ میڈیکل کالج نے آئینے چاروں طرف لگوائے ہیں۔آپ ؒکے احاطہ مزار کے اندر حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کا حجرہ اعتکاف اور شیخ ہندیؒ کی قبر نمایاں ہے ۔

کشف الاسرار میں خود حضرت علی ہجویریؒ تحریر کرتے ہیں :’’اے علی! تجھے خلقت گنج بخش کہتی ہے (عجیب لطف ہے کہ) تو ایک دانہ بھی اپنے پاس نہیں رکھتا۔ اس بات کا کہ (مخلوق تجھے گنج بخش کہتی ہے) کبھی خیال تک بھی نہ لا ورنہ محض دعویٰ اور غرور ہوگا۔ گنج بخش یعنی خزانے بخشنے پر قادر تو صرف اسی کی ایک ذات ہے۔ اس کے ساتھ شرک نہ کر ورنہ زندگی تباہ ہو جائے گی بے شک وہی اکیلا خدا ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔‘‘درج بالا اقتباس سے نتیجہ نکلتا ہے حضرت اللہ کی وحدانیت کا کس طرح پرچار کرتے تھے۔

روایت ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒنے حضرت کی پائنتی کی طرف دست بستہ کھڑے ہو کر یہ شعر پڑھا۔

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا

   ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما

حضرت عثمان علی ہجویریؒ جب لاہور تشریف لائے تو شہر قدیم سے باہر راوی کے کنارے قیام فرمایا۔ پرانی کتابوں میں ذکر ملتاہے کہآ پؒ نے لاہور میں قیام پذیر ہونے کے بعد سب سے پہلے مسجد کی تعمیر کی اور اس پر اٹھنے والے تمام اخراجات اپنی گرہ سے ادا کیے۔ اس سے قبل لاہور شہر کے گلی کوچوں میں اگر کوئی قدیمی مساجد تھیں تو وہ بادشاہوں نے تعمیر کرائی تھیں مگر یہ مسجد اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ لاہور شہر کی سرزمین پر کسی ولی اللہ نے مسجد کی تعمیر ذاتی اخراجات سے کی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

بگل بج گیا،سٹیج سج گیا، 20 ورلڈ کپ کا آغاز،27 روزہ ٹورنامنٹ میں 45 میچ کھلیے جائیں گے،فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالرز ملیں گے

’’آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ2021ء ‘‘16ٹیموں پر مشتمل ہے، جو ٹاپ ٹین ٹیموں اور ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر کے ذریعے منتخب ہونے والی چھ دیگر ٹیموں پر مشتمل ہے۔یہ ایونٹ عام طور پر ہر دو سال بعدہوتا ہے، ٹورنامنٹ کا 2020ء کا ایڈیشن بھارت میں شیڈول تھا، لیکن کورونا کی وجہ سے ٹورنامنٹ کو 2021 ء تک ملتوی کرکے متحدہ عرب امارات اوراومان منتقل کر دیا گیا۔

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے

قائد ملتؒ، مسلم قومیت کے نقیب ،لیاقت علی خان ؒ کا مکا قومی اتحاد کی علامت بن گیا

’’لیاقت علی خانؒ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں دن رات ا یک کر دئیے وہ اگرچہ نوابزادہ ہیں لیکن وہ عام افراد کی طرح کام کرتے ہیں ،میں دوسرے نوابوں کو بھی مشورہ دوں گا کہ ان سے سبق حاصل کریں‘‘:قائد اعظمؒ

نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے، اسلامی معاشرہ اور ہماری ذمہ داریاں ،اسلام نے ہر فرد کو آداب و اطوار کے ساتھ زندگی گزارنے کا پابندکیا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، لہٰذا نہ خود اس پر ظلم و زیادتی کرے نہ دوسروں کو ظالم بننے کے لیے اس کو بے یارو مددگار چھوڑے، نہ اس کی تحقیر کرے۔ آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تین مرتبہ سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘۔ کسی شخص کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے، ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے اس کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو‘‘(مسلم شریف)۔

محبت اور دشمنی صرف اللہ کیلئے ،ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس نے اللہ کے لیے کسی سے محبت کی اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھی اور اللہ ہی کے لیے دیا (جس کسی کو کچھ دیا) اور اللہ ہی کے لیے منع کیا اور نہ دیا تو اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کر لی‘‘(ابوداؤد)۔ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس لیے مسلمان کی کوشش اپنے ہر قول و فعل سے یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرنے کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے یعنی جس شخص نے اپنی حرکات و سکنات، اپنے جذبات اور احساسات اس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دیئے کہ وہ جس سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہی جوڑتا ہے اور جس سے تعلقات توڑتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے توڑتا ہے۔ جس کو کچھ دیتا ہے اللہ ہی کے لیے دیتا ہے اور جس کو دینے سے ہاتھ روکتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے۔

اسلام میں تجارت کا تصور،نبی کریمﷺ نے تجارت میں بددیانتی کو سخت نا پسند فرمایاہے

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تاجر پر لازم ہے کہ وہ شے کی کوالٹی کے متعلق صحیح معلومات خریدار کو بتا دے اور کسی چیز کے کسی بھی نقص کو مت چھپائے۔ اگر چیز میں کوئی نقص پڑ گیا ہو تو وہ خریدار کو سودا طے کرنے سے پہلے آگاہ کر دے۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں کاروباری دیانت کی سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ سودا طے ہوتے وقت فروخت کار خریدار کو مال میں موجود نقص کے متعلق بتانا بھول گیا یا دانستہ چھپا گیا۔ بعد میں جب فروخت کار کو یاد آیا تو وہ میلوں خریدار کے پیچھے مارا مارا پھرا اور غیر مسلم، مسلم تاجر کی اس دیانت داری کو دیکھ کر اسلام لے آیا۔ انڈونیشیا کے باشندے دیانتدارمسلم تاجروں کے ذریعے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے۔