نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سکردو:وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالدخورشیدکی پریس بریفنگ
  • بریکنگ :- آرٹیکل ون میں شامل ہوئےبغیرگلگت بلتستان بااختیارصوبہ بنےگا،خالدخورشید
  • بریکنگ :- جی بی کیلئےقومی اسمبلی میں چار،سینیٹ میں 8نشستیں مختص ہوں گی،وزیراعلیٰ
  • بریکنگ :- جی بی سےمنتخب قومی اسمبلی ممبروزیراعظم پاکستان بھی بن سکتاہے،خالدخورشید
  • بریکنگ :- عبوری آئینی صوبےکیلئےوفاق کی اپوزیشن جماعتوں سےتعاون کی امیدہے،وزیراعلیٰ
  • بریکنگ :- گلگت بلتستان میں لینڈریفارمزکمیشن بنایاگیاہے،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان
  • بریکنگ :- لینڈمافیااورمحکمہ مال کےکرپٹ اہلکاروں کونشان عبرت بنائیں گے،خالدخورشید
  • بریکنگ :- 5 سال میں نیاگلگت بلتستان دےکرجائیں گے،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان
  • بریکنگ :- 150 میگاواٹ بجلی کےمنصوبوں پرکام شروع کردیا،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان
  • بریکنگ :- ہرضلع کےاسپتالوں میں آئی سی یوبنائیں گے،وزیراعلیٰ خالدخورشید
  • بریکنگ :- سکردو:2میڈیکل کالجزبھی قائم کیےجائیں گے،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان
Coronavirus Updates

بلدیاتی انتخابات : حکومت و اپوزیشن تذبذب کا شکار

خصوصی ایڈیشن

تحریر : عابد حمید


حکومت راضی نہ اپوزیشن کی تیاری ۔ اپوزیشن جس نے صرف مظاہروں ،دھرنوں اور لانگ مارچ کی تیاری کررکھی تھی وہ اچانک انتخابات سر پرآنے پر پریشان ہوگئی ۔دوسری جانب حکومت کے بھی ہاتھ پیر پھول گئے جو پہلے ہی مہنگائی کے بے قابو جن کی چھیر چھاڑ سے پریشان ہے۔ ایک طرف عوام پٹرولیم مصنوعات کی بے تحاشابڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہیں تو دوسری طرف اشیائے خورونوش کی خریداری کیلئے بھی اب اچھی خاصی رقم درکار ہوتی ہے۔ ایسے میں لوگوں کے پاس ووٹ مانگنے کیلئے کیسے جائیں ؟یہ وہ سوال ہے جو خیبرپختونخواحکومت کیلئے پریشا نی کا سبب بنا ہوا ہے ۔

 ہر ویلج اور نیبر ہوڈ کونسل میں تین تین جنرل نشست ہیں اب تین جنرل نشستوں کیلئے امیدواروں کو ڈھونڈنا اور انہیں ٹکٹ دینا بھی پی ٹی آئی کیلئے ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ جس کا حل پارٹی نے یہ نکالا ہے کہ جن حلقوں میں ٹکٹ پر جھگڑے چل رہے ہیںوہاں ٹکٹ ہی نہ دیاجائے اور ان امیدواروں کوآزاد انتخابات لڑنے کا کہاگیا ہے ،جیتنے کی صورت میں یہ پارٹی جوائن کرسکتے ہیں۔

 مئیر پشاور کے ٹکٹ کیلئے بھی سخت مقابلہ ہوا لیکن قرعۂ فال بالآخر رضوان بنگش کے نام نکلا،ٹکٹوں کی تقسیم پر یہ اختلافات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ایک سابق وزیر اور ایک موجودہ وفاقی وزیر بھی آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سابق صوبائی وزیر ایم پی اے ہشام انعام اللہ نے اپنے حلقے لکی مروت میں بلدیاتی انتخابات کے ٹکٹوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ محمود خان اور وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیاہے کہ لکی مروت میں غیر متعلقہ افراد کو ٹکٹ دیئے گئے ہیں اور ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے ٹکٹوں کی تقسیم کا الزام وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور پر لگایا ہے ۔

نوشہرہ میں بھی یہی صورتحال ہے جہاں پرویزخٹک کے بھائی لیاقت خٹک گزشتہ ہفتے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ سٹیج پر نظر آئے ۔ لیاقت خٹک نہ صرف ایم پی اے ہیں بلکہ وہ موجودہ کابینہ کا حصہ بھی رہ چکے ہیں ۔ اب  بلدیاتی انتخابات سے قبل یہ اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔اب امکان اس بات کا ہے کہ پرویزخٹک اور لیاقت خٹک کے فرزند آمنے سامنے ہوں لیاقت خٹک کے بیٹے کی فتح کی صورت میں یقینا پیپلزپارٹی کو فائدہ ہوگا جبکہ پرویزخٹک کے ہارنے کی صورت میں انہیں پارٹی کے اندر اور سیاسی طورپر بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

بلدیاتی انتخابات میں نوشہرہ کا حلقہ مرکز نگاہ ہوگا اور یہاں ہونے والی فتح مستقبل کی سیاست کارخ واضح کرے گی۔اس وقت پیپلزپارٹی بھی ایک پسندیدہ جماعت بن گئی ہے اورموسمی سیاسی پنچھیوں کا رخ بھی آئندہ چند ماہ میں اس جماعت کی طرف ہوسکتا ہے اورن ان موسمی سیاستدانوں کی نظریں بھی بلدیاتی انتخابات پر ہیں۔یہ انتخابات حکومت اور اپوزیشن دونوں کیلئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ انتخابات کی صورت میں عوام کو باہر نکالنے کیلئے لائحہ عمل بنایاجارہا ہے۔

 دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت بلدیاتی قوانین میں ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ترامیم کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرچکی ہے ۔ابتداء میں نئے بلدیاتی قانون کے تحت ویلیج اور نیبر ہوڈ کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے تھے لیکن ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد اب یہ جماعتی بنیادوں پر منعقد کئے جائیں گے۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد بلدیاتی قوانین میں ترامیم ضروری ہیں اور قانون سازی کیلئے انہیں مزید وقت چاہئے۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر جمی ہوئی ہیں جہاں آج 25نومبر کو اس حوالے سے کیس کی سماعت ہوگی اور اس کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ بلدیاتی انتخابات 19 دسمبر کو ہونے جارہے ہیں یا نہیں ؟

الیکشن کمیشن نے انتخابات کے حوالے سے اپنی تیاری مکمل کررکھی ہے جو اس میں مزید تاخیر نہیں چاہتی۔ نئے بلدیاتی نظام پر اگر طائرانہ نگاہ دوڑائی جائے تو یہ گزشتہ نظام سے کچھ مختلف ہے ۔یہاں ضلعی نظامت کا عہدہ ختم کردیاگیا ہے اور تحصیل ناظم کی نشست کومیئر کے نام کے ساتھ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ویلیج اور نیبر ہوڈ کونسل میں تین تین جنرل نشستیں رکھی گئی ہیں جن میں سب سے زیادہ  ووٹ لینے والا چیئرمین تصور کیا جائے گا۔ یہ چیئرمین ٹاؤن کونسل کا ممبر بھی ہوگا ،پہلے مرحلے میں17 اضلاع میں انتخابات ہورہے ہیں جن میں 63تحصیلوں سمیت 423نیبر ہوڈ اور 1936ویلیج کونسل ہیں۔نئے قانون کے تحت خیبرپختونخوا میںمجموعی طورپر 6 سٹی کونسل بنائے جائین گے ۔ہر سٹی کونسل کا ایک میئر بلدیاتی انتخابات میں منتخب ہوگا ۔سٹی کونسل ایبٹ آباد، مردان، سوات، کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی میں بنائے جائیں گے۔ جبکہ پشاور میں میٹروپولیٹن سٹی کونسل ہوگی ۔اسی طرح ہر نیبر ہوڈ اور ویلیج کونسل سے تین تین جنرل کونسلر،ایک ویمن ،ایک اقلیت ،ایک کسان اور یوتھ کونسلر منتخب ہوں گے ۔تحصیل چیئرمین، تحصیل کونسل کا سربراہ ہوگا، تحصیل کونسل کیلئے ممبران ویلج کونسل اور نیبر ہوڈ کونسل سے منتخب کئے جائیں گے۔ 

نیبر ہوڈ اور ویلیج کونسل کے چیئرمین سمیت 33فیصد خواتین کونسلر،5 فیصداقلیت،5 فیصد یوتھ،اور 5 فیصد کسان کونسلر منتخب کئے جائیں گے۔ تحصیل کونسل کیلئے ممبران کے مابین ووٹنگ کی جائے گی ۔تحصیل کونسل کنونیئر بھی صرف جنرل نشست سے ہی منتخب کیاجاسکے گا۔پشاور سٹی کونسل میں 7 تحصیلیں بنائی گئی ہیں جہاں انتخابات ہوں گے۔ موجودہ بلدیاتی نظام قدرے پیچیدہ ہے۔  نئے نظام میں چیئرمین کو کافی اختیارات دیئے گئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے اچھے اور تگڑے امیدوار بھی ان انتخابات کے دنگل میں کود پڑے ہیں ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس، پاکستان میں ذیابیطس خطرناک ، پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا،ماہرین سر جوڑ بیٹھے

ملک میں’’ خاموش قاتل ‘‘ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، عوام الناس کی جانب سے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے اعدادو شمار خطرناک ہوتے جارہے ہیں۔ماہرین امراض ذیابیطس کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ ہوگئی ہے ۔اس تشویش ناک صورتحال کے باعث ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ماہرین ذیابیطس کا کہنا ہے کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم اس طرح کا نہیں ہے کہ ہم کروڑوں کی تعداد میں ذیابیطس کے شکار مریضوں کا علاج کرسکیں تاہم مستقل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو ذیابیطس کے موذی مرض سے بچنے کے لئے عوام آگاہی پھیلائی جائے تاکہ عوام الناس اس مرض سے بچ سکیں اور دوسروں کو اس سے بچانے کا ذریعے بھی بن سکیں۔ہر سال 14 نومبر کو ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ مختلف سیمینارز ،پریس کانفرنسز ،واک اور تشہیری مہمات چلاکر ذیابیطس سے بچاؤ کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔اس سلسلے میں شہر قائد میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر انتظام عالمی سطح کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ملک کے نامور ماہر امراض ذیابیطس نے شرکت کی جبکہ بیرون ممالک کے ماہرین نے کانفرنس میں ویڈیو کے ذریعے ذیابیطس سے بچاؤ کے حوالے سے اپنے پیغام عوام تک پہنچائے۔

11ماہ بعد رنگ میں فاتحانہ واپسی ایک اور ٹائٹل باکسر محمد وسیم کے نام قومی باکسر نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ سلور بیلٹ میں کولمبیئن فائٹر کو ہرایا

مایہ ناز پاکستانی باکسر محمدوسیم نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ ورلڈ کا ٹائٹل اپنے نام کر کے ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم سر بلند کر دیا۔ قومی ہیرو نے اپنے سے کہیں زیادہ تجربہ کار کولمبین باکسر رابرٹ بریرا کو باکسنگ کے مقابلے میں شکست سے دوچار کیا اور ڈبلیو بی سی فلائی ویٹ ورلڈ سلور بیلٹ چیمپئن بن گئے۔ دبئی کے باکسنگ ایرینا میں ہونے والے مقابلے میں12رائونڈز پر مشتمل فائٹ میں ججز نے محمد وسیم کو فاتح قرار دیا۔ مقابلے میں فتح حاصل کرنے پر پاکستانی باکسر محمد وسیم نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،اس فائٹ کیلئے بہت محنت کی۔محمد وسیم نے فائٹ جیتنے پر اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا۔ دونوں باکسرز کے درمیان یہ بائوٹ فلائی ویٹ کیٹیگری میں ہوئی۔یہ پاکستان کے محمد وسیم نے 12 ویں فائٹ جیتی ہے جبکہ ایک میں انہیں شکست ہوئی ہے۔کولمبین باکسر، محمد وسیم سے زیادہ تجربہ کار ہیں، وہ 26 فائٹس میں حصہ لے چکے ہیں، انہوں نے 13 حریفوں کو ناک آئوٹ کیا جبکہ بریرا کو 3 میں شکست ہوئی۔

ماحولیاتی آلودگی (آخری قسط)

جن گاڑیوں میں سے کالا دھواں نکلتا ہے، پولیس والے ان گاڑیوں کو روکتے کیوں نہیں؟ ایسی گاڑیوں کا چالان ہونا چاہیے۔ ہیں نا آپا؟۔

چھوٹے چھوٹے دانے

کسی جنگل میں ایک ننھی چیونٹی اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ ننھی چیونٹی کی ماں جب تک صحت مند تھی اپنے اور ننھی چیونٹی کے لئے مزے دار دانے لاتی، لیکن جب اس کی ماں بیمار اور بوڑھی ہو گئی تو دانہ لانے کی ذمے داری ننھی چیونٹی پر آ پڑی۔

بے غرض نیکی

ایک نیک عورت کہیں گاڑی میں سوار جا رہی تھی کہ اسے سڑک پر چھوٹی عمر کا ایک لڑکا نظر آیا، جو ننگے پائوں چلا جا رہا تھا اور بہت تھکا ہوا معلوم ہوتا تھا یہ دیکھ کر نیک عورت نے کوچوان سے کہا غریب لڑکے کو گاڑی میں بٹھا لو۔ اس کا کرایہ میں ادا کر دوں گی۔‘‘