کشمیری خواتین و بچے مودی کا خصوصی ہدف

تحریر : روزنامہ دنیا


مودی حکومت میں خواتین و بچوں پر حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ، 1989 سے اب تک 12ہزار 121 کشمیری خواتین بھارتی افواج کی درندگی کا شکار ہو چکی ہیں، کشمیری بچے بھی بھارتی پیلٹ گنز کے نشانے پر اقوام عالم آج بھی بھارتی طاقت کے زیر اثر

تاریخ آزادی کشمیر کی تاریخ تو خاصی طویل ہے مگر اس میں صنفِ نازک کا کردار ہمیشہ سے ہی بہت اہم رہا ہے۔ کشمیری ماؤں نے اس جدوجہد پر اپنے جگر کے ٹکڑوں کو نا صرف قربان کیا ہے بلکہ شوقِ شہادت کا جذبہ نسل در نسل منتقل بھی کیا ہے۔بھارتی مظالم سے تنگ آ کر جب خواتین گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہوئیں تو پھر باقاعددگی سے تحریک حریت کا حصہ بننے لگیں۔آسیہ اندرابی سمیت کشمیر کی خوددار اور بہادر بیٹیوں نے مردوں کے شانہ بشانہ بھارتی فوج کے خلاف لڑ کے ان کی سفاقیت اور غرور کو خاک میں ملا دیا۔عصمت دری اور جنسی ہراسانی کے لرزہ خیز واقعات کے باوجود ناصرف وہ اپنے خاندان کی کفالت کر رہی ہیں بلکہ تحریک ِ آزادی کو بھی تقویت پہنچا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کشمیری طالبات قابض فوج پر پتھر برساتی ہیں اور بزدل افواج کی پیلٹ گنز کا ہدف بنتے دیکھائی دیتی ہیں ۔ 

انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا واضح ثبوت پیلٹ گنز سے کشمیریوں کی بینائی ختم کرنا ہے۔ جب بھی پیلٹ گن سے فائر کیا جاتا ہے تو متعدد آہنی چھروں کی بوچھار باہر نکلتی ہے جو راستے میں ہر آنے والی چیز کو نشانہ بناتی ہے۔ قابض بھارتی فوج نے مظاہروں اور جلوسوں کو روکنے کیلئے بیلٹ گنز کے ایسے کارتوس استعمال کیے جس میں ایک وقت میں تین سو سے چھ سو چھرے بھرے جا سکتے تھے۔ آنکھوں کے ڈاکٹر ایس نترجن کہتے ہیں کہ وہ ایسے 40مریضوں کے آپریشن کر چکے ہیں لیکن وہ اب بھی یہ بات بتانے سے قاصر ہیں کہ ان مریضوں میں سے کتنوں کی بینائی واپس لوٹ آئی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر سے جو صورتحال سامنے آتی ہے وہ رونگٹے کھڑے کردینے والی ہوتی ہے۔ بھارت نے کشمیر میں بچوں اور خواتین پر انسانیت سوز مظالم کی ایسی داستانیں لکھی ہیں جسے شاید تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گی اور آنے والی نسلیں بھی بھارت کا تذکرہ کرکے منہ نفرت سے موڑ لیا کریں گی۔ 

 بھارتی زیر قبضہ جموں و کشمیر انسانی ظلم و جبر کی بدترین مثال ہے اوربالخصوص وہاں عورتوں اور بچوں کے حقوق کی صورتِ حال انتہائی دگرگوں ہے- کشمیر ی خواتین قابض بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔ یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پاس کیے گئے خواتین کے حقوق کے عالمی بل (CEDAW) کے تحت عورتوں کو معاشرتی، سیاسی و زندگی کے ہر شعبہ میں بنیادی حقوق اورآزادی حاصل ہے جبکہ کشمیر کی صورتحال بالکل برعکس ہے جہاں بھارتی فوجی تسلط اور ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے خواتین بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ بدقسمتی سے بھارت کو عالمی قوانین کا کوئی پاس نہیں ہے جس کی وجہ سے غاصب بھارتی سرکار کھلے عام کشمیری خواتین کے بنیادی حقوق پامال کرتی ہے جبکہ عالمی مبصرین اور غیرملکی صحافیوں کو جموں و کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔

کشمیر میں اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے والوں پر 1947 سے جبر و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیر کے تنازعے نے اگر ہزاروں کشمیریوں کی جانیں لی ہیں تو ان گنت خواتین نے بھی اپنی عزتیں کھوئی ہیں۔ 1980ء کے اواخر میں انسانی حقوق کی پامالی کا ایک نیاسیاہ باب شروع ہوا جو اب تک جاری ہے اور اس دوران ایک ہزار سے زائد خواتین شہید ہوچکی ہیں۔ 1989ء سے لے کر اب تک 12 ہزار 121کشمیری خواتین بھارتی افواج کے ہاتھوں درندگی اور عصمت دری کا شکار ہو چکی ہیں، 23ہزار 234 بیوہ ہو چکی ہیں اور ہزاروں خواتین ’’نیم بیوہ‘‘ کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہیں جن کے شوہر لاپتہ ہو چکے ہیں اور ابھی تک اْن کے متعلق کوئی معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

قابض بھارتی سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے کشمیر میں عورتوں کی عصمت دری بنا خوف و خطر کی جاتی ہے ۔ مقبوضہ وادی میں عصمت دری کا انداز یہ ہے کہ جب فوجی سویلین رہائش گاہوں میں داخل ہوتے ہیں تو وہ عورتوں سے زیادتی سے قبل مردوں کو مار دیتے ہیں یا بے دخل کردیتے ہیں۔ بھارتی حکومت کے جبر، انتقامی کارروائی اور معاشرے میں بدنامی کے خوف کی وجہ سے بہت سے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔ مزید برآں بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نافذ کردہ سیاہ قوانین قابض افواج کے جرائم کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور اس سے کشمیریوں کے دکھ درد میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔

کشمیری خواتین کی عزتوں سے کھلواڑ صرف کسی ہوس کے مارے بھارتی فوجی اہلکار کا انفرادی جرم نہیں بلکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کچلنے کیلئے ریاستی دہشتگردی کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔اْن کے شوہروں ، بھائیوں اور بیٹوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مردوں کے سامنے اْن کی عورتوں کی جبری عصمت دری کی جاتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی گھاؤ ہے جس کے ذریعے کشمیری مرد و خواتین کوشدید اذیت پہنچائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کے بارے میں 52 ویں اقوام متحدہ کے کمیشن میں، پروفیسر ولیم بیکر نے گواہی دی کہ کشمیر میں عصمت دری محض غیر طے شدہ فوجیوں پر مشتمل الگ تھلگ واقعات کا معاملہ نہیں، بلکہ قابض سیکیورٹی فورسز کشمیری آبادی پر عصمت دری کو خوفناک اورسرگرم انداز میں ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و  کشمیر کی خواتین میں 1990ء میں ذہنی تناؤسے متعلقہ مریضوں کی تعداد 10 فیصد تھی جو کہ اب 60سے70 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس کے نتیجے میں ہر 100 میں سے 70عورتیں نفسیاتی مریضہ بن چکی ہیں۔ بیوہ خواتین اپنے مقتول شوہروں کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہیں کیونکہ آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوج کی موجودگی میں اْن کیلئے اپنے اور اپنے بچوں کیلئے روزگار کمانا ناممکن بن گیا ہے۔ ہزاروں کشمیری طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے گولیوں اورپیلٹ گنزکے استعمال سے زخمی ہو چکی ہیں۔ یتیموں کو صحت اور تعلیم کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری خواتین اپنے وطن میں امن اور بنیادی حقوق کے حصول کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں۔ ظلم و ستم، کریک ڈاؤن، جعلی مقابلوں، گمشدگیوں، بہیما نہ تشدد اورقتل و غارت کے باوجود کشمیری خواتین پختہ عزم کے ساتھ کھڑی ہیں ۔ 

آرٹیکل 370 کا خاتمہ سیاہ قوانین کے باب میں ایک اور اضافہ تھا جس کے ذریعے بھارت نے وادی میں لاک ڈاؤن ا ور کرفیو نافذ کر کے کشمیر کو بیرونی دنیا سے کاٹ دیا اور عالمی مانیٹرنگ تنظیموں کا بھی سری نگر میں داخلہ روک دیا۔ اس دوران بھارتی فوج کا سرچ آپریشن کے نام پر گھر گھر چھاپے مارنا روزانہ کا معمول بن گیا جس کا مقصد سوائے اس کے کچھ اور نہیں تھا کہ گھریلو خواتین کی آبرو ریزی کی جائے اور بچوں کا جنسی استحصال کیا جائے۔ مقامی اور عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کرفیو کی سنگین صورت حال میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری خواتین سے زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔5 اگست 2019ء سے اب تک 197 خواتین عصمت دری کا شکار ہوچکی ہیں ۔ اس دوران قابض بھارتی اہلکاروں کی بربریت نے 130 خواتین کے گھر اجاڑ دیئے۔ بھارتی فوج خواتین کی عصمت دری کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔زیادتی کے بیشتر واقعات محاصرے اور تلاشی کے آپریشنز کے دوران پیش آئے۔ اس صورتحال میں کشمیری خواتین مسلسل خوف اور اذیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

پھول سے بچوں پر بھارتی مظالم 

کے انمٹ نقوش 

بھارت دنیا کی وہ قوم ثابت ہوئی جس نے معصوم بچوں پر بھی مظالم کے نئے ہتھکنڈے متعارف کرائے۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار بچوں پر پیلٹ گنز کے استعمال کا مکروہ فعل بھی بھارت کے حصے میں آتا ہے۔ اس اقدام سے مقبوضہ کشمیر میں ڈھائی سال کے دوران 200سے زائد بچوں اور نوجوانوں کو بصارت سے محروم کردیا گیا۔اگست 2019ء سے جاری کرفیو اور بڑھتے ہوئے مظالم سے کشمیری بچوں پر کیا کچھ بیت رہی ہے اس کی ایک تکلیف دہ مثال سوپور علاقے کے اس 3 سالہ بچے کی ہی ہے جس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے گولیاں مار کر شہید کیااور نواسا خون سے لت پت لاش کے سینے پر بیٹھ کر رو رہا تھا۔1989ء سے اب تک 1 لاکھ8ہزار 189 کشمیری بچوں کو ماں باپ کے سائے سے محروم کیا گیا ہے۔ کشمیری بچے ایسے ہی دردناک مناظر دیکھ کر بڑے ہوتے ہیں جس سے انھیں شدید نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بھارتی فوجیوں کی پیلٹ گنوں سے زخمی و نابینا ہوتے بچے اور جنسی تشدد کا نشانہ بنتی آصفہ بانو جیسی معصوم بچیاں جس درد کو اپنے سینوں میں سمیٹے جی رہے ہیں اس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ 5اگست 2019ء سے اب تک 208بچے یتیم جبکہ 154سے زائد بچے بھارتی پیلٹ گنز کا نشانہ بننے کی وجہ سے اپنی بصارت سے جزوی یا مکمل طور پر محروم ہوئے ہیں۔ دیگر اس کے طویل فوجی محاصرے اور کشمیر کے مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ بچوں کو خوراک، صحت اور تعلیم کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ مقبوضہ وادی میں پانچ دن گزارنے والے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مطابق ، آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے بعد راتوں رات تقریباً 13ہزار لڑکوں کو حراست میں لے کر، غیر قانونی طور پر آرمی کیمپوں میں اور تھانوں میں رکھا گیا جہاں انہیں جسمانی و نفسیاتی اذیت دینے کیلئے ہر حربہ اپنایا گیا۔ مشن کی اس رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح5 اگست کے بعد اس طرح کے چھاپوں کے دوران بھارتی فوج کے افسران نے رات کے وقت کم عمر لڑکوں کو اغوا کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی اور جنسی زیادتی کی۔ ان چھاپوں کا واحد مقصد خوف پیدا کرنا تھا۔

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن آف امریکن مائنارٹیز کی چائلڈ رائٹس سے متعلق کمیٹی کے سامنے پیش کردہ،ہندوستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بچوں کی صورتحال ، کے عنوان سے ایک اور رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے میں غیر معمولی ہندوستانی قابض افواج اور خفیہ ایجنسیوں نے صرف ان کی کمزوری کی وجہ سے بچے کی زندگی کے کسی بھی پہلو کو نہیں بخشا۔ وہ متعدد جسمانی اور جذباتی بدسلوکیوں ،تشدد اور بے گھر ہونے جیسے خطرات کا سب سے بڑا شکار ہیں۔ بچوں کو ان کے اہل خانہ سے الگ ہوجانے کا زیادہ خطرہ ہے۔ لڑکیوں کو جنسی تشدد ، استحصال اور بدسلوکی کا خطرہ ہوتا ہے۔ 

وادی میں مستقل ہنگاموں نے رہائشیوں خصوصاً بچوں کے پورے طرز زندگی کو تبدیل کردیا ہے۔ بچے کنڈرگارٹن نہیں جاتے،نرسری کی نظمیں نہیں سیکھتے، کھلونوں سے نہیں کھیلتے ہیں ، جیسا کہ عام بچے کرتے ہیں۔ نہ ہی وہ آزاد ماحول میں اپنے والدین کی محبت ،شفقت اور نگہداشت میں پالے جاتے ہیں۔

بھارتی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کے ساتھ بھارتی حکومت کا رویہ ظالمانہ اور قابل مذمت ہے۔ در حقیقت کشمیر سے سامنے آنے والی اطلاعات سے یہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیریوں کے عزم کو متزلزل کرنے کیلئے بچوں کے خلاف دہشت گردی ایک دانستہ ہتھکنڈہ ہے ، اور اس طرح انہیں تحریک آزادی کی حمایت ترک کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔سیاہ قوانین کے تحت بھارتی فوج کو حاصل بے لگام اختیارات کے سبب اس وقت کشمیری خواتین ہی سب سے زیادہ غیر محفوظ اور مجروح ہیں۔ آج نہ صرف کشمیری عورت کی عصمت غیر محفوظ ہے بلکہ شوہر، بھائیوں اور جوان بیٹوں کی شہادت اور لاپتا ہونے کی وجہ سے تحریک آزادی چلانے، بچوں کی پرورش اور اہل خانہ کی کفالت کا بوجھ بھی اس پر آن پڑا ہے۔ اس وقت ہزاروں نہیں ، بلکہ لاکھوں کشمیری غائب ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آج تحریک آزادی کشمیر کا سارا بوجھ خواتین پر ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا

روایتی حریف ایک بار پھر آمنے سامنے

عید کی سچی خوشی !

فضہ اور نور بہت اچھی سہیلیاں اورہمسائی ہیں۔ ایک ہی کلاس میں پڑھتیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھر جا کر بھی مدد لیتیں۔

مخلوق کے کام آنا!

ہے کام آنا مخلوق کے عظمت انساں کی،ہیں محسن وہ کرتے ہیں خدمت انساں کی

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری،رات چوہوں نے ایک میٹنگ کی

سنہری باتیں

٭…کھانے کو ٹھنڈا کر لیا کرو کہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی۔

ذرا مسکرائیے

بچہ (اپنے دوست سے): میرے دادا اتنے بہادر تھے کہ انہوں نے ایک جنگ میں ایک آدمی کی ٹانگ کاٹ دی۔