تحائف: محبت کی علامت ہدیہ اگراخلاص کے ساتھ دیا جائے تو اس کا ثواب صدقہ سے کم نہیں
جس نے احسان کرنے والے بندہ کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے اللہ تعالی کا بھی شکریہ ادا نہیں کیا (سنن ابی داؤد:4811)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’آپس میں ہدیئے، تحفے دیا کرو، ہدیہ سینوں کی کدورت و رنجش کو دور کر دیتا ہے اور ایک پڑوسن دوسرے پڑوسن کے ہدیہ کیلئے بکری کے کُھر کے ایک ٹکڑے کو بھی حقیر اور کمتر نہ سمجھے‘‘ (ترمذی: 1338)
زندگی میں لین دین کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ اپنی کوئی چیز ہدیہ اور تحفہ کے طور پر کسی کو پیش کر دی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات میں اس کی بڑی ترغیب دی ہے، اس کی یہ حکمت بھی بتلائی ہے کہ اس سے دلوں میں محبت و الفت اور تعلقات میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے۔ جو اس دنیا میں بڑی نعمت اور بہت سی آفتوں سے حفاظت اور عافیت و سکون حاصل ہونے کا وسیلہ ہے۔
ہدیہ وہ عطیہ ہے جو دوسرے کا دل خوش کرنے اور اس کے ساتھ اپنا تعلق خاطر ظاہر کرنے کیلئے دیا جائے اور اس کے ذریعے رضائے الٰہی مطلوب ہو۔ یہ عطیہ اور تحفہ اگر اپنے کسی چھوٹے کو دیا جائے تو اس کے ساتھ اپنی شفقت کا اظہار ہے، اگر کسی دوست کو دیا جائے تو یہ محبت زیادہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر کسی ایسے شخص کو دیا جائے جس کی حالت کمزور ہے تو یہ اس کی خدمت کے ذریعہ اس کی دلجوئی کا ذریعہ ہے۔ اگر اپنے کسی بزرگ اور محترم کو پیش کیا جائے تو اُن کا اکرام ہے۔ اگر کسی کو ضرورت مند سمجھ کر اللہ کے واسطے اور ثواب کی نیت سے دیا جائے تو یہ ہدیہ نہ ہو گا صدقہ ہو گا، ہدیہ جب ہی ہو گا جب کہ اس کے ذریعہ اپنی محبت اور تعلق خاطر کا اظہار مقصود ہو اور اس کے ذریعہ رضائے الٰہی مطلوب ہو۔ ہدیہ اگر اخلاص کے ساتھ دیا جائے تو اس کا ثواب صدقہ سے کم نہیں بلکہ بعض اوقات زیادہ ہو گا۔ ہدیہ اور صدقہ کے اس فرق کے نتیجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہدیہ شکریہ اور دعا کے ساتھ قبول فرماتے اور اس کو استعمال بھی فرماتے تھے اور صدقہ کو بھی اگرچہ شکریہ کے ساتھ قبول فرماتے اور اس پر دعائیں بھی دیتے لیکن خود استعمال نہیں فرماتے تھے، دوسروں ہی کو مرحمت فرما دیتے تھے۔
افسوس ہے کہ امت میں باہم مخلصانہ ہدیوں کی لین دین کا رواج بہت ہی کم ہو گیا ہے۔ بعض خاص حلقوں میں بس اپنے بزرگوں، عالموں، مرشدوں کو ہدیہ پیش کرنے کا تو کچھ رواج ہے لیکن اپنے عزیزوں، قریبوں، پڑوسیوں وغیرہ کے ہاں ہدیہ بھیجنے کا رواج بہت ہی کم ہے حالانکہ قلوب میں محبت و الفت اور تعلقات میں خوشگواری اور زندگی میں چین و سکون پیدا کرنے اور اسی کے ساتھ رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لیے یہ رسول اللہ ﷺ کا بتلایا ہوا نسخہ کیمیاء ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’آپس میں ہدیے تحفے بھیجا کرو، ہدیئے تحفے دلوں کے کینے کو ختم کر دیتے ہیں‘‘ (جامع ترمذی)۔ ہدیئے تحفے دینے سے باہمی رنجشوں اور کدورتوں کا دور ہونا، دلوں میں جوڑ اور تعلقات میں خوشگواری پیدا ہونا بدیہی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سنہری ہدایت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت حدیث میں جو یہ اضافہ ہے کہ ایک پڑوسن دوسری پڑوسن کیلئے بکری کے کھر کے ٹکڑے کے ہدیہ کو حقیر نہ سمجھے اس سے حضور ﷺ کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ ہدیہ دینے کیلئے ضروری نہیں کہ بہت عمدہ ہی چیز ہو اگر اس کی پابندی اور اس کا اہتمام کیا جائے گا تو ہدیہ دینے کی نوبت بہت کم آئے گی۔ اس لیے بالفرض اگر گھر میںبکری کے پائے پکے ہیں تو پڑوسن کو بھیجنے کیلئے اس کے ایک ٹکڑے کو بھی حقیر نہ سمجھا جائے وہی بھیج دیا جائے۔واضح رہے کہ یہ ہدایت اس حالت میں ہے جب اطمینان ہو کہ پڑوسن خوشی کے ساتھ قبول کرے گی اور اس کو اپنی توہین وتذلیل نہ سمجھے گی۔ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ماحول ایسا ہی تھا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول و دستور تھا کہ آپ ﷺ ہدیہ تحفہ قبول فرماتے تھے اور اس کے جواب میں خود بھی عطا فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری: 2414)
مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کو جب کوئی محب و مخلص ہدیہ پیش کرتا تو آپ ﷺ خوشی سے قبول فرماتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ہل جزاء الاحسان الا الا حسانکے مطابق اس ہدیہ دینے والے کو خود بھی ہدیے اور تحفے سے نوازتے تھے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے امت کو بھی اسی طرز عمل کی ہدایت فرمائی ہے۔لیکن افسوس ہے کہ امت میں اس کریمانہ سنت کا اہتمام بہت کم نظر آتا ہے۔
حضرت جابر ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو ہدیہ تحفہ دیا جائے تو اگر اس کے پاس ہدیہ میں دینے کیلئے کچھ موجود ہو تو اس کو دے دے اور جس کے پاس بدلہ میں دینے کیلئے کچھ نہ ہو تو وہ (بطور شکریہ کے) اس کی تعریف کرے اور اس کے حق میں کلمہ خیر کہے، جس نے ایسا کیا اس نے شکریہ ادا کر دیا، جس نے ایسا نہیں کیا اور احسان کے معاملہ کو چھپایا تو اس نے ناشکری کی۔ ( ابی داؤد، جلد 3،حدیث 4813)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی ہے کہ جس کو کسی محبت کرنے والے کی طرف سے ہدیہ تحفہ دیا جائے تو اگر ہدیہ پانے والا اس حال میں ہو کہ اس کے جواب اور صلہ میں ہدیہ تحفہ دے سکے تو ایسا ہی کرے اور اگر اس کی مقدرت نہ ہو تو اس کے حق میں کلمۂ خیر کہے اور اس کے اس احسان کا دوسرے کے سامنے بھی تذکرہ کرے۔جو شخص ہدیہ تحفہ پانے کے بعد اس کا اخفاء کرے، زبان سے ذکر تک نہ کرے، جزاک اللہ جیسا کلمہ بھی نہ کہے تو وہ کفران نعمت اور ناشکری کا مرتکب ہو گا۔
مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی،
مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور ہیں