آزادکشمیر پبلک سروس کمیشن کی تشکیل

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر میں اتحادی حکومت نے آٹھ ماہ سے زائد عرصہ کے بعد بالآخر چیئر مین اور تین ممبران پر مشتمل پبلک سروس کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔گزشتہ برس 17 نومبر کوآزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد بہار نے پبلک سروس کمیشن کی تشکیل کیلئے حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں حکومت آزاد جموں و کشمیر کو احکامات جاری کئے تھے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے سول سروسز ڈھانچے میں ضرورت کے مطابق نئی تقرریوں کو یقینی بنانے کیلئے پبلک سروس کمیشن تشکیل دے تاکہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو مقابلے کے امتحانات کے ذریعے روزگار مل سکے۔ گو کہ حکومت نے اس اہم ادارے میں چیئرمین اور ممبرز کی تقرری میں دو ماہ کے قریب وقت لگایا اور اب بھی ماہرینِ مضامین پر مشتمل تین ممبرز سمیت چھ کی تقرری باقی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کی مدت تین سال پر مشتمل ہوتی ہے۔ وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق نے جہاں اچھی شہرت اور اپنے اپنے شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ایک غیر جانبدار اور شاندار پبلک سروس کمیشن بنایا ہے وہیں انہوں نے پہلی بار گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ہدایت الرحمن کو اس ادارے کا چیئرمین متعین کیاہے۔آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کے دیگر ممبرز میں سابق سیکرٹری خواجہ اعجاز حسین لون ،حافظ محمد ابراہیم عزیز اور سابق جج سعید بشیر بٹ شامل ہیں۔آزاد جموں وکشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974 کے آرٹیکل 48(2) اور آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن ایکٹ 1986 کے تحت حکومت آزاد جموں و کشمیرنے پبلک سروس کمیشن کو تشکیل دیا ہے۔ آزاد جموں وکشمیر پبلک سروس کمیشن چیئرمین سمیت کل سات ممبرز پر مشتمل ہوتا ہے۔ چار ممبرز کو سول سروسز یا معاشرہ کے کسی بھی شعبہ میں نمایاں مقام رکھنے والوں میں سے لیا جاتا ہے۔ تین ممبرز کیلئے ضروری ہے کہ وہ شعبہ تعلیم سے وابستہ رہے ہوں، اچھی شہرت کے ساتھ ساتھ اپنے شعبہ میں دس سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہوں جبکہ تمام ممبرز کی کم از کم تعلیمی قابلیت گریجویشن ہونی چاہیے۔

بلا شبہ وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر چوہدری انوار الحق نے ایک بہترین پینل تشکیل دیا ہے ،چیئرمین کا تقرر گلگت بلتستان سے کیا گیا ہے جو ریاست جموں و کشمیر کی ایک اہم اکائی ہے اور اس سے دونوں علاقوں کے درمیان محبت میں اضافہ ہو گا۔آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ہدایت الرحمن کا تعلق استور ویلی گلگت بلتستان سے ہے اور وہ پشاور کے کور کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔ آپ جی ایچ کیو راولپنڈی میں انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلویشن بھی رہے ہیں اور یکم اکتوبر 2018ء کو پاک فوج سے ریٹائرڈ ہو گئے تھے۔ گلگت بلتستان سے چیئرمین کی تقرری سے نہ صرف دونوں علاقوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے قومی یکجہتی کو بھی فروغ ملے گا۔

ہدایت الرحمن صاحب سے قبل بھی آزاد جموں وکشمیر پبلک سروس کمیشن کے تین چیئر مین مختلف عسکری اداروں سے وابستہ رہے ہیں جن میں ایئر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر جو مئی 2020ء سے مئی 2023ء تک آزاد جموں وکشمیر پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین رہے جبکہ سابق کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محسن کمال دسمبر 2016ء سے 2019ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ جنرل محسن کمال کا تعلق مظفرآباد سے تھا۔ آزاد جموں وکشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں پبلک سروس کمیشن کے حوالے سے کافی سوالات کی گئیں ،جس کا نوٹس لیتے ہو دسمبر 2016ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس وقت کے پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین سابق چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ شہباز احمد کو نو ممبرز سمیت اپنی مدت مکمل ہونے سے قبل برطرف کر دیا۔ آزاد جموں و کشمیر میں یہ پہلا پبلک سروس کمیشن تھا جسے دو سال چار ماہ کے بعد غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر ختم کیا گیا۔حالیہ پبلک سرس کمیشن کے ممبرز سابق سیکرٹری حکومت آزاد جموں وکشمیر خواجہ اعجاز حسین لون، سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سعید بشیر بٹ اور حافظ محمد ابراہیم عزیز اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان تینوں ممبرز کا تعلق آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر میں مقیم کشمیری مہاجرین سے ہے۔

 آزاد جموں و کشمیر میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے منحرف اراکین پر مشتمل فارورڈ بلاک کے ارکان قانون ساز اسمبلی پر مشتمل اتحادی حکومت نے ایک متوازن اور بہترین پبلک سروس کمیشن کی تشکیل دے کر گڈ گورننس کا ثبوت دیا ہے۔اس سے قبل آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن میں سیاسی وابستگی اور قبائل کی بنیاد پر ممبرز کی تقرری کی جاتی تھی۔ پبلک سروس کمیشن کی تشکیل کے بعد عام آدمی میں یہ امید جاگ اٹھی ہے کہ وزیر اعظم چوہدری انوار الحق اب چیئرمین احتساب بیورو بھی چیئرمین پبلک سروس کمیشن اور اس کمیشن کے ممبرز کی طرح اچھی شہرت کے حامل بندے کو لگائیں گے۔بلاشبہ اس غیر جانبدار تاریخی پبلک سروس کمیشن کے تشکیل سے آزاد جموں وکشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بہت حوصلہ ملا ہے اور امید ہے کہ نئے چیئرمین پی ایس سی آزاد کشمیر کے ان پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی تعیناتی کیلئے امتحانات کا سلسلہ شروع کریں گے تاکہ آزاد جموں و کشمیر کے تعلیم یافتہ بچے اور بچیاں اپنی صلاحیتوں کے مطابق مقابلے کے امتحانات کے ذریعے آگے بڑھ سکیں۔ آزاد جموں و کشمیر حکومت کا یہ ایک مستحسن ا قدام ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا

روایتی حریف ایک بار پھر آمنے سامنے

عید کی سچی خوشی !

فضہ اور نور بہت اچھی سہیلیاں اورہمسائی ہیں۔ ایک ہی کلاس میں پڑھتیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھر جا کر بھی مدد لیتیں۔

مخلوق کے کام آنا!

ہے کام آنا مخلوق کے عظمت انساں کی،ہیں محسن وہ کرتے ہیں خدمت انساں کی

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری،رات چوہوں نے ایک میٹنگ کی

سنہری باتیں

٭…کھانے کو ٹھنڈا کر لیا کرو کہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی۔

ذرا مسکرائیے

بچہ (اپنے دوست سے): میرے دادا اتنے بہادر تھے کہ انہوں نے ایک جنگ میں ایک آدمی کی ٹانگ کاٹ دی۔