پنجابی زبان کے رسم الخط اور لہجے

پنجابی زبان کے رسم الخط اور لہجے

اسپیشل فیچر

تحریر : عامر ریاض


پنجابی زبان کی قدامت بارے کوئی دو رائے نہیں۔ خود پورن بھگت کا قصہ ساڑھے تین ہزار سال پرانا ہے۔ کسی بھی زبان کی وسعت اور پھیلائو کا ایک ثبوت اس کے بولنے، لکھنے کے مختلف انداز ہوتے ہیں۔ یوں زبان کوئی جامد اور غیر متحرک شئے نہیں بلکہ اس میں وقت کے ساتھ ساتھ تغیر جاری رہتا ہے۔ عربی ہو یا انگریزی، فارسی، یا پھر پنجابی، اس میں دیگر زبانوں کے نئے نئے الفاظ بھی آتے ہیں اور اس کے الفاظ دوسری زبانوں میں بھی جگہ بناتے رہتے ہیں۔ پنجابی زبان کے لہجوں اور رسم الخطوں بارے ہم یہاں دو غیرپنجابیوں کی آراء دینا چاہتے ہیں۔ ایک تو مشہور روسی ماہر لسانیات ہیں جن کا نام گینگو وسکی ہے جو علم لسان یعنی زبانوں بارے اپنے علم کی وجہ سے مشرق و مغرب میںمستند محقق مانے جاتے ہیں۔ جبکہ دوسرے ہیں جناب جی ڈبلیو لائٹز کہ جنہوں نے قبل از انگریز تعلیمی بندوبست کے حوالے سے پنجاب کی تعریف انتہائی مدلل انداز میں کی ہے۔گینگو وسکی کی کتاب کا انگریزی نام ہے People of Pakistan جبکہ اس کا ترجمہ ’’پاکستان کی قومیتیں‘‘ کے عنوان کے تحت کیا گیا تھا۔ اس کتاب میں گینگو وسکی کا کہنا ہے کہ پنجابی زبان کا بہت زیادہ پھیلائو ہے۔ اس کے لہجوں میں ماجھی، سرائیکی، پوٹھوہاری، پہاڑی، گوجری، ہندکو، لہندی سمیت لاتعداد لہجے شامل ہیں۔ ان سب لہجوں کی گرائمر ایک ہے مگر لفظالی مختلف ہے۔ زبان اور لہجے کے فرق کو ماہر لسانیات سے زیادہ بھلا اور کون جان سکتا ہے۔ دوسرے عبقری جی ڈبلیو لائٹنر ہیں جنہوں نے پنجاب کے قبل از انگریز تعلیمی بندوبست بارے لاجواب کتاب ’’Indegenious Education in the Punjab‘‘ 1882 میں لکھی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجابی بہت سے رسم الخطوں میں لکھی جاتی تھی۔ ان میں فارسی رسم الخط (شاہ مکھی) تو تھا ہی کہ جس میں آج کل ہم سب پنجابی لکھتے ہیں۔ دوسرا رسم الخط گورمکھی تھا جسے سکھ مت والوں نے تین چارسوسال قبل بنایا تھا۔ تاہم لائٹنر نے اس کے علاوہ دیوناگری رسم الخط میں لکھی جانے والی پنجابی کی بات بھی کی ہے اور اس کے علاوہ پنجابی زبان کے لنڈے، مہاجنی اور صرافی رسم الخطوں بارے بھی لکھا ہے۔ یہ جو لنڈے بازار آج کل سردیوں سے بچائو کا بندوبست کرتا ہے، یہاں لنڈے رسم الخط کے بلاک ملتے تھے۔ لنڈے، مہاجنی اور صرافی رسم الخطوں کی تصاویر بھی لائٹنر نے اپنی کتاب میں دی ہیں۔ یہ شارٹ ہینڈ ٹائپ رسم الخط تھے کہ جن میں ہر طرح کا حساب کتاب کیا جا سکتا تھا۔ ان رسم الخطوں میں لکھی جانے والی پنجابی کا تعلق براہ راست کاروبار سے تھا۔ سوداگر اور تاجر ’’مہاجنی‘‘ رسم الخط استعمال کرتے تھے جبکہ دکانداروں کے بہی کھاتے لنڈے سے پر ہوتے تھے۔ اس طرح بینکار، بنیئے، سنار وغیرہ صرافی کا پنجابی رسم الخط استعمال کرتے تھے۔ لائٹنر نے تو ان سکولوں کا تذکرہ بھی کیا ہے جہاں ان رسم الخطوں ہی کے مطابق تعلیم دی جاتی تھی۔ یوں جب مادری زبان، کاروبار اور تعلیمی بندوبست میں سانجھ تھی تو پنجاب میں ہر سطح پر ترقی بھی ہوئی۔ شو مئی قسمت یہ رسم الخط اور لہجے تو پنجابی کی وسعت اور پھیلائو کے حوالے تھے مگر آج انہی کے ذریعے پنجابیوں کو لڑانے اور کمزور کرنے کے جتن کیے جا رہے ہیں۔گنووسکی کی کتاب اردو اور انگریزی میں داراشاعت ماسکو سے چھپ کر آئی تھی تاہم بعد میں اسے اردو میں فکشن ہائوس نے بھی چھاپا تھا۔ بقول سوات مقیم تاریخ دان سلطان روم، اس کتاب کو پشتو میں بھی ترجمہ کیا گیا تھا۔ جبکہ جی ڈبلیو لائٹنر کی کتاب کو بھارت و پاکستان میں بار بار شائع کیا گیا ہے۔ آج کل سنگ میل پبلشر نے اسے دوبارہ چھاپا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
یادرفتگان: بیگم خورشید مرزا ایک عہد ساز اداکارہ

یادرفتگان: بیگم خورشید مرزا ایک عہد ساز اداکارہ

پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بھارت سے ایک فنکارہ پاکستان آئیں جو بھارت کی معروف اداکارہ و گلو کارہ تھیں، مگر انہوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری سے خود کو دور رکھا اور ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئیں اور ریڈیو کے ذریعے تھوڑے بہت پروگرام کئے جو خواتین کی فلاح و بہبود پر تھے۔ وہ فنکارہ بیگم خورشید مرزا تھیں جو پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ بھی قرار پائیں۔بیگم خورشید مرزا 4مارچ 1918ء کو برٹش انڈیا دور میں علی گڑھ میں پیدا ہوئیں اور ان کا نام خورشید جہاں تھا۔ ان کے والد شیخ عبداللہ بیرسٹر تھے، جنہوں نے علی گڑھ گرلز کالج کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کی والدہ وحیدہ جہاں تھیں۔ بیگم خورشید جہاں کا گھرانہ علی گڑھ کے پڑھے لکھے گھرانوں میں شمار ہوتا تھا۔ ان کی بڑی بہن ڈاکٹر رشیدہ تھیں جو انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانی اراکین میں سے تھیں اور ان کی دوسری بہنیں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔خورشید جہاں نے ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے حاصل کی۔ سکول کالج سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے انڈیا کے مختلف تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم کی سندیں حاصل کیں۔ 1934ء میں ان کی شادی دہلی کے ایک پولیس آفیسر اکبر حسین مرزا سے ہوئی اور وہ بیگم خورشید مرزا کہلائیں۔ ان دنوں فلموں کی اداکارائوں کو زیادہ اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ رینو کا دیوی( بیگم خورشید مرزا) کی پہلی فلم ''جیون پرابھت‘‘ کے نام سے 1937ء میں ریلیز ہوئی۔ ان کی دوسری فلم ''بھابی‘‘ تھی جو 1938ء میں ریلیز ہوئی اور سپرہٹ ہوئی۔ یوں بیگم خورشید پورے انڈیا میں رینوکا دیوی کے نام سے مشہور ہو گئیں۔ اس فلم میں وہ ہیروئن تھیں۔فلم ''نیا سنسار‘‘ بھی ان کی ایک سپرہٹ فلم تھی۔ اس فلم کے ہیرو اشوک کمار تھے اور ہیروئن رینو کا دیوی (بیگم خورشید مرزا) تھیں۔ فلم ''سنسار‘‘ کے ہدایتکار این آر اچاریہ تھے۔ اس فلم میں بھی رینوکادیوی نے کئی گانے گائے تھے۔1941ء کی یہ سپرہٹ فلم تھی۔ اس فلم کے بعد رینوکا دیوی (بیگم خورشید مرزا) نے بمبئی کو خیر باد کہا اور لاہور آئیں۔1943ء میں لاہور سے زینت بیگم فلمز کی جانب سے ان کی ایک فلم ''سہارا‘‘ کے نام سے ریلیز ہوئی۔1947ء میں پاکستان وجود میں آیا اور رینوکادیوی اپنا نام اور فلمیں انڈیا میں چھوڑ کر پاکستان آ گئیں۔ پاکستان آنے کے بعد کافی عرصہ تک ان کا نام ہندوستان میں گونجتا رہا اور وہاں کے شائقین فلم رینو کادیوی کو یاد کرتے رہے، مگر رینوکادیوی پاکستان آ گئیں اور یہاں بیگم خورشید مرزا کے نام سے معروف ہوئیں۔ابتدا میں بیگم خورشید مرزا ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہیں اور اپنے پروگراموں میں غریب پسماندہ علاقوں کے مسائل پر روشنی ڈالتی رہیں مگر انہوں نے یہاں کی فلمی صنعت جوائن نہیں کی، کیونکہ یہاں کی فلموں کی تباہ حالی اور خواتین اداکارائوں کی عزت کا معیار ان کے حساب سے توہین آمیز تھا، اس لئے انہوں نے اس طرف دھیان نہیں دیا اور ریڈیو کے ذریعے حق کی آواز بلند کرتی رہیں۔ 1964ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کا قیام عمل میں آیا اور اس میں خواتین بھی پڑھی لکھی تھیں، اس میں شمولیت اختیار کی۔ بیگم خورشید مرزا کا پاکستان ٹیلی ویژن پر پہلا ڈرامہ سیریل ''کرن کہانی‘‘ کے نام سے تھا، جس کو حسینہ معین نے تحریر کیا تھا۔70ء کی دہائی میں بیگم خورشید مرزا پی ٹی وی کی معروف فنکارہ بن گئیں۔1974ء میں ان کی ڈرامہ سیریل ''زیر، زبر، پیش‘‘ تھی۔ یہ کامیڈی ڈرامہ تھا، جس کی پروڈیوسر شیریں خان تھیں۔ کہانی حسینہ معین نے لکھی تھی۔1974ء ہی میں ان کا ایک اور ڈرامہ ''انکل عرفی‘‘ کے نام سے شروع ہوا جو کافی مقبول ہوا۔ اس کے بعد ان کے بے شمار ڈرامے پی ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوئے۔1984ء میں ان کی ڈرامہ سیریل ''انا‘‘ پیش کی گئی جو بہت مقبول ہوئی۔ یہ کراچی سینٹر سے ٹیلی کاسٹ ہوا تھا۔ 21اقساط پر مشتمل تھا۔ اس کے ہدایتکار حیدر امام رضوی تھے اس میں غزالہ کیفی، اظہار قاضی، زینت یاسمین، مہرین الٰہی وغیرہ تھے۔ ان کے دیگر معروف ڈراموں میں شمع، افشاں، عروسہ، رومی، شوشہ، پناہ، دھند اور ماسی شربتی وغیرہ شامل ہیں۔ 1982ء میں بیگم خورشید مرزا نے اپنی خود نوشت ایک مقامی میگزین میں 9اقساط میں لکھی جو ہر ماہ شائع ہوئی تھیں۔ ان سوانح حیات میں انہوں نے برطانوی دور حکومت میں اپنی تعلیم زندگی، ازدواجی زندگی اور بھارتی فلموں میں ان کی اداکاری پر تفصیلی نوٹ لکھا جو بعد میں ان کی بیٹی لبنیٰ کاظم نے ترتیب دیا جو The Menoris of Begam‘‘ Khurshid Mirza Women of ''substancesکے نام سے شائع ہوا۔ بیگم خورشید مرزا نے بہت سماجی خدمات بھی انجام دیں، ان میں ''اپوا‘‘(Apwa)''آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن‘‘ ہے۔ جب ان کے شوہر کا تبادلہ کوئٹہ میں ہوا تو وہاں بھی ''اپوا‘‘ سے منسلک رہیں اور سماجی کام کرتی رہیں اور وہاں باقاعدہ ایک مرکز اسماعیل خیلی کے نام سے قائم کیا۔ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں1985ء میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ بیگم خورشید مرزا کا انتقال 8فروری 1989ء کو لاہور میں ہوا اور ان کی تدفین میاں میر قبرستان لاہور میں کی گئی۔ 

ناقص خوراک بیماریوں کی بڑی وجہ

ناقص خوراک بیماریوں کی بڑی وجہ

برطانیہ کے ایک معروف جریدے ''دی لینسٹ‘‘ (The Lancet)نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ہماری روزمرہ خوراک تمباکو نوشی سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہے۔یہی خوراک دنیا بھر میں ہونے والی ہر پانچ میں سے ایک ہلاکت کا باعث بن رہی ہے۔خوراک کے حوالے سے اس رپورٹ میں یہ وضاحت بھی کی گئی کہ دنیا بھر میں کم غذائیت کا شکار صرف خوراک کی کمی کا سامنا کرنے والے افراد ہی نہیں بلکہ وہ بھی ہیں جن کے پاس غذا تو وافر مقدار میں موجود ہے لیکن وہ ان کے استعمال کیلئے موزوں نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ''دی گلوبل برڈن آف ڈیزیز سٹڈی‘‘(The Global Burden of Disease Study)نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں کے مختلف ممالک سے جو اعداد و شمار اکٹھے کئے گئے ان میں لوگوں کے کھانے کی عادات اور طرز زندگی کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا گیا ۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہم روزمرہ جو خوراک استعمال کر رہے ہیں اس سے سالانہ ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ لوگ وقت سے پہلے لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ اس کی مختصر سی تفصیل اس رپورٹ میں یوں بیان کی گئی ہے کہ ہرسال اوسطاً 30 لاکھ اموات کثرت نمک کے استعمال اور قدرتی اناج کے بہت کم استعمال سے 30لاکھ اور پھلوں کے بہت کم استعمال سے 20 لاکھ اموات واقع ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خشک میوہ جات، بیج، سبزیوں، پھلوں اور سمندری حیات سے حاصل ہونے والے اہم اجزاء ''اومیگا 3‘‘ اور ''فائبر‘‘ کی کم مقدار بھی وقت سے پہلے موت کے اسباب میں شامل ہیں۔''یونیورسٹی آف واشنگٹن‘‘کے انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیویشن سے منسلک پروفیسر کرسٹوفر مرے نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ''صحت کے حوالے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ متوازن خوراک ہی در اصل صحت اور صحت مند زندگی کی ضامن ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ خوراک کا صحت سے بہت گہرا تعلق ہے‘‘۔اسی رپورٹ میں نمک کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے کہ اس کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتا ہے جس سے فالج اور دل کے دورے کے ممکنہ خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ خوراک سے ہونے والی ایک کروڑ دس لاکھ ہلاکتوں میں سے ایک کروڑ ہلاکتیں ہارٹ اٹیک اور امراض قلب کے باعث ہوتی ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نمک کا فراوانی سے استعمال کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ پھلوں، اناج، سی فوڈ اور سبزیوں کا استعمال اس کے برعکس ہے۔ ان کے استعمال سے دل کے دوروں کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ پھل اور سبزیاں دل کے دورے میں ڈھال کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے باقاعدہ استعمال سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے جس کے باعث کسی بھی بیماری کا مقابلہ بہتر اندازمیں کیا جا سکتا ہے۔ اسی رپورٹ میں آگے چل کر کہا گیا ہے کہ کینسر اور ذیابیطس خوراک کے باعث ہلاکتوں کی دوسری بڑی وجہ ہے۔پاکستان میں ہر سال تقریباً8لاکھ بچے متعدد بیماریوں کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے 2 لاکھ 80ہزار بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہونے کی وجہ سے لقمہ اجل بنتے ہیں۔عالمی صورتحالعالمی طور پر خوراک کے باعث اموات کے لحاظ سے بحیرہ روم کے ممالک اس وقت سب سے کم ہیں۔ اسرائیل اس وقت دنیا بھر میں ان ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر ہے جہاں غذا کی وجہ سے شرح اموات سب سے کم ہیں۔ یہاں سالانہ ہر ایک لاکھ افراد میں سے 89 افراد ناقص یا نامکمل خوراک کی وجہ سے وقت سے پہلے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ فرانس اور سپین میں بھی یہ شرح اس کے قریب قریب ہے جبکہ جنوب مشرقی، جنوبی اور وسطی ایشیاء میں یہ صورت حال یکسر مختلف ہے۔ ازبکستان، چین اور جاپان وہ ممالک ہیں جہاں خوراک کی وجہ سے شرح اموات دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں خوراک کی وجہ سے شرح اموات سالانہ ہر ایک لاکھ افراد کے مقابلے میں 892 سے 900 کے درمیان ہے۔ اتفاق سے ان تینوں ملکوں میں اموات کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ کثرت سے نمک کا استعمال ہے۔ جہاں تک جاپان کا تعلق ہے اب یہاں کے لوگوں میں کم از کم نمک کی حد تک مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ انہوں نے نمک کا استعمال کسی حد تک کم کر دیا ہے جبکہ ماضی میں یہ ممالک نمک کا استعمال کثرت سے کیا کرتے تھے۔یونیورسٹی آف واشنگٹن کے پروفیسر مرے کہتے ہیں اکثر لوگ وزن بڑھنے کے خوف سے اچھی غذاؤں کو ترک کرنا شروع کر دیتے ہیں، نتیجتاً وہ وزن کم کرتے کرتے متعدد جان لیوا بیماریوں کو دعوت دے بیٹھتے ہیں۔ پروفیسر مرے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وزن سے زیادہ اہم یہ ہے کہ تازہ پھل، ثابت اناج ، خشک میوہ جات ، بیج ، سبزیاں آپ کی خوراک کا لازمی جزو اور نمک کا کم سے کم استعمال آپ کی خوراک کا حصہ ہونا چاہئے ۔ نمک کے ساتھ ساتھ ہمیں شکر ، نشاستہ دار غذاؤں ، پروسیسڈ فوڈ اور سرخ گوشت کے بے دریغ استعمال سے بھی بچنا ہو گا۔ گزشتہ کچھ برسوں میں چربی اور شکر کے استعمال کی بحث کے ساتھ ساتھ سرخ اور پروسیسڈ گوشت کے کینسر سے تعلق بارے عالمی میڈیا نے جو مہم چلائی اس بارے پروفیسر مرے کہتے ہیں کہ ان غذاؤں کا کینسر سے تعلق اپنی جگہ صحیح ہے لیکن اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صحت مند غذاؤں جس میں ثابت اناج ، پھل سبزیاں ، خشک میوہ جات ، اور سی فوڈ وغیرہ شامل ہیں کے بارے عوام کو آگاہی دیں جو دیگر تمام باتوں سے زیادہ اہم ہے۔ اگر آپ روزانہ گوشت کھاتے ہیں تو یہ آپ کی صحت کیلئے ہرگز صحیح نہیں ہے بلکہ آپ ہفتے میں صرف ایک دفعہ گوشت یا گوشت سے بنی کوئی ڈش کھا سکتے ہیں۔ہاں آپ اس کے ساتھ ہفتے میں ایک بار مرغی اور مچھلی کا اضافہ بھی کر سکتے ہیں ۔ پروٹین کا باقی حصہ آپ کو سبزیوں سے پورا کرنا ہو گالیکن پھلوں کا استعمال بھی آپ کی غذا کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ماہرین اس کے ساتھ ساتھ خشک میوہ جات ، پھلیاں ،دالیں اور سفید چنوں کو بھی تجویز کرتے ہیں۔جبکہ آلو،شکر اور نشاستہ دار غذائوں کے استعمال میں احتیاط پر زور دیتے ہیں۔  

آج کا دن

آج کا دن

برقی کرسی پر پابندی08فروری 2008ء کو نبراسکا میں سزائے موت دینے کیلئے برقی کرسی کے طریقے پر پابندی عائد کی گئی۔ یہ طریقہ سزائے موت دینے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ سزائے موت کے مجرم کو لوہے کی کرسی پر بٹھا کر اس کے پورے جسم پر بجلی کی تاریں لگا دی جاتی تھیں اور کرسی میںکرنٹ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ کچھ محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجرم کو کرسی کے ساتھ باندھ کر اس کے پاؤں پانی میں ڈال دئیے جاتے تھے اور منہ میں لوہے کا راڈ یا سیخ رکھ دی جاتی تھی۔ بین الاقوامی فورمز پر اس طریقہ کی شدید مخالفت کے بعد2008ء میں برقی کرسی پر پابندی لگادی گئی۔خلامیں رہنے کا ریکارڈ8فروری1974ء کو تین امریکی خلا باز ،ڈاکٹر ایڈورڈ گبسن، لیفٹیننٹ کرنل جیرالڈ کار اور لیفٹیننٹ کرنل ولیم پوگ سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے 85دن خلاء میں رہنے کے بعد بحفاظت زمین پر واپس پہنچے۔ انہوں نے 85 دن امریکی خلائی اسٹیشن اسکائی لیب میں گزارے۔ اسی پروگرام کو مزید جدت کے ساتھ اب دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں کی جائیں گی جس میں خلا اور چاند پر ایسے سٹیشن بنائے جائیں گے جس میں خلا باز طویل عرصے تک قیام کر سکیں گے۔فلسطین ، اسرائیل فائر بندی معاہدہ2005ء میں آج کے روز اسرائیل اور فلسطین کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ طے پایا۔ معاہدے کے باوجود اسرائیل نے بمباری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ معاہدے کی خلاف ورزی پر فلسطین نے احتجاج بھی کیا لیکن اسرائیلی افواج نے طاقت کا بے رحم استعمال کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں پر بھی فائرنگ کر دی۔ معاہدے کی خلاف ورزی کو بین الاقوامی سطح پر بھی تنقید کا نشانہ بنا یا گیا لیکن اسرائیل نے اس معاہدے کو بھی ماضی کے دیگر معاہدوں کی طرح ہوا میں اڑا دیا اورظلم و ستم کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ جاپان روس جنگ کا آغاز8 فروری 1904ء میں جاپان اور روس کے مابین جنگ کا آغاز ہوا جو 2سال تک جاری رہی۔ کوریا اور منچوریا پر اثرو رسوخ قائم کرنے کو لے کر جاپان اور روس میں کافی عرصہ سے مذاکرات جاری تھے جن کی ناکامی پر جاپان نے روس کے خلاف جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جاپانی بحریہ نے چینی بندرگاہ پورٹ آرتھر پر موجود روسی بحر ی بیڑے پر پے درپے حملے کر کے جنگ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ان حملوں سے روسی بیڑے کو شدید نقصان پہنچا۔  

یادرفتگان: سنجیدہ اور مزاحیہ اداکاری کیلئے یکساں مقبول غیور اختر

یادرفتگان: سنجیدہ اور مزاحیہ اداکاری کیلئے یکساں مقبول غیور اختر

سنجیدہ اور مزاحیہ اداکاری کیلئے یکساں مقبول اداکار غیور اخترایک ٹرینڈ سیٹر اداکار تھے،انہوں نے جو کردار نبھایاخوب نبھایا، مزاحیہ اداکاری میں انہیں بے پناہ پسند کیا گیا۔ غیور اختر کا شمار ریڈیو، ٹی وی، فلم اور سٹیج کے منجھے ہوئے اداکاروں میں ہوتا تھا۔45سالہ کریئر میں نہ صرف اداکاری کی بلکہ بطور مصنف، ڈائریکٹر ، پروڈیوسراور ریڈیو صدا کار کے طور پر بھی کام کیا۔ فنی کریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور مرکز سے 1968ء میں کیا۔ ریڈیو پر ان کا پہلا ڈرامہ ''چھمکاں‘‘تھا جسے پروڈیوسر محمد اعظم خان نے ریکارڈ کیا تھاجو 17مئی 1968ء کو نشر کیا گیا۔ریڈیو سے ان کا رشتہ تادم مرگ قائم رہا۔ وہ بہت ہی باہمت انسان تھے،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2011ء میں فالج کے حملے کے باوجود وہ ریڈیو پاکستان پر اپنی خدمات فراہم کرتے رہے۔ راقم کے سینئر اداکار سے دوستانہ مراسم تھے، ریڈیو پاکستان لاہور مرکز میں ان کے ساتھ اکثر ملاقاتیں رہتیں۔ جن میں وہ اپنے ماضی اور شوبز میں ہونے والے واقعات پر گفتگو کرتے۔ چہرے سے کرخت دکھائی دینے والے غیور اختر بہت ہی ہنس مکھ انسان تھے۔ ریڈیو پر آنے کے حوالے سے ایک بار انہوں نے بتایا تھا کہ ''میں 1968ء میں ریڈیو پاکستان لاہور آیا تو اس وقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر اکرم بٹ نے میرا آڈیشن لیاتھا۔ اس وقت خوف کے مارے میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں ۔میں نے اسی روز فیصلہ کر لیا تھا کہ کام کروں گا چنانچہ بھرپور محنت کی اور اپنے کردار میں رہ کر پرفارم کیا‘‘۔ پی ٹی وی سکرین پر ان کی آمد مقبول ترین ڈرامہ سیریز ''الف نون‘‘ میں ایک کردار سے ہوئی ۔ اس کے پروڈیوسر ایس ایم انور تھے۔ ٹی وی پر شہرت ڈرامہ سیریل ''سونا چاندی‘‘ سے ملی۔اس شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل میں انہوں نے ایک معمولی ڈرائیور کا کردار اس خوبصورتی سے نبھایا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا۔ بچوں کے کھیل ''عینک والا جن‘‘میں ان کے ''سامری جادوگر‘‘کے کردار کو بھی بے پناہ پذیرائی ملی۔ غیور اختر نے 150 کے قریب ٹی وی ڈرامہ سیریلز اور 2000 کے قریب انفرادی ڈراموں میں کام کیا۔ ان کے دیگر مقبول ڈراموں میں ''خواجہ اینڈ سنز‘‘، ''افسر بے کار خاص‘‘، ''فری ہٹ‘‘ اور ''گھر آیا میرا پردیسی ‘‘ نمایاں ہیں۔ ان کے تکیہ کلام''او ہو ہو‘‘اور''اللہ خیر بیڑے پار‘‘ آج بھی لوگوں میں مقبول ہیں۔تھیٹر پر انہیں متعارف کرانے کا سہرا اداکار عرفان کھوسٹ کے سر ہے، جن کے ڈرامہ ''حقہ پگ تے ریسٹورنٹ‘‘ میں انہوں نے کام کیا۔ یہ ڈرامہ باغ جناح اوپن ایئر تھیڑ میں1976ء میں پیش کیا گیا تھا۔ غیور اختر بھی دیگر اداکاروں کی دیکھا دیکھی فلموں کی طرف گئے مگر جلد واپس آ گئے۔ انہوں نے اپنے دور کے مایہ ناز ہدایت کاروں وحید ڈاراور شباب کیرانوی کے ساتھ فلمیں کیں۔ مگر فلم انڈسٹری انہیں راس نہیں آئی۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میرا مزاج فلم نگری سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، میرے اندر منافقت نہیں تھی، اس لئے میں ان لوگوں میں ''ٹک‘‘ نہیں سکا۔ ان کے فلمی کریئر پر نظر دوڑائیں تو ان کی پہلی فلم ''جبرو‘‘ تھی ،جس کے ہدایتکار وحید ڈار تھے۔ اس کے علاوہ فلم ''اگ تے خون‘‘، ''اصلی تے نقلی‘‘ اور ''ڈائریکٹ حوالدار‘‘ میں بھی انہوں نے کام کیا۔ 2008ء میں جب انہیں صدارتی ایوارڈ ''تمغہ برائے حسن کارکردگی ‘‘ سے نوازا گیا تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے راقم سے کہا تھا کہ ''اس برس یوم آزادی میرے لئے دوہری خوشی کا سبب بنا، 14اگست کی شام میری زندگی کی حسین شام تھی، جسے میں مدتوں بھلا نہ سکوں گا، اس روز مجھے 42برس کی محنت کا صلہ حکومت پاکستان کی طرف سے ''تمغہ حسن کارکردگی‘‘ کی شکل میں ملا ہے۔یہ اعزاز ملنے کے بعد اب میری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ سرکاری سطح پر میری فنی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مجھے پاکستان کا ایک مستند اداکار تسلیم کر لیا گیا ہے مگر اب مجھے خدشہ ہے کہ نشریاتی ادارے کہیں مجھے کام دینا بند نہ کردیں کیونکہ اکثر صدارتی ایوارڈ ملنے کے بعد فنکاروں کو کام کم ملتا ہے اور وہ ایک میڈل سجائے پھرتا رہتا ہے‘‘۔پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ یافتہ اداکار پر2011ء میں فالج کا حملہ ہوا اور7فروری 2014ء میں ان کا انتقال ہوا، بلڈ پریشر کا مرض ان کی موت کی وجہ بنا۔ 

فالٹ لائن پر موجود ممالک

فالٹ لائن پر موجود ممالک

زمیں کے نیچے موجود ٹیکٹونک پلیٹس کے ٹکرانے یا سرکنے سے زمین میں حرکت پیدا ہوتی ہے، جسے زلزلہ کہتے ہیں۔ ترکی چونکہ متعدد فالٹ لائنز پر واقع ہے اس لئے وہاں زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ فالٹ لائن، پلیٹوں یا پتھروں کے درمیان ایک ایسا فریکچر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوتا ہے جو حرکت کا باعث بنتاہے۔ اس فالٹ لائن پر واقع ممالک میں زلزلے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ آتے ہیں ۔ زلزلوں کی شدت کی پیمائش ریکٹرسکیل پر کی جاتی ہے جو 1935ء میں امریکی سائنسدانوں چارلز ایف رچر اور بینو گٹنبرگ نے تخلیق کیا تھا۔پلیٹوں کی حرکت کے دوران گرم پتھر اوپر کی جانب اٹھتے ہیں اور ٹھنڈے پتھر نیچے کی جانب جاتے ہیں جس وجہ سے ہلچل پیدا ہوتی ہے اور پلیٹیں ایک دوسرے کے اوپر یا نیچے کھسک جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ چاند اور سورج کی کشش ثقل بھی ان پلیٹوں پر پریشر ڈالتی ہے، جس سے اکثر سمندر میں زلزلہ آتا ہے اور سونامی کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ سونامی اتنے خطرناک ہوسکتے ہیں کہ دنیا کی جیوگرافی بھی بدل سکتے ہیں۔ جاپان میں مارچ 2011ء کو آنے والا زلزلہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ اس زلزلے کی وجہ سے پورا جاپان2011ء میں نارتھ امریکہ کی جانب 2.4 میٹرکھسک گیا۔ ترکی کے زیادہ تر علاقہ اناطولیہ کی ٹیکٹونک پلیٹ پر واقع ہے اور یہ پلیٹ ، یوریشیا،افریقہ اور عرب پلیٹ کے درمیاں میں پائی جاتی ہے۔ترکی میں قدرتی آفات کے لئے قائم کئے جانے والے ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 22ہزار چھوٹے و بڑے زلزلے ریکارڈ کئے گئے۔1999ء کو ترکی کے علاقے ازمیت میں آنے والے زلزلے کو ترکی کی تاریخ کا بدترین زلزلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی شدت 7.4ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد17ہزار سے بھی زیادہ تھی۔ لیکن گزشتہ روز آنے والے زلزلے کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی ہے جو Magnitude کے لحاظ سے اس کو ترکی کا بدترین زلزلہ بناتی ہے۔زلزلے کے شدید جھٹکے ترکی اور شام دونوں ممالک میں محسوس کئے گئے ہیں جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جارہی تھی،ماہرین کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ہماری دنیا میجر اور مائنر پلیٹوں پر مشتمل ہے جس میں 7میجر پلیٹیں ہیں۔ جن کے نام یوریشین پلیٹ، افریقن پلیٹ، انڈو آسٹریلین پلیٹ، انٹارکٹک پلیٹ، نارتھ امریکن پلیٹ، پیسفک پلیٹ اورساؤتھ امریکن پلیٹ ہیں۔ جاپان ان میں سے چار کے جنکشن پر موجود ہے۔ پلیٹیں ایک دوسرے کے اندر یا اوپر یونہی نہیں جاتیں بلکہ اپنے ساتھ بڑے پیمانے پر راکی فارمیشن اور پانی لے کر جاتی ہیں۔ دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق دنیا کی تاریخ میں تین مرتبہ براعظم ایک دوسرے کے قریب آئے اور دور گئے ۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ پلیٹوں کی حرکت کی وجہ سے ہی 180ملین سال پہلے اس براعظم کے ٹکڑے ہو گئے تھے۔ اسی طرح آہستہ آہستہ وہ جیوگرافی بنی جو ہمیں آج نظر آتی ہے۔ ویسے تو دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔جن کی اوسط سالانہ تقریباً 2ہزار ہے۔ 2021ء میں صرف ٹوکیو میں پانچ ایسے زلزلے آئے جن کی شدت 5 ریکٹر سکیل سے زیادہ تھی اور تقریباً 20 زلزلے 4سے 5 شدت کے تھے جبکہ 20زلزلے 3شدت کے اور 12معمولی نوعیت کے تھے۔ زمین کی اس قسم کی حرکات کو سیزمک ایکٹیویٹی کہتے ہیں۔سائنسدانوں نے یہ پیشگوئی بھی کی ہے کہ آئندہ دس سال میں ٹوکیو کو ایک انتہائی خطرناک زلزلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے ننکائی ٹرف پھٹنے کا ڈر ہے۔ جاپان میں پیسیفک سمند ر کی طرف ننکائی ٹرف 900 کلومیٹر کا علاقہ ہے، جہاں سیزمک ایکٹیویٹی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ جاپانی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مارچ2011ء میں آئے زلزلے (سونامی) سے زیادہ خطرناک زلزلہ آنے کی امید نہیں ہے۔ وہ جاپان کی تاریخ کا سب سے خطرناک زلزلہ تھاجسے ''دی گریٹ ایسٹ جاپان ارتھ کوئیک‘‘ کا نا م دیا گیا تھا۔ اس زلزلے کی وجہ سے فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ پھٹا اور 20ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔ جاپان میں زیادہ زلزلے آنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ملک ''سرکم پیسفک موبائل بیلٹ‘‘ پر واقع ہے جہاں اکثر ہی سیزمک ایکٹیوٹیز دیکھی جاتی ہیں۔2011ء میں جاپان میں آنے والے زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی وجہ سے زمین کے ایکسز پر بھی اثر پڑا۔ رپورٹس کے مطابق اس زلزلے کے بعد زمین کے ایکسز میں 10سے 25سینٹی میٹر کا جھکاؤ دیکھنے میں آیا جس کی وجہ سے ہمارے دن 2مائیکرو سیکنڈ تک چھوٹے ہو گئے تھے۔جاپان بے شک دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے برداشت کرنے والا ملک ہے جبکہ ''رنگ آف فائر‘‘ میں جو دیگر ممالک ہیں ان میںانڈونیشیا، نیوزی لینڈ، پاپویا نیوگینی، فلپائن،امریکہ،چلی،کینیڈا، گوئتے مالا، روس، پیرو، سولومن آئی لینڈ اور میکسیکو شامل ہیں۔ پوری دنیا میں آنے والے زلزلوں میں سے 90 فیصد زلزلے اسی خطے میں آتے ہیں لیکن 40ہزار کلومیٹر طویل ہے۔تنزیل الرحمن جیلانی نوجوان صحافی ہیں اور تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہیں 

آج کا دن

آج کا دن

دنیا کے گرد چکر لگانے کا ریکاڑد2005ء میں برطانوی خاتون ایلن میک آرتھر نے سمندری بادبان کے ذریعے سب سے کم وقت میں دنیا کے گرد چکر لگا کر ریکارڈ قائم کیا۔ایلن نے 27 ہزار354 میل کا فاصلہ 71 دن، 14 گھنٹے ،18 منٹ اور 33 سیکنڈ میں طے کیا۔اس سے پہلے یہ ریکارڈ فرانس کے جویون نے 2004ء میں بنایاتھاانہوں مقررہ فاصلہ 72 دن ، 22 گھنٹے 54 منٹ، بائیس سیکنڈ میں مکمل کیا تھا۔ولادمیرنذر آتش ہوامنگولوں نے روسی شہر ولادمیر کو آگ لگا دی۔ منگول جنگجو یورپ کی طرف بڑھنے لگے توسب سے پہلے انہوں نے دریائے وُلگا کے علاقے پر حملہ کِیا۔ پھر انہوں نے دیگر روسی شہروں پر چڑھائی کی۔اس کے بعد منگولوں نے پیشکش کی کہ اگر انہیں روسی شہروں میں موجود تمام مال کا دسواں حصہ دیا جائے تو وہ اِن کو تباہ نہیں کریں گے لیکن روسیوں نے لڑنے کا فیصلہ کِیا۔ لہٰذا، منگولوں نے منجنیکوںکے ذریعے شہر پر پتھراور مٹی کا تیل برسایا۔ جب ایک شہر کی دیوار گر جاتی تو منگول اس کے باشندوں میں اس حد تک خونریزی کرتے کہ کوئی شخص زندہ نہ بچتا۔گریناڈاآزاد ہواکیریبین جزائر کے ملک گریناڈا نے 1974ء میں آج کے روز برطانیہ سے آزادی حاصل کی ۔اس کی سرکاری زبان انگریزی ہے جبکہ دارالحکومت سینٹ جارجز ہے جو اس ملک کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ یہ ملک 344 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔گریناڈا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے اپنی افواج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ گریناڈا کی کوئی فوج نہیں لیکن یہ دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک ہے اور یہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔یہاں کے شہری اکثر اپنے گھر کا دروازہ ہی لاک نہیں کرتے۔ گریناڈا کی پولیس ہے لیکن وہ بھی اسلحے کے بغیر گشت کرتی ہے۔ بلجئیم میں آئین کا نفاذبیلجیئم شمال مغربی یورپ میں واقع ایک آزاد ملک ہے۔1831ء میں آج کے روز بیلجیئم میں آئین کا نفاذ ہوا۔ اس کا سرکاری نام مملکت بیلجیئم ہے۔ یورپی یونین کی یورپی پارلیمان اور نیٹو کے مرکزی دفاتر بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں قائم ہیں۔ بیلجیئم کی شمالی سرحد نیدرلینڈز سے، مشرقی سرحد جرمنی سے، جنوب مشرقی سرحد لکسمبرگ سے اور جنوب مشرقی سرحد فرانس سے ملتی ہے۔ اس کے شمال مغرب میں بحیرہ شمال واقع ہے۔ بیلجیئم ایک خود مختار ریاست ہے جس میں آئینی بادشاہت قائم ہے اور اس ریاست کا طرز حکومت پارلیمانی نظام پر مشتمل ہے۔