نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مسلم لیگ(ن)کےکارکنوں کومبارکباداورخراج تحسین پیش کرتاہوں،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- مسلم لیگ(ن)نےثابت کیاکہ وہ مقبول ترین جماعت ہے،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- عوام مسائل کےحل کیلئےمسلم لیگ(ن)کی طرف دیکھ رہےہیں،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- عوام اب دعوؤں اورنعروں کےفریب میں آنےوالےنہیں،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- این اے 133ضمنی الیکشن میں کامیابی پرحمزہ شہبازکی مبارکباد
Coronavirus Updates

ہنر کی دولت

خصوصی ایڈیشن

تحریر : خدیجہ فرقان


کسی جزیرے میں ایک امیرشخص رہتا تھا، جسے شکار کا بہت شوق تھا۔ایک دن شکار کو جاتے ہوئے اس کی نظر ایک غریب ٹوکریاں بنانے والے کی زمین پر پڑی۔ اس زمین میں نرسل(ایک پودہ)اُگے ہوئے تھے۔اس کھیت کی ناہمواری اور نرسلوں میں سے گزرنے کی تکلیف امیر کو بہت ناگوار گزرتی تھی۔ایک دن امیر نے غریب کو بلا کر کہا ’’تم یہ زمین ہمیں دے دو‘‘۔ غریب نے جواب دیا ’’ حضور! میرا تو گزارہ اسی پر ہے، میں بیچنا نہیں چاہتا‘‘۔ اس پر امیر ناراض ہو گیا، اس نے غریب کو خوب پٹوایا پھرتمام نرسلوں کو جلوا دیا،جس پر غریب روتا ہوا بادشاہ کے پاس چلا گیا۔

بادشاہ نے امیر کو بلا کر حال پوچھا تو امیر نے جواب دیا ’’ بے شک میں نے اس آدمی کو اس لئے مارا اور اس کے کھیت کو جلایا ہے کہ اس نے میرے حکم کی تعمیل نہیں کی‘‘۔ بادشاہ نے کہا ’’ تم نے دولت کے غرور میں ایک بے گناہ غریب کو ناحق تکلیف دی اور بڑا نقصان پہنچایا ہے، حالانکہ تمہارا پردادا اس سے بھی زیادہ غریب تھا۔ وہ ہمارے ہاں کام کرنے کی بدولت اتنی دولت کا مالک بناتھا۔جس کے ورثے پر اس وقت تم اتنے مغرور ہو رہے ہو۔ میرے نزدیک یہ غریب تم سے اس لئے بہتر ہے کہ اپنی محنت سے روزی کماتا ہے‘‘۔

اب بادشاہ نے حکم دیا کہ امیر اور ٹوکریاں بنانے والے کو ایک غیر آباد جزیرے پر چھوڑ دیا جائے۔ اس حکم کی تعمیل میںدونوں کو ایک ہفتے کے لئے ایک ایسے جزیرے پر اتار دیا گیا جہاں صرف جنگلی آدمی رہتے تھے۔جنگلیوں نے انہیں دیکھ کر پہلے تو مارنا چاہا مگر ٹوکریاں بنانے والے نے انہیں اشاروں کے ذریعے سمجھایا کہ ہم تمہاری خدمت کریں گے۔ ساتھ ہی وہاں سے نرسل لے کر ایک ٹوپی بنائی اور ایک جنگلی کے سر پر پہنا دی ۔جنگلی اس تاج سے بہت خوش ہوئے اور اس کے پاس ٹوپیاں بنوانے کے لیے ہر وقت ان کی بھیڑ رہنے لگی۔ امیر کی سخت شامت آئی کہ ٹوپیاں نہ بنا سکنے کی وجہ سے انہوں نے اسے مار مار کر بے ہوش کر دیا۔

آخر امیر نے تنگ آکر ٹوپیاں بنانے والے سے کہا ــ’’اگر تم مجھے ان وحشیوں سے چھڑوا دو، تومیں گھر پہنچتے ہی آدھی جائیداد تمہاری نذر کر دوں گا‘‘۔یہ سن کر غریب ٹوکری والے نے جنگلیوں کوا شارے سے سمجھایا کہ یہ میرا مدد گار ہے اسے کچھ نہ کہو۔ جس پر جنگلیوں نے امیر کو پھر نہ چھیڑابلکہ ٹوکری والے کے ساتھ اسے بھی کھانا دینے لگے۔جوں توں کر کے ہفتہ ختم ہوا تو ایک سرکاری کشتی آکر انہیں بادشاہ کے روبرولے گئی۔بادشاہ نے سب قصہ سن کر امیر سے کہا ’’ تم نے دیکھ لیا دولت کا محل کیسا ناپائیدارہے اور اس پر غرور کرنے والا کیسا احمق ہے۔ اصل دولت مند وہی ہے جو ہنر جانتا اور محنت کر سکتا ہے۔ اب جاؤ اپنا وعدہ پورا کرو اور اس غریب کو اپنی آدھی جائیداد دو‘‘۔

امیر نے گھر پہنچ کر اقرار کے مطابق آدھی جائیداد غریب کے حوالے کر دی اور اس طرح غریب نے اپنے صبر کا پھل پا لیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)