نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سادھوکی میں 3اہلکارشہید،70زخمی ہوئے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- مظاہرین کوروکتےہوئے3جوان شہیدہوئے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- 70زخمیوں میں8اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پنجاب میں 60روزکیلئےرینجرزتعینات کرنےکااعلان
  • بریکنگ :- آرٹیکل 147کےتحت پنجاب رینجرزکو60روزکیلئےطلب کیا گیا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پنجاب رینجرزکوامن وامان قائم رکھنےکیلئے60روزکااختیاردیاگیا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- کالعدم تنظیم کےلوگ واپس مسجدرحمت اللعالمین ﷺچلےجائیں،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت جہاں چاہے رینجرزکواستعمال کرسکتی ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- فرانس کاسفارتخانہ بند نہیں کرسکتے،وزیرداخلہ شیخ رشید
  • بریکنگ :- فرانس کاسفیرپاکستان میں نہیں ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- کالعدم تنظیم نے راستے کھولنے کا وعدہ پورا نہیں کیا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےسوشل میڈیاپرجھوٹی خبروں کاپھیلاؤروکنےکی ہدایت دی ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- مولانافضل الرحمان صاحب!حکومت کہیں نہیں جارہی،شیخ رشید
  • بریکنگ :- خدشہ ہےکالعدم قراردی گئی تنظیم عالمی دہشتگردتنظیموں میں نہ آجائے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ان کےکیسزپھرہمارے بس میں نہیں ہوں گے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- سادھوکی میں پولیس پرفائرنگ کی گئی،شیخ رشید
Coronavirus Updates

شان الحق حقی ایک ہنس مکھ انسان ، راست گو آدمی اور دیانت دار افسر تھے :برسی کے موقع پر بیٹے کا خراج عقیدت

خصوصی ایڈیشن

تحریر : شایان الحق


میرے والد شان الحق حقی، شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کی تیرہویں پیڑھی سے ہیں اور ڈپٹی نذیر احمد کے پرنواسے تھے۔ ان کے والد یعنی میرے دادا احتشام الدین حقی بھی ماہر لسانیات، ادیب اور شاعر تھے۔ میرے والد شان الحق حقی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اسلام آباد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تقریب شان الحق حقی کی برسی کے موقع پر منعقد کی گئی تھی جس کی صدارت مشتاق یوسفی نے کی اور اسلم اظہر اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ اسلم اظہر جب کراچی ٹی وی کے جنرل منیجر تھے تو حقی صاحب سیلز کے شعبہ کے جنرل منیجر تھے۔ اسلم اظہر کے میرے والد کے ساتھ کچھ معاملات پر اختلافات تھے۔ اسلم اظہر کے بقول شان الحق حقی نے انہیں ایک خط لکھا جس میں انہوں نے شکایت کی کہ اشتہارات کو یا تو مناسب وقت پر جگہ نہیں دی جاتی یا انہیں گول کردیا جاتا ہے۔

اسلم اظہر صاحب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1972ء میں سرکاری ٹی وی کے ایم ڈی کی حیثیت سے چارج سنبھالا تو انہیں حقی صاحب کے شعبے کی اہمیت کا احساس ہوا جو کہ ظاہر ہے سرکاری ٹی وی کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ تھا اور اس آمدنی سے ادارے کے تمام اخراجات پورے ہو رہے تھے۔ اسلم اظہر کا مزید کہنا تھا کہ ان کے شان الحق حقی سے تعلقات بہت اچھے ہوگئے بلکہ انہوں نے حقی صاحب سے بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے حقی صاحب کو نابغہ روزگار قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ ایسے لوگ دل میں کوئی بات نہیں رکھتے اور بہت کچھ فراموش کردیتے ہیں۔ حقی صاحب بھی ایسے ہی آدمی تھے۔

میں نے اپنے والد کو اتوار یا چھٹی والے کسی اور دن کو بھی گھر پر نہیں دیکھا۔ وہ بہت کم سوتے تھے کیونکہ وہ کم سونے کے عادی ہوچکے تھے۔ وہ دن میں 14 سے 16 گھنٹے تک کام کرتے تھے۔ ان پر کام کرنے کی دھن سوار رہتی تھی۔ اس لیے انہیں (Workaholic) بھی کہا جاتا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ چند بار وہ اردو بورڈ سے صبح چار یا پانچ بجے گھر آتے اور مجھے اپنی کار کے انجن کے شور سے جگایا کرتے تھے کیونکہ جس وقت وہ آتے تھے، ہر طرف خاموشی کا راج ہوتا تھا۔ 

پروفیسر سحر انصاری نے ایک بار مجھے بتایا کہ چند مواقع پر ایسا بھی ہوا کہ جب وہ اور حقی صاحب کسی ادبی تقریب یا مشاعرے سے رات گئے واپس آتے تو مجھ سے (سحر انصاری) چند منٹوں کیلئے اردو بورڈ کے پاس رکنے کی اجازت طلب کرتے۔ انصاری صاحب نے بتایا کہ وہ چند منٹ تین یا چار گھنٹوں میں تبدیل ہو جاتے۔ سحر انصاری نے اس بات کا تذکرہ شان الحق حقی صاحب کے آخری مجموعہ کلام کے تعارفی مضمون میں بھی کیا ہے جس کا عنوان تھا ’’نوائے ساز شکن‘‘۔

میرے والد سنجیدہ انسان لگتے تھے لیکن حقیقت میں وہ بڑے ہنس مکھ شخص تھے۔ ان کی حس مزاح حیران کن تھی۔ ایک دفعہ ہمارا ملازم غفور تین مہینے کی چھٹی پر جانا چاہتا تھا وہ نہ صرف ایک باورچی تھا بلکہ سکیورٹی گارڈ بھی تھا۔ اس کے علاوہ وہ ہماری والدہ کی غیر موجودگی میں بچوں کا بھی خیال رکھتا تھا۔ میری والدہ کام کرتی تھیں اس لیے انہیں غفور کی اتنی لمبی رخصت پر اعتراض تھا۔ انہوں نے میرے والد سے ان کی رائے پوچھی۔ مجھے یاد ہے اس وقت والد اخبار کے مطالعے میں مصروف تھے۔ اخبار پڑھنے کے دوران ہی انہوں نے کہا ’’روکو مت جانے دو‘‘۔ پھر انہوں نے والدہ صاحبہ پر فیصلہ چھوڑ دیا۔ 

علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کراچی نے ان کی 75 ویں سالگرہ منائی۔ اس موقع پر والد نے یہ اشعار کہے!

لگتی ہے یہ جنم کی گھڑی سوگوار سی

سینے میں دردِ فرقتِ باراں ہے آج بھی

جو حسرتیں تھیں سب کہیں راہوں میں رہ گئیں

عبرت ہی کل سروساماں ہے آج بھی

یا رب اسے تو موت میرے جیتے جی نہ آئے

مجھ میں جو ایک طفلکِ ناداں ہے آج بھی

میں نے کبھی اپنے والد کو کتاب کے اس صفحے پر نشان لگائے بغیر سوتے نہیں دیکھا جس کا وہ اس وقت مطالعہ کررہے ہوں۔ سوتے وقت وہ بتی نہیں بجھاتے تھے۔ یہ درست ہے کہ وہ بہت کچھ فراموش کردیتے تھے لیکن ایک انسان کی حیثیت سے وہ اپنی ذمہ داریاں کبھی نہیں بھولتے تھے۔ وہ ایک راست گو آدمی تھے اور ایک دیانت دار افسر بھی۔ اگر ٹیلی فون کا بل تھوڑا سا زیادہ بھی آجاتا تو وہ اپنے خاندان کے افراد سے ناراض ہوجاتے تھے۔ اگرچہ یہ بل اس رقم سے کم ہوتا جس کی انہیں اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے سرکاری سہولیات کا کبھی غلط استعمال نہیں کیا۔ وہ ہر ضرورت مند کی مدد کرتے۔ انہوں نے ایک شوہر، ایک باپ اور ملک کے ایک شہری کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا۔ مشتاق یوسفی نے ’’او یو پی‘‘ کی انگریزی سے اردو لغت کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کہا تھا کہ ’’اب وہ سانچے نہیں بنتے جن میں حقی صاحب جیسے لوگ ڈھالے جاتے‘‘۔

والد کے انتقال سے دو ماہ قبل میں اگست 2005ء کو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ان سے ملنے گیا۔ انہوں نے میری اہلیہ سے کہا کہ وہ کمر کی شدید درد میں مبتلا ہیں۔ میری اہلیہ ڈاکٹر ہیں۔ وہ درد ختم کرنے والی گولیاں کھانے سے گریزاں تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان گولیوں کے مضر اثرات (Side Effects) ہوں گے۔ میری اہلیہ نے ان سے کہا کہ وہ درد سے افاقہ کیلئے یہ گولیاں کھا لیں۔ اگلی رات انہوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے گولیاں (Pain Killer) کھانے کے بعد لغت کے پراجیکٹ پر 16گھنٹے کام کیا۔ ایک ہفتہ بعد جب میں اہل خانہ کے ساتھ جا رہا تھا انہوں نے مجھے ایک پیکٹ دیا جس میں ’’او یو پی‘‘ لغت کے لیے کچھ حروف تہجی کا سیٹ تھا۔ یہ اردو سے انگریزی کی وہ لغت تھی جسے وہ تیار کررہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ درد سے افاقے کیلئے جو دوا انہوں نے کھائی اس کی وجہ سے وہ 15 سے 16 گھنٹے تک کام کرتے رہے۔ 22 دسمبر کو میں ان کے پاس دوبارہ گیا۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب میں ہسپتال کے سرطان وارڈ میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک لیڈی ڈاکٹر میرے پاس آئی اور مجھے بتایا کہ حقی صاحب کو دوسری وارڈ میں بھیجا جارہا ہے جہاں انہیں درد سے قدرے آرام ملے گا۔ حقی صاحب نے اس سے پوچھا کہ انہیں اس وارڈ میں کیوں شفٹ کیا جارہا ہے تو لیڈی ڈاکٹر نے کہا قواعد کے مطابق جن مریضوں کی زندگی تین ماہ سے کم ہو انہیں پھر اس وارڈ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کمرے میں بہرا کر دینے والی خاموشی چھا گئی۔ میرے والد کی نظریں سامنے والی دیوار پر گڑ گئیں۔ میں نے ان کے چہرے پر خوف کے آثار نہیں دیکھے البتہ ان کے چہرے پر مایوسی اور بے بسی کی لکیریں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

27 اکتوبر : یوم سیاہ

وادی کشمیر سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک ، 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئی 74 سال سے خونریزی جاری

قرارداد تاسیس یوم سیاہ کی بنیاد

سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے لئے خصوصی تحریر

مسئلہ کشمیر : کب کیا ہوا؟

26 اکتوبر 1947: مہاراجہ نے بھارت سے مدد چاہتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے ۔

فلموں کی قلت ،سینما شدید بحران کا شکار ،مالکان نے سینما کی بقاء کیلئے 20ورلڈ کپ کا سہارا تلاش کرلیا

گئے برسوں میں ملکی اور غیرملکی فلموں کی کامیابیوں نے ایک عرصے سے روٹھے ہوئے سینما گھروں کے شائقین کو واپس لانے میں جو کردار ادا کیا تھا، وہ گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی وباء کورونا اور سرکاری پابندیوں کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گھروں تک محدود ہو جانے والے شائقین نے اپنی تفریح کے ذرائع انٹرنیٹ میں تلاش کر لئے۔ جس کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح فلم انڈسٹری اور سینماانڈسٹری میں بھی شدید معاشی بحران نے جنم لیا۔ فلمیں بننا بند ہوگئیں، جدید سینما انڈسٹری کو فروغ و استحکام دینے کے لئے اربوں روپے کی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری منجمد ہو کر رہ گئی۔جس کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ افراد بیروزگاری کا شکار ہو گئے۔

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا،احمد راہی کے اردو نغمات بھی لاجواب

عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ احمد راہی نے اعلیٰ درجے کی پنجابی شاعری کے علاوہ بہت خوبصورت پنجابی نغمات لکھے۔ سب سے زیادہ ذکر ان کی جن پنجابی فلموں کا کیا جاتا ہے ان میں ’’یکے والی‘‘، ’’مرزا جٹ‘‘ اور ’’ہیر رانجھا‘‘ شامل ہیں۔ پنجابی نظموں کی ان کی کتاب ’’ترنجن‘‘ اب تک مقبول ہے۔

ٹی وی ڈرامے پاکستانی معاشرے کے عکاس نہیں ،متنازع موضوعات و مناظر پر عوامی تنقید ،پیمرا ان ایکشن

کیا موجودہ ٹی وی ڈرامے ہمارے معاشرے کے عکاس ہیں؟یہ وہ سوال ہے جو تقریباً آج ہر پاکستانی کی زبان پر ہے، ناصرف عوامی حلقوں میں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی ڈراموں کو لے کر آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ پاکستانی ڈرامے اس قدر مادر پدر آزاد ہو چکے ہیں کہ ہر کوئی کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے۔