نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- این اے 133ضمنی الیکشن،مسلم لیگ (ن) نےمیدان مارلیا
  • بریکنگ :- لاہور:تمام 254پولنگ اسٹیشنزکےغیرحتمی غیرسرکاری نتائج
  • بریکنگ :- مسلم لیگ(ن)کی شائستہ پرویزملک 46 ہزار811 ووٹ لےکرکامیاب
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کےاسلم گل 32 ہزار313 ووٹ لےکردوسرےنمبرپررہے
  • بریکنگ :- شائستہ پرویزملک نے 14ہزار498ووٹوں سے اسلم گل کو شکست دی
  • بریکنگ :- 4لاکھ 40ہزار485ووٹوں میں سے 80ہزار997ووٹ کاسٹ ہوئے
  • بریکنگ :- لاہور:این اے 133 میں ٹرن آؤٹ 18.59 فیصدرہا
  • بریکنگ :- 50ہزار936مرداور30ہزار959خواتین نےووٹ کاسٹ کیا،898ووٹ مسترد
  • بریکنگ :- لاہور:9امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں
  • بریکنگ :- نشست (ن)لیگ کےپرویزملک کی وفات کےباعث خالی ہوئی تھی
Coronavirus Updates

ایک بار پھر اب کیا ہوگا کی گونج

خصوصی ایڈیشن

تحریر : خاور گھمن


بڑھتی مہنگائی، ڈالر کی اونچی اڑان، آئی ایم ایف کا دباؤ۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے پیدا ہونے والا تناؤ۔ نئے چیرمین نیب کی تعیناتی سمیت نیب کا قانون اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے احتجاج مظاہروں کا ایک بار پھر اعلان۔ وزیراعظم عمران خان اکثر اپنے کرکٹ کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے پریشر کے دوران پرفارم کرنے والے کو اصل کھلاڑی مانتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ اپنے چاہنے والوں کو تجویز کرتے سنائی دیتے ہیں۔ ان کا مشہور زمانہ قول بھی ہے کہ ’’ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘‘۔ مشکل سے مشکل صورتحال کا اگر سامنا ہو تو بھی خندہ پیشانی سے اس کا نہ صرف سامنا کرنا ہے بلکہ ڈٹ کے مقابلہ کرنا ہے۔

 موجودہ سیاسی، معاشی، اور سماجی حالات کا بغور جائزہ لیں تو تحریک انصاف کی حکومت اپنے سخت ترین دور سے گزر رہی ہے۔ چند ماہ پہلے تک جب حالات قابو میں تھے تو کہا جا رہا تھا وزیراعظم عمران خان نہ صرف اپنی یہ مدت بلکہ آئندہ پانچ سال کے لیے بھی ایک مضبوط امیدوار ہوں گے۔ اپوزیشن کہیں دور دور تک نظر نہیں آرہی تھی۔ پی ڈی ایم کا شیرازہ حقیقت میں بکھر چکا تھا۔ ہر کو ئی خاموشی سے بیٹھا تھا۔ لیکن اب ایسا ماحول بنتا محسوس ہو رہا ہے جیسے تحریک انصاف کی حکومت کو صرف ایک دھکے کی ضرورت ہے۔ یہ تاش کے پتوں کی مانند زمین پرآن گرے گی۔ 

سیاست کے حوالے سے ہمیشہ سے ایک کہاوت بہت مستند مانی جاتی ہے۔ وہ یہ کہ "A week is a long time in Politics"۔ سیاست میں ایک ہفتہ کافی ہوتا ہے حالات کے یکسر بدلنے کے لیے۔ اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے چند ہفتے پہلے ایک مضبوط نظر آنے والی حکومت اب کمزور نظر ا رہی ہے۔ اس میں کتنی حقیقت اور کتنا افسانہ شامل ہے۔ اسی تناظر میں اسلام آباد کے ایوانوں میں آجکل ایک بار وہی پرانا سوال پوچھا جانے لگا ہے۔ کیا عمران خان اپنے پانچ سال پورے کر پائیں گے؟

ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے جب ہماری بات چند حکومتی ارکان سے ہوئی تو کم و بیش تمام اشخاص کی طرف سے ملتے جلتے جوابات ہی سننے کو ملے۔ ایک سینئر حکومتی وزیر سے جب اس بار ے میں بات ہوئی خاص طور پر کیا تحریک انصاف کی حکومت اپنے پانچ سال پورے کر پائے گی تو وزیر موصوف کا کہنا تھا اس حوالے سے وہ اور ان کی پارٹی بہت کلیئر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پارٹی چیئرمین کی طرف سے بھی ہمیں واضح دلیل سننے کو ملتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اپوزیشن تحریک انصاف کی حکومت کو گرانا چاہتی ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ اور وزیر اعظم سے جب بھی ہماری بات ہوتی ہے خاص طور پر اس سوال پر تو ان کی طرف سے ہمیں ایک ہی جواب ملتا ہے وہ یہ کہ آپ لوگ کسی بھی وقت اپوزیشن کرنے کے لیے تیار رہیں ۔یہ ڈر اور خوف بھی کم از کم قیادت کی طرف سے نہ کبھی سننے کو ملا ہے اور نہ ہی کبھی وزیر اعظم کبھی گھبرائے ہیں۔ 

البتہ مہنگائی کی وجہ سے پوری جماعت پریشان ہے۔ اس حوالے سے جو کچھ کیا جا سکتا ہے وہ ہم کر بھی رہے ہیں۔ گورننس کے بھی مسائل ہیں ان کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ اگر تیل پوری دنیا میں مہنگا ہورہا ہے توحکومت ایک حد تک اس پر کچھ کر سکتی ہے۔ افغانستان میں جو حالات بنے ہیں، اس کے پاکستان پر بھی اس کے اثرات پڑیں گے۔ اور اگر دنیا اسی طرح افغانستان پر اپنا شکنجہ سخت رکھے گی اور طالبان حکومت کو نہیں مانے گی تو وہاں اشیائے خورونوش نا پید ہونگی۔ طالبان حکومت اسی طرح دنیا سے الگ تھلگ رہے گی تو ظاہر ہے پاکستان پر اس کے اثرات پناہ گزینوں اور معاشی صورت میں پڑیں گے۔ پہلے ڈالرز افغانستان سے پاکستان آ رہے تھے اور اب جارہے ہیں۔ اثر تو پڑے گا۔

 ایک دوسرے وزیر کا کہنا تھا ہم پر بہت تنقید ہوتی ہے کہ ہم حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کی وجہ سے بیٹھے ہیں ۔

 قصہ مختصر تحریک انصاف کے لوگوں سے بات کر کے پتہ چلا کہ وہ حکومت کی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کے بجائے، اس بڑھتے تاثر سے زیادہ پریشان ہیں کہ وہ لوگوں کی پریشانیاں دور کرنے کے بجائے ان میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ ظاہر ہے اگر یہی تاثر آئندہ انتخابات تک قائم رہتا ہے تو پھر الیکشن لڑنا آسان نہیں ہوگا۔ دوسرا اہم سوال جو آج کل اسلام اباد کے حلقوں میں بڑے زورو شور سے پوچھا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان مسلم لیگ (ن) موجودہ حکومت مخالف حالات کا فائدہ اٹھائے گی؟ آسان الفاظ میں کیا حکومت کو گھر بھجوانے میں کوئی کردار ادا کرے گے۔ یہ سوال لے کر جب ہم ن لیگ کے لوگوں کے پاس گئے تو وہاں سے ہمیں تھوڑی سی رائے منقسم ملی۔ پارٹی کے ذیادہ تر لوگوں کا خیال کہ انہوں نے مشکل تین سال گزار لیے ہیں لہٰذ اب عمران خان کو سیاسی شہید بننے کا موقع نہیں ملنا چاہئے۔

 ن لیگ میں بشمول شہباز شریف اسی نقطہ نظر کے حامی ہیں۔ ہاں پارٹی کا ایک حصہ وہ بھی ہے جو چاہتا ہے کہ طریقہ جو مرضی اختیار کریں تحریک انصاف کی حکومت کو چلتا کیا جائے۔ اور جتنی جلدی ہو سکے نئے انتخابات کی طرف جایا جائے۔ لیکن لگ ایسا ہی رہا ہے کہ ن لیگ کوئی جلدبازی نہیں کرے گی۔’’ مظاہرے وغیرہ ہم ضرور کریں گے لیکن ہماری کوشش ہو گی کہ لوگ تحریک انصاف اور عمران خان کی حکومت کا اصل چہرہ ضرور دیکھیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب عمران خان اپنا وقت پورا کریں ‘‘یہ کہنا تھا پارٹی کے ایک سینئر رہنما کا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے لوگوں کا بھی یہی خیال ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ،اس بات کا چند مہینوں کے بعد پتہ چلے گا۔ جس کے بعد دیکھا جائے گا کہ ملکی سیاست میں کون تبدیلیاں ہوتی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)