نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- راوی ٹال پلازہ سےجوائن ہونےوالی تمام موٹرویزپرایم ٹیگ کااطلاق ہوگا،آئی جی
  • بریکنگ :- محفوظ سفراورماحولیاتی آلودگی کم کرنےمیں شہری تعاون کریں،آئی جی موٹروےپولیس
  • بریکنگ :- عدالتی حکم پرکل سےموٹروےایم 2پرایم ٹیگ کےبغیرگاڑیوں کےداخلےپرپابندی
Coronavirus Updates

ٹی وی ڈرامے پاکستانی معاشرے کے عکاس نہیں ،متنازع موضوعات و مناظر پر عوامی تنقید ،پیمرا ان ایکشن

خصوصی ایڈیشن

تحریر : محمد ارشد لئیق


کیا موجودہ ٹی وی ڈرامے ہمارے معاشرے کے عکاس ہیں؟یہ وہ سوال ہے جو تقریباً آج ہر پاکستانی کی زبان پر ہے، ناصرف عوامی حلقوں میں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی ڈراموں کو لے کر آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ پاکستانی ڈرامے اس قدر مادر پدر آزاد ہو چکے ہیں کہ ہر کوئی کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے۔

متنازع اور غیر اخلاقی موضوعات پر مبنی ڈراموں کی عکس بندی معمول بن گیا ہے اور نامناسب لباس و حرکات بھی آج کل کے ڈراموں کا خاصہ بن چکی ہیں۔ ڈراموں کے موضوعات ایسے ہیں کہ وہ ہمارے معاشرے اور ثقافت کے اظہار کے بجائے ایک نیا کلچر پیش کر رہے ہیں۔ ان ہی ڈراموں کے اثرات ہیں کہ معاشرے میں منفی رجحانا ت فروغ پا رہے ہیں۔ وہ سب کچھ دکھایا جا رہا ہے جو پہلے ممنوع ہوا کرتا تھا۔ پاکستانی ڈرامے اس قدر آزاد ہو چکے ہیں کہ اب تو دینی حلقوں کے بجائے ماڈرن طبقات بھی اس پر آواز اٹھا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر پیمرا سے ایسے ڈراموں کو بند کرانے کے مطالبات کئے جا رہے ہیں۔ 

ڈراموں کے موضوعات کے خلاف صدرِ پاکستان عارف علوی کی اہلیہ ثمینہ علوی بھی آواز اٹھا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی ڈراموں میں دکھایا جانے والا مواد اور موضوعات تبدیل ہونے چاہئیں۔ ڈراموں میں کوئی ڈھنگ کی بات نہیں ہوتی، اعتراض کرو تو جواب دیتے ہیں کہ دیگر موضوع ریٹنگ نہیں دیتے۔پاکستان کی معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین مرحومہ بھی موجودہ دور کے ڈراموں سے مطمئن نہیں تھیں، وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ نئے لکھے جانے والوں ڈراموں کے موضوعات عجیب ہو گئے ہیں۔ 

صرف موضوعات ہی متنازع نہیں، اب تو مناظر کی عکسبندی بھی ’’کھُل‘‘ کر کی جا رہی ہے۔ جو چیزیں پہلے ٹی وی پر دکھانے کے لئے ممنوع تھیں اب انہیں بھی دھڑلے سے دکھایا جا رہا ہے۔ طلاق جیسے نا پسندیدہ موضوعات کو ڈراموں کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے موضوعات کو سامنے لانا سراسر غلط ہے، جس طرح پہلے بسوں میں بے ہودہ گانوں کا رواج آیا۔ جب ڈرائیور وںنے دیکھا عوام کا ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا تو گانوں کی جگہ وی سی آر نے لے لی۔ کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے، صرف اور صرف ہماری غفلت کی وجہ سے۔ ہمیں ایسے موضوعات پر آواز اٹھانی چاہیے۔

پیمرا اس حوالے سے متعلقہ چینلز کو نوٹس جاری کرتا رہتا ہے، حال ہی میں بھی ایک ایسا ہی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ جس میں الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ حیا کا مظاہرہ کریں اور اسکرین پر قربت کے مناظر دکھانے سے گریز کریں۔ پیمرا نے تمام ٹی وی چینلز کو یاد دہانی کرائی ہے کہ نامناسب لباس اور قربت کے مناظر، حساس و متنازع موضوعات پر مبنی قابل اعتراض ڈرامے اور واقعات کی غیر ضروری تفصیل نشر نہ کریں۔ پیمرا کے مطابق یہ سب ناظرین کے لیے انتہائی پریشان کن ہے اور عام طور پر قبول شدہ معیار کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے موجودہ رجحانات پر پیمرا کو نہ صرف پاکستان سٹیزن پورٹل (پی سی پی) اور پیمرا شکایات کال سینٹر و فیڈ بیک سسٹم پر عام لوگوں کی جانب سے متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا،واٹس ایپ گروپس پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ پیمرا نے کہا کہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ڈرامے پاکستانی معاشرے کی حقیقی تصویر پیش نہیں کر رہے ہیں۔

چینلز کو جاری کیے گئے ہدایت نامے میں کہا گیا کہ معانقہ، ناجائز تعلقات، بے ہودہ، بولڈ لباس اور شادی شدہ جوڑوں کے تعلق کو گلیمرائز کرنا اسلامی تعلیمات اور پاکستانی معاشرے کی ثقافت کے منافی ہے۔پیمرا نے تمام ٹی وی چینلز کو یاد دہانی کرائی کہ ڈراموں میں ایسے مناظر نشر کرنے سے گریز کرنے اور ’’اِن ہاؤس مانیٹرنگ کمیٹیوں‘‘ کے ذریعے ڈراموں کے مواد کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور مذکورہ تحفظات اور ناظرین کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں ترمیم کی جائے۔ سیٹلائٹ ٹی وی کے لائسنس یافتہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ ڈراموں میں اس طرح کے مواد کو نشر کرنا بند کریں اور پیمرا قوانین پر مکمل طور پر عمل کو یقینی بنائیں۔

(ارشد لئیق سینئر صحافی ہیں، ملک کے موقر جریدوں میں ان کے سیکڑوں مضامین شائع ہو چکے ہیں)

…٭٭…

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)