نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنرکی زیر صدارت اجلاس
  • بریکنگ :- سندھ، بلوچستان،پنجاب، اسلام آبادکےبلدیاتی الیکشن پر بریفنگ
  • بریکنگ :- سندھ، بلوچستان، پنجاب میں حلقہ بندیاں جاری ہیں، الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- اسلام آبادبلدیاتی آرڈیننس کےرولزکی عدم دستیابی پرالیکشن میں تاخیرہوسکتی ہے،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- اسلام آبادبلدیاتی الیکشن میں تاخیرپرچیف کمشنراوروزارت داخلہ کےنمائندےطلب
  • بریکنگ :- چیف الیکشن کمشنرکی ڈیٹاسینٹراورپرنٹنگ پروجیکٹ کی تکمیل کی ہدایت
  • بریکنگ :- عام انتخابات سےقبل ووٹرزکی رجسٹریشن مکمل کی جائے،چیف الیکشن کمشنر
Coronavirus Updates

بچوں کا انسائیکلو پیڈیا

تحریر : محمد عارف جان


برف پر پھسلنابرف کی سطح بہت چکنی ہوتی ہے جب آپ کے جوتے کا چکنا تلا اس پر لگتا ہے تو آپ کو آسانی سے پھسلنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ برفانی کھڑائوں (skates)سے پھسلنا اور زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ آپ کا وزن کھڑائوں کے نیچے برف کو پگھلا کر پانی کی تہہ بنا دیتا ہے۔ اس لئے کھڑائوں کے تلے پر لگے بلیڈ بہت پھسلواں ہو جاتے ہیں۔

کہُر(Fog) کیوں پیدا ہوتی ہے؟

کہُر دراصل ایک قسم کا بادل ہے جو زمین کے نزدیک بنتا ہے۔ کہُر تب پیدا ہوتی ہے جب نظر نہ آنے والے آبی بخارات پانی کی نظر آنے والی بڑی بوندوں میں تبدیل ہوتے ہیں ۔بادل بنانے کا یہ عمل تکثیف اس وقت شروع ہوتا ہے جب گرم ہوا ٹھنڈی ہونے لگتی ہے، کیونکہ ٹھنڈی ہوا نمی کو اتنی دیر تک گرفت میں نہیں رکھ سکتی جتنی دیر تک گرم ہوا۔

 سمندری طوفان کیسے آتے ہیں؟

طوفان سمندر کے گرم پانی پر بنتے ہیں۔ سمندر کی سطح سے بہت زیادہ آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ پھر بڑے بڑے طوفانی بادلوں کے ستون تیزی سے اٹھتی ہوئی ہوا میں پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں پھر جب ان میں توانائی اور جھگڑ پیدا ہوتے ہیں تو یہ گھومنا شروع کر دیتے ہیں۔ آخر کار بادلوں کا ایک شدید بھنوران میں بنتا ہے اور وہ طوفان کی شکل اختیار کرکے سمندر پر آگے کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

طوفان، تیز بارش کیوں برساتے ہیں؟

طوفان پانی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ پانی وہ گرم سمندر کے اوپر چلنے والی ہوائوں سے لیتے ہیں۔ پھر اسے بارش کی شکل میں زمین پر برساتے ہیں۔ جب طوفان سمندر سے خشکی کی طرف حرکت کرتا ہے تو وہ تیز بارش اور ہوا ساتھ لاتا ہے اور چند گھنٹوں کے اندر لوگوں کی زندگی اور املاک کو زبردست نقصان پہنچا دیتا ہے۔ نہایت تیز بارش اور تیز ہوا، طوفان کے درمیانی حصے سے یعنی اس کی آنکھ کے کنارے سے آتی ہے۔ کبھی کبھی بارش اس قدر طوفانی اور زبردست ہوتی ہے کہ سیلابی ریلا بندوں کا پانی بھی اپنے ساتھ شامل کرکے گاڑیاں اور انسان سب کو بہا لے جاتا ہے یہ جھگڑ اس قدر تیز ہوتے ہیں کہ عمارتوں اور درختوں کو بھی گرادیتے ہیں۔

 مون سون ہوا کسے کہتے ہیں؟

گرمیوں میں ایک گرم ہوا جسے مون سون کہتے ہیں چلتی ہے جو تیز بارش لاتی ہے۔ مون سون موسم میں زمین پر ہوا گرم ہو کر اوپر اٹھتی ہے اور سمندر کی گرم اور نم ہوا کو کھینچ لاتی ہے۔ جب یہ ہوا اوپر جاتی ہے تو اس کے بخارات بارش برسانے  والے بادل بن جاتے ہیں جب تک ہوا اس سمت میں چلتی رہتی ہے بارش ہوتی رہتی ہے۔

موسم کیوں بدلتے ہیں؟

موسم اس لئے بدلتا ہے کہ ہوا آسمان پر ہمیشہ گردش میں رہتی ہے۔ وہ اس لئے حرکت کرتی ہے کہ دنیا کے کچھ حصوں پر سورج کی گرمی زیادہ پہنچتی ہے اور اس سے گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے اور ٹھنڈی ہوا نیچے کی طرف چلتی ہے۔ گردش کرتی ہوئی ہوا موسموں کے بدلنے کا سبب بنتی ہے۔

 

قوس قزح کسے کہتے ہیں؟

سورج کی بارش کے دوران ہمیں قوس قزح نظر آتی ہے۔ جب بارش ہونے کے بعد آسمان صاف ہوتا ہے اور سورج کی روشنی نظر آنے لگتی ہے تو قوس قزح نظر آتی ہے۔ سورج کی روشنی میں منعکس ہونے والے وہ تمام رنگ ہوتے ہیں جو پانی کے ہوا میں معلق قطروں سے بنتے ہیں۔ قوس قزح کے رنگ لال، نارنجی، ہرے، پیلے، نیلے اور بنفشی ہوتے ہیں۔ یہ ہمیشہ ایک ہی ترتیب میں ہوتے ہیں۔ یہ سب رنگ جب  ملتے ہیں تو سفید روشنی پیدا ہوتی ہے لیکن یہ رنگ جب پانی کی بوندوں کی وجہ سے بکھر جاتے ہیں تو قوس قزح بن جاتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ناخنوں کی سجاوٹ، خوبصورت دکھنے کیلئے ناخنوں پر بھی توجہ دیں

2022ء میں خوبصورت لگنے کیلئے دیگر اہم ٹرینڈز کے ساتھ ساتھ نیل آرٹ اور نیل پالش پرتوجہ دینا بھی اہم ہے۔ ہم سب اس بات سے اتفاق کر تے ہیں کہ خوبصورتی کے رجحانات میں سے ایک ہماری انگلیوں کی نوک پر ہے یعنی ہمارے ناخن۔

مانگ ٹیکا: زیور کا اہم جزو، عام تقریبات میں بھی حسن کو چار چاند لگائے

اگر کہا جائے کہ دلہن کی تیاری مانگ ٹیکا کے بغیر نا مکمل ہے تو غلط نہ ہو گا۔ عام طور پر دلہنیں بارات کے دن کیلئے مانگ ٹیکے کا انتخاب کرتی ہیں، تاہم اب مانگ ٹیکا دلہن کی جیولری کے علاوہ بہنوں اور کزنز کی جیولری کا بھی لازمی جزو نظر آتا ہے جبکہ دلہنیں بارات کیلئے زیادہ تر ماتھا پٹی کا استعمال کرتی ہیں اور ولیمہ کیلئے مانگ ٹیکے کا انتخاب کرتی ہیں۔

ڈیٹوکس۔۔۔۔ جسم سے زہریلے اثرات زائل کرنے کا طریقہ

ہم مضر صحت خوراک اور ایسی ہی دیگر اشیاء سے بچنے کی کتنی کوشش کیوں نہ کرلیں مگرماحولیاتی آلودگی کے سبب منہ کے راستے جسم میں مضر صحت مادوں کا داخلہ اور افزائش ہوتی رہتی ہے۔یوں تو جسم کے مختلف اعضاء فاضل مادوں کی صفائی جیسی ذمہ داریاں سر انجام دیتے ہیں تاہم بعض اوقات اعضاء کی کارکردگی متاثر ہونے کی صورت میں ہمیں یہ کام غذائی انتخاب سر انجام دینا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں ڈیٹوکس مشروبات کا استعمال انتہائی معاون ہوتا ہے۔

ٹھنڈا موسم۔۔۔اور گرما گرم سوپ

سردیوں کے موسم میں خود کو گرم اور توانا رکھنے کے لیے گرما گرم سوپ سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ جی ہاں! گرما گرم مزیدار سُوپ آپ کو نہ صرف اندرونی توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کا لذیذ ذائقہ آپ کے منہ کا مزہ بھی خوشگوار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ذیل میں سوپ کی کچھ لذیذ اور شاندار اقسام کے بارے میں معلومات دی جارہی ہیں جو دنیا بھر میں مقبول ہیں اور سردیوں کے موسم میں خاص طور پر ان کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ خود کو گرم، پُرجوش اور چُست رکھنے کیلئے آپ بھی ان مزیدار سوپ کو گھر پر آسانی سے بنا سکتے ہیں۔

جورہی سو بےخبری رہی : سراج اورنگ آبادی : 18ویں صدی کے شاعر کا کلام آج بھی مقبول

ان کے اشعار ابہام، تکلف و بناوٹ سے عاری، اظہار میں متوازن ہیں، جو مشرقی تہزیب کا خاصہ ہےسراج انسانی کیفیات و احساسات کو خوبصورتی اور نزاکت سے بیان کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں

یادرفتگان : ’’کون ہے یہ گستاخ‘‘ سعادت حسن منٹو

تقسیم ہند کے ظلم و ستم کو بھی منٹو نے اپنے مخصوص اسلوب نگارش کے ذریعے قلمبند کیایہ منٹو کا کمال ہے کہ انہوں نے سماجی و معاشرتی حقیقت نگاری کو اردو افسانے کے ماتھے کا جھومر بنایا