نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اللہ تعالیٰ کاشکرہے(ن)لیگ جیت گئی ،مریم نوازکاٹویٹ
  • بریکنگ :- شیروں کومبارک ، مریم نواز
Coronavirus Updates

بلدیاتی اداروں کی بحالی کا عمل ،عدالت عظمیٰ کا تحقیقات کا اعلان

خصوصی ایڈیشن

تحریر : سلمان غنی


مہنگائی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ایک ہی روز میں بجلی، پٹرولیم اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے ہر چیز پر اپنے اثرات قائم کئے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اشیائے خورو نوش ہوں یا دیگر اشیائے ضروریہ، کسی پر چیک نہیں رہا۔ ہر دکاندار اپنی من مرضی سے خریدار کی جیب کاٹتا نظر آ رہا ہے اور خود کو جوابدہ نہیں سمجھتا۔ اس حوالے سے قائم مجسٹریٹ سسٹم بھی دم توڑ چکا ہے ۔اپوزیشن جو تقریباً تین سال سے مہنگائی،بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی غربت پر خاموش تھی اور محض میڈیا پر احتجاج کرتی نظر آتی تھی اب اسے بھی بجلی اورپٹرولیم کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے پر ہوش آیا ہے اور اس نے ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

 پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کے اس عمل کو فی الحال ضلعی ہیڈکوارٹرز تک محدود کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں پہلا مظاہرہ راولپنڈی میں ہوا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ سلسلہ آگے کی طرف بڑھے گا۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ عوام پر روزمرہ بنیادوں پر مہنگائی بم گرائے جا رہے ہیں۔ عوام کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، الٹا عوام کو پریشان کر دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے مہنگائی کو بڑا ایشو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور معاشی بدحالی نے عوام کا جینا اجیرن کر دیا ہے۔ احتجاج کے سوا کوئی آپشن نہیں ،حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ 

دوسری جانب حکومت اور وفاقی وزرا بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اس کے اثرات سے نمٹنے کی بجائے الٹا اس مہنگائی کا جواز بتاتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں مہنگائی بڑھی ہے ،ہم کسی علیحدہ سیارے پر نہیں رہتے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم چور مچائے شور کے فارمولا پر عمل پیرا ہے۔ حکومتی ترجمان فواد چودھری کہتے ہیں کہ پورا ملک سبسڈی پر نہیں چل سکتا۔ آج قیمتیں اوپر تو کل نیچے آ جائیں گی۔ تنخواہ دار طبقہ کی مشکلات ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر اپنے ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ کرے۔

ایک طرف سیاسی محاذ پر بڑھتی ہوئی مہنگائی نے آگ لگا رکھی ہے تو دوسری جانب امریکہ میں آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور اطلاعات یہ ہیں کہ وہاں ڈو مور کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت کی سیاسی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے پاس معاشی معاملات چلانے کے لیے کوئی سیاسی ٹیم نہیں بلکہ آئی ایم ایف پر ہی انحصار جاری ہے۔ موجودہ مشیر خزانہ شوکت ترین جو سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ پر یہ کہہ کر تنقید کرتے نظر آئے تھے کہ آئی ایم ایف سے غلط شرائط پر ہونے والے معاہدے نے معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔ اب وہ ویسے ہی بیانات دیتے نظر آ رہے ہیں جن کو سرکاری قرار دیا جا سکتا ہے۔

 مذکورہ صورتحال پر غور کیا جائے تو ایک بات کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ حکومت سے اب عوام کے لیے ریلیف کے امکانات کم ہیں۔ بجلی کے بلوں کے ذریعے لگنے والے عوام کو جھٹکوں نے ان کا کچومر نکال دیا ہے اور اس پر جلتی پر تیل کا کام پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے نے کیا ہے۔ لہٰذا مہنگائی زدہ عوام کے اندر حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید رد عمل ہے اور اسی رد عمل کو محسوس کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتیں متحرک ہوئی ہیں۔

 بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن مسائل زدہ عوام کو سڑکوں پر لاپائے گی اور ان کی آواز بن سکے گی ؟۔حکومتی معاملات اور سیاسی رجحانات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اب وہ ون پیج والی صورتحال بھی قائم نہیں رہی اور احتساب آرڈیننس آنے کے بعد سے اب احتسابی عمل بھی کارگر نظر نہیں آ رہا اور اسلام آباد بھی افواہوں کی زد میں ہے۔ لہٰذا اگر اپوزیشن اپنے احتجاج میں سنجیدہ ہوتی ہے تو پھر مہنگائی زدہ اور مسائل زدہ عوام کو سڑکوں پر لانا مشکل نہیں ہو گا اور حکومت پر دبائو بڑھے گا اور اپوزیشن کے اس احتجاج کا سامنا کیا حکومت کر پائے گی؟ فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا، البتہ اس حوالے سے دو آرا نہیں کہ حکومتی پالیسیوں اور خصوصاً مہنگائی نے حکومت کا سیاسی کیس مجروح کر کے رکھ دیا ہے۔

 سیاسی حلقوں کے مطابق اگر پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی احتجاج کو مشترکہ بنانے پر آمادہ ہوتے ہیں تو پھر احتجاج کے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات بڑھیں گے اور یہ سلسلہ سیاسی تبدیلیوں تک بھی وسیع تر ہو سکتا ہے کیونکہ اب حکومت کے پاس سرپرستی کا وہ پہلا سا بندوبست نظر نہیں آ رہا۔ اب حکومت کو اپنے مینڈیٹ اور پارلیمانی قوت پر ہی اکتفا کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے بلدیاتی اداروں کی بحالی میں تاخیر کے عمل کی تحقیقات کرانے کا اعلان کر کے ایک مرتبہ پھر ان اداروں کی اہمیت  کو عیاں کیا ہے۔سپریم کورٹ نے بلدیاتی اداروں کی بحالی میں تاخیر پر تحقیقات کروانے کا فیصلہ سناتے ہوئے ہائیکورٹ کے حکم ناموں کی مصدقہ نقول طلب کر لی ہیں۔ 

اگر بلدیاتی اداروں کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو آئین پاکستان کے تحت ان اداروں کے تسلسل اور ان کی سیاسی ، انتظامی اور مالی خود مختاری کے بارے میں کمٹمنٹ سے ان کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے مگر حکومتیں اور سیاسی جماعتیں ہمیشہ انہیں اپنی سوتن سمجھتی رہی ہیں اور ان کے انتخابات کرانے سے بھی گریزاں رہی ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے احکامات کے تحت اداروں کی بحالی کو تکنیکی وجوہات کی نذر کرنے کی کوشش ہوئی اور اس کی بنیاد 2019 کے ایکٹ کو بنایا گیا ۔ اب بھی اس ایکٹ میں ترامیم کا سلسلہ جاری ہے اور لگتا یوں ہے کہ جو حکومت اپنا ایکٹ نہیں بنا سکتی وہ بلدیاتی انتخابات کیا کرائے گی اور اس طرح سے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ان اداروں کے انتخابات کیلئے ڈالا جانے والا دبائو بھی کارگر ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)