نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ڈھاکا ٹیسٹ ، چوتھے روز چائے کا وقفہ
  • بریکنگ :- دوسرے سیشن کے اختتام پر بنگلا دیش نے 3 وکٹ کے نقصان پر 22 رنز بنا لیے
Coronavirus Updates

ٹی 20 ورلڈکپ میں بننے والے ریکارڈز

خصوصی ایڈیشن

تحریر : روزنامہ دنیا


فاتح ٹیمیں،ٹی 20 کے 2007 ء میں ہوئے پہلے عالمی میلے کو بھارت نے اپنے نام کیا۔ 2009ء کا ایونٹ پاکستان کے نام رہا۔ 2010ء میں انگلینڈ فاتح رہی، 2012ء کے ایونٹ کو جیت کر ویسٹ انڈیز اس ٹی ٹوئنٹی کا حکمران بن گیا۔ 2014ء میں سری لنکا نے بھی ٹی 20 کا عالمی کپ جیت کر اپنا کھاتا کھولا جبکہ 2016ء میں ویسٹ انڈیز نے دوسری مرتبہ اس ایونٹ کو جیت کر تاریخ رقم کی۔

سب سے زیادہ فائنل کھیلنے والی ٹیم

اب تک ٹی 20 کے 6 عالمی مقابلے ہوچکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ مرتبہ فائنل کھیلنے کا اعزاز سری لنکا کے پاس ہے جبکہ اس کے بعد پاکستان، بھارت، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز دو دو مرتبہ فائنل کھیل چکے ہیں۔ مذکورہ ٹیموں میں ویسٹ انڈیز وہ واحد ٹیم ہے جس نے اپنے دونوں فائنلز میں کامیابی سمیٹی جبکہ باقی ٹیموں کو ایک میں کامیابی ملی اور ایک میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی طرح آسٹریلیا نے بھی ایک مرتبہ فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا جس میں اسے انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سب سے بڑا ٹوٹل

ٹیموں کے انفرادی ٹوٹل کی بات کی جائے تو سب سے بڑے ٹوٹل کا ریکارڈ سری لنکا کے پاس ہے جو اس نے کینیا کے خلاف 2007ء کے ایونٹ میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 260 رنز بنا کر اپنے نام کیا تھا۔ایونٹ میں پاکستان ٹیم کا سب سے بڑا ٹوٹل 201 رنز ہے جو اس نے 2016ء کے ایونٹ میں بنگلادیش کے خلاف بنایا تھا۔

سب سے چھوٹا ٹوٹل

ٹی 20 ورلڈ کپ میں مخالف ٹیم کو سب سے کم رنز پر آؤٹ کرنے کا ریکارڈ بھی سری لنکا کے ہی پاس ہے۔ لنکن ٹائیگرز نے 2014 کے ایونٹ میں نیدرلینڈز کو محض 39 رنز پر پویلین پہنچا دیا تھا۔ پاکستان نے 2009 کے ایونٹ میں نیدرلینڈز کو 93 رنز پر آل آؤٹ کیا تھا جو اس کا کسی بھی ٹیم کو ایونٹ میں سب سے کم رنز پر آؤٹ کرنے کا ریکارڈ ہے۔

سب سے بڑی کامیابی/ شکست

ٹی 20 ورلڈکپ میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی کامیابی کا اعزاز سری لنکا کے پاس ہے جس نے 2007 ء کے ایونٹ میں کینیا کو 172 رنز کے بھاری مارجن سے زیر کیا تھا۔ اسی طرح اگر وکٹوں کے اعتبار سے بات کی جائے تو سب سے بڑی کامیابی کا اعزاز آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے پاس ہے جنہوں نے بالترتیب اپنے حریفوں سری لنکا (2007ء) اور زمبابوے (2012ء) کے خلاف 10،10 وکٹوں سے فتح حاصل کی۔پاکستان ٹیم کی بات کی جائے تو اس نے 2009ء کے ایونٹ میں 82 رنز سے نیدرلینڈز کو شکست دے کر اپنی سب سے بڑی کامیابی ریکارڈ بک میں درج کروائی۔ وکٹوں کے اعتبار سے قومی ٹیم کی سب سے بڑی کامیابی 2009ء کے فائنل میں دی گئی سری لنکا کو 8 وکٹوں کی شکست ہے۔

سب سے بڑے ہدف کا تعاقب

ٹی 20 ورلڈکپ میں سب سے بڑے ہدف کا کامیابی کے ساتھ تعاقب کرنے کا ریکارڈ انگلینڈ کے پاس ہے۔ انگلش ٹیم نے 2016ء کے ایونٹ میں جنوبی افریقہ کی جانب سے دیا گیا 230 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔پاکستان کا ٹی 20 ورلڈکپ میں سب سے بڑے ہدف کا کامیاب تعاقب کا ریکارڈ 176 رنز کا ہے جو اس نے 2016ء کے ایونٹ میں حاصل کیا تھا۔

سب سے زیادہ رنز کرنے والے کھلاڑی

سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے 1016 رنز کے ساتھ ٹی 20 ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں جبکہ 96 رنز کے فرق سے ویسٹ انڈیز کے کرس گیل اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔پاکستان کی جانب سے 546، 546 رنز کے ساتھ شاہد آفریدی اور شعیب ملک مشترکہ طور پر ایونٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ہیں۔

سب سے بڑا انفرادی اسکور

نیوزی لینڈ کے برینڈن میک کلم 123 رنز کے ساتھ ایونٹ میں سب سے بڑا انفرادی اسکور بنانے والے کھلاڑی ہیں، اس فہرست میں پاکستان کے احمد شہزاد 111 رنز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔

سب سے زیادہ سنچریاں

ٹی 20 ورلڈکپ میں کرس گیل 2 سنچریوں کے ساتھ اس فہرست میں صف اوّل ہیں جبکہ احمد شہزاد (پاکستان)، مہیلا جے وردھنے (سری لنکا)، سریش رائنا (بھارت)، برینڈن میک کلم (نیوزی لینڈ)، ایلکس ہیلز (انگلینڈ) اور تمیم اقبال (بنگلا دیش) کی ایک ایک سنچری ہے۔

سب سے زیادہ نصف سنچریاں

بھارت کے ویرات کوہلی 9 نصف سنچریوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں جبکہ 50 یا زائد رنز بنانے والے کھلاڑیوں میں وہ کریس گیل کے ساتھ مشترکہ طور پر پہلے نمبر پر ہیں۔قومی ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنانے کا ریکارڈ اکمل برادران کے پاس ہے۔ عمر اکمل اور کامران اکمل نے ٹی 20 ورلڈکپ میں تین تین نصف سنچریاں بنائیں۔

سب سے زیادہ ڈکس (صفر پر آؤٹ)

ایونٹ میں سب سے زیادہ ڈکس پر آؤٹ ہونے کا بدترین ریکارڈ مشترکہ طور پر پاکستان کے شاہد آفریدی اور سری لنکا کے تلک رتنے دلشان کے پاس ہے جو 5، 5 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔

سب سے زیادہ چھکے

کرس گیل چھکوں کے ریکارڈ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، وہ ٹی 20 ورلڈکپ میں 60 چھکے لگاچکے ہیں جبکہ ان کے بعد دوسرے نمبر پر چھکوں کی تعداد 33 ہے جو بھارت کے یوراج سنگھ نے لگائے ہیں۔پاکستان کی جانب سے ایونٹ میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ شاہد آفریدی کا ہے، انہوں نے 5 ایونٹس میں مجموعی طور پر 21 چھکے لگائے۔

ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکے

اس درجہ بندی میں بھی کرس گیل کا ثانی کوئی نہیں، 2016ء کے ایونٹ میں ایک اننگز میں 11، جبکہ 2007ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف 10 چھکے لگائے تھے۔

ایک ایونٹ میں سب سے زیادہ رنز

بھارت کے ویرات کوہلی 317 رنز کے ساتھ ایک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں، انہوں نے 2014ء میں یہ اعزاز حاصل کیا۔ پاکستان کی جانب سے ایک ایونٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ سلمان بٹ کا ہے جنہوں نے 2010ء میں 223 رنز بنائے تھے۔

سب سے زیادہ وکٹیں

ٹی 20 ورلڈکپ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا ریکارڈ پاکستان کے آل راؤنڈر شاہد آفریدی کا ہے۔ وہ 39 وکٹوں کے ساتھ اس ایونٹ میں سرفہرست ہیں۔ اسی فہرست میں سعید اجمل 36 وکٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر جبکہ عمر گل 35 وکٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔

ہیٹ ٹرکس

ٹی 20 ورلڈکپ کی تاریخ میں رواں سیزن کے آغاز سے قبل تک صرف ایک ہی ہیٹ ٹرک بنائی گئی تھی، اور یہ کارنامہ بریٹ لی نے 2007ء کے ایونٹ میں بنگلا دیش کے خلاف انجام دیا تھا۔ رواں ایونٹ کے دوران ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ کی دوسری ہیٹ ٹرک بھی بنالی گئی ہے اور اس مرتبہ آئرلینڈ کے کرٹس کیمفر نے نیدرلینڈز کیخلاف ہیٹ ٹرک بنا کر یہ اعزاز حاصل کیا۔ 

بہترین بائولنگ

ٹی 20 ورلڈکپ کے ایک میچ میں بہترین باولنگ کا ریکارڈ سری لنکا کے اجنتھا مینڈس کے پاس ہے، انہوں نے 2012ء کے ایونٹ میں زمبابوے کے خلاف 6 وکٹیں لی تھیں۔ پاکستان کے عمر گل 6 رنز کے عوض 5 وکٹیں لے کر اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔

وکٹ کیپر ریکارڈز/سب سے زیادہ شکار

بھارت کے ایم ایس دھونی وکٹوں کے پیچھے سب سے زیادہ شکار کرنے والے کھلاڑی ہیں، انہوں نے اپنے کریئر میں مجموعی طور پر 32 شکار کیے، ان کے بعد دوسرے کامیاب وکٹ کیپر پاکستان کے کامران اکمل تھے جنہوں نے 30 بیٹرز کو اپنا شکار بنایا۔

سب سے زیادہ میچز بطور امپائر

پاکستان کے علیم ڈار 35 میچز کے ساتھ ٹی 20 ورلڈکپ میں سب سے زیادہ میچز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دینے والے میچ آفیشل ہیں۔ ان کے علاوہ اسد رؤف بھی 19 میچوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

شمس العلما مولانامحمدشبلی نعمانی علی گڑھ کالج کا مایہ افتخارہیں۔ وہ فروری 1883ء سے اواخر 1898ء تک اس تاریخی درس گاہ سے وابستہ رہے۔ وہ یہاں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کیلئے قائم کی گئی مجلس ’’لجنۃ الادب‘‘ کے نگران تھے۔ کم و بیش 16 سال کی اس مدت میں انھوںنے بہت سی جماعتوں کو درس دیا اور کئی نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ علی گڑھ میں ان کے دامن تربیت اور خوانِ علم و فضل سے وابستہ رہنے والوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حمیدالدین فراہی، مولوی عزیز مرزا، خواجہ غلام الثقلین، مولوی عبدالحق، سید محفوظ علی بدایونی، ڈاکٹر سرضیاء الدین اور چودھری خوشی محمد ناظر جیسے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلۃ الذہب میں مولانا ظفر علی خان کا نام بھی شامل ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ مولانا شبلی کے تلامذہ میں قومی سطح پر خدمات انجام دینے والوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ظفر علی خان 1892ء میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد 1893ء میں علی گڑھ میں داخل ہوئے اور انھوںنے 1895ء میں فسٹ ڈویژن میںبی اے کا امتحان پاس کیا۔

فیوڈل فینٹسی

ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

گرد ملال

ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔