نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کھیلوں کے حوالے سے اداروں کی بہت خدمات ہیں، عثمان ڈار
  • بریکنگ :- نوجوان کھیلوں میں ملک کا نام روشن کررہےہیں،عثمان ڈار
  • بریکنگ :- ہم سب مل کر نوجوانوں کو کھیلوں کےمواقع فراہم کریں گے،عثمان ڈار
Coronavirus Updates

شہباز شریف کی پر اسرار ملاقاتیں۔۔حقیقت کیا ہے؟

خصوصی ایڈیشن

تحریر : سلمان غنی


حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایشوز کے حوالے سے وہی پہلی سی کیفیت، وہی ڈیڈ لاک کی کیفیت طاری ہے۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیاں جن کے وجود کا مقصد قومی و عوامی مسائل کے حوالے سے سفارشات اور حکومت کیلئے ان پر عملدرآمد کا موقع ہوتا ہے لیکن اس حوالے سے بھی کوئی سنجیدگی اور یکسوئی نظر نہیں آتی ہے ۔ عام تاثر یہ ہے کہ اگر ایوانوں کے اندر قوم و ملک کو در پیش مسائل اور دیگر خارجی اور داخلی ایشوز پر سیر حاصل بحث ہو تو یقینا مسائل کے حل میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔ سیاسی اتار چڑھائو اور جمہوری امور پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر جمہوریت اور جمہوری عمل کو چلنا ہے تو سیاسی قوتوں کو ہر مسئلہ پر پارلیمنٹ کو بروئے کار لانا ہوگا اور خود اپوزیشن کو بھی پارلیمنٹ کا رخ کرنا پڑے گا۔

 جہاں تک اسمبلیوں کے اندر سے تبدیلی کے عمل کا سوال ہے تو سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہ خالصتاً نمبر گیم کا عمل نہیں رہا اس کو ممکن بنانے کیلئے کچھ اور عوامل بھی کارگر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ہائوس تبدیلی کے حوالے سے کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں۔ جہاں تک پنجاب میں ان ہائوس تبدیلی کے عمل کا سوال ہے اور یہاں مسلم لیگ (ن) جیسی بڑی جماعت پر پیپلز پارٹی اور دیگر کے دبائو کا تعلق ہے تو مسلم لیگ( ن) کی لیڈر شپ اسے خارج از امکان تو نہیں سمجھتی لیکن فی الحال ان کا مؤقف یہ ہے کہ اب عام انتخابات میں آدھے سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے اور خود حکمران جماعت اپنی کارکردگی کے حوالے سے ایکسپوز ہو گئی ہے تو کیا ہم کسی سیاسی تبدیلی کے نتیجہ میں وہ بوجھ اٹھا پائیں گے جو حکومت کی کارکردگی کی بنا پر عوام پر پڑا ہے۔اس حوالے سے جب پنجاب میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز سے بات کی گئی تو ان کا یہ کہنا تھا کہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ان ہائوس تبدیلی آئینی و جمہوری عمل ہے اور سیاسی تبدیلی میں اس کا کردار اہم ہے مگر مسلم لیگ (ن) نے فی الحال ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ البتہ اعلیٰ سطحی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ حکومتی کارکردگی پر شدید تحفظات کے باوجود جمہوریت، جمہوری عمل سے چلتی ہے اور اگر واقعتاً تبدیلی کا آپشن ناگزیر بھی ہوا تو یہ ایوان کے اندر سے آ سکتی ہے۔ باہر سے تبدیلی کے امکانات اب ماضی کا حصہ ہیں اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ملک میں سیاسی تبدیلی کیلئے کسی بڑی تحریک کے نتیجہ میں حکومت کو چلتا کیا جا سکتا ہے تو یہ بھی کسی کی بھول ہے۔ 

 اگر زمینی حقائق کا اندازا لگایا جائے تو بڑھتی ہوئی مہنگائی نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں۔اپوزیشن اور خصوصاً پی ڈی ایم کے جانے کے باوجود بھی لوگ سڑکوں پر آنے کی پوزیشن میں نہیں اورپی ڈی ایم کی لیڈر شپ اور جماعتیں محض اب احتجاجی جلسوں اور احتجاجی بیانات پر ہی اکتفا کئے ہوئے ہیں ۔جہاں تک مسلم لیگ( ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی اسلام آباد اور راولپنڈی میں بعض اہم ملاقاتوں کی افواہوں کا تعلق ہے تو شہباز شریف کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو وہ ہمیشہ سے ڈائیلاگ کے حامی رہے ہیں۔ خصوصاً ملکی اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی اداروں کے حوالے سے ان کی رائے رہی ہے کہ ان سے محاذ آرائی اور تنائو کی کیفیت ملکی مفاد میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب جبکہ مسلم لیگ( ن) کی سیاست کو مزاحمت سے جوڑا جاتا ہے تو تب بھی اس پارٹی کے صدر شہباز شریف اپنے مفاہمتی طرز عمل پر پسپائی اختیار کرنے کو تیار نہیں۔  یہی وجہ ہے کہ وہ ملک کو در پیش بحرانی کیفیت سے نجات کا حل احتجاجی تحریک کو قرار دینے کی بجائے فوری آزادانہ اور شفاف انتخابات کی بات کرتے نظر آتے ہیں ۔لہٰذا وہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کیلئے نہ صرف کہ ’’ملاقاتوں‘‘ کو ناگزیر سمجھتے ہیں بلکہ اس کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

 یہ بات ضرور ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست میں نواز شریف کے بیانیہ کو ان کی صاحبزادی مریم نواز جرأت مندانہ انداز میں آگے لے کر بڑھ رہی ہیں اور حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ملک میں سول بالادستی اور خصوصاً آئین اور قانون کی بات کرتی ہیں اور موجودہ حکومت اور وزیراعظم عمران خان کو ٹارگٹ کرتی نظر آتی ہیں۔ مسائل زدہ عوام کے اندر ایک غم و غصہ ہے اور خود مسلم لیگی کارکن بھی اپنی لیڈر شپ سے روا رکھے جانے والے سلوک پر رد عمل کی کیفیت میں ہیں۔ لہٰذا وہ مریم نواز کو اپنی آواز سمجھتے ہوئے اس پر لبیک کہتے نظر آتے ہیں لیکن سیاست میں جلسے جلوسوں اور احتجاج کی ایک اپنی اہمیت اور حیثیت ہوتی ہے اور رائے عامہ کو ہموار کرنے میں بھی یہ معاون بنتے ہیں لیکن بالآخر سیاسی میدان میں مقاصد کے حصول کیلئے سنجیدگی اور مؤثر حکمت عملی کا تعین ضروری ہوتا ہے۔ جب تک مسلم لیگ (ن) کے اندر بیانیہ کی جنگ کا خاتمہ نہیں ہوتا اور ملکی حالات اور آنے والے انتخابات پر یکسوئی اور سنجیدگی اختیار نہیں کی جاتی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلم لیگ (ن) اپنے مقاصد میں کامیاب رہے گی۔ عدالت عظمیٰ کے دبائو کے پیش نظر پنجاب حکومت نے بلدیاتی ادارے تو منتخب اراکین کے سپرد کر دئیے ہیں، انہیں دفاتر اور دیگر سہولتیں بھی مہیا کر دی ہیں۔ اب جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پختونخوا کیلئے  بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دے دی گئی ہے تو پنجاب میں بھی انہیں خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا اور اگر عام انتخابات سے قبل بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن بن پاتا ہے تو یہ حکومت کیلئے بڑا امتحان ہو گا اور اس کے اثرات آنے والے عام انتخابات پر ضرور ظاہر ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے سیاسی جماعتوں میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ہل جل شروع ہو چکی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

شمس العلما مولانامحمدشبلی نعمانی علی گڑھ کالج کا مایہ افتخارہیں۔ وہ فروری 1883ء سے اواخر 1898ء تک اس تاریخی درس گاہ سے وابستہ رہے۔ وہ یہاں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کیلئے قائم کی گئی مجلس ’’لجنۃ الادب‘‘ کے نگران تھے۔ کم و بیش 16 سال کی اس مدت میں انھوںنے بہت سی جماعتوں کو درس دیا اور کئی نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ علی گڑھ میں ان کے دامن تربیت اور خوانِ علم و فضل سے وابستہ رہنے والوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حمیدالدین فراہی، مولوی عزیز مرزا، خواجہ غلام الثقلین، مولوی عبدالحق، سید محفوظ علی بدایونی، ڈاکٹر سرضیاء الدین اور چودھری خوشی محمد ناظر جیسے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلۃ الذہب میں مولانا ظفر علی خان کا نام بھی شامل ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ مولانا شبلی کے تلامذہ میں قومی سطح پر خدمات انجام دینے والوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ظفر علی خان 1892ء میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد 1893ء میں علی گڑھ میں داخل ہوئے اور انھوںنے 1895ء میں فسٹ ڈویژن میںبی اے کا امتحان پاس کیا۔

فیوڈل فینٹسی

ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

گرد ملال

ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔