نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کابینہ اجلاس میں اشیاکی قیمتوں کاتقابلی جائزہ پیش کیاگیا،فواد چودھری
  • بریکنگ :- دوسرےہفتےسےاشیاکی قیمتوں میں مسلسل کمی آرہی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اسلام آباد:ہرچیزپرسبسڈی نہیں دی جاسکتی ،وفاقی وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- راشن پروگرام کےتحت آٹےپر30فیصدسبسڈی جنوری سےشروع ہوگی،فواد چودھری
  • بریکنگ :- 31ہزارسےکم آمدن والےطبقےکوآٹےپرسبسڈی دیں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- 2کروڑلوگوں کو2018کی نسبت کم ریٹ پرآٹاملےگا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ہماری نشاندہی کےبعدآٹےکی قیمت مستحکم ہوئی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی،حیدرآبادکےعلاوہ پورےملک میں 20کلوآٹا 1100روپےکاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی میں 20 کلوآٹےکاتھیلا1456روپےکاہے ،فوادچودھری
  • بریکنگ :- حیدرآبادمیں 20 کلوآٹا1316روپےکاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کوئٹہ میں 20کلوآٹےکاتھیلا 1400روپےکامل رہاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی اوراسلام آباد کےسواپورےملک میں چینی 90 روپےکی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی اوراسلام آبادمیں چینی 97روپےمیں مل رہی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- آنےوالے دنوں میں چینی کی قیمت 85روپےتک آجائےگی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- راناشمیم کامعاملہ عدالت میں ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- راناشمیم کوملک سےباہرجانےکیلئےعدالت سےاجازت چاہیے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- راناشمیم کیس میں قانونی کارروائی کی ضرورت پڑی توکریں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- گورنرپنجاب کابیان سیاق وسباق سےہٹ کرپیش کیا گیا،فواد چودھری
  • بریکنگ :- چودھری سروربات کررہےتھےکہ آئی ایم ایف کیوں جانا پڑتاہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- چودھری سرورنے کہا آئی ایم ایف جانےپرپابندیاں لگ جاتی ہیں،فواد چودھری
  • بریکنگ :- عدالت کی اجازت سےراناشمیم بیرون ملک جاسکتےہیں،فوادچودھری
Coronavirus Updates

وہ دانائے سبل ،ختم الرسل، مولائے کل ﷺجس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

خصوصی ایڈیشن

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


سرور کونین ﷺکی آمد سے عرب سے جہالت کے اندھیرے چھٹےآپ ﷺ کی تعلیمات کی بدولت خون کے دشمن بھائی بھائی بن گئے،اللہ نے آپ ﷺ کو تما م جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجاآپ ﷺ بڑے سے بڑے دشمن کو بھی معاف فرما دیا کرتے تھے

چاند چمک رہا ہے، ستارے کھِل رہے ہیں، نور کی پھوار پڑرہی ہے، ایک ندا دینے والا ندا دے رہا ہے، ’’لوگو!صدیوں سے جس کا انتظار تھا دیکھو آج وہ طلوع ہو گیا‘‘ وادی مکہ کے سناٹے میں یہ آواز گونجی۔ سب حیران ہیں کہ ماجرا کیا ہے، کس کا انتظار ہے، کون آ رہا ہے، سونے والو جاگ جائو آنے والا آگیا، نور کی چادر پھیل گئی۔ شام کے محلات نظر آنے لگے، سارے عالم میں اجالا ہو گیا۔ ہاں یہ کون آگیا، سویرے سویرے آپﷺ کیا آئے رحمت کی برکھا آگئی، نور کے بادل چھا گئے، دور دور تک بارش نور ہو رہی ہے، حد نظر تک نور کی چادر تنی ہے، عجب سماں ہے، عجب منظر ہے، ایسا منظر تو کبھی نہ دیکھا تھا، تاریکیاںچھٹ گئیں، روشنیاں بکھر گئیں، جدھر دیکھو نور ہی نور ہے، بہار ہی بہار، تازگی انگڑائیاں لے رہی ہے، مسرتیں پھوٹ رہی ہیں، رنگینیاں اپنا رنگ دکھا رہی ہیں۔ سار ا عالم نہایا ہوا ہے، ذرے ذرے پر مستی ہے، یہ اُجلا اُجلا سماں، یہ مہکی مہکی سی فضائیں۔ یہ مست مست ہوائیں جھوم جھوم کر جشن ولادت کے گیت گا رہی ہیں۔ 

برسوں کی ہتھکڑیاں کٹ گئیں، صدیوں کی بیڑیاں ٹوٹ گئیں، گھٹی گھٹی سی فضائیں بدل گئیں، مندی مندی سی آنکھیں روشن ہو گئیں، ڈوبتے ہوئے ابھرنے لگے، سہمے ہوئے چہکنے لگے۔ صدیوں کے دبے ہوئے، پسے ہوئے سرفراز ہونے لگے، خون کے پیاسے محبت کرنے لگے۔ زندگی نے ایسا سنگھار کیا کہ سب جھانکنے لگے، سب دیکھنے لگے، سب تکنے لگے، سب بلائیں لینے لگے، سب فدا ہونے لگے، سب آپﷺ کی آرزوئیں کرنے لگے۔ وہ کیا آئے کائنات کا ذرہ ذرہ دلکش و دل ربا معلوم ہونے لگا۔ 

آج آپﷺ کی آمد کا دن ہے، آج عید کا دن ہے، آج خوشی کا دن ہے۔ آپﷺ کی ولادت باسعادت سے ایسا انقلاب آیا جو دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ایسی بہار آئی کہ کبھی خزاں نہ آئے گی، عاشقوں اور مومنوں پر خدا نے کرم کردیا اور بے شک آپﷺ کی جلوہ گری اللہ کا سب سے بڑا فضل اور سب سے بڑی نعمت حضور سرور کائنات ﷺ کی ولادت مبارکہ اور بعثت طیبہ ہے۔ 

آپ ﷺ کی تشریف آوری پر مسرت و شادمانی کا اظہار،آپﷺکے حالات وکمالات،  فضائل و معجزات کو بیان کرنے کا نام عید میلادالنبیﷺ ہے جو مسلمانوں کی          حقیقی عید ہے ۔اسی لئے ہم ہر سال میلاد النبی ﷺ جوش وخروش اور بھرپور ولولہ ایمانی کے اظہار کے ساتھ مناتے ہیں۔

آپﷺ کی یاد سے دل معمور ہو تو یہ دل کی حیات ہے۔ آپ ﷺ کی اشتیاق دید میں آنکھیں نمناک ہوں تو یہ بصارت کی جلاء ہے۔ آپ ﷺ کے ذکر و فکر میں حواس وخرد مخمور ہوں تو یہ شعور وادراک اور دانش و بینش کی تنویر اور چمکتی روشنی ہے۔ یہیں سے دراصل صراط مستقیم نمودار ہوتی ہے۔ جس سے انسان کا سفر ہستی کامیابی سے طے ہوتا ہے۔ 

اس جگہ یہ حقیقت بھی کسی شک وشبہ سے آلودہ نہیں کہ اگر ایمان مدار نجات ہے تو اعمال صالحہ موجب درجات ہیں۔ انسان کے لئے محض نجات پا لینا وصف کمال نہیں ہے بلکہ نجات کے ساتھ درجات عالیہ پر فائز ہونا عظمت انسان کے لئے نا گریز ہے۔ بس یہی پہلو مسلم اُمہ کا کمزور وناتواں بھی ہے اور ناقص و ناتمام بھی۔ یہی حرج اور قباحت ہے جو ہمارے ایمان کو ثمر بار نہیں ہونے دیتی۔ اس کجی اور کمی کے سبب دنیا میں ہم اپنا کردار ادا کرنے سے محروم ہیں۔ ہمارے ہاتھ ہیں مگر دست نگر ہماری عقل ہے، مائوف اور ہپناٹائزڈ دل ہے۔ 

یوم میلاد اصل میں تجدید میثاق کا مبارک دن ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی ’’ماثبت بالسنہ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ شب میلاد مبارکہ لیلتہ القدر سے بلاشبہ افضل ہے۔ اس لئے کہ میلاد کی رات حضور اکرمﷺ کی جلوہ گری ہوئی اور شب قدر حضورﷺ کو عطا کی گئی۔ جس رات کو ذات مقدسہ سے شرف ملا، اُس رات سے ضرور افضل قرار پائے گی جو حضور کو دیئے جانے کی وجہ سے شرف والی ہے۔

میرے حضورﷺ رحمتہ اللعالمین ہیں، جن کی وجہ سے اللہ کی تمام خلائق اہل السموات و الارضین پر عام ہو گئیں۔ نبی پاکﷺ کی پیدائش کے وقت ابولہب کی لونڈی ثویبہ نے آکر ابولہب کو خبر دی کہ تیرے بھائی عبداللہ کے گھر فرزند پیدا ہوا ہے۔ ابولہب نے سن کر خوشی میں انگلی کے اشارے سے کہا ثویبہ آج سے تو آزاد ہے۔ سب مسلمان جانتے ہیں کہ ابو لہب اسلام کا دشمن اور مشہور کافر ہے، قرآن مجید کی پوری سورۃ اس کی مذمت میں موجود ہے مگر حضور پاکﷺ کی ولادت کی خوشی کا فائدہ اسے مرنے کے بعد ہوا۔ اس کے مرنے کے بعد حضرت عباسؓ نے خواب میں اسے بہت بری حالت میں دیکھا اور اس سے پوچھا مرنے کے بعد تیرا کیا حال ہوا۔ ابولہب نے کہا کہ تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہ پائی سوائے اس کے کہ (حضورﷺ کی ولادت کی خوشی میں) ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔ ہر پیر کے دن میرے عذاب میں تخفیف کی جاتی ہے۔ غور فرمائیے قارئین ابو لہب کافر تھا ، اس نے آقا ﷺ کو بھتیجا سمجھ کر ولادت کی خوشی منا کر لونڈی کو آزاد کیا۔ ہم تو سرکارﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ ان کے غلام و امتی ہیں اگر ہم سرکار کائناتﷺ کی ولادت کا جشن مناتے اور اظہار مسرت کرتے ہیں تو ہم پر خدا کتنا راضی ہو گا۔ 

حضور پاکﷺ کی ولادت باسعادت سے قبل پوری دنیا کی بالعموم اور دنیائے عرب کی بالخصوص حالت بہت خراب تھی، لوگ خدا کی عبادت چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ خانہ خدا، بت خانہ بنا ہوا تھا۔ قتل و غارت گری عام تھی، شراب نوشی، جوا، بدکاری کو برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا۔ ان تشویشناک حالات میں اللہ کی رحمت جوش میں آئی اوراللہ نے اپنے لاڈلے محبوبﷺ کو تما م جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔حضورﷺ سارے جہانوں کیلئے رحمت ہیں اور تمام مخلوق آپﷺ کی رحمت سے بہرہ ور ہے۔ اس کی کچھ مثالیں آپ کی نذر کرتا ہوں۔

 آپﷺ کی تشریف آوری سے قبل لوگ ذرا ذرا سی  بات پر تلوار نکال لیا کرتے تھے۔ ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کا، ایک خاندان دوسرے خاندان کے خون کا پیاسا تھا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کے بعد دنیا نے اس منظر کو بھی دیکھا کہ ایک دوسرے کے خون کے یہ پیاسے اور بات بات پر ایک دوسرے کے خلاف تلوارنکالنے والے رحمتہ اللعالمین ﷺ کی اعلیٰ تعلیمات سے متاثر ہو کر آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ اسلام نے ان کے دلوں کی تفریق کو یکسر مٹا دیا اور ان میں باہمی اتحاد پیدا کردیا۔

حضورﷺ اپنی امت پر انتہائی شفیق اور مہربان ہیں۔ امت کی ہر تکلیف آپﷺ کے دل اقدس پہ گراں گزرتی ہے۔ حضورﷺ کو اپنی امت کی تکالیف کا ہر وقت خیال رہتا۔

شب معراج  جب حضورﷺ دیدار الٰہی سے مشرف ہوکر وا پس ہوئے تو چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ حضرت موسیٰ  ؑ نے پوچھا کہ اے اللہ کے محبوب ﷺ بارگاہ الٰہی سے کیا ملا، آپﷺ نے فرمایا ہر روز پچاس نمازوں کا حکم ملا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام عرض کرنے لگے یا رسول اللہﷺ! آپؐ کی امت پچاس نمازیں ادا نہیں کر سکے گی، اپنی اُمت پر بوجھ ہلکا کرائیں۔ چنانچہ آپﷺ بار بار بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوتے رہے اور نمازیں کم کراتے رہے یہاں تک کے پانچ نمازیں رہ گئیں۔ اُمت مسلمہ پر سرکار ﷺ کی شفقت کا اندازہ لگایئے کہ ُامت کی آسانی کے لئے نمازیں پچاس سے پانچ  کروائیں۔

 انسانی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سورج کی طرح روشن ہو جائے گی کہ دور قدیم میں جب کسی امت نے اپنے نبی کی نافرمانی کی، اللہ کے احکامات کو جھٹلایا وہ قوم اللہ کے قہر و غضب کا شکار ہوئی۔ کسی نا فرمان اُمت پر آسمان سے پتھر برسائے گئے تو کسی پر طوفان غضب الٰہی بن کر آگیا۔کسی قوم پر ایسی آندھی آئی کہ ان کے بڑے بڑے مکانات تباہ و برباد ہوگئے اور وہ قوم ملبہ کے ڈھیر میں دب کر ہلاک ہوگئی۔ لیکن حضور ﷺ چونکہ ساری کائنات کیلئے رحمت بن کر دنیا میں تشریف لائے ہیں لہٰذا آپﷺ کے وجود اور موجود ہونے کی برکت سے کفار دنیاوی عذاب سے بچے ہوئے ہیں۔ 

اعلان نبوت کے دسویں سال حضور ﷺ تبلیغ کی غرض سے طائف تشریف لے گئے۔ لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ ان ظالموں نے اسلام قبول کرنے کے بجائے سخت مخالفت کی۔ آپﷺ کی شان میں نا زیبا الفاظ کہے۔ آوارہ اور اوباش قسم کے لوگوں نے آپﷺ پر پتھر برسائے۔ جس سے آپﷺ کے جسم اطہر سے خون بہنے لگا مگر آپﷺ نے پھر بھی ان کو بددعا تک نہ دی۔

طلوع اسلام سے پہلے انسان انسان کا غلام بنا ہوا تھا۔سرکارِ دو عالم ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کے بعد انسانوں کو غلامی کی زندگی سے چھٹکارا ملا۔ 

آپﷺ کی آمد سے قبل بچوں کو قتل کر دیا جاتا تھا، آپﷺ کی تشریف آوری سے عرب میں اس منحوس روایت کا خاتمہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ’’اور تم اپنے بچوں کو مفلسی کے ڈر سے مت ہلاک کرو، ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں‘‘ (سورہ انعام ،ع19)

اسلام سے قبل عورتوں کی حیثیت انتہائی حقیر تھی، سرکاردوعالمﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کے بعد زمانے کی ٹھوکروں میں روندی جانے والی اس مخلوق کو وہ بلندی ملی جو دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ملی۔

آقا ﷺکی ولادت باسعادت کا دن خوشی منانے اور مسرت شادمانی کا دن ہے، ہر دور میں خوشی منائی جاتی رہی ہے۔ ایک مسلمان کے لئے اپنے نبی پاکﷺ کی تشریف آوری سے بڑھ کر اور کونسی خوشی ہو گی جو اس کیلئے فلاح کا ذریعہ بھی ہے۔ اہل ایمان ہر دورمیں12 ربیع الاول کو عید اور خوشی کا دن سمجھتے ہیں اور اس تا ریخی دن کو بڑے تزک واحتشام سے مناتے ہیں۔

صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی معروف اسلامی سکالر ہیں، مذہبی امور پر آپ کے مضامین اور کالم مختلف اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

شمس العلما مولانامحمدشبلی نعمانی علی گڑھ کالج کا مایہ افتخارہیں۔ وہ فروری 1883ء سے اواخر 1898ء تک اس تاریخی درس گاہ سے وابستہ رہے۔ وہ یہاں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کیلئے قائم کی گئی مجلس ’’لجنۃ الادب‘‘ کے نگران تھے۔ کم و بیش 16 سال کی اس مدت میں انھوںنے بہت سی جماعتوں کو درس دیا اور کئی نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ علی گڑھ میں ان کے دامن تربیت اور خوانِ علم و فضل سے وابستہ رہنے والوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حمیدالدین فراہی، مولوی عزیز مرزا، خواجہ غلام الثقلین، مولوی عبدالحق، سید محفوظ علی بدایونی، ڈاکٹر سرضیاء الدین اور چودھری خوشی محمد ناظر جیسے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلۃ الذہب میں مولانا ظفر علی خان کا نام بھی شامل ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ مولانا شبلی کے تلامذہ میں قومی سطح پر خدمات انجام دینے والوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ظفر علی خان 1892ء میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد 1893ء میں علی گڑھ میں داخل ہوئے اور انھوںنے 1895ء میں فسٹ ڈویژن میںبی اے کا امتحان پاس کیا۔

فیوڈل فینٹسی

ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

گرد ملال

ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔