نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عدالتی حکم پرکل سےموٹروےایم 2پرایم ٹیگ کےبغیرگاڑیوں کےداخلےپرپابندی
  • بریکنگ :- راوی ٹال پلازہ سےجوائن ہونےوالی تمام موٹرویزپرایم ٹیگ کااطلاق ہوگا،آئی جی
  • بریکنگ :- محفوظ سفراورماحولیاتی آلودگی کم کرنےمیں شہری تعاون کریں،آئی جی موٹروےپولیس
Coronavirus Updates

فلموں کی قلت ،سینما شدید بحران کا شکار ،مالکان نے سینما کی بقاء کیلئے 20ورلڈ کپ کا سہارا تلاش کرلیا

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مرزا افتخار بیگ


گئے برسوں میں ملکی اور غیرملکی فلموں کی کامیابیوں نے ایک عرصے سے روٹھے ہوئے سینما گھروں کے شائقین کو واپس لانے میں جو کردار ادا کیا تھا، وہ گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی وباء کورونا اور سرکاری پابندیوں کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گھروں تک محدود ہو جانے والے شائقین نے اپنی تفریح کے ذرائع انٹرنیٹ میں تلاش کر لئے۔ جس کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح فلم انڈسٹری اور سینماانڈسٹری میں بھی شدید معاشی بحران نے جنم لیا۔ فلمیں بننا بند ہوگئیں، جدید سینما انڈسٹری کو فروغ و استحکام دینے کے لئے اربوں روپے کی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری منجمد ہو کر رہ گئی۔جس کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ افراد بیروزگاری کا شکار ہو گئے۔

اب سرکاری سطح پر سینما گھروںکوشوز کی اجازت تو مل گئی مگر کاروباری حالات شدید مندی کا شکار ہیں۔ نئی معیاری فلمیں نہ ہونے کی وجہ سے شائقین سینما گھروں کا رخ نہیں کر رہے، شائقین کی کمی کی وجہ سے سینما مالکان کو اپنے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو رہے ہیں۔

ایسی بحرانی صورتحال میں ’’ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ‘‘ سینما مالکان کے لئے ایک رحمت ثابت ہوا ہے۔ سینما مالکان نے روٹھے ہوئے شائقین کو سینما گھروں تک لانے کے لئے حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے کرکٹ میچز بڑی اسکرین پر دکھانے کے انتطامات کئے ہیں، جن سے ویران سینما گھروں کی رونقیں بحال ہو گئی ہیں۔ پاک بھارت میچ شہر کے مختلف سینمائوں میں خصوصی طور پر لائیو دکھایا گیا۔ جس کے لئے ٹکٹ 500روپے رکھا گیا۔لوگ   بڑی تعداد میں میچ دیکھنے کے لئے سینمائوں کا رخ کر رہے ہیں ۔ اس حوالے سے مقامی سینما کے جنرل منیجر عزیز خٹک نے بتایا کہ تفریح کے لمحات پرجوش بنانے کیلئے میچ دکھائے جا رہے ہیں۔ فلموں کے شوز بھی میچ کے بعد جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ عوام کا سینما بینی کا شوق بحال کریں۔ ہم نے گزشتہ دو برسوں میں سینما انڈسٹری کو زندہ رکھنے کے لئے کروڑوں کا نقصان اٹھایا ہے۔ اس وقت 40 سے زائد فلمیں زیر تکمیل ہیں، اگر فلمساز ان فلموں کو منصوبہ بندی کے ساتھ نمائش کے لئے پیش کریں تو سینما گھروںکی رونقیں بحال ہوسکتی ہیں۔

 سینما اونر ندیم مانڈوی واالاکا کہنا ہے کہ ہم کروڑوں روپے کا نقصان اٹھا چکے ہیں، سرکار کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 

فلمساز حسن ضیاء کا کہنا ہے کہ سینما ہی نہیں فلم انڈسٹری کو بھی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں کوئی بھی فلمساز اپنا کروڑوں روپے کا سرمایہ خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ فلمساز و اداکار ہمایوں سعید نے کہا کہ ہم اس انڈسٹری کو زندہ رکھنے کے لئے اپنے ٹی وی ڈراموں کے شوز سینما گھروں میں رکھ چکے ہیں۔ اب حالات بہتر ہو رہے ہیں، اپنی فلم ’’لندن نہیں جائوں گا‘‘ جلد مکمل کرکے ریلیز کروںگا۔ 

پاکستان فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ امجد رشید نے کہا ہر فلمساز چاہتا ہے کہ اس کی فلم سینما میں اچھے وقت میں ریلیزہو۔ ہم بھی ان کی خواہشات کو مدنظررکھ کر فلموں کا پلان ترتیب دے رہے ہیں۔ سینماگھروںمیں میچز دکھانے کا انتظام برے وقت میں اچھااقدام ہے۔

فلمسازوہدایتکار سیدعاطف علی نے کہا سینمامالکان کا سینما گھروںمیں کرکٹ میچز اور ٹی وی ڈراموں کی آخری قسط دکھانا معاشی حالات کوبہترکرنے کے لئے اچھا فیصلہ ہے۔ اس بحرانی وقت میں اس سے بہتر فیصلہ نہیں ہوسکتا۔

(مرزا افتخار بیگ سینئر شوبز صحافی ہیں، ثقافتی امور پر لکھنے میں  مہارت رکھتے ہیں)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)