نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں موسمیاتی تبدیلی کمیٹی کااجلاس
  • بریکنگ :- پنجاب،خیبرپختونخوا،جی بی کےوزرائےاعلیٰ اوروفاقی وزراکی شرکت
  • بریکنگ :- معاون خصوصی امین اسلم،ورلڈبینک حکام اوریواین ہیڈزکی شرکت
  • بریکنگ :- اجلاس میں سمندری اورفضائی آلودگی کےخاتمےکیلئےاہم فیصلے
  • بریکنگ :- معاون خصوصی امین اسلم کی شرکاکوگلاسکوکاپ 26کانفرنس پربریفنگ
  • بریکنگ :- ماحولیاتی تبدیلی سےمتعلق مربوط حکمت عملی پرمبنی پلان بھی پیش
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی ملکی دریاؤں کوبچانے کیلئےحکمت عملی بنانےکی ہدایت
  • بریکنگ :- معاون خصوصی امین اسلم کو 4ماہ میں مکمل پلان پیش کرنےکی ہدایت
  • بریکنگ :- وزارت موسمیاتی تبدیلی اوریواین ایجنسیاں مشترکہ پلان تیارکریں گی
  • بریکنگ :- پاکستان کی بقاکیلئےدریابڑاسورس ہیں،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- دریاؤں کوآلودگی سےبچاناوقت کی اہم ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اہم مسائل پرسابق حکومتوں نےتوجہ نہیں دی،وزیراعظم
Coronavirus Updates

بگل بج گیا،سٹیج سج گیا، 20 ورلڈ کپ کا آغاز،27 روزہ ٹورنامنٹ میں 45 میچ کھلیے جائیں گے،فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالرز ملیں گے

خصوصی ایڈیشن

تحریر : زاہد اعوان


’’آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ2021ء ‘‘16ٹیموں پر مشتمل ہے، جو ٹاپ ٹین ٹیموں اور ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر کے ذریعے منتخب ہونے والی چھ دیگر ٹیموں پر مشتمل ہے۔یہ ایونٹ عام طور پر ہر دو سال بعدہوتا ہے، ٹورنامنٹ کا 2020ء کا ایڈیشن بھارت میں شیڈول تھا، لیکن کورونا کی وجہ سے ٹورنامنٹ کو 2021 ء تک ملتوی کرکے متحدہ عرب امارات اوراومان منتقل کر دیا گیا۔

ٹی 20 عالمی کپ کے اب تک چھ مقابلے ہو چکے ہیں۔ پہلا ٹی 20 عالمی کپ 2007 ء میں جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا تھا۔ یہ کپ بھارت نے پاکستان کو شکست دے کرجیتاتھا۔ 2009 ء کا ٹورنامنٹ انگلینڈ میں ہوا اور پاکستان نے جیتا۔ تیسرا ٹورنامنٹ 2010 ء میں منعقد ہوا جس کی میزبانی ویسٹ انڈیز نے کی، فائنل میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو شکست دی۔ 2012 ء کاچوتھا ٹورنامنٹ پہلی بار ایشیاء میں منعقد ہوا ، جس کے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گئے۔ ویسٹ انڈیز نے سری لنکا کو فائنل میں شکست دے کر ٹورنامنٹ جیتا۔پانچواں ٹورنامنٹ 2014 ء میں بنگلہ دیش میں ہوااور سری لنکا نے بھارت کو شکست دے کرٹائٹل اپنے نام کیا۔ ویسٹ انڈیز نے 2016 ء کے ٹورنامنٹ کے فائنل میں انگلینڈ کو شکست دے کر دوسری بار ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

گرین شرٹس کے کپتان بابر اعظم نے ورلڈکپ کیلئے امارات روانہ ہوتے ہوئے قوم کیلئے جاری پیغام میں کہا کہ پاکستان ٹیم پر یقین رکھیں، شائقین کی سپورٹ سب سے بڑھ کر ہے، ٹیم کے ساتھ کھڑے ہوں اور اس کے لیے دُعا کریں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا آغاز آج سے ہو رہا ہے، پاکستانی ٹیم کے قائدبابر اعظم کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں بھارت کے خلاف کامیابی حاصل کرکے میگا ایونٹ میں مومینٹم کو برقرار رکھیں گے اور ورلڈ کپ بھی جیتیں گے ۔ میگا ایونٹ کے ہر میچ کا دبائو ہوتا ہے لیکن بھارت کے خلاف میچ کا دبائوالگ ہی ہے ۔ پاکستان کا پہلا میچ ہی بھارت کے خلاف ہے کوشش یہی ہے کہ بھارت کے خلاف میچ جیتیں۔ ماضی میں کیا ہوا اس پر نہیں آئندہ میچز پر فوکس ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ ہم بھارت کے خلاف پہلا میچ اور ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں۔ ہم نے ورلڈکپ کیلئے سنجیدگی سے تیاری کی ہے۔ ہم مکمل تیار ہو کر میدان میں اتریں گے ۔مجھے خوشی اور فخر ہے کہ ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی قیادت کر رہا ہوں۔ رضوان اور میرا نام بار بار آ رہا ہے کہ ہم نے ہی اچھا کرنا ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ ذمہ داری سے کھیلیں اور توقعات پر پورا اتریں۔

بابر اعظم نے ٹیم کے لئے سینئر کھلاڑیوں کو اہم قرار دیا، انہوں نے کہا کہ سینئر کھلاڑیوں کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے ، شعیب ملک بہت تجربہ کار ہیں مختلف لیگز کھیلتے رہے ہیں۔ سینئر کھلاڑیوں کا ساتھ نئے نوجوان کھلاڑیوں کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتاہے ۔بابر نے کہاکہ بائولرز آوٹ سٹینڈنگ ہیں، اٹیکنگ بائولنگ کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ یہ جیت میں اہم کردار ادا کریں گے ۔ متحدہ عرب امارات کی کنڈیشنز پر منحصر ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو دو سپنرز کو بھی کھلا سکتے ہیں۔

ٹی 20 ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ میں سب کی نظریں پاکستان کرکٹ ٹیم کی اوپننگ جوڑی پر ہیں۔پاکستان کی اوپننگ بیٹسمین جوڑی بابر اعظم اور محمد رضوان اس برس ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی کامیاب ترین جوڑیوں میں شامل ہے۔ دونوں کو ورلڈ کپ کے مقابلوں میں بھارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جارہا ہے۔ بابر اور رضوان نے رواں برس ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایک ساتھ 736 رنز بنائے ہیں ، 57 کی شاندار اوسط سے دونوںنے یہ رنز محض 13 ٹی ٹوئنٹی میچز میں بنائے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انہوں نے اوپننگ جوڑی کے طور پر 521 رنز جوڑے ہیں ۔

 ٹی 20ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظرڈالیں تو ایسی کئی یاد گار پرفارمنسز دیکھنے کو ملی ہیں جو شائقین کو آج بھی یاد ہیں۔آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2007ء میں شروع ہوا، اس بار ورلڈ کپ کا ساتواں ایڈیشن کھیلا جارہا ہے۔ ہر ایڈیشن میں کھلاڑیوں نے کچھ ایسی یادگار پرفارمنسز دیں جو فینز کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔

بھارتی کھلاڑی یووراج سنگھ کی پہلے ٹی 20 ورلڈ کپ کی اننگز کو کون بھول سکتا ہے، انگلینڈ کیخلاف ڈربن میں یووراج سنگھ نے اسٹوورٹ براڈ کو چھ گیندوں پر چھ چھکے رسید کئے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تیز ترین نصف سنچری صرف بارہ گیندوں پر بنائی تھی جو آج تک ایک عالمی ریکارڈ ہے۔

2009 ء کا ورلڈ کپ تو کوئی پاکستانی فراموش نہیں کرسکتا کیونکہ پاکستان نے سری لنکا کو ہراکر تاریخی فتح حاصل کی تھی، اس میچ میں شاہد آفرید ی نے شانداربیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے40 گیندوں پر 54 رنز کی شاندار میچ وننگ اننگز کھیلی تھی۔عمر گل کی نیوزی لینڈ کیخلاف تباہ کن بالنگ بھی یادگار انفرادی پرفارمنسز میں سے ایک ہے ۔پاکستانی فاسٹ بائولر نے3 اوورز میں6 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا تھا اور ٹی 20 انٹرنیشنل میں ایک اننگز میں 5 وکٹیں لینے والے پہلے بائولر بن گئے تھے۔

2010 ء میں پاکستان اور آسٹریلیا کا سیمی فائنل کون بھول سکتا ہے، جس میں اکمل برادران کی نصف سنچریوں کی بدولت پاکستان نے آسٹریلیا کو جیت کیلئے 192 ء کا ہدف دیا تھا۔ آسٹریلوی کھلاڑی مائیکل ہسی کی ذمے دارانہ بیٹنگ کی وجہ سے آسٹریلیا نے فائنل میں کوالیفائی کیا تھا۔ جس میں سعید اجمل کے آخری اوور میں مائیکل ہسی نے چار گیندوں پر بازی پلٹ دی تھی اور ان کی اننگز تاریخ کا حصہ بن گئی۔

2014 ء کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کیخلاف ویرات کوہلی کی بیٹنگ بھی ٹی 20 ورلڈ کپ مقابلوں کی یادگار پرفارمنسز میں سے ایک ہے۔ بھارت کو آخری دس اوورز میں 93رنز درکار تھے ، ایسے میں کوہلی نے شاندار اننگز کھیلی اور 44 گیندوں پر72رنز بناکر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا۔ 2016ء کے ورلڈ  کپ میں کارلوس براتھ ویٹ نے انگلینڈ کیخلاف فائنل میں جو کیا وہ بھی ناقابل فراموش ہے۔ ویسٹ انڈیز کو آخری اوور میں 19رنز درکار تھے اور بین اسٹوکس بولنگ پر تھے، کارلوس براتھ ویٹ نے 4 گیندوں پر 4 چھکے لگا کر اپنی ٹیم کو ٹی 20 کا چیمپئن بنادیا تھا۔

کرکٹ کی اس عالمی جنگ میں پاکستان ٹیم کے شیڈول کاجائزہ لیاجائے توپاکستان اور انڈیا اتوار 24 اکتوبر کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے مدِمقابل ہوں گے۔ون ڈے ورلڈکپ کی طرح پاکستان نے انڈیا کو اب تک ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی شکست نہیں دی۔ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان ورلڈ کپ مقابلوں میں چار میچ کھیلے جا چکے ہیں اور تمام ہی انڈیا کے نام ہوئے ہیں۔پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں 26 اکتوبر کو شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے مدِ مقابل ہوں گی۔ٹی 20 ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں پانچ مرتبہ آمنے سامنے آئی ہیں جن میں سے تین میں پاکستان جبکہ دو میں نیوزی لینڈ کو فتح حاصل ہوئی۔ پاکستان اور افغانستان 29 اکتوبر کو پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے مدِ مقابل ہوں گے۔دونوں ٹیمیں اب تک ٹی 20 ورلڈ کپ مقابلوں میں آمنے سامنے نہیں آئی ہیں جبکہ اس کے علاوہ دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک صرف ایک ٹی 20 میچ کھیلا گیا ہے جس میں پاکستان کو فتح حاصل ہوئی ہے۔پاکستان بمقابلہ (کوالیفائنگ گروپ اے میں دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم) 2نومبر، اس میچ میں پاکستان کا مقابلہ کس ٹیم سے ہو گا اس کا فیصلہ ٹورنامنٹ کے کوالیفائنگ رائونڈ کے اختتام پر ہو گا۔یہ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے ابوظہبی کے شیخ زید سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔پاکستان بمقابلہ(کوالیفائنگ گروپ بی میں سرِفہرست آنے والی ٹیم)7نومبر،یہ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔اس میچ میں پاکستان کا مقابلہ کس ٹیم سے ہو گا اس کا فیصلہ ٹورنامنٹ کے کوالیفائنگ رائونڈ کے اختتام پر ہو گا۔

 ورلڈ کپ 2021ء کی فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالر یعنی ستائیس کروڑ روپے ملیں گے۔ رنرز اپ 8 لاکھ جبکہ سیمی فائنل میں شکست کھانے والی ٹیمیں چار چار لاکھ ڈالر کی حقدار ٹھہریں گی۔سیمی فائنل ہارنے والی ٹیموں کو چار چار لاکھ ڈالرز دئیے جائیں گے جبکہ سپر 12 میں ناک آٹ ہونے والی ٹیمیں 70، 70 ہزار ڈالرز کی حقدار ٹھہریں گی۔

(زاہد اعوان سینئر صحافی ہیں اور طویل عرصہ سے دنیا میڈیا گروپ کے ساتھ منسلک ہیں)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)