نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترجمان دفترخارجہ کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کااجلاس 19دسمبرکواسلام آبادمیں ہوگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اسلامی ممالک کےوزرائےخارجہ کوشرکت کی دعوت دی گئی، ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- یورپی یونین،اقوام متحدہ اوراس کی امدادی ایجنسیوں کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں افغانستان کااعلیٰ سطح وفدشرکت کرےگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی سیکرٹریٹ کےآفیشلزاجلاس کی تیاریوں کاجائزہ لیں گے،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کاغیرمعمولی اجلاس 1980میں ہواتھا،ترجمان
  • بریکنگ :- 41سال بعدپاکستان افغانستان پراوآئی سی وزرائےخارجہ اجلاس کی میزبانی کررہاہے
  • بریکنگ :- افغانستان کوامدادنہ پہنچائی گئی تومعاشی بحران جنم لےسکتاہے، ترجمان
Coronavirus Updates

اتباع مصطفیٰ ﷺ کی برکات ،آپ ﷺ کا پیروکار اللہ تعالیٰ کا مجبوب ہے

خصوصی ایڈیشن

تحریر : پروفیسر نصیر احمد


’’اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ (آل عمران: آیت31)محبت ایک مخفی چیز ہے کسی کو کسی سے محبت ہے یا نہیں اور کم ہے یا زیادہ، اس کا کوئی پیمانہ بجز اس کے نہیں کہ حالات اور معاملات سے اندازہ کیا جائے۔ محبت کے کچھ آثار اور علامات ہوتی ہیں ان سے پہچانا جائے، یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعویدار اور محبوبیت کے متمنی تھے وہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان آیات میں اپنی محبت کا معیار بتایا ہے۔ یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ ہو تو اس کے لئے لازم ہے کہ اس کو اتباعِ محمدیﷺکی کسوٹی پر آزما کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہوجائے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ جس نے میری اتباع کی تو بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی تو بے شک اس نے اللہ کی نافرمانی کی‘‘۔ (بخاری: 2957)

اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامت رسول پاکﷺ کی اتباع اور آپﷺ کی پیروی کرنا ہے۔ جو آپﷺ کا پیروکار ہے وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے اور جو آپﷺ کی پیروی سے محروم ہے وہ اللہ کی محبت سے محروم ہے۔ محبت الٰہی کے دعویٰ کی جانچ کے لیے کیا اچھا معیار بتادیا گیا یعنی اتباع رسولﷺ جو شخص جتنا زیادہ متبع رسولﷺ ہوگا اسی قدر اس کی محبت الٰہی مسلم و معتبر ہوگی۔

 مخلوق کے کمال کی معراج یہ ہے کہ وہ اللہ سے محبت کرے اور اللہ کی ان پر عنایت یہ ہے کہ وہ ان سے محبت کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کے حصول کے لئے تمام مخلوق پر یہ واجب کردیا ہے کہ وہ حضرت محمدﷺکی اتباع اور آپﷺ کی اطاعت کریں۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اگر موسیٰ تمہارے سامنے زندہ ہوتے تو میری اتباع کرنے کے سوا ان کے لئے کوئی امر جائز نہ ہوتا‘‘( صحیح بخاری: 3449)   جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی حضرت محمدﷺ  کی اتباع واجب ہے تو جو لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب اور ان کے اُمتی ہیں ان پر تو حضرت محمدﷺ کی اتباع واجب ہوگی۔ اسی طرح جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا تو وہ بھی آپﷺ کی شریعت کی اتباع کریں گے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوگا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین،اس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائوں‘‘(صحیح بخاری: 15)۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’تین خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس پالے گا۔ یہ کہ اسے اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں، اور وہ جس شخص سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لئے محبت کرے اور اس کے نزدیک کفر میں لوٹنا آگ میں ڈالے جانے کی طرح مکروہ ہو۔(صحیح بخاری: 16)۔

حضور ﷺ کا خلق عظیم

نبی مکرم، نور مجسم ﷺ کا حسن معاشرت اور خوش خلقی بے مثال تھی۔حضرت انسؓ حضور ﷺکے خادم خاص تھے، ان کا بیان ہے کہ آٹھ برس کا تھا جب خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور دس برس تک شرف یاب ملازمت رہا۔ اس  مدت میں نبی کریم ﷺ نے کبھی مجھے اُف تک نہ کہا۔آپ ؓکے بقول رسول اللہ ﷺکی زبان اقدس سے کبھی کوئی فحش بات نہیں نکلی تھی اور نہ ہی آپﷺ کسی پر لعنت کرتے تھے۔

 آپ ﷺ اپنے اہل بیت پر نہایت مہربان اور بے انتہا شفیق تھے۔ آپ ﷺکو بچوں سے بھی بہت محبت تھی۔ آپ ﷺکے اپنے نواسے نواسیوں کا نماز کے اندر ہی آپ ﷺکے کندھوں پر سوار ہونا، گود میں آجانا، نماز میں آپ ﷺکا ان کو اٹھا لینا وغیرہ کا ذکر آیا ہے۔

آپ ﷺمجسمہ بھلائی اور خیر تھے اور ہر بھلائی اور خیر آپ ﷺمیں بدرجہ اتم موجود تھی۔آپ ﷺکی طبیعت کا اصل میلان اور آپ ﷺ کے خلق کریم کا صحیح نمونہ ضبط نفس، بردباری اور حلم کے موقعوں پر نظر آتا ہے۔  جنگ احد میں حضورﷺ  زخمی ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے ان حالات میں عرض کیا کہ کاش آپﷺ مشرکین   کی ہلاکت کی دعا فرمائیں۔ لیکن نور مجسم ﷺ نے ان کو جواب دیا کہ میں لعنت اور بددعا کے لئے نہیں آیا، رب ذوالجلال نے مجھے رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا ہے۔

ایک بار طفیل بن عمروؓ نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یارسول اللہ ﷺ قبیلہ دوس نافرمانی اور سرکشی کرتا ہے اور اسلام لانے سے انکاری ہے، آپﷺ ان کے حق میں بددعاکیجئے۔ رحمت کائناتﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور ان کے راہ راست پر آنے کی دعا کی۔

نبی مکرم ﷺ نہایت ہی رحیم المزاج واقع ہوئے تھے،بڑے سے بڑے دشمنوں کو بھی معاف فرما دیتے تھے۔ قریش مکّہ سے زیادہ دشمن آپﷺ کے اور کون تھے؟ لیکن جان رحمتﷺ نے سب کو معاف کر دیا۔ 

آپﷺ کی طبعی فیاضی کا اندازہ صرف اس بات سے ہو سکتا ہے کہ باروایت جابر بن عبداللہؓ کبھی زبان فیض ترجمان سے کسی سائل کے لئے بھی ’’نہیں‘‘نہیں نکلا۔ بلا شبہ نبی اعظم وآخر ﷺکی زندگی کا اصل اصول ہی ایثار تھا۔

آپ ﷺ امت پر عبادات کا بار بھی بہت کم ڈالنا چاہتے تھے چنانچہ آپﷺ خود اسی خیال سے نوافل پر مداومت نہیں فرماتے تھے کہ کہیں لوگ ان عبادتوں کو اپنے اوپر لازم نہ کرلیں اور یوں تکلیف میں نہ پڑجائیں۔

(پروفیسر نصیر احمد اسلامی سکالر اور صدر شعبہ اسلامیات گورنمنٹ ایم اے او کالج ہیں)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

شمس العلما مولانامحمدشبلی نعمانی علی گڑھ کالج کا مایہ افتخارہیں۔ وہ فروری 1883ء سے اواخر 1898ء تک اس تاریخی درس گاہ سے وابستہ رہے۔ وہ یہاں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کیلئے قائم کی گئی مجلس ’’لجنۃ الادب‘‘ کے نگران تھے۔ کم و بیش 16 سال کی اس مدت میں انھوںنے بہت سی جماعتوں کو درس دیا اور کئی نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ علی گڑھ میں ان کے دامن تربیت اور خوانِ علم و فضل سے وابستہ رہنے والوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حمیدالدین فراہی، مولوی عزیز مرزا، خواجہ غلام الثقلین، مولوی عبدالحق، سید محفوظ علی بدایونی، ڈاکٹر سرضیاء الدین اور چودھری خوشی محمد ناظر جیسے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلۃ الذہب میں مولانا ظفر علی خان کا نام بھی شامل ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ مولانا شبلی کے تلامذہ میں قومی سطح پر خدمات انجام دینے والوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ظفر علی خان 1892ء میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد 1893ء میں علی گڑھ میں داخل ہوئے اور انھوںنے 1895ء میں فسٹ ڈویژن میںبی اے کا امتحان پاس کیا۔

فیوڈل فینٹسی

ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

گرد ملال

ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔