نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ساڑھے 3سال سےحکومت کی صرف انتقام کی پالیسی ہے،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- حکومت کی توجہ لیگی قیادت کیخلاف جھوٹےمقدمات بنانےپرہے،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- شہزاداکبرروزججزپردباؤبڑھانےکیلئےپریس کانفرنسزکررہےہیں،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- لاہور:حکومت کاکسی چیزپردھیان نہیں،لیگی رہنماراناثنااللہ
  • بریکنگ :- گالم گلوچ بریگیڈمیں ایک ارب روپےتقسیم کیےگئے،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- لاہور:فروغ نسیم بہت پرانےایجنٹ ہیں،لیگی رہنماراناثنااللہ
  • بریکنگ :- قوم کوبتایاجائےکیوں آئےروزکوئی نہ کوئی بحران سراٹھالیتاہے،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- لاہور:کورونافنڈزمیں خرودبردکوپارلیمنٹ میں اٹھارہےہیں،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- جب لاہورمیں دہشتگردی کاواقعہ پیش آیاتووزیراعظم کیاکررہےتھے؟راناثنااللہ
  • بریکنگ :- لاہور:پوری قوم بحرانی کیفیت میں ہے،لیگی رہنماراناثنااللہ
  • بریکنگ :- لاہور:حکومت کےحساب کاوقت آگیاہے،لیگی رہنماراناثنااللہ
  • بریکنگ :- لاہور:73 کاآئین متفقہ ہےجس پرچاروں اکائیاں متفق ہیں،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- لاہور:1973 کاآئین قومی اتفاق رائےسےبنا،لیگی رہنماراناثنااللہ
  • بریکنگ :- لاہور:ملک میں 35 سال صدارتی نظام رہا،لیگی رہنماراناثنااللہ
  • بریکنگ :- لاہور:آئین پرعملداری نہ ہوناملک کامسئلہ ہے،لیگی رہنماراناثنااللہ
  • بریکنگ :- شیخ رشیدنوازشریف کی خوشامدکرکےسیاست میں آئے،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- لاہور:نوازشریف ضروروطن واپس آئیں گے،لیگی رہنماراناثنااللہ
  • بریکنگ :- شیخ رشیدکونوازشریف کی واپسی کیلئےفکرمندنہیں ہوناچاہیے،راناثنااللہ
Coronavirus Updates

فیوڈل فینٹسی

تحریر : مشتاق احمد یوسفی


ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

 اس میں اس وقت کا جاگیردارانہ طنطنہ اور ٹھاٹ، بگڑے رئیسوں کا تیہا اورٹھسا، مڈل کلاس دکھاوا، قصباتی اِتروناپن، ملازمت پیشہ نفاست، سادہ دلی اور ندیدہ پن۔ سب بری طرح سے گڈمڈ ہو گئے تھے۔ انھی کا بیاں ہے کہ بچپن میں میری سب سے بڑی تمنّا یہ تھی کہ تختی پھینک پھانک، قاعدہ پھاڑ پھوڑ کر مداری بن جاؤں، شہر شہر ڈگڈگی بجاتا، بندر، بھالو، جھمورا نچاتا اور ’’بچہ لّوگ‘‘سے تالی بجواتا پھروں۔ جب ذرا عقل آئی، مطلب یہ کہ بد اور بدتر کی تمیز پیدا ہوئی تو مداری کی جگہ اسکول ماسٹر نے لے لی۔ اور جب موضع دھیرج گنج میں سچ مچ ماسٹربن گیا تو میرے نزدیک انتہائے عیاشی یہ تھی کہ مکھن زین کی پتلون، دو گھوڑا بوسکی کی قمیض، ڈبل قفوں میں سونے کے چھٹانک چھٹانک بھر کے بٹن، نیا سولا ہیٹ جس پر میل خورا غلاف نہ چڑھا ہو اور پیٹنٹ لیدر کے پمپ شوز پہن کراسکول جاؤں اور اپنی غزلیات پڑھاؤں۔ سفید سلک کی اچکن جس میں بدری کے کام والے بٹن نرخرے تک لگے ہوں۔

 جیب میں گنگا جمنی کام کی پانوں کی ڈبیا۔ سر پر سفید کمخواب کی رام پوری ٹوپی۔ ترچھی، مگر ذرا شریفانہ زاویے سے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ نرے شریف ہی ہو کے رہ جائیں۔ چھوٹی بوٹی کی چکن کا سفید کرتا جو موسم کی رعایت سے عطرِ حنا یا خس میں بسا ہو۔ چوڑی دار پاجامے میں خوبرو دو شیزہ کے ہاتھ کا بْنا ہوا سفید ریشمی ازار بند۔ سفید نری کا سلیم شاہی جوتا۔ پیروں پر ڈالنے کے لئے اٹالین کمبل جو فٹن میں جتے ہوئے سفید گھوڑے کی دْم اور دْور مار بول و براز سے پاجامے کو محفوظ رکھے۔ فٹن کے پچھلے پائیدان پر ’’ھٹو! بچو!‘‘ کرتا اور اس پر لٹکنے کی کوشش کرنے والے بچّوں کو چابک مارتا ہوا سائیس، جس کی کمر پر زردوزی کے کام کی پیٹی اور ٹخنے سے گھٹنے تک خاکی نمدے کی نواری پٹیاں بندھی ہوں۔ بچہ اب سیانا ہو گیا تھا۔ بچپن رخصت ہو گیا، پر بچپنا نہیں گیا۔بچّہ اپنے کھیل میں جیسی سنجیدگی اور ہمہ تن محویت اور خود فراموشی دکھاتا ہے، بڑوں کے کسی مشن اور مہم میں اس کا عشر عشیر بھی نظر نہیں آتا۔ اس میں شک نہیں کہ دنیا کا بڑے سے بڑا فلسفی بھی کسی کھیل میں منہمک بچّے سے زیادہ سنجیدہ نہیں ہو سکتا۔ کھلونا ٹوٹنے پر بچّے نے روتے روتے اچانک روشنی کی طرف دیکھا تھا تو آنسو میں دھنک جھلمل جھلمل کرنے لگی تھی۔ وہی کھلونا بڑھاپے میں کسی جادو کے زور سے اس کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے تو وہ بھونچکا رہ جائے گا کہ ا کے ٹوٹنے پر بھی بھلا کوئی اس طرح جی جان سے روتا ہے۔ 

یہی حال ان کھلونوں کا ہو تا ہے جن سے آدمی زندگی بھر کھیلتا رہتا ہے۔ ہاں، عمر کے ساتھ ساتھ یہ بھی بدلتے اور بڑے ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ کھلونے خود بخود ٹوٹ جاتے ہیں۔ کچھ کو دوسرے توڑ دیتے ہیں۔ کچھ کھلونے پروموٹ ہو کر دیوتا بن جاتے ہیں اور کچھ دیویاں دل سے اترنے کے بعد گودڑ بھری گڑیاں نکلتی ہیں۔ پھر ایک ابھاگن گھڑی ایسی آتی ہے جب وہ ان سب کو توڑ دیتا ہے۔ اس گھڑی وہ خود بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

چالاک باز

کوّے کی ملا قات فضا میں اڑ تے ہوے ایک باز سے ہوئی جو بہت دن سے کسی اچھے شکا ر کی تلاش میں تھا کو ّے نے اپنی کہا نی با ز کو سنائی اور اسے کہا وہ بھی یہ تر کیب اپنے شکار پر آزما کر دیکھے۔

کنکریاں

ایک قافلہ سفر کررہا تھا اوردوران سفر ان کا گزر ایک اندھیری سرنگ سے ہو رہا تھا کہ اچانک ان کے پیروں میں کنکریوں کی طرح کچھ چیزیں چبھیں۔

بچوں کا انسائیکلو پیڈیا

بادل اتنی مختلف شکلوں میں کیوں ہوتے ہیں؟بادل بہت سی مختلف شکلوں کے ہوتے ہیں۔ ان کا انحصار ان کی اونچائی اور اس ہوا پر ہوتا ہے جس میں وہ موجود ہوتے ہیں۔ چھوٹے دھوئیں کی طرح کے بادل آسمان کی اونچائی پر جما دینے والی ہوا میں بنتے ہیں۔ سر مئی کمبل جیسے بادل گرم اور نم دار ہوا سے، جو زمین کے نزدیک ہوتی ہے، بنتے ہیں۔ اپنی اونچائی اور شکل کی بنا پر بادلوں کے مختلف نام رکھے گئے ہیں۔

ذرا مسکرائیے

ایک سال بہت بارش ہوئی، ایک محفل میں کسی نے کہا: ’’ زمین میں جو کچھ بھی ہے اس دفعہ باہر نکل آئے گا۔‘‘ ملا نصیر الدین سخت گھبرا کر بولے:’’ اگر میری تین بیویاں نکل آئیں تو کیا ہوگا۔‘‘

تعصب و عصبیت، معاشرتی عدم استحکام کے بڑے اسباب

سماجی اعتبار سے عصبیت کے ظہور سے سیاسی عدم استحکام اور فرقہ واریت کو فروغ ملتا ہے، اے لوگو! ’’ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہارے خاندان اور قومیں بنائیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ‘‘ (الحجرات:13)

کسبِ حلال: عین عبادت، پاکیزہ مال کمانا دُنیا و آخرت کی حقیقی خوشی و کامیابی

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حلال مال کا طلب کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی:8610)،اپنے کھانے کو پاک کرو! جب کوئی شخص حرام کا لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے تو 40 دن تک اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول نہیں کرتا‘‘(المعجم الاوسط للطبرانی:6495)