نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سوات اورگردونواح میں زلزلےکےجھٹکے
  • بریکنگ :- سوات:ریکٹراسکیل پرزلزلےکی شدت 4.4 ریکارڈ
  • بریکنگ :- زلزلےکی گہرائی 145کلومیٹر،مرکزپاک افغان تاجکستان تھا
Coronavirus Updates

کھلاڑی پریشر سے آزاد ہوکر کھیلیں، وسیم اکرم،مشتاق احمد، شعیب اختر،یونس خان کا ٹیم کو مشورہ

خصوصی ایڈیشن

تحریر : روزنامہ دنیا


بہترین منصوبہ بندی اور اوپننگ پارٹنرشپ ضروری ہے: وسیم اکرم،پاکستانی ٹیم کو ہار کا خوف نکال کر کھیلنا ہو گا: مشتاق احمد،کھلاڑیوں کو خود کو پر سکون رکھنا ہو گا: شعیب اختر،ہمیں بھارت کے خلاف 4 فاسٹ باؤلرز کو کھلانا چاہئے:یونس خان

ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان آج اپنا پہلا میچ بھارت کے خلاف کھیلے گا، اس میچ کے حوالے سے پاکستان کے سابق کرکٹرز مشتاق احمد، وسیم اکرم، شعیب اختر اور یونس خان نے روزنامہ ’’دنیا‘‘ کی وساطت سے قومی ٹیم کو اپنے مفید مشوروں سے نوازا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاک بھارت میچ بہت پریشر والا ہے، جو پریشر میں صحیح کھیلے گا وہی میچ جیتے گا۔ انہوں نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے کہا کہ وہ آج کا میچ پریشر سے آزاد ہو کر کھیلیں۔

سابق مایہ ناز سپن بائولر مشتاق احمد نے روزنامہ ’’دنیا‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دفعہ پاکستان اور بھارت کے مابین میچ ٹف ہو گا۔پاکستانی ٹیم کو یہ ڈر اپنے ذہنوں سے نکالنا ہو گا کہ ہم بھارت سے پہلے بھی ٹی 20 میں 6میچ ہار چکے ہیں۔ آغاز سے ہی پاکستانی ٹیم کو بھارت پر اٹیک کرنا ہوگا۔ تب ہی ہم بھارت کو اس میچ میں شکست دے سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر ان کا کہنا تھا کہ میرا ذاتی خیال ہے کہ ’’ٹی 20‘‘ میں کسی کو بھی آپ نے چھوٹی ٹیم نہیں سمجھنا ہوتا۔ ٹونٹی 20 گیم مومینٹم کی ہے۔ جس ٹیم کا مومینٹم آغاز سے ہی قائم ہو جائے وہ فائنل میں جگہ بنا لیتی ہے۔ ہماری ٹیم اگر اپنے ٹیلنٹ کے مطابق گیم پلان پرعمل درآمد کرے تو پاکستانی ٹیم کے ’’ٹی 20ورلڈ کپ‘‘ جیتنے کے بہت چانسز ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں افغانستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ پاکستان ٹیم میں شعیب ملک اور محمد حفیظ کی شکل میں ایک طاقت آئی ہے جس سے ہمارا مڈل آرڈر بہت مضبوط ہوا ہے اور یو اے ای کی پچز پر یہ بہت کارگر ثابت ہوں گے۔ پاکستانی ٹیم کو بہت ذہانت سے کھیلنا ہو گا اور ہر کھلاڑی کو دورانِ کھیل اپنا رول بھرپور طریقے سے ادا کرنے کی ضرور ت ہے۔ تب ہی پاکستا ن آگے آنے والے ٹی 20میچز میں جیت پائے گا۔ اس ٹورنا منٹ میں جس بھی ٹیم کی فٹنس مضبوط ہو گی اس کے بھی جیتنے کے بہت چانسز ہیں، کیونکہ متحدہ عرب امارات میں موسم نے بڑا اہم کردار ادا کرنا ہے۔ ٹی 20 ایونٹ کیلئے ہمارے پاس ٹیم میں سیزنل اسپنرز موجود ہیں، جن میں شاداب خان، عماد وسیم، نواز، شعیب ملک اور محمد حفیظ شامل ہیں۔ یوں ہمارے پاس اسپنرز کی ویری ایشن موجود ہے جو کہ اس طرح کے ایونٹ میں  ہمارے لیے بہت مفید ہے۔ اسی طرح فاسٹ بائولرز میں حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی حریف ٹیموں پر بھاری ثابت ہوں گے۔

سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کا کافی تجربہ ہے۔ شعیب ملک کو واپس قومی کرکٹ اسکواڈ میں لایا گیا ہے۔مڈل آرڈر میں ہمارے پاس دو تجربہ کار کھلاڑی محمد حفیظ اور شعیب ملک کی صورت میں موجود ہیں۔دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک بابر اعظم ہیں۔ محمد رضوان اور بابر اعظم کی اوپننگ پارٹنرشپ گزشتہ میچز میں بڑی زبردست رہی ہے۔ یہ ماننا ہو گا کہ موجودہ پاکستانی ٹیم نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگرجس بھی ٹیم کے پاس اسپنرز اچھے ہوں گے وہی ٹیم اس ورلڈ کپ میں آگے جا پائے گی۔ پاکستانی ٹیم کو منصوبہ بندی کے ساتھ چلنا ہو گا۔ اگر پہلے چھ اوورز میں دو وکٹیں گر بھی جائیں تو نئے آنے والے کھلاڑیوں کو پتا ہونا چاہیے کہ ہم نے پہلے دس اوورز میں کتنے رنز سکور کرنے ہیں یا آخری دو اووروں میں کتنا سکور کرنا ہے۔ٹی 20میچز میں عموماً ٹیمیں 6سے 12اوورز کے بیچ میں پھنستی ہیں۔ صحیح طریقہ یہی ہے کہ ہمیں کھیل کے دوران اپنا مومینٹم قائم رکھنا ہو گا۔ پاکستانی ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہم پریشر میں جلدی آ جاتے ہیں، جبکہ اس طرح کے میچ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کی طرح بغیر پریشر لیے کھیلنا ہو گا۔ 

2009ء کا عالمی کپ جیتنے والی قومی ٹیم کے کپتان یونس خان کا کہنا تھا کہ مجھے پوری امید ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اس ورلڈ کپ میں بہترین پرفارم کرے گی۔ ہمارے پاس باؤلنگ میں زیادہ آپشنز موجود نہیں ہیں۔ اسپنرز کی بات کی جائے تو عماد وسیم بھی کچھ زیادہ بال ٹرن نہیں کر پا رہے۔ ہمارا پہلا میچ بھارت کے ساتھ ہے اور اتنے بڑے میچ کا اپنا ایک پریشر ہوتا ہے،میرا خیال ہے کہ ہمیں بھارت کے خلات چار فاسٹ باؤلرز کے ساتھ جانا چاہئے۔محمد وسیم کی صورت میں ہمارے پاس ایک اچھا آل راؤنڈر موجود ہے اور اپنی قابلیت کو انہوں نے ثابت کیا ہے۔ اس مرتبہ ہمیں روائتی کرکٹ سے ہٹ کر کھیلنا ہو گا کچھ ایسا کرنا ہوگا جو مخالف ٹیموں کے لئے حیران کن ہو۔ ہمیں اپنی طاقت اور قابلیت کو استعمال کرنا چاہئے، ضروری نہیں ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی پرفارم نہیں کر پا رہاتو اس کو لازماً ٹیم میں شامل کرنا ہے۔ آپ کو کھلاڑیوں کی قابلیت کے مطابق کھیلنا ہوگا۔ پاکستان ٹیم ہمیشہ سے دوسری ٹیموں کے لئے غیر متوقع رہی ہے ۔ہم کبھی بھی اپنی پلاننگ کے لئے مشہور نہیں رہے اس لئے مجھے امید ہے کہ پاکستان ٹیم بہترین کھیل پیش کرے گی۔

سابق فاسٹ بائولر شعیب اخترکا کہنا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میگا ایونٹ ہے اور ہر بڑے ایونٹ کا پریشر کھلاڑیوں پر ہوتا ہے۔ یہ پریشر کھیل سے زیادہ اس ردعمل کا ہوتا ہے جو ہارنے والی ٹیم کو فیس کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کا پہلا میچ اپنے روائتی حریف بھارت سے ہے اور پاکستان ٹیم کو خود کو پر سکون رکھنا ہو گا کیونکہ اس ایونٹ کی میزبانی بھارت کر رہا ہے اور بھارتی میڈیا پاکستان کو کمزور حریف بتا رہا ہے کہ ہماری ٹیم یہ میچ آسانی سے اپنے نام کر لے گی۔ یہی وجہ ہے جس سے بھارت کی کرکٹ ٹیم پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ پاکستان کے لئے اس میگا ایونٹ میں پرفارم کرنا بہت ضروری ہے اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کرکٹ ٹیموں نے جو ہمارے ساتھ کیا اس سے ہمارا دل دکھا ہوا ہے اور یہ ایونٹ ایک سنہر ی موقع ہے خود کو ثابت کرنے کا اور دنیا کو دکھانے کا کہ ہم کتنی بڑی ٹیم ہیں۔ جہاں تک بھارت اور پاکستان کے مقابلے کی بات ہے تو یہ میچ پاکستان کو ہر صورت جیتنا ہوگا۔یہ میچ دونوں ٹیموں کی پیس کا تعین کرے گا کہ ٹورنامنٹ میں  پرفارمنس کیسی رہے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

شمس العلما مولانامحمدشبلی نعمانی علی گڑھ کالج کا مایہ افتخارہیں۔ وہ فروری 1883ء سے اواخر 1898ء تک اس تاریخی درس گاہ سے وابستہ رہے۔ وہ یہاں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کیلئے قائم کی گئی مجلس ’’لجنۃ الادب‘‘ کے نگران تھے۔ کم و بیش 16 سال کی اس مدت میں انھوںنے بہت سی جماعتوں کو درس دیا اور کئی نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ علی گڑھ میں ان کے دامن تربیت اور خوانِ علم و فضل سے وابستہ رہنے والوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حمیدالدین فراہی، مولوی عزیز مرزا، خواجہ غلام الثقلین، مولوی عبدالحق، سید محفوظ علی بدایونی، ڈاکٹر سرضیاء الدین اور چودھری خوشی محمد ناظر جیسے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلۃ الذہب میں مولانا ظفر علی خان کا نام بھی شامل ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ مولانا شبلی کے تلامذہ میں قومی سطح پر خدمات انجام دینے والوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ظفر علی خان 1892ء میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد 1893ء میں علی گڑھ میں داخل ہوئے اور انھوںنے 1895ء میں فسٹ ڈویژن میںبی اے کا امتحان پاس کیا۔

فیوڈل فینٹسی

ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

گرد ملال

ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔