نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزارت خزانہ کی ملکی معیشت پرآؤٹ لک رپورٹ جاری
  • بریکنگ :- اسلام آباد:نان ٹیکس آمدنی میں کمی ریکارڈکی گئی،وزرات خزانہ
  • بریکنگ :- درآمدات،محصولات،ترسیلات زر،برآمدات،بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ
  • بریکنگ :- رواں مالی سال اب تک ترسیلات زر 11.9فیصداضافےسے 10.6ارب ڈالرریکارڈ
  • بریکنگ :- ملکی برآمدات 32.2فیصداضافےسے 9.7ارب ڈالرکی سطح پرپہنچ گئیں
  • بریکنگ :- درآمدات 66.3فیصداضافےسے 23.5ارب ڈالرہوگئیں،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- رواں مالی سال کےپہلے 4ماہ میں تجارتی خسارہ 13.8 ارب ڈالرتک پہنچ گیا
  • بریکنگ :- کرنٹ اکاؤنٹ خسارےمیں 5.1 ارب ڈالرکااضافہ ریکارڈکیاگیا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.7 فیصدریکارڈکیاگیا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 4فیصدکمی سے 662.1 ملین ڈالررہی
  • بریکنگ :- زرمبادلہ ذخائر 23نومبرتک 22ارب 98 کروڑڈالرسےزائدہوگئے،رپورٹ
  • بریکنگ :- 4 ماہ میں ٹیکس ریونیو 36.8فیصداضافےسے 1843ارب روپےرہا،رپورٹ
  • بریکنگ :- 4 ماہ میں پی ایس ڈی پی کی مدمیں 392.7ارب روپےمنظورکیےگئے
  • بریکنگ :- 3 ستمبرتک مالیاتی خسارہ بڑھ کر 438ارب روپےتک پہنچ گیا،رپورٹ
  • بریکنگ :- زرعی قرضے 6.5فیصداضافےسے 381.3ارب روپےکی سطح پررہے
  • بریکنگ :- اکتوبرمیں مہنگائی کی ماہانہ شرح 9.2فیصدریکارڈکی گئی،رپورٹ
  • بریکنگ :- جولائی تااکتوبرمہنگائی کی سالانہ شرح 8.7 فیصدریکارڈ،رپورٹ
  • بریکنگ :- جولائی تاستمبربڑی صنعتوں کی شرح نمومیں 5.2 فیصداضافہ ہوا،رپورٹ
Coronavirus Updates

اپوزیشن :ساکھ کے بحران سے دو چار

خصوصی ایڈیشن

تحریر : سلمان غنی


معاشی بحران اور مہنگائی کا طوفان رکنے کا نام نہیں لے رہا اورعوامی سطح پر لوگوں کے اندر مایوسی اور بے چینی کا کوئی بھی مداوا کرنے اور ان کی آواز سننے کو تیار نہیں۔حکومت کی جانب سے تو اب وہ دعوے بھی ختم ہو کر رہ گئے ہیں جن میں خود وزیراعظم عمران خان اور حکومتی ذمہ داران، مہنگائی کے ذمہ داران خصوصاً منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور انہیں ان کے انجام تک پہنچانے کا عزم ظاہر کرتے اور مشکل صورتحال سے نکلنے کی امید دلاتے نظر آتے تھے۔ لہٰذا اسی صورتحال میں ہمیشہ اپوزیشن جماعتیں اپنا کوئی مؤثر اور فعال کردار ادا کرتی نظر آتی تھیں۔ لوگ ان سے امیدیں اور توقعات باندھتے نظر آئے تھے کہ وہ ان کی آواز بن کر مہنگائی، بے روزگاری کے خلاف آواز اٹھا کر حکومت پر دبائو بڑھا کر حکومت کو ایسے کسی کردار پر مجبور کریں گے کہ جس کے ذریعے حکومت یہ سمجھے کہ بڑھتا ہوا عوامی ردعمل کسی احتجاجی تحریک کا رخ دھار کر ان کی حکومت کیلئے خطرہ بن سکے لیکن عملاً دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ایک طرف جہاں معاشی محاذ پر حکومت کی ناکامی عیاں ہے تو دوسری جانب اپوزیشن بھی کسی مردنی کا شکار ہے۔ اپنا کردار محض اخباری بیانات احتجاج کیلئے اعلانات اور ٹی وی ٹکرز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا دو روز قبل منعقدہ سربراہی اجلاس ایک اور سربراہی اجلاس کے اعلان پر مؤخر ہوا اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا کہ 6 دسمبر کو بلایا جانے والا سربراہی اجلاس عملی اقدامات کے حوالے سے اہم ہوگا اور ان عملی اقدامات کے حوالے سے اجلاس میں شامل جماعتوں کو کہا گیا کہ وہ حکومت کے خلاف کسی حتمی اعلان اور اقدام کے حوالے سے اپنی جماعتوں کے ذمہ داران کو اعتماد میں لیں ۔

 مذکورہ اجلاس میں میاں نوازشریف اور مریم نوازشریف کو ملنے والی عدالتی سزائوں کے حوالے سے جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ پر بھی غورو غوض کیا گیا اور اس حوالے سے بھی کسی مؤثر لائحہ عمل کے اعلان کی بجائے کہا گیا کہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں مگر دل دکھی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ اپنے کردار سے اپنا اعتماد بحال کرے۔ عدالتی فیصلوں کے حوالے سے آنے والی آڈیو ویڈیو اور بیان حلفی کے عمل سے ملک میں ایک نئی صورتحال تو پیدا ہوگئی ہے اور خود عدالتوں کے فیصلوں کے حوالے سے اپوزیشن یہ تاثر دینے میں سرگرم ہے کہ یہ فیصلے انصاف کی بنیاد پر نہیں دبائو کا نتیجہ ہیں۔ اس حوالے سے خود موجودہ چیف جسٹس جسٹس گلزار کا لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں آنے والا بیان اہم ہے کہ فیصلے انصاف کی بنیاد پر ہوتے ہیں اورکوئی ہم پر نہ اثر انداز ہوا ہے اور نہ ہو سکے گا۔ 

 جہاں تک اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور اجتماعی استعفوں کے آپشنز کو بروئے کار لانے کا سوال ہے تو حالات و واقعات کا رخ یہ بتا رہا ہے کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتیں خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اس میں سنجیدہ نہیں اور ان کا ٹارگٹ اب آنے والے انتخابات اور ان انتخابات کی شفاف اور آزادانہ حیثیت ہے جس کا اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کی جانب سے مسلسل زور بھی دیا جا رہا ہے مگر مولانا فضل الرحمن کا ٹارگٹ حکومت ہے اور حکومت کے خاتمہ کیلئے وہ کسی انتہائی اقدام کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ جہاں تک اجتماعی استعفوں کا سوال ہے تو پیپلزپارٹی کی طرح مسلم لیگ( ن) بھی اس آپشن کے حوالے سے یکسو نہیں اور وہ یہ سمجھتی ہے کہ اجتماعی استعفوں کے آپشن کو بروئے کار لا کر حکومت کو ایوان کے اندر واک اوور دینے والی بات ہے تاکہ وہ یہاں من مرضی سے قانون سازی کرنے اور آنے والے انتخابات میں بھی اپنا راستہ ہموار کرے۔البتہ لانگ مارچ کے آپشن بارے کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کو دبائو میں لانے کیلئے اس پر پیش رفت ممکن ہے لیکن خود مسلم لیگ (ن) بھی اس سوال پر سنجیدہ نظر نہیں آ رہی ۔ 

بظاہر یہ کہا جا رہا ہے کہ جماعت لندن سے پارٹی کے قائد نوازشریف کی ہدایات کی پابند ہیں لیکن عملاً وہ اس حوالے سے پیشرفت کرتی بھی نظر نہیں آ رہی، حکومت سے نجات کیلئے ایک اور آئینی اور سیاسی آپشن ان ہائوس تبدیلی کا ہے اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اپوزیشن کی اہم جماعتوں کو اس حوالے سے سگنل بھی دیئے جا رہے ہیں، مگر مسلم لیگ (ن) اس حوالے سے گو مگو کا شکار ہے اور پیپلزپارٹی اس کیلئے تیار ہے۔ مسلم لیگ (ن) یہ سمجھتی ہے کہ ایسی صورتحال میں اپنی عدم کارکردگی کے بحران سے دوچار حکومت اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان پر احسان ہوگا اور وہ یہ کچھ سکیں گے کہ انہیں وقت پورا نہیں کرنے دیا گیا ۔ جہاں تک پنجاب میں عدم اعتماد کی بات ہے تو یہ بھی خارج از امکان نہیں مگر مسلم لیگ (ن) اسے بھی اپنے لئے فائدہ مند نہیں سمجھتی جبکہ پیپلزپارٹی پنجاب اور مرکز دونوں میں عدم اعتماد کیلئے کھلے طور پر اس کی حامی ہے اور مدد کیلئے تیار ہے ۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ عوام میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف مایوسی اور بے چینی بڑے احتجاج کا رخ اس لئے اختیار نہیں کر پا رہی کہ خود اپوزیشن بھی اپنے ساکھ کے بحران سے دوچار ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام اپوزیشن کی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بن رہی لہٰذا جب تک اپوزیشن جماعتیں خود کشتیاں جلا کر میدان میں نہیںآئیں نہ تو عوام کی تائید انہیں مل سکتی ہے اور نہ ہی حکومت پر کوئی سیاسی دبائو آئے گا۔

 لہٰذا اس سے کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ سربراہی اجلاس بے نتیجہ رہنے کے بعد6دسمبر کو بلائے جانے والے سربراہی اجلاس سے بھی کوئی بڑی توقعات قائم نہیں کی جا سکتیں ،البتہ قومی سیاست میں ایشوز کی بجائے نان ایشوز کو اجاگر کرنے کا رحجان حکومت کیلئے کسی حد تک معاون ضروررہا ہے لیکن اس کا اصل نقصان انہیں آنے والے انتخابات میں پتہ چلے گا جب انہیں اپنی کارکردگی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنا ہوگی اور لوگوں کو فیصلہ ان کی اس کارکردگی کی بناء پر ہونا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس، پاکستان میں ذیابیطس خطرناک ، پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا،ماہرین سر جوڑ بیٹھے

ملک میں’’ خاموش قاتل ‘‘ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، عوام الناس کی جانب سے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے اعدادو شمار خطرناک ہوتے جارہے ہیں۔ماہرین امراض ذیابیطس کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ ہوگئی ہے ۔اس تشویش ناک صورتحال کے باعث ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ماہرین ذیابیطس کا کہنا ہے کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم اس طرح کا نہیں ہے کہ ہم کروڑوں کی تعداد میں ذیابیطس کے شکار مریضوں کا علاج کرسکیں تاہم مستقل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو ذیابیطس کے موذی مرض سے بچنے کے لئے عوام آگاہی پھیلائی جائے تاکہ عوام الناس اس مرض سے بچ سکیں اور دوسروں کو اس سے بچانے کا ذریعے بھی بن سکیں۔ہر سال 14 نومبر کو ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ مختلف سیمینارز ،پریس کانفرنسز ،واک اور تشہیری مہمات چلاکر ذیابیطس سے بچاؤ کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔اس سلسلے میں شہر قائد میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر انتظام عالمی سطح کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ملک کے نامور ماہر امراض ذیابیطس نے شرکت کی جبکہ بیرون ممالک کے ماہرین نے کانفرنس میں ویڈیو کے ذریعے ذیابیطس سے بچاؤ کے حوالے سے اپنے پیغام عوام تک پہنچائے۔

11ماہ بعد رنگ میں فاتحانہ واپسی ایک اور ٹائٹل باکسر محمد وسیم کے نام قومی باکسر نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ سلور بیلٹ میں کولمبیئن فائٹر کو ہرایا

مایہ ناز پاکستانی باکسر محمدوسیم نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ ورلڈ کا ٹائٹل اپنے نام کر کے ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم سر بلند کر دیا۔ قومی ہیرو نے اپنے سے کہیں زیادہ تجربہ کار کولمبین باکسر رابرٹ بریرا کو باکسنگ کے مقابلے میں شکست سے دوچار کیا اور ڈبلیو بی سی فلائی ویٹ ورلڈ سلور بیلٹ چیمپئن بن گئے۔ دبئی کے باکسنگ ایرینا میں ہونے والے مقابلے میں12رائونڈز پر مشتمل فائٹ میں ججز نے محمد وسیم کو فاتح قرار دیا۔ مقابلے میں فتح حاصل کرنے پر پاکستانی باکسر محمد وسیم نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،اس فائٹ کیلئے بہت محنت کی۔محمد وسیم نے فائٹ جیتنے پر اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا۔ دونوں باکسرز کے درمیان یہ بائوٹ فلائی ویٹ کیٹیگری میں ہوئی۔یہ پاکستان کے محمد وسیم نے 12 ویں فائٹ جیتی ہے جبکہ ایک میں انہیں شکست ہوئی ہے۔کولمبین باکسر، محمد وسیم سے زیادہ تجربہ کار ہیں، وہ 26 فائٹس میں حصہ لے چکے ہیں، انہوں نے 13 حریفوں کو ناک آئوٹ کیا جبکہ بریرا کو 3 میں شکست ہوئی۔

ماحولیاتی آلودگی (آخری قسط)

جن گاڑیوں میں سے کالا دھواں نکلتا ہے، پولیس والے ان گاڑیوں کو روکتے کیوں نہیں؟ ایسی گاڑیوں کا چالان ہونا چاہیے۔ ہیں نا آپا؟۔

چھوٹے چھوٹے دانے

کسی جنگل میں ایک ننھی چیونٹی اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ ننھی چیونٹی کی ماں جب تک صحت مند تھی اپنے اور ننھی چیونٹی کے لئے مزے دار دانے لاتی، لیکن جب اس کی ماں بیمار اور بوڑھی ہو گئی تو دانہ لانے کی ذمے داری ننھی چیونٹی پر آ پڑی۔

بے غرض نیکی

ایک نیک عورت کہیں گاڑی میں سوار جا رہی تھی کہ اسے سڑک پر چھوٹی عمر کا ایک لڑکا نظر آیا، جو ننگے پائوں چلا جا رہا تھا اور بہت تھکا ہوا معلوم ہوتا تھا یہ دیکھ کر نیک عورت نے کوچوان سے کہا غریب لڑکے کو گاڑی میں بٹھا لو۔ اس کا کرایہ میں ادا کر دوں گی۔‘‘