نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عدالتی حکم پرکل سےموٹروےایم 2پرایم ٹیگ کےبغیرگاڑیوں کےداخلےپرپابندی
  • بریکنگ :- راوی ٹال پلازہ سےجوائن ہونےوالی تمام موٹرویزپرایم ٹیگ کااطلاق ہوگا،آئی جی
  • بریکنگ :- محفوظ سفراورماحولیاتی آلودگی کم کرنےمیں شہری تعاون کریں،آئی جی موٹروےپولیس
Coronavirus Updates

محنتی چیونٹی۔۔

خصوصی ایڈیشن

تحریر : ابراہیم نوید


کسی جنگل میں درخت کے نیچے ایک چوہا اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ اپنا زیادہ وقت آرام اور سستی میں گزارنے کا عادی تھا۔بس ہر وقت یوں ہی پڑا رہتا اور کوئی کام نہ کرتا تھا ۔چوہے کی ماں اکثر سمجھاتی کہ بیٹا اچھے بچے کام کرتے ہیں ،محنت کرتے ہیں ، یوں سستی اور کاہلی کے ساتھ نہیں رہتے،تم چھوٹی سی چیونٹی کو نہیں دیکھتے جو محنت کرتی ہے اور اپنے سے کئی گنا زیادہ بوجھ اٹھاتی ہے۔یہ سن کر چوہا بولا ’’ امی یہ چیونٹی کہاں رہتی ہے ،مجھے اس کو دیکھنے کا بہت شوق ہے‘‘۔چوہے کی ماں نے کہا تم گھر سے باہر نکلو تو تمہیں کچھ پتا چلے ، اگرچیونٹی دیکھنے کا اتنا ہی شوق ہے تو جاؤ جا کر اس کو تلاش کرو اور دیکھو وہ کس قدر محنت کرتی ہے ، اپنا اور اپنے گھروالوں کاپیٹ بھرتی ہے۔

چوہے کے دل میں چیونٹی کو دیکھنے کا شوق بڑھ گیا اور وہ ایک روز اپنی امی سے اجازت لے کر چل پڑا ۔چلتے چلتے اسے ایک جانور دکھائی دیا جو اپنی پشت پر بہت وزن اٹھائے جا رہا تھا۔ چوہے نے اسے چیونٹی سمجھ کر سلا م کیا۔ اس جانور نے بتایا کہ میں چیونٹی نہیں بلکہ کچھوا ہوں۔

چوہا آگے بڑھا کچھ دور جا کر وہ ایک جانور کو دیکھ کر کہنے لگا بھائی چیونٹی سلام،اس جانور نے جواب دیا کہ میں تمہیں چیونٹی نظر آتا ہوں ؟ میں خرگوش ہوں ۔چوہا وہاں سے بھاگا۔ آگے پہنچا تو ہاتھی کو چیونٹی سمجھ کر سلام کیا، ہاتھی سونڈاٹھا کر چنگھاڑا،چوہا ڈر کر بھاگ کھڑا ہوا۔جب بھاگتے بھاگتے تھک گیا تو ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں اس نے قریب سے ایک آواز سنی ’’ بھائی ذرا احتیاط سے ! یہ ہمارا راستہ ہے ‘‘ چوہے نے نیچے دیکھا تو وہاں زمین پر ایک ننھا سا کیڑاتھا جس کے ساتھ ہی ایسے بہت سے کیڑوں کی ایک قطار تھی وہ اپنے منہ میں بڑے بڑے دانے پکڑے جارہے تھے۔ ان میں ایک کیڑا بولا، میاں چوہے ذرا ایک طرف ہو کر بیٹھ جاؤ، ہم کھانا اپنے گھر لے کر جارہے ہیں ،چوہے نے حیران ہو کر کہا اتنا بڑا دانا تم کیسے اٹھا کر لے جا رہے ہو۔ کیڑے نے جواب دیا ہم چھوٹے ضرور ہیں مگر اپنا ہر کام ہمت اور حوصلے سے مل جل کر کرتے ہیں۔ہم سردیاں آنے سے پہلے ہی اپنے لئے خوراک کا بندوبست کر لیتے ہیں ،ہم میں بہت اتفاق اور اتحاد ہے۔ اس چیز میں بڑی دولت ہے۔

چوہے نے ایک ننھے سے کیڑے سے یہ باتیں سنیں تو بہت حیران ہوا اور کہنے لگا مگر تم لوگ ہو کون؟۔ایک ننھے سے کیڑے نے آگے بڑھ کر جواب دیا ’ ہمیں چیونٹی کہتے ہیں‘‘ چوہا بہت خوش ہوا اور بولا بھئی چیونٹی تمہارے بارے میں جو کچھ سنا تھا تم ویسی ہی نکلیں ۔تم لوگ اپنا کام بڑی محنت،لگن اور منظم ہو کر کرتی ہو۔چوہا اپنے گھر واپس پہنچا اور اپنی ماں سے وعدہ کیا کہ آئندہ چیونٹی کی نصیحت پر عمل کرے گا۔

بچوں آج کل بھی موسم تبدیل ہو رہا ہے ، گرمی رخصت ہونے والی ہے اور سردی کی آمد آمد ہے ،آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچن یا گھر کے کسی کونے میں چیونٹیاں قطار بنا کر کچھ نہ کچھ منہ میں ڈالے کسی سوراخ میں داخل ہو رہی ہوں گی ،اصل میں وہ سردیاں آنے سے پہلے اپنا کھا نا سٹور کر لیتی ہیں تاکہ سردی کی شدت میں انہیں مشکلات پیش نہ آئیں اور ایسا وہ مل جل کر کرتی ہیں۔بچّو، اتفاق اور اتحاد میں بہت بر کت ہے، کوئی بھی کام اتحاد سے کیا جائے تو اس کا فائدہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہے اور یہ تو آپ لوگ جانتے ہی ہیں کہ محنت میں عظمت ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)