نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم سےنارتھ بلوچستان پیکج دینےکی درخواست کی ہے، عبدالقدوس بزنجو
  • بریکنگ :- کوئٹہ: وزیراعظم نے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، عبدالقدوس بزنجو
  • بریکنگ :- وزیراعظم دورویہ سڑکوں کےمنصوبےکاافتتاح کریں گے،وزیراعلیٰ بلوچستان
  • بریکنگ :- صوبائی حکومت امن وامان سے متعلق اقدامات اٹھارہی ہے،عبدالقدوس بزنجو
Coronavirus Updates

عبدالقدوس بزنجو ان۔۔۔جام کمال آوٹ!،آئندہ کیا صورتحال ہوگی!

خصوصی ایڈیشن

تحریر : عرفان سعید


بلوچستان کا سیاسی بحران آخر کار حل ہو گیا ہے۔جام کمال خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے 13 گھنٹے قبل ہی مستعفی ہو گئے ۔وہی جام کمال خان جو خود اور انکے حامی وزراء و ترجمان بارہا یہ کہتے رہے کہ جام کمال خان کسی صورت عدم اعتماد سے قبل مستعفی نہیں ہونگے اور اس تحریک کاجم کر مقابلہ کرینگے ۔اگر ہم جام کمال خان کے خلاف اس تحریک کی تاریخ پر نظر ڈالیں توبلوچستان میں جاری سیاسی بحران کے آثار سب سے پہلے رواں سال جون میں نمایاں ہوئے تھے۔ جب اپوزیشن اراکین نے صوبائی اسمبلی کی عمارت کے باہر کئی دنوں تک جام کمال خان کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام تھا کہ صوبائی حکومت نے بجٹ میں ان کے حلقوں کیلئے ترقیاتی فنڈز مختص نہیں کئے ۔جس کے بعد یہ احتجاج بحرانی شکل اختیار کر گیا اور بعد میں پولیس نے احتجاج کرنے والے حزب اختلاف کے 17اراکین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

 گزشتہ ماہ ستمبر میں اپوزیشن کے 16اراکین اسمبلی نے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تاہم گورنر ہاؤس سیکرٹریٹ نے تکنیکی وجوہات کے سبب تحریک عدم اعتماد بلوچستان اسمبلی کو واپس کر دی تھی ۔اس ماہ کے اوائل میں بلوچستان اسمبلی میں بی اے پی کے 14اراکین اسمبلی کے دستخط کی حامل تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کرائی گئی۔ جام کمال کو اپنی پارٹی کے ناراض اراکین کی مستقل تنقید کاسامنا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ حکومت کے امور چلانے کیلئے ان سے مشاورت نہیں کرتے تاہم اسلام آباد سے آئے چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کئی گھنٹے کی طویل ملاقاتیں کیں اور وزیراعلیٰ جام کمال خان کو مستعفی ہو جانے پر قائل کر لیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق جام کمال کے خلاف بی اے پی اور اپوزیشن اراکین کے پاس مطلوبہ تعداد سے بھی کئی گنا زیادہ حمایت ہونے کے باوجود بھی انکا اپنے موقف پر ڈٹے رہنا حیرت کے علاوہ کچھ نہیں تھا کیونکہ بی اے پی اور اپوزیشن اراکین کی تعداد 38تک جا پہنچی تھی۔ بلوچستان اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے واحد رکن اسمبلی سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری اور آزاد رکن سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی حمایت کے بعد یہ تعداد 40ہو گئی تھی۔ اسمبلی میں رائے شماری کے دوران انہیں محض 33 اراکین کی حمایت حاصل کرنا تھی ۔

 جام کمال خان کے استعفیٰ کے بعد بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں بی اے پی کے اکثریتی اراکین نے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد واپس لے لی ۔ اسی روز اسپیکر قدوس بزنجو جنہیں بی اے پی کی جانب سے اگلے وزیراعلیٰ کا امیدوار منتخب کیا گیا نے بھی اسپیکر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔حکومت کے خاتمے کے بعد صوبے میں ایک بار پھر سیاسی ہلچل پیدا ہوئی اور نئی حکومت کے قیام کے حوالے سے ہرسیاسی کیمپ میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں ۔جام کمال خان کے حمایتی اراکین جو ایک روز قبل تک جام کمال خان کی حمایت کا اعلان کر رہے تھے آہستہ آہستہ قدوس بزنجو کے کیمپ میں جانے کے لئے پرتولنے لگے ۔پی ٹی آئی کے مبین خلجی، بی اے پی کے ربابہ بلیدی،خلیل جارج اور سردار مسعود لونی کے بعد ایک ایک کر کے قدوس بزنجو کی حمایتی اراکین کے ناموں میں اضافہ ہونے لگا ۔ پھر رات گئے منظر اس وقت تبدیل ہوگیا جب چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور پی ٹی آئی کے اہم رہنماء وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک اسلام آباد سے ہنگامی دورے پر کوئٹہ پہنچے اور ان کی کاوشوں سے پی ٹی آئی اور جام کمال کے حمایتی ارکان کو اکٹھا کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اپنی اپنی جماعتوں کے ارکان کو اکٹھا کرکے قدوس بزنجو کے کیمپ میں کھڑا کردیا۔ اسی رات ہنگامی پریس کانفرنس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وفاقی وزیر پرویز خٹک، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، صدر بلوچستان عوامی پارٹی ظہور بلیدی نے عبدالقدوس بزنجو کا نام وزارت اعلیٰ جبکہ میر جان جمالی کو اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیلئے نامزد کرنے کا اعلان کیا ۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا بلوچستان میں ایک ماہ سے سیاسی بحران تھا آج اس بحران کا خاتمہ ہوا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ہم سب یہاں آئے ہیں سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان کی بھی خواہش تھی کہ تمام ممبرز اکھٹے ہو جائیں اور پارٹی کو بچائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی خواہش ہے کہ بلوچستان ترقی کرے ۔بلوچستان عوامی پارٹی کے قائم مقام صدر ظہور بلیدی کا کہنا تھا جام کمال نے پارٹی بچانے کیلئے بہترین کردار ادا کیا ۔ وفاقی وزیر پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم پہلے بھی بلوچستان عوامی پارٹی کے اتحادی تھے اور مستقبل میں بھی اتحاد میں رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ کے نامزد امیدوار عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا بلوچستان کی ترقی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا ۔ بلوچستان ایک وسیع صوبہ ہے مسائل بھی زیادہ ہیں۔ بلوچستان کے مسائل کیلئے مل کر کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کا مشترکہ وزیراعلیٰ ہوگا۔ انہیں اپوزیشن سمیت تمام پارلیما نی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ ایک مثالی حکومت بناکر صوبے کے عوام کی خدمت کریں گے۔

 بی اے پی کے اکثریتی اراکین کا کہنا ہے کہ اس بار صوبے میں ایسی حکومت کے قیام کو یقینی بنائیں گے کہ جس میں سب ملکر بلوچستان کی تعمیر وترقی کے لئے کردار ادا کریں ۔یہی وجہ ہے کہ عبدالقدوس بزنجو سمیت دیگر پارٹی ممبران نے بلوچستان کی ہر جماعت سے ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے لئے قدوس بزنجواور اسپیکر کے لئے پارٹی کے سینئر ممبر جان محمد جمالی کے علاوہ وہ تمام اراکین جنہوں نے جام کمال مخالف تحریک میں بھرپور ساتھ دیاانہیں نئی کابینہ میں اہم وزارتیں ملنے کاا مکان ہے۔ ان میں سرفہرست سردار عبدالرحمن کھیتران ،ظہور بلیدی، سردار صالح بھوتانی ، اسد بلوچ ،نصیب اللہ مری بشریٰ رند، اکبر آسکانی سمیت دیگر اراکین شامل ہیں۔جبکہ سابقہ جام کمال حکومت میں شامل اتحادیوں کو بھی ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

شمس العلما مولانامحمدشبلی نعمانی علی گڑھ کالج کا مایہ افتخارہیں۔ وہ فروری 1883ء سے اواخر 1898ء تک اس تاریخی درس گاہ سے وابستہ رہے۔ وہ یہاں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کیلئے قائم کی گئی مجلس ’’لجنۃ الادب‘‘ کے نگران تھے۔ کم و بیش 16 سال کی اس مدت میں انھوںنے بہت سی جماعتوں کو درس دیا اور کئی نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ علی گڑھ میں ان کے دامن تربیت اور خوانِ علم و فضل سے وابستہ رہنے والوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حمیدالدین فراہی، مولوی عزیز مرزا، خواجہ غلام الثقلین، مولوی عبدالحق، سید محفوظ علی بدایونی، ڈاکٹر سرضیاء الدین اور چودھری خوشی محمد ناظر جیسے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلۃ الذہب میں مولانا ظفر علی خان کا نام بھی شامل ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ مولانا شبلی کے تلامذہ میں قومی سطح پر خدمات انجام دینے والوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ظفر علی خان 1892ء میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد 1893ء میں علی گڑھ میں داخل ہوئے اور انھوںنے 1895ء میں فسٹ ڈویژن میںبی اے کا امتحان پاس کیا۔

فیوڈل فینٹسی

ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

گرد ملال

ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔