نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مشقیں جوانوں کے اعتماد میں اضافےکا ذریعہ ہیں، آرمی چیف
  • بریکنگ :- مشقیں بہترین جنگی صلاحیتوں،پیشہ ورانہ مہارتوں کونکھارنےکاکلیدی ذریعہ ہیں، آرمی چیف
  • بریکنگ :- آنیوالے وقت میں ٹیکنالوجی سےلیس تربیت یافتہ فوج ناگزیرہے،آرمی چیف
  • بریکنگ :- آرمی چیف کاکمانڈرسدرن کمانڈلیفٹیننٹ جنرل محمدچراغ حیدرنےاستقبال کیا
  • بریکنگ :- آرمی چیف کاجنوبی کمانڈہیڈکوارٹرز ملتان کا دورہ، آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- آرمی چیف کوفارمیشن کےآپریشنل،تربیتی اورانتظامی امورپربریفنگ
  • بریکنگ :- آرمی چیف نےکوٹ عبدالحکیم میں اسٹرائیک کورکی انٹیگریٹڈٹریننگ کامشاہدہ کیا
  • بریکنگ :- آرمی چیف نےفیلڈفارمیشن کی تربیتی مشقوں کامشاہدہ کیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- آرمی چیف نےجوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اورعزم کوسراہا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- چیلنجزکےباوجودہماری توجہ پاک فوج کی روایتی صلاحیتیں بڑھانےپرہے،آرمی چیف
  • بریکنگ :- آئی ایس پی آر،ایئرڈیفنس شعبوں میں صلاحیت بڑھانےپرتوجہ دےرہےہیں،آرمی چیف
  • بریکنگ :- سائبراینڈمیکنائزیشن میں صلاحیت بڑھانےپرتوجہ دی جارہی ہے،آرمی چیف
  • بریکنگ :- پاک فوج ملک کودرپیش ہرچیلنج کامقابلہ کر سکتی ہے، آرمی چیف
  • بریکنگ :- جدیدٹیکنالوجی سے لیس تربیت یافتہ فوج ہی ملک کادفاع کرسکتی ہے،آرمی چیف
Coronavirus Updates

یوگا : ا حتیاط سے کیجئے،یہ نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے!

خصوصی ایڈیشن

تحریر : راشد ندیم خان


نئی تحقیق کے مطا بق یوگا انسانی صحت کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔اس سے پہلے بھی یوگا کے متعلق خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا لیکن نئی تحقیق کے نتائج کے مطابق یوگا کے متعلق جتنا سوچا گیا تھا یہ اس سے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف الباما کے ڈائریکٹر گیرالڈ مک گوین نے اعداد وشمار کے ساتھ بتایا کہ 2001ء سے لے کر 2014ء تک امریکہ میں یوگا سے ہونے والی اندرونی چوٹوں کے 39ہزار 590کیسز درج ہوئے ہیں۔یہ وہ کیس ہیں جن میں مریضوں کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا ہے کہ یوگا جسم کیلئے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے۔ مطالعہ کے مطابق جسمانی چوٹوں کی شکایت عمر رسیدہ افراد میں زیادہ ہے۔ زیادہ تر چوٹیں کندھے، کمر، کولہو، پنڈلی، کہنی اور کلائی میں ہوتی ہیں۔ دراصل یوگا میں جسم کو اتنا توڑا، مروڑا اور اینٹھا جاتا ہے کہ اس کا اثر جسم کے اعصاب، رگوں، نسوں یا ہڈیوں پر پڑنا انتہائی فطری بات ہوجاتی ہے۔ اس کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دراصل یہ کسرت کا 5ہزار سال پرانا علم ہے۔ اس وقت سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی۔ اس وقت کے لوگوں کو جسم کے اعصاب، نسوں، پٹھوں کے بارے میں اتنا علم نہیں تھا۔ یہ ورزش ہوسکتی ہے کہ 5ہزار سال پہلے تو اپنے وقت سے کافی آگے رہی ہو، لیکن آج اسے ایک فرسودہ طریقہ ورزش ہی کہا جاسکتا ہے۔

نیوز ویب سائٹ ’’اے بی سی ڈاٹ نیٹ‘‘ نے ایک مضمون شائع کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ یوگا کی وجہ سے ہونے والی چوٹوں میں زبردست اضافہ تشویش ناک ہے۔ اپنی رپورٹ میں ویب سائٹ نے کوئنز لینڈ کے ڈاکٹر ’’سکینڈز ‘‘ کے حوالے سے بتایا کہ سکینڈز 2009ء سے2016ء تک یوگا سے ہونے والی چوٹوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اس دوران یوگا کرنے والوں کی تعداد میں صرف پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن یوگا سے ہونے والی جسمانی چوٹوں میں 80فیصد کا اضافہ ہوگیا۔ ڈاکٹر سکینڈز نے 20سال سے یوگا سکھانے والی ٹیچر ٹریسی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ چوٹیں صرف نئے یوگا سیکھنے والوں کو ہی ہوسکتی ہیں۔ جب ٹریسی جیسی ماہر یوگا ٹیچر کو یوگا کرتے ہوئے چوٹ لگ سکتی ہے تو پھر کوئی بھی اس کا شکار ہوسکتا ہے۔

’’یوگا جرنل‘‘نامی ویب سائٹ میں ایک یوگا کرنے والی خاتون نے اپنی کولہو کی چوٹ کی پوری داستان لکھی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ یوگا کے دوران مجھے اندرونی چوٹ لگی ہے جو19مہینے گز جانے کے باوجود بھی ٹھیک نہیں ہوپائی۔ اس دوران مجھے تین ایکسرے، دو ایم آر آئی کروانی پڑیں۔ چھ ڈاکٹروں اور چھ فزیکل تھراپسٹ کو دکھانا پڑا۔ اس کے علاوہ بے شمارگولیاں کھائیں اور انجکشن بھی لگوائے۔ اس کے باوجود آج بھی میں ٹھیک سے نہیں چل سکتی ہوں۔اس نے یہ بھی بتایا کہ یوگا سے ہونے والی چوٹوں کی شکار میں اکیلی نہیں ہوں، مجھ جیسے بے شمار لوگ ہیں، جن سے میں مل چکی ہوں۔

اکثر آپ نے دیکھا ہو گا کہ کئی مشہور شخصیات اور فلمی ستارے بھی یوگا کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ اس کو ایک صحت مند ورزش سمجھا جاتا ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس صحت مندنسخے کا دوسرا پہلو بھی ہے اس لئے اندھی تقلید نہیں کرنی چاہئے، آج کے جدید دور میں آپ کو کوئی بھی کا م کرنے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کر لینی چاہئے اور خصوصاً جب معاملہ صحت کا ہو تو زیادہ احتیاط ضروری ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

27 اکتوبر : یوم سیاہ

وادی کشمیر سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک ، 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئی 74 سال سے خونریزی جاری

قرارداد تاسیس یوم سیاہ کی بنیاد

سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے لئے خصوصی تحریر

مسئلہ کشمیر : کب کیا ہوا؟

26 اکتوبر 1947: مہاراجہ نے بھارت سے مدد چاہتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے ۔

فلموں کی قلت ،سینما شدید بحران کا شکار ،مالکان نے سینما کی بقاء کیلئے 20ورلڈ کپ کا سہارا تلاش کرلیا

گئے برسوں میں ملکی اور غیرملکی فلموں کی کامیابیوں نے ایک عرصے سے روٹھے ہوئے سینما گھروں کے شائقین کو واپس لانے میں جو کردار ادا کیا تھا، وہ گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی وباء کورونا اور سرکاری پابندیوں کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گھروں تک محدود ہو جانے والے شائقین نے اپنی تفریح کے ذرائع انٹرنیٹ میں تلاش کر لئے۔ جس کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح فلم انڈسٹری اور سینماانڈسٹری میں بھی شدید معاشی بحران نے جنم لیا۔ فلمیں بننا بند ہوگئیں، جدید سینما انڈسٹری کو فروغ و استحکام دینے کے لئے اربوں روپے کی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری منجمد ہو کر رہ گئی۔جس کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ افراد بیروزگاری کا شکار ہو گئے۔

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا،احمد راہی کے اردو نغمات بھی لاجواب

عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ احمد راہی نے اعلیٰ درجے کی پنجابی شاعری کے علاوہ بہت خوبصورت پنجابی نغمات لکھے۔ سب سے زیادہ ذکر ان کی جن پنجابی فلموں کا کیا جاتا ہے ان میں ’’یکے والی‘‘، ’’مرزا جٹ‘‘ اور ’’ہیر رانجھا‘‘ شامل ہیں۔ پنجابی نظموں کی ان کی کتاب ’’ترنجن‘‘ اب تک مقبول ہے۔

ٹی وی ڈرامے پاکستانی معاشرے کے عکاس نہیں ،متنازع موضوعات و مناظر پر عوامی تنقید ،پیمرا ان ایکشن

کیا موجودہ ٹی وی ڈرامے ہمارے معاشرے کے عکاس ہیں؟یہ وہ سوال ہے جو تقریباً آج ہر پاکستانی کی زبان پر ہے، ناصرف عوامی حلقوں میں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی ڈراموں کو لے کر آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ پاکستانی ڈرامے اس قدر مادر پدر آزاد ہو چکے ہیں کہ ہر کوئی کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے۔