نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ کایوم سیاہ کےموقع پریواین سیکرٹری جنرل اورسلامتی کونسل کے صدرکوخط
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ نےخط میں مقبوضہ کشمیرکی ابترصورتحال سے آگاہ کیا
  • بریکنگ :- بھارت نے7دہائیوں سےکشمیریوں کوحق خودارادیت سےمحروم رکھاہے،شاہ محمود قریشی
Coronavirus Updates

کولیسٹرول سے بچئے۔۔

خصوصی ایڈیشن

تحریر : کامران احمد


دل انسانی جسم کا اہم ترین حصہ ہے۔ اور انسانی زندگی کا انحصار اس کے دھڑکنے پر ہے۔ ایک صحت مند دل دن میں تقریباً ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے اور سال بھر میں تقریباً یہ تین کروڑ پیسنٹھ لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔ دل کی تندرستی اور صحت کا دارومدار ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اس کی صحت مندی برقرار رکھنے کیلئے چکنائی، کولا مشروبات، فاسٹ فوڈز، جنک فوڈاور پروسیسڈ کھانوں سے پرہیز کے علاوہ بھی کئی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایسی خوراک، ورزش اور سیر کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہوگا جن سے ہم کولیسٹرول ، بلڈ پریشر اور تیزابیت جیسی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ صحت مند خوراک اور ورزش کولیسٹرول کو مناسب سطح پر قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر خون میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہوگی تو وہ کئی بیماریوں کو جنم دے گی۔ ہم چکنائی کی ایک قسم کو کولیسٹرول کہتے ہیں جو کہ خلیوں کو بنانے اور برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ کولیسٹرول کم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی روزمرہ خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کا استعمال ضرور کریں۔ ایک صحت مند جسم میں کولیسٹرول کی سطح 200 ملی گرام سے کم ہونی چاہیے۔ اگر کولیسٹرول کی سطح 240 ملی گرام سے تجاوز کر جائے تو دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کولیسٹرول کی3 اقسام مشہورہیں،ہائی ڈینسٹی لیپو پروٹین (H.D.L)،لو ڈینسٹی لیپو پروٹین (L.D.L) ،ٹرائی گلیسرائیڈ۔

ہائی ڈینسٹی لیپو پروٹین 

یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہوتاہے۔ یہ شریانوں کی اندرونی دیواروں پر چپکتا نہیں اور پلیک کی تشکیل کو ناممکن بناتا ہے۔ H.D.L دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں چکنائی نہیں جمنے دیتا بلکہ زائد کولیسٹرول کو خون کے بہاؤکے ذریعے جگر تک لے آتا ہے۔ اس کی مقدار جسم میں ایک لیٹر خون میں 1.30 گرام سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔

لو ڈینسٹی لیپو پروٹین 

کولیسٹرول کی یہ قسم نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس کی زیادتی شریانوں میں چربی جمنے کی وجہ سے خون کی روانی میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔ L.D.L کی سطح 100 ملی گرام سے کم ہونی چاہیے۔ جبکہ 160 ملی گرام سے 190 ملی گرام کے اعداد کو خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ 

ٹرائی گلیسرائیڈ 

یہ قسم کیلوریز کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ خون میں چربی والے ذرات کی ایک قسم ہے۔ جو کیلوریز آپ جلا نہیں سکتے وہ جسم میں چربی کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ جو کہ ہارٹ اٹیک کا ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس کی مقدار ہمارے جسم میں 150 ملی گرام سے کم ہونی چاہیے۔ کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے کے لیے ہمیں سبزیوں، دالوں، پھلوں، ڈرائی فروٹس کے ساتھ ساتھ ورزش کو بھی اپنا معمول بنانا ہوگا۔

روزمرہ خوراک میں مفید غذائیں 

 لہسن، چھلکا اسپغول، دھنیا ، گاجر کا جوس، میتھی دانہ، زیتون کا تیل، السی، سبز چائے، لیمن گراس، آملہ، خشک دھنیا، مغز اخروٹ، بھنڈی، بینگن، اسٹرا بیری، سویا بین، ریشہ دار غذائیں، سرخ انگور، لیموں، سنگترہ، بلیو بیریز، خوبانی، کیوی، سیب، پپیتا، جو کا دلیہ، ادرک، زیادہ تیل والے کھانے یا چکنائی بھری خوراک ہمارے کولیسٹرول میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ مرغن غذاؤں کا استعمال بھی کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے۔ جو کہ دل کے دورے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

اپنی روزمرہ خوراک میں کن غذاؤں سے پرہیزکرنا لازمی ہے۔

گوشت ( بیف۔ مٹن۔ چکن )، مغز، چربی، ، پنیر، جنک فوڈز، بیکری کی اشیاء ، فاسٹ فوڈز، کولا مشروبات، انڈے کی زردی، مکھن ،مارجرین، ناریل، تمباکو نوشی، تلی ہوئی اشیا ء، آئس کریم، شوارما، پیزا، برگر۔

گوگل کو عربی میں مقل ارزق اور انگریزی میں گم گوگل کہتے ہیں۔ نباتاتی لحاظ سے اسکو ’’ کمی فورا موقل ’’ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اس کا تعلق ’’برسی راسی ‘‘ فیملی سے ہے یہ ایک درخت کا منجمند شدہ گوند ہے۔ اگر پانی میں حل کیا جائے تو دودھ کی طرح کا محلول بنتا ہے۔ طب یونانی میں ’’ گوگل ‘‘ کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس میں موٹاپا دور کرنے، میٹا بولزم کو ٹھیک کرنے، ٹرائی گلیسرائیڈز کی مقدار کو نارمل رکھنے، کولیسٹرول کو کم کرنے کی خصوصیات موجود ہیں۔ یہ قدرتی مرکب کولیسٹرول کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ’’ گوگل ‘‘ کے اندر اینٹی سوزش خصوصیات بھی موجود ہیں۔

’’ گوگل ‘‘ کی خصوصیات 

کولیسٹرول کو کم کرتی ہے۔ملین ( قبض کشا )۔دماغ کے کینسر کیلئے مفید ہے۔موٹاپا کم کرتی ہے۔بلغم کو ختم کرتی ہے۔تھائیرائیڈ کے عمل کو بہتر کرتی ہے۔اعصابی کمزوری کو دور کرتی ہے ۔طاعونی گلٹیوں اور رسولیوں کو تحلیل کرتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

27 اکتوبر : یوم سیاہ

وادی کشمیر سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک ، 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئی 74 سال سے خونریزی جاری

قرارداد تاسیس یوم سیاہ کی بنیاد

سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے لئے خصوصی تحریر

مسئلہ کشمیر : کب کیا ہوا؟

26 اکتوبر 1947: مہاراجہ نے بھارت سے مدد چاہتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے ۔

فلموں کی قلت ،سینما شدید بحران کا شکار ،مالکان نے سینما کی بقاء کیلئے 20ورلڈ کپ کا سہارا تلاش کرلیا

گئے برسوں میں ملکی اور غیرملکی فلموں کی کامیابیوں نے ایک عرصے سے روٹھے ہوئے سینما گھروں کے شائقین کو واپس لانے میں جو کردار ادا کیا تھا، وہ گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی وباء کورونا اور سرکاری پابندیوں کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گھروں تک محدود ہو جانے والے شائقین نے اپنی تفریح کے ذرائع انٹرنیٹ میں تلاش کر لئے۔ جس کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح فلم انڈسٹری اور سینماانڈسٹری میں بھی شدید معاشی بحران نے جنم لیا۔ فلمیں بننا بند ہوگئیں، جدید سینما انڈسٹری کو فروغ و استحکام دینے کے لئے اربوں روپے کی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری منجمد ہو کر رہ گئی۔جس کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ افراد بیروزگاری کا شکار ہو گئے۔

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا،احمد راہی کے اردو نغمات بھی لاجواب

عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ احمد راہی نے اعلیٰ درجے کی پنجابی شاعری کے علاوہ بہت خوبصورت پنجابی نغمات لکھے۔ سب سے زیادہ ذکر ان کی جن پنجابی فلموں کا کیا جاتا ہے ان میں ’’یکے والی‘‘، ’’مرزا جٹ‘‘ اور ’’ہیر رانجھا‘‘ شامل ہیں۔ پنجابی نظموں کی ان کی کتاب ’’ترنجن‘‘ اب تک مقبول ہے۔

ٹی وی ڈرامے پاکستانی معاشرے کے عکاس نہیں ،متنازع موضوعات و مناظر پر عوامی تنقید ،پیمرا ان ایکشن

کیا موجودہ ٹی وی ڈرامے ہمارے معاشرے کے عکاس ہیں؟یہ وہ سوال ہے جو تقریباً آج ہر پاکستانی کی زبان پر ہے، ناصرف عوامی حلقوں میں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی ڈراموں کو لے کر آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ پاکستانی ڈرامے اس قدر مادر پدر آزاد ہو چکے ہیں کہ ہر کوئی کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے۔