نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نومبرمیں مہنگائی 11.5 فیصدہوگئی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- اکتوبرمیں مہنگائی 9.2 فیصدتھی،ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- نومبر2020میں مہنگائی 8.3 فیصدتھی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- مہنگائی 21 ماہ کی بلندترین سطح پرپہنچ گئی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- شہروں میں مہنگائی 12اوردیہات میں 10.9 فیصدرہی، دستاویز
Coronavirus Updates

مسائل اور ان کا حل

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مفتی محمد زبیر


قرض دی گئی رقم پرمشروط نفع کی شرعی حیثیتسوال:۔فریق اوّل زید نے فریق دوم خالد کو پانچ لاکھ روپے اس شرط کے ساتھ دیئے کہ خالد اس سے کاروبار کرتا رہے اور پانچ ہزار ہر ماہ دو سال تک زید کو ادا کرے، دوسال بعد جب اس کا کاروبار سیٹ ہو جائے تو وہ پانچ لاکھ واپس کردے۔ دونوں فریق اس پر راضی اور عمل پیرا ہیں شرعاً اس صورت کا کیا حکم ہے؟جواب:۔صورت مسئولہ میں رقم قرض دیکر اس پرنفع لینے کا معاملہ شرعاً سود ہے۔ اس معاہدہ اور لین دین کی وجہ سے فریقین گناہگار ہوئے ہیں، دونوں پر معاملہ کوختم کرنا اور توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔

طلاق یافتہ لڑکی کا جہیز

 دوسری لڑکی کو دینا

سوال:۔ ایک انتہائی غریب شخص کی تین بیٹیوں کی شادی برادری کے بڑے بکر نے برادری سے چندہ کر کے ایک ہی خاندان میں  کروائی تھیں۔کچھ عرصہ بعد ایک لڑکی کو اس کے شوہر نے طلاق دی تو دوسری دونوں لڑکیوں کو بھی ان کے شوہروں نے طلاق دیدی۔ تینوں لڑکیوں کو جہیز میں دیئے گئے سامان کے بارے میں برادری کے چندہ دینے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ جہیزہم نے اللہ کیلئے ان لڑکیوں کو دیا تھا لہٰذا یہ جہیز ان لڑکیوں کا ہے جبکہ بکر کاکہناہے کہ جہیز کا سامان مجھے دیا جائے، میں کسی اور غریب لڑکی کو شادی میں یہ جہیز دوں گا۔ شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں کہ بکرکی بات صحیح ہے یا غلط؟ اور جہیزکا حقدارکون ہے؟

جواب:۔جہیز میں جس لڑکی کو جو سامان دیا گیا اس کی مالک وہی لڑکی ہے، لہٰذا بکرکیلئے یہ سامان لیکرکسی اور لڑکی کو جہیز میں دینا شرعاً جائز نہیں، اس سے احترازکرنا لازم ہے۔فی الدر المختار(۳؍۱۵۵)جھزابنتہ بجھازوسلمھاذلک لیس لہ الاستردادمنھاولالورثتہ بعدہ۔

مشروط طلاق کاشرعی مسئلہ

سوال:۔ میرا نکاح فاطمہ کے ساتھ تقریباً 15سال قبل ہوا تھا اور ہمارے 3بچے بھی ہیں، ابھی ایک سال قبل بہن کے ساتھ کسی معاملہ پر میں نے بہن کو یہ الفاظ کہے: ’’میں نے آئندہ اگر آپ سے گلہ کیا تو وائف کو طلاق‘‘ واضح رہے کہ یہ الفاظ میں نے صرف ایک مرتبہ کہے ہیں اور اس کے بعد ابھی تک بہن سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا۔ لیکن ابھی ڈھائی مہینہ قبل ایک معاملہ میں بہن ایک بھائی کے بارے میں کہہ رہی تھی کہ بھائی صحیح نہیں کر رہا تو اس کے جواب میں والدہ کو مخاطب کر کے میں نے کہا کہ بھائی اپنی جگہ صحیح ہے، واضح رہے کہ میں نے اس کے علاوہ کبھی کوئی زبانی یا تحریری طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کئے۔ اب آپ سے شریعت کی روشنی میں مجھے دو باتوں کے متعلق رہنمائی درکارہے:(۱) کیامذکورہ الفاظ سے یا بہن کے جواب میں والدہ کویہ کہنے سے کہ بھائی اپنی جگہ صحیح ہے، میری بیوی پرکوئی طلاق تو واقع نہیں ہوئی؟(۲)اگر آئندہ میں نے بہن سے کوئی گلہ کیا تو ایسی صورت میں میرے لئے شرعی حکم کیا ہو گا؟

جواب:۔صورت مسئولہ میں فی الحال آپ کی بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تاہم آپ نے جو خط کشیدہ الفاظ استعمال کئے ہیں یہ تعلیق(مشروط) طلاق ہے جس کاحکم یہ ہے کہ آئندہ اگرآپ نے اپنی مذکورہ بہن سے کوئی گلہ کیا تو آپ کی بیوی پرایک طلاق رجعی واقع ہو جائیگی۔ جس میں آپ کو بیوی کی عدت کے دوران رجوع کا اختیار ہو گا۔ اگرعدت کے دوران آپ نے رجوع کر لیا تو نکاح حسب سابق برقرار رہے گا۔ اگر عدت میں رجوع نہیں کیا تو نکاح ختم ہو جائیگا اور تجدیدنکاح کے بغیردوبارہ ساتھ رہنے کی گنجائش نہ ہوگی۔ آئندہ آپ کوصرف دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ۔ واضح رہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اس سے قبل یا بعد آپ نے کبھی کوئی زبانی یا تحریری طلاق نہ دی ہو۔ بصورت دیگریہ حکم نہیں ہو گا۔ ایسی صورت میں تفصیل لکھ کر مسئلہ دوبارہ معلوم کر لیاجائے۔

فی الھندیۃ (۱؍۴۴۰)واذاطلق الرجل امرأتہ تطلیقۃرجعیۃ اوتطلیقتی نفلہ ان یراجعھافی عدتھارضیت بذلک اولم ترض۔ وفی الھندیۃ (۱؍۴۲۰) واذااضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط۔

طلاق دینے پرجرمانہ مقررکرنا

سوال:۔ مفتی صاحب میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ ان تینوں لڑکیوںکے شوہروں پر 2 لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا،اس جرمانہ کی رقم کا شرعاً حقدار کون ہے؟ (سائل: محمدعبید،کراچی)

جواب:۔ صورت مسئولہ میں لڑکوں سے جرمانہ کے طور پر 2لاکھ کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز کرنا لازم ہے۔ نیزاگریہ رقم لڑکوں سے لی گئی ہو تو اب انہیں واپس کرنا لازم ہو گا۔

فی مشکوۃ المصابیح (۲۵۵)الالاتظلمواالا لایحل مال امریٔ الابطیب نفس منہ۔فی ردالمحتار (۴؍۶۲)، وفی شرح الآثار:التعزیربالمال کان فی ابتداء الاسلام  ثم  نسخ والحاصل ان المذھب عدم  التعزیر بالمال وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ(۶؍۲۰۱)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

تھیٹر بحران : ذمہ دار کون ؟ تفریحی سرگرمیاں بحال کرنے کے حکومتی اعلان کے باوجود تھیٹرز آباد نہ ہوسکے

حکومت کی جانب سے لوگوں کی تفریح کیلئے تھیٹرز کھولنے کے اعلانات کے باوجود بہت سے تھیٹر تاحال بند ہیں۔ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث جہاں دنیا بھر کی معیشت تباہ ہوئی وہیںپاکستانی تھیٹر کو بھی بے پناہ نقصان پہنچا۔ تھیٹر بند ہونے سے سٹیج ڈراموں سے وابستہ فنکار بھی معاشی مسائل کا شکار رہے۔ کورونا کی صورتحال میںبہتری کے بعد10اگست 2020 ء کو حکومت نے ایس او پیز کے تحت تھیٹر ہالز کھولنے کی اجازت دی مگر پروڈیوسرز اب تک تھیٹرز کو آباد کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ تھیٹر بزنس میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جدید تھیٹر ز کی تعمیر نو بھی تعطل کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ کئی چلتے ہوئے تھیٹر بند ہوگئے ہیں۔

آشیاں جل گیا، گلستان لٹ گیا، حبیب ولی محمد : ایک لاثانی گلوکار

حبیب ولی محمد کی مشہور غزلیں-1لگتا نہیں ہے دل مرا-2نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں-3یہ نہ تھی ہماری قسمت-4آج جانے کی ضد نہ کرو-5مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں-6کب میرا نشیمن اہل چمنمقبول ملی نغمات-1روشن درخشاں، نیرو تاباں-2اے نگار وطن تو سلامتِ رہے-3سوہنی دھرتی اللہ رکھے-4لُہو جو سرحد پہ بہہ چکا ہے

دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس، پاکستان میں ذیابیطس خطرناک ، پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا،ماہرین سر جوڑ بیٹھے

ملک میں’’ خاموش قاتل ‘‘ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، عوام الناس کی جانب سے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے اعدادو شمار خطرناک ہوتے جارہے ہیں۔ماہرین امراض ذیابیطس کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ ہوگئی ہے ۔اس تشویش ناک صورتحال کے باعث ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ماہرین ذیابیطس کا کہنا ہے کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم اس طرح کا نہیں ہے کہ ہم کروڑوں کی تعداد میں ذیابیطس کے شکار مریضوں کا علاج کرسکیں تاہم مستقل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو ذیابیطس کے موذی مرض سے بچنے کے لئے عوام آگاہی پھیلائی جائے تاکہ عوام الناس اس مرض سے بچ سکیں اور دوسروں کو اس سے بچانے کا ذریعے بھی بن سکیں۔ہر سال 14 نومبر کو ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ مختلف سیمینارز ،پریس کانفرنسز ،واک اور تشہیری مہمات چلاکر ذیابیطس سے بچاؤ کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔اس سلسلے میں شہر قائد میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر انتظام عالمی سطح کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ملک کے نامور ماہر امراض ذیابیطس نے شرکت کی جبکہ بیرون ممالک کے ماہرین نے کانفرنس میں ویڈیو کے ذریعے ذیابیطس سے بچاؤ کے حوالے سے اپنے پیغام عوام تک پہنچائے۔

11ماہ بعد رنگ میں فاتحانہ واپسی ایک اور ٹائٹل باکسر محمد وسیم کے نام قومی باکسر نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ سلور بیلٹ میں کولمبیئن فائٹر کو ہرایا

مایہ ناز پاکستانی باکسر محمدوسیم نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ ورلڈ کا ٹائٹل اپنے نام کر کے ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم سر بلند کر دیا۔ قومی ہیرو نے اپنے سے کہیں زیادہ تجربہ کار کولمبین باکسر رابرٹ بریرا کو باکسنگ کے مقابلے میں شکست سے دوچار کیا اور ڈبلیو بی سی فلائی ویٹ ورلڈ سلور بیلٹ چیمپئن بن گئے۔ دبئی کے باکسنگ ایرینا میں ہونے والے مقابلے میں12رائونڈز پر مشتمل فائٹ میں ججز نے محمد وسیم کو فاتح قرار دیا۔ مقابلے میں فتح حاصل کرنے پر پاکستانی باکسر محمد وسیم نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،اس فائٹ کیلئے بہت محنت کی۔محمد وسیم نے فائٹ جیتنے پر اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا۔ دونوں باکسرز کے درمیان یہ بائوٹ فلائی ویٹ کیٹیگری میں ہوئی۔یہ پاکستان کے محمد وسیم نے 12 ویں فائٹ جیتی ہے جبکہ ایک میں انہیں شکست ہوئی ہے۔کولمبین باکسر، محمد وسیم سے زیادہ تجربہ کار ہیں، وہ 26 فائٹس میں حصہ لے چکے ہیں، انہوں نے 13 حریفوں کو ناک آئوٹ کیا جبکہ بریرا کو 3 میں شکست ہوئی۔

ماحولیاتی آلودگی (آخری قسط)

جن گاڑیوں میں سے کالا دھواں نکلتا ہے، پولیس والے ان گاڑیوں کو روکتے کیوں نہیں؟ ایسی گاڑیوں کا چالان ہونا چاہیے۔ ہیں نا آپا؟۔