نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سیالکوٹ واقعہ کی غیرمشروط مذمت کرتےہیں،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ریاست،آئین وقانون کوحرکت میں آناپڑےگا،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- ایسےواقعات روکنےکیلئےقومی سوچ کوسامنےلاناہوگا،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- بندوق کےذریعےکسی نظریےکی بات کرنےکی شروع سےمخالفت کی،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ہم آئین،قانون اورجمہوریت کی صف میں کھڑےہیں،فضل الرحمان
Coronavirus Updates

مسائل اور ان کا حل

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مفتی محمد زبیر


بیٹے کی وراثت میں ماں کا حصہ ؟سوال:کیا بیٹے کی پراپرٹی میں ماں کا حصہ ہوتا ہے جبکہ بیٹے کی اولاد میں بیٹے کے آگے4 بیٹے ہیں بیٹی کوئی نہیں نیز بیٹے کی وفات ہو چکی ہے۔(سعد شیخ، لاہور)جواب: جی ہاں !سگے بیٹے کی جائیداد میں ماں کا شرعی حصہ وراثت ہے جو بہر صورت ماں کو دیا جانا شرعاً ضروری ہے اور مذکورہ صورت میں ماں کو کل مال کا چھٹا حصہ ملے گا کیونکہ بیٹے کی اولاد موجود ہے ۔

علم الاعداد سے رشتے کا معلوم کرنا

سوال:بعض لوگ جوکہتے ہیں کہ وہ علم الاعداد کے ذریعے معلوم کرلیتے ہیں کہ کسی کیلئے کوئی رشتہ کیسارہے گایاکہیں سفر کرنا کیسا رہے گا؟۔ یعنی مستقبل بتاتے ہیں اورساتھ ساتھ یہ کام بھی کرتے ہیں کہ اگرکوئی کسی پریشانی میں ہو تو وہ کہتے ہیں ہم دم کریں گے۔ جس کے وہ پیسے لیتے ہیں۔کیاپڑھ کردم کرتے ہیں وہ پتہ نہیں لیکن ان کے مطابق وہ قرآن سے علاج کر رہے ہیں اس کے علاوہ کسی نے جادوکروایا ہے یا نہیں یہ بھی بتادیتے ہیں۔یہ سب کچھ اسلام میں جائز ہے؟

جواب:علم الاعدادمیں بحساب جمل کسی کے نام کے اعدادنکال کر کسی کے مقدر اورقسمت پراستدلال کیا جاتا ہے۔ ان اعدادکی تاثیر پر ایمان رکھا جاتا ہے۔ اوّل تو ان چیزوں کو مؤثر حقیقی سمجھنا شرعاً بالکل غلط اور ناجائز ہے اور انہیں قطعی اوریقینی سمجھنا غلط ہے اوراس علم پریقین رکھناگناہ ہے۔

زندگی میں جائیداد ومال تقسیم کرنے

 کی شرعی حیثیت اور طریقۂ کار

سوال :عرض ہے کہ میری والدہ کاپلاٹ ہے جس کی قیمت تقریباً 1 کروڑ روپے ہے، اسی طرح میرے والدکا بھی ایک پلاٹ ہے جس کی قیمت (پچاس ساٹھ لاکھ) روپے ہے۔ اس میں حصہ دار بھائی اوربہنیں ہیں۔ واضح رہے کہ والد کے والدین اور دادا ،دادی پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔ والدہ اور والد صاحب اپنی جائیداد اپنی زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ آپ شریعت کی روشنی میں تقسیم کا طریقہ بتائیں۔ کیا کسی کو کچھ کم کسی کو زیادہ دینا شرعاً کیسا ہے؟

جواب :آپ کے والد اور والدہ اپنی زندگی میں اپنے مال وجائیداد کے خود مالک ہیں۔ جائیدادتقسیم کرنے یانہ کرنے کابھی ان کو اختیارہے، لیکن تقسیم کرنا شرعاً ان پر لازم نہیں، اور نہ ہی اولادکوان سے کسی حصہ کے مطالبہ کاحق ہے۔

تاہم اگروالدین اپنی زندگی میں بحالت صحت اپنی جائیداد تقسیم کرناچاہتے ہیں تواس میں بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کیلئے کچھ مناسب حصہ الگ کرلیں۔ پھربقیہ جائیداد بیٹے اور بیٹیوں میں تقسیم کردیں۔ لڑکے اور لڑکی کو برابر حصہ دیں۔ بلاوجہ اپنی اولادمیں سے کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دیں ۔

البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کی زیادہ فرمانبرداری یا مالی اعتبارسے کمزور ہونے یا غیر شادی شدہ ہونے یا فیملی کے بڑا ہونے کی بناء پراگر اسے دوسروں کی نسبت کچھ زیادہ دیدیں توشرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ اس میں دوسروں کو نقصان پہنچانے کی نیت نہ ہو ،کیونکہ نقصان پہنچانے کی غرض سے کسی کوزیادہ اور کسی کو کم دینا گناہ ہے ،نیزجس کوجوکچھ دیں باقاعدہ تقسیم کرکے ہرایک کواس کے حصے پرعملی طورپرمالکانہ قبضہ کرا دیں، محض زبانی یاتحریری عہد کرنے سے یاسرکاری کاغذات میں محض نام درج کرانے سے شرعاًکوئی مالک نہیں بنتا۔

وفی الدرالمختار( 5؍696): لاباس بتفضیل الاولاد فی المحبۃ لانھا عمل القلب ،وکذا فی العطایا اذالم یقصد بہ الاضراروان قصد فسوی بینھم یعطی البنت کالابن عندالثانی وعلیہ الفتوی،ولو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم،وکذا فی الخانیۃ 3؍279،وتکملہ فتح الملھم )

رقم ملے تو کیا کرنا چاہئے 

سوال:بندہ کوکچھ دن پہلے ایک ہزار کا نوٹ ملا ہے اوربندہ نے اعلان بھی لگایا تھا لیکن کچھ پتہ نہیں چلا۔ براہ کرم اس کے بارے میں حکم شرعی سے آگاہ فرمائیں۔ (شفیع الرحمن ،کراچی)

جواب: کسی مستحق اور غریب کو یہ رقم صدقہ کر دیں اور یہ صدقہ اصل مالک کی جانب سے ہی ہو گا۔ بعد میں مالک مل گیا تو انہیں اس صدقہ کا بتا دیں اگر وہ بھی اس صدقہ پرراضی ہو گیا تو ٹھیک ورنہ یہ رقم آپ کو انہیں ادا کرنی پڑے گی۔ ایسی صورت میں یہ صدقہ آپ کی طرف سے ہوجائے گا اورصدقہ کاثواب آپ کومل جائے گا۔ اگر آپ خود مستحق ہیں تو یہ پیسے آپ خودبھی استعمال کرسکتے ہیں۔ 

(کذافی الدرالمختار 3؍320)

تعدادیادنہ ہونے کی صورت میں

 سجدۂ تلاوت کی ادائیگی کاحکم

سوال:سجدۂ تلاوت اگرکسی شخص کے ساری زندگی کے رہتے ہوں توان کوکیسے ادا کریں؟ جبکہ اس کوتعدادبھی یادنہیں شایدہزاروں میں ہو؟ (نعمت اللہ ،لسبیلہ)

جواب:سجدوں کی جتنی زیادہ سے زیادہ تعداد کاگمان غالب ہواتنے سجدے اداکریں اور کمی بیشی پرتوبہ واستغفاربھی کرلیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)