نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:بھارتی ناظم الامورکی دفترخارجہ طلبی
  • بریکنگ :- پونچھ سیکٹرمیں بھارتی افواج کی حراست میں پاکستانی شہری ضیامصطفیٰ کے قتل پراحتجاج
  • بریکنگ :- پاکستانی قیدی کاجیل سےدورپراسرارقتل سنگین سوالات اٹھاتاہے،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- بھارت کاماورائےعدالت قتل کایہ پہلاواقعہ نہیں ہے،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- پاکستانی اورکشمیری قیدیوں کےماورائےعدالت قتل کی مذمت کرتےہیں،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارت واقعہ کی شفاف تحقیقات کرکےانصاف کویقینی بنائے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارت پاکستانی قیدیوں کی رہائی یاوطن واپسی تک ان کی حفاظت یقینی بنائے،ترجمان
Coronavirus Updates

ایشو پرنان ایشو کاغلبہ:مہنگائی کا طوفان ،عوام پریشان ،ن لیگ میں کنفیوژن کے خاتمے کیلئے کوششیں نتیجہ خیز ہوں گی ؟

خصوصی ایڈیشن

تحریر : سلمان غنی


قومی سیاست کا بڑا المیہ یہ ہے کہ آج سیاسی محاذ پر جن ایشوز پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بیان بازی اور الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے ان کا براہ ر است عوام کی زندگی، ان کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر آنے والے دن میں عوامی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور کسی کو اس کی پرواہ نہیں، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے عمل نے ملک بھر میں مایوسی کی فضا طاری کر رکھی ہے اور اس حوالے سے کوئی امید اور آس نظر نہیں آ رہی کہ آنے والے دنوں اور حالات میں کوئی بہتری کے امکانات ہیں، مہنگائی کی بڑی وجہ جہاں ایک جانب منافع خور اور ذخیرہ اندوز ہیں تو دوسری جانب آئے روز پٹرولیم، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نے جلتی پر تیل کا کام کر رکھا ہے اور ان کی قیمتوں میں اضافہ کا عمل تمام اشیائے ضروریات کی قیمتوں پر ہفتوں یا دنوں میں نہیں بلکہ ان کے اعلانات کے ساتھ ہی عمل درآمد شروع ہو جاتا ہے

 سیاسی تاریخ میں جب ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو ملک کی اہم سیاسی جماعتیں مسائل زدہ اور مہنگائی زدہ عوام کی آواز بنتے ہوئے حکومت پر دبائو بڑھانے کا فریضہ سر انجام دیتی نظر آتی تھیں جس سے کم از کم پریشان حال عوام کو اتنا اطمینان ضرور ہوتا تھا کہ کسی کو ان کی حالت راز اور چولہے اور روزگار کی فکر ہے اور اس عمل سے خود حکومت پر سیاسی دبائو آتا اور حکومت کو کچھ کرنے کی فکر لاحق ہوتی لیکن مہنگائی کے بڑھتے رجحان اور طوفان کا حکومت پر یہ اثر پڑا ہے کہ پہلے وزیراعظم عمران خان مہنگائی کے رجحان پر اجلاس منعقد کرتے، صوبائی حکومتوں کو اس کے آگے بند باندھنے کا درس دیتے اور یہ امید دلاتے نظر آتے کہ جلد ہی یہ وقت گزر جائے گا اچھے دن آنے والے ہیں لیکن نئی پیدا شدہ صورتحال میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اب خود حکومت بھی مہنگائی کے اس رجحان پر پسپائی اختیار کر چکی ہے، جس کا ثبوت خود وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ شوکت ترین کے ان بیانات سے ہوتا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی اب بھی دیگر ممالک کی نسبت کم ہے جس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ ابھی مہنگائی اور ہو گی اور آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ میں جہاں انہوں نے 2021-22 کے دوران پاکستان میں معاشی ترقی کا ہدف چار فیصد کی توقع ظاہر کی ہے وہاں یہ انکشاف بھی کر ڈالا ہے کہ مہنگائی کی شرح 8.6 فیصد سے بڑھ کر 9.7 رہے گی اور کرنٹ اکائونٹس خسارہ منفی 60 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 3 ارب دس کروڑ ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے اس طرح اس سے بے روزگاری میں 0.2 فیصد کمی کی توقع ظاہر کی ہے ملکی معاشی صورتحال اور پٹرولیم، بجلی اور گیس کے حوالے سے اب پاکستان کے عوام آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر نظر آ رہے ہیں اور اس حوالے سے حکومت کا کوئی کردار محسوس نہیں ہو رہا جبکہ دوسری جانب اگر اپوزیشن کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ بھی ملکی معیشت اور خصوصاً مہنگائی، بے روزگاری کے رجحان پر کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں کر پا رہی اور اب دیکھنے میں آ رہا ہے کہ حکومت کو بھی اپوزیشن اتحاد کے سیاسی دبائو کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حالیہ ہفتہ لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی اور ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال خصوصاً چیئر مین نیب کی تقرری کے عمل، انتخابی اصلاحات سمیت مختلف امور پر صلاح مشورہ کے بعد مہنگائی کے خلاف مارچ کا اعلان تو کیا لیکن عملاً اس کے لیے ان کے پاس کیا حکمت عملی ہے اس بارے تفصیلات بتانے سے احتراز برتا اگر پی ڈی ایم کی سیاست اور لائحہ عمل کا جائزہ لیا جائے تو فی الحال وہ کوئی بڑا سیاسی کردار ادا کرتی نظر نہیں آ رہی ۔

مولانا فضل الرحمن کیلئے بڑا مسئلہ حکومت اور اس سے نجات ہے اور وہ اس کیلئے ایسے اقدام چاہتے ہیں جس کے نتیجہ میں حکومت کو گھر بھجوایا جائے جبکہ مسلم لیگ( ن) کیلئے ہدف آنے والے انتخابات ہیں اور مسلم لیگ( ن) آنے والے انتخابات کی شفاف حیثیت کے لیے سرگرم ہے اور اپنے اہداف کے حصول کیلئے پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم کا استعمال چاہتی ہے اور شہباز شریف بطور اپوزیشن لیڈر پیپلز پارٹی، اے این پی اور دیگر جماعتوں سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اور یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ پی ڈی ایم کا قیام جس ہدف کے حصول کے لیے معرض وجود میں آیا تھا فی الوقت وہ تو اب ممکن نظر نہیں آ رہا، اہم جماعتیں آنے والے انتخابات میں اپنی صف بندی اور حکمت عملی کے تعین کیلئے سرگرم ہیں اور ایسے کسی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتیں جس کا مقصد موجودہ حالات میں کوئی اپ سیٹ ہو اور یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر عہدیداران اپنی جماعت میں ایشوز اور آنے والے انتخابات میں اپنے بڑے کردار کیلئے یکسوئی اور اتحاد کیلئے سرگرم ہیں اور چاہتے ہیں کہ جماعت کے اندر کنفیوژن کا خاتمہ ہو اور اپنے اصل اہداف اور مقاصد حاصل کیے جائیں۔ جماعتوں کے اندر با مقصد مشاورتی عمل جماعتوں کے مستقبل کے حوالے سے اہم ہے۔  شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام آج ہماری کارکردگی کی بنا پر ہی ہمیں متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور نواز شریف کے اسی ماڈل کے خواہاں ہیں جن کے نتیجہ میں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ عوام کی حالت زار میں تبدیلی اور ان کے مسائل کا حل ہو، لہٰذا دیکھنا پڑے گا کہ ملک میں تبدیل شدہ حالات اور بعض اہم معاملات پر ہونے والی پیش رفت میں مسلم لیگ (ن) کس حد تک یکسوئی اور سنجیدگی اختیار کرتی ہے کیونکہ اب تک کی صورتحال میں مریم نواز اپنے جرأت مندانہ کردار کے باعث عوامی اور سیاسی محاذ پر تو پذیرائی حاصل کر رہی ہیں مگر خود جماعتی سطح پر ان کے اس کردار کو ہضم نہیں کیا جا رہا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

27 اکتوبر : یوم سیاہ

وادی کشمیر سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک ، 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئی 74 سال سے خونریزی جاری

قرارداد تاسیس یوم سیاہ کی بنیاد

سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے لئے خصوصی تحریر

مسئلہ کشمیر : کب کیا ہوا؟

26 اکتوبر 1947: مہاراجہ نے بھارت سے مدد چاہتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے ۔

فلموں کی قلت ،سینما شدید بحران کا شکار ،مالکان نے سینما کی بقاء کیلئے 20ورلڈ کپ کا سہارا تلاش کرلیا

گئے برسوں میں ملکی اور غیرملکی فلموں کی کامیابیوں نے ایک عرصے سے روٹھے ہوئے سینما گھروں کے شائقین کو واپس لانے میں جو کردار ادا کیا تھا، وہ گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی وباء کورونا اور سرکاری پابندیوں کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گھروں تک محدود ہو جانے والے شائقین نے اپنی تفریح کے ذرائع انٹرنیٹ میں تلاش کر لئے۔ جس کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح فلم انڈسٹری اور سینماانڈسٹری میں بھی شدید معاشی بحران نے جنم لیا۔ فلمیں بننا بند ہوگئیں، جدید سینما انڈسٹری کو فروغ و استحکام دینے کے لئے اربوں روپے کی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری منجمد ہو کر رہ گئی۔جس کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ افراد بیروزگاری کا شکار ہو گئے۔

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا،احمد راہی کے اردو نغمات بھی لاجواب

عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ احمد راہی نے اعلیٰ درجے کی پنجابی شاعری کے علاوہ بہت خوبصورت پنجابی نغمات لکھے۔ سب سے زیادہ ذکر ان کی جن پنجابی فلموں کا کیا جاتا ہے ان میں ’’یکے والی‘‘، ’’مرزا جٹ‘‘ اور ’’ہیر رانجھا‘‘ شامل ہیں۔ پنجابی نظموں کی ان کی کتاب ’’ترنجن‘‘ اب تک مقبول ہے۔

ٹی وی ڈرامے پاکستانی معاشرے کے عکاس نہیں ،متنازع موضوعات و مناظر پر عوامی تنقید ،پیمرا ان ایکشن

کیا موجودہ ٹی وی ڈرامے ہمارے معاشرے کے عکاس ہیں؟یہ وہ سوال ہے جو تقریباً آج ہر پاکستانی کی زبان پر ہے، ناصرف عوامی حلقوں میں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی ڈراموں کو لے کر آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ پاکستانی ڈرامے اس قدر مادر پدر آزاد ہو چکے ہیں کہ ہر کوئی کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے۔