نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وفاقی حکومت اور 16ہزاربرطرف ملازمین کی نظرثانی اپیلوں پرسماعت
  • بریکنگ :- جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجربنچ نےسماعت کی
  • بریکنگ :- آئی بی سےبرطرف ملازمین کےوکیل اعتزازاحسن کےدلائل
  • بریکنگ :- 1996 میں نگران حکومت نےہمیں نوکریوں سےنکالا،بیرسٹراعتزازاحسن
  • بریکنگ :- چندملازمین کی 11سال بعدبحالی دوسروں کااستحصال نہیں،جسٹس منصورعلی
  • بریکنگ :- 10سال بغیرنوکری کیےتنخواہ اورمراعات کیسےدی جاسکتی ہیں؟عدالت
  • بریکنگ :- ہم غیرقانونی طریقےسےبھرتی ہوتےتوپھرمراعات لیناغلط تھا،اعتزازاحسن
  • بریکنگ :- سینئرسرکاری ملازم 10سال تک سروس کرےتوپنشن کاحقدارہوتاہے،وسیم سجاد
  • بریکنگ :- جونیئرسرکاری افسر 15سال تک سروس کرےتوپنشن کاحقدارہوتاہے،وسیم سجاد
  • بریکنگ :- نگران حکومت نےنوکریوں سےدرست نکالایاغلط؟یہ فیصلہ ہوچکا،جسٹس عمرعطا
  • بریکنگ :- نظرثانی کیس میں اس معاملےکونہیں دیکھ سکتے،جسٹس عمرعطابندیال
  • بریکنگ :- پہلےآرڈیننس بعدمیں ایکٹ آیا،آپ اس پردلائل دیں،جسٹس عمرعطابندیال
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ قراردےچکی کہ ملازمین کونکالنےکاعمل درست تھا،جسٹس منصورعلی
  • بریکنگ :- سیکڈایمپلائزایکٹ کالعدم قراردینےکیخلاف کیس کامعاملہ
Coronavirus Updates

بلدیاتی انتخابات: سیاسی جوڑ توڑ عروج پر

خصوصی ایڈیشن

تحریر : عابد حمید


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مہنگائی میں کمی لانے کیلئے کئی بار اعلان کرچکے ہیں لیکن صوبے کی موجودہ معاشی صورتحال میں ان اعلانات پر عملدرآمد مشکل ہے ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی معاشی ٹیم کی کارکردگی بھی اس حوالے سے کچھ خاص نہیں ۔موجودہ حکومت میں کئی پالیسیاں تو بنائی گئی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ ایک قانون ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کیلئے بھی پاس کیاگیاتھا جس کی بڑی شدومد سے تشہیر بھی کی گئی تھی لیکن اس قانون کے تحت ابھی تک کوئی بڑی کارروائی نہیں کی جاسکی۔ موجودہ حالات میں ذخیرہ اندوزوں کے بھی وارے نیارے ہیں۔ مہنگائی کے باعث نہ صرف وفاقی بلکہ صوبائی حکومت کی بھی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔

اسی ہنگامی صورتحال میں خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان بھی کردیاگیا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے مسلسل ٹال مٹول ،حیل وحجت اور مختلف تاویلیں دینے کے باوجود الیکشن کمیشن نے 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا شیڈول دے دیا ہے۔ صوبائی حکومت چاہتی تھی کہ عوام کو قدرے ریلیف دینے کے بعد یہ انتخابات کرائے جائیں لیکن الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے مزید وقت دینے کیلئے تیار نہیں ۔موجودہ حالات کا یقینا ان انتخابات پر بھی اثر پڑے گا اور اپوزیشن جماعتیں اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیں گی۔

 الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق 4 نومبر سے کاغذات نامزدگی وصول کئے جاسکیں گے ۔ 23 نومبر کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کئے جائیں گے جبکہ 19 دسمبر کو پولنگ ہوگی ۔خیبرپختونخوا حکومت چاہتی تھی کہ پہلے مرحلے میں ویلج اور نیبر ہوڈ کونسل کے انتخابات منعقد کئے جائیں اور دوسرے مرحلے میں تحصیل کونسل کے انتخابات ہوں گے۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو مراسلہ بھی ارسال کیاگیاتھا جس میں کافی وجوہات کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا اور ایک ہی دن ویلج اور نیبر ہوڈ کونسل میں الیکشن کرانے کا اعلان کردیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صوبے میں ضلعی حکومتوں کی معیاد 28 اکتوبر 2019ء کو ختم ہوگئی تھی۔ لیکن آبادی کے سرکاری اعدادوشمار کی اشاعت کے علاوہ کورونا کے باعث تاحال الیکشن نہ ہوسکے۔ الیکشن کمیشن نے البتہ صوبائی حکومت کی اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ بقیہ ماندہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات سولہ جنوری 2022ء کو ہوں گے ۔پہلے مرحلے میں 19 دسمبر کو 17 اضلاع میں یہ انتخابات ہونے ہیں۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن پہلے مرحلے میں 17 اضلاع میں ویلیج اور نیبر ہوڈ کونسل کے ساتھ تحصیل کونسل کے انتخابات بھی کراناچاہتی ہے تاکہ ایک ہی ضلع میں دو دو بار انتخابات کے جھنجھٹ سے بچا جاسکے ۔صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن کے مابین اس حوالے سے کافی عرصے سے تنازعہ چلاآرہاتھا جس کا اب اختتام ہوتا نظر آرہا ہے۔ 

ویلج اور نیبر ہوڈ کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہورہے ہیں لیکن امیدوار یقینا سیاسی جماعتوں کی حمایت سے ہی کھڑے ہوں گے جس کیلئے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ اس سے قبل کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں کافی ہلچل دیکھنے میں آئی تھی اور امید کی جارہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں بھی ایسی ہی سرگرمی ہوگی اور شہری بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے باہر نکلیں گے۔ عوام کو بھی اس بات کا احساس ہوچلا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کتنی ضروری ہے ۔اصل معرکہ تحصیل کونسل کے انتخابات میں ہوگا جس کیلئے سیاسی جماعتیں امیدوار ڈھونڈ رہی ہیں ۔تجزیہ کاروں کی نظریں اس وقت ضلع نوشہرہ پر بھی ہیں جہاں پرویز خٹک خاندان کے مابین تنازعہ چلاآرہا ہے۔ اگرچہ کہاجارہا ہے کہ پرویزخٹک اور ان کے بھائی لیاقت خٹک کے مابین صلح ہوگئی ہے اور اختلافات ختم ہوگئے ہیں لیکن بیل پھر بھی منڈے چڑھتی نظر نہیں آرہی۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ لیاقت خٹک اپنے بیٹے کے ساتھ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرنے جارہے ہیں ۔

اس حوالے سے کافی ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں ذرائع کا کہناہے کہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ لیاقت خٹک میڈیا کے سامنے آکر باضابطہ طورپر پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کریں جس کے بعد ان کی ملاقات آصف زرداری سے بھی کرائی جائے گی ۔اگرچہ ابھی تک خٹک خاندان نے اس کی تصدیق نہیں کی ۔لیاقت خٹک کے پیپلزپارٹی میں شامل ہونے سے تحریک انصاف کو نوشہرہ میں ضرور دھچکا لگے گا جس کا عملی مظاہرہ ضمنی انتخابات میں اسی حلقے سے مسلم لیگ( ن) کے امیدوار اختیار ولی کی فتح اور پی ٹی آئی کے امیدوار کی شکست سے سامنے آچکا ہے ۔لیاقت خٹک مقامی سطح پر اپنے بھائی پرویزخٹک کی نسبت زیادہ مقبول ہیں ۔پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق لیاقت خٹک علاقے کے تنازعات کے حل کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ پرویزخٹک کی نسبت تنظیمی طورپر بھی وہ زیادہ مضبوط ہیں اور تمام امور وہی دیکھتے ہیں۔

 اے این پی اور جے یو آئی کی بھی بھرپور تیاریاں جاری ہیں ،البتہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی جیسی بڑی جماعتیں فی الحال کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھارہیں ۔یہ تحریک انصاف کیلئے بھی ایک اچھا موقع ہے کہ ان دو جماعتوں کی عدم دلچسپی سے بھرپورفائدہ اٹھائے اور زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرے ۔مہنگائی اور دیگر مسائل کے باوجود تحریک انصاف ابھی بھی یہاں مقبول ترین جماعت ہے اگرچہ اب مقبولیت میں قدرے کمی آئی ہے لیکن پھر بھی یہاں پی ٹی آئی کو پچھاڑنا اپوزیشن کیلئے زیادہ آسان نہیں ہوگا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ سیاسی جماعتیں کس لائحہ عمل کے تحت میدان میں آتی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

شمس العلما مولانامحمدشبلی نعمانی علی گڑھ کالج کا مایہ افتخارہیں۔ وہ فروری 1883ء سے اواخر 1898ء تک اس تاریخی درس گاہ سے وابستہ رہے۔ وہ یہاں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کیلئے قائم کی گئی مجلس ’’لجنۃ الادب‘‘ کے نگران تھے۔ کم و بیش 16 سال کی اس مدت میں انھوںنے بہت سی جماعتوں کو درس دیا اور کئی نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ علی گڑھ میں ان کے دامن تربیت اور خوانِ علم و فضل سے وابستہ رہنے والوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حمیدالدین فراہی، مولوی عزیز مرزا، خواجہ غلام الثقلین، مولوی عبدالحق، سید محفوظ علی بدایونی، ڈاکٹر سرضیاء الدین اور چودھری خوشی محمد ناظر جیسے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلۃ الذہب میں مولانا ظفر علی خان کا نام بھی شامل ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ مولانا شبلی کے تلامذہ میں قومی سطح پر خدمات انجام دینے والوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ظفر علی خان 1892ء میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد 1893ء میں علی گڑھ میں داخل ہوئے اور انھوںنے 1895ء میں فسٹ ڈویژن میںبی اے کا امتحان پاس کیا۔

فیوڈل فینٹسی

ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

گرد ملال

ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔