Coronavirus Updates

دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

دھرنا: کیا کھویا, کیا پایا ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی کا تجزیہ


جمعہ کی شام اسلام آبادمیں جاری دھرنے کے خوشگوار اختتام نے جہاں ملک بھر کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کو دور کر دیا ، وہاںاس غیرمعمولی اہم واقعے نے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی کئی نئے سبق دیے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں لانگ مارچ اور دھرنے کے ہفتہ بھر کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔پاکستان کے عوام، سیاسی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان میں کم عمر ہونے کے باوجود پختگی اور شعور موجود ہے، مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ یا عرب بہار کے برعکس یہاں پرزیادہ سمجھداری اور ہوشمندی کے ساتھ معاملات سلجھائے گئے۔ حالات بظاہر بندگلی میں چلے جانے کی نشاندہی دے رہے تھے ، مگر اچانک ہی فریقین نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا اورخوبصورتی سے اس پورے قضیے کو نمٹا دیا۔ اس ایک ہفتے کے دوران مختلف سیاسی قوتوں، انٹیلی جنشیا، میڈیا اورمقتدر قوتوں نے کیا کیا کردار ادا کیا،اس کے نتیجے میں انہیں کیا ملا…، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں: علامہ طاہرالقادری کا کردار آغاز تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہرالقادری سے کرتے ہیں۔ علامہ صاحب ایک معروف دینی سکالر اور خطیب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ اپنے بعض بیانات اور ماضی میں چند ایشوز پرموقف بدلتے رہنے کے باعث متنازع رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کی بشارتوں کے حوالے سے بیان کئے گئے بعض خواب اوراپنے اوپر قاتلانہ حملے کے دعوے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے ٹریبونل کی رپورٹ ہمیشہ ان کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح میں وہ اچھے خاصے بوجھ(Baggage)کے ساتھ سیاست کی وادی خارزار میںسفر کر رہے تھے۔ چند برس قبل وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے کر کینیڈا چلے گئے تھے، اس وقت کہا گیا کہ وہ اپنا زیادہ وقت علمی وتدریسی مشاغل کو دینا چاہتے ہیں۔ تین چار سال پہلے انہیں وہاں کی نیشنلٹی بھی مل گئی۔اس دوران علامہ صاحب سیاست سے قدرے دور رہے ،مگر ان کے پاکستان میں رابطے مسلسل قائم رہے، منہاج القرآن کا بڑا تعلیمی نیٹ ورک پچھلے چند برسوں میں بہت زیادہ بڑھا، یہ سب علامہ صاحب کی نگرانی میں ہوا۔ اس دوران ان کی تحریر کردہ کئی کتب بھی شائع ہوئیں، جن میں ترجمہ قرآن ’’عرفان القرآن‘‘، احادیث کا مجموعہ اور خودکش حملوں کے خلاف کئی سو صفحوں پر محیط ایک مبسوط فتویٰ قابل ذکر ہے۔ پاکستانی میڈیا لانگ مارچ کے دنوں میںقادری صاحب سے بار بار یہ کہتا رہا کہ آپ اچانک کیسے آ گئے؟ دراصل یہ ہمارے تجزیہ کاروں اور نیوز اینکرز کی روایتی لاعلمی اوربے خبری تھی۔ سیاست کو باریک بینی سے مانیٹر کرنے والے جانتے تھے کہ طاہرالقادری صاحب بتدریج سیاسی اعتبار سے فعال ہو رہے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے سے لاہور کے بعض موٹر رکشوں کے پیچھے قادری صاحب کا یہ نعرہ نمودار ہوا،چہرے نہیں، نظام بدلو۔ نظام بدلو کے نام سے ایک ویب سائیٹ بھی بنا دی گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر قادری صاحب کے حامی اچانک ہی بہت متحرک ہوگئے تھے۔ نظام بدلنے اور قومی سیاست میں جوہری تبدیلیاں لانے کے حوالے سے قادری صاحب کی تقاریر کے ویڈیو کلپس اور تحریریں فیس بک پیجز پر لگائی جانے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ عمل بڑا تیز ہوگیا ۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر دو تین سب سے متحرک گروپوں میں سے ایک تحریک منہاج القرآن ہے۔ تئیس دسمبر کے جلسے سے چار پانچ ماہ پہلے قادری صاحب نے لاہور کے تھنک ٹینک کونسل آف نیشنل افئیرز کے صحافیوں اور دانشوروں کو منہاج مرکز میں دعوت دی اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہیں بریفنگ دی، سوال جواب کا سیشن بھی ہوا۔ اس میں قادری صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان واپس آ رہے ہیں اور ایک بڑا جلسہ کریں گے۔ تاہم اخبار نویسوں نے قادری صاحب کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔پھر تئیس دسمبر کے جلسے کے لئے کمپین شروع ہوگئی، دسمبر کے اوائل میں میڈیا کو احساس ہوا کہ قادری صاحب کے حامی جس محنت سے مہم چلا رہے ہیں، وہ بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ قادری صاحب نے پہلے اپنے جلسے ، لانگ مارچ اور پھر چار پانچ دن کے دھرنے کے بعد اپنا امیج تبدیل کر لیا۔ ایک غیر اہم، مبالغہ آمیز تقاریر کرنے والے خطیب کے بجائے اب انہیں ایک اہم ، عوامی مقبولیت رکھنے والا طاقتور سیاستدان تصور کیا جائے گا۔ آئندہ میڈیا یا کوئی سیاسی جماعت انہیں Easy نہیں لے گی۔ ان کے کسی دعوے یا اعلان کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔ بڑی مہارت اور دانشمندی سے انہوں نے اپنے پتے کھیلے اور اسلام آباد کے قلب میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو ایک طرح سے آئوٹ کلاس کر دیا۔ان کا اعتماد بھی دیدنی تھا، چودھری برادران کے پیچھے ہٹنے اور عین وقت پر ایم کیو ایم کے دغا دے جانے کے باوجود وہ اپنے پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے اور کامیابی حاصل کر لی۔ وہ ایک ایسے سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی اب ہمارے سیاسی منظرنامے میں ایک خاص جگہ اور مستقبل ہے۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ لاکھوں افراد کے لئے ایک روحانی رہنما کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، ایسا لیڈر جس کے کہنے پر لوگ اپنے معصوم شیر خوار بچے ساتھ لے کر میدان میں کود سکتے ہیں۔ایک زمانے میں پیر پگارا کے حروں کو یہ حیثیت حاصل تھی۔ تحریک منہاج القرآن کا تاثر ایک خالصتاً علمی اور دعوتی تحریک کا تھا، اب اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے پاس انتہائی منظم اور مشکل ترین حالات میں ڈسپلن قائم رکھنے والے کارکن موجود ہیں۔ ایسے کارکن جن پر کسی قسم کے پروپیگنڈہ کا کوئی اثر نہیںاور وہ رہنمائی کے لئے اپنے قائد کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔ دھرنے کے سبق قادری صاحب کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطابت اپنی جگہ ،مگر مطالبے وہی مانے جاتے ہیں جو حقیقت پسندانہ ہوں اور جن کی وسیع پیمانے پر پزیرائی ہوسکے۔انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد شروع میںغیر حقیقی مطالبے کئے، حکومت اور وزرا کو سابق اور پارلیمنٹ کی تحلیل اورالیکشن کمیشن کی فوری تشکیل نو کا کہا۔ یہ مطالبے مانے جانے والے نہیں تھے ، شائد وہ دبائو بڑھانے کے لئے ایسا کر رہے تھے ، مگر ان کا زیادہ مثبت اثر نہیں ہوا۔ بعد میںانہوں نے دانشمندی سے اپنے پرانے اور حقیقی نکات پر توجہ دی اور کم وبیش تمام مطالبے منوا لئے۔ اگلے روز اگرچہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قادری صاحب کے مطالبے نہ مانے گئے ، مگرحقیقت اس کے برعکس تھی۔ علامہ طاہرالقادری کا اصل مطالبہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کے امیدواروں پر اطلاق، سکروٹنی کی مدت میں توسیع اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77تا 82 میں تبدیلی لانا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کامطالبہ بھی اس وجہ سے تھا۔ یہ تمام باتیں مانی گئی ہیں، نگران وزیراعظم کے لئے بھی انہیں ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر مان لیا گیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو بڑی حد تک بدنام اور کرپٹ امیدواروں کا صفایا ہوجائے گا۔اس لحاظ سے بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔تحریک منہاج القرآن کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دھرنے کے آخری روز بارش کے باعث ان کے لئے آپشنز محدود ہوگئی تھیں، اس سے پہلے بعض اپوزیشن جماعتوں نے میاں نواز شریف کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ جا ری کر کے قادری صاحب اور ان کے حامیوں کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ بند گلی میں چلے گئے ہیں، اگر حکومت دانشمندی سے کام نہ لیتی ، مذاکرات نہ کرتی اور محفوظ راستہ نہ دیتی توصورتحال خاصی مشکل ہو گئی تھی۔ سیاست میں واپسی کے راستے کھلے رکھنے چاہیں، قادری صاحب نے ایسا نہیں کیا، وہ انتہا پر چلے گئے تھے۔ تیونس، مصر اور یمن وغیر ہ میں عرب سپرنگ کی کامیابی کی ایک وجہ ان ممالک کے دارالحکومت کی خاص پوزیشن تھی۔ مصر میں تحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے لاکھوں افراد قاہرہ کے رہائشی تھے، اگرچہ دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے ،مگر بنیادی طور پر وہ مظاہرے ان شہروں کے اپنی آبادی نے کئے تھے۔ یہی تیونس اور یمن میں ہوا۔ لیبیا اور شام میں صورتحال مختلف تھی، وہاں دارالحکومت میں اپوزیشن کی گرفت مضبوط نہیں تھی، اس لئے ان مظاہروں کا اس طرح اثر نہ ہوسکا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا دھرنا بھی وہاں کے مقامی آبادی کا اجتماع تھا، جن کے لئے گھروں سے ساز وسامان لانا بھی آسان تھا اور لوگ اپنی پوزیشنیں بھی بدل سکتے تھے۔ ایک دو راتوں کے بعد ضرورت پڑنے پر چند گھنٹوں کے لئے اپنے گھروں میں سستایا جا سکتا تھا۔ قادری صاحب کے لانگ مارچ میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس کا تمام تر دارومدار شرکا کے عزم وایثار پر تھا۔ اگر چہ قادری صاحب خوش قسمتی سے اس بار کامیاب ہوئے ،مگر شرکا کا اس قدر سخت امتحان لینا رسک ہوتا ہے، اگر ایسی بارش دو دن پہلے ہوجاتی ، تب کیا ہوتا؟اس وقت تک تو دھرنے کا ٹیمپو بھی نہیں بنا تھا۔ حکومتی اتحادکی سیاسی کامیابی پیپلز پارٹی کی حکومت پر بہت سے حوالوں سے سخت تنقید کی جاتی ہے، جو یکسر بے وزن بھی نہیں، ایک بات مگر اس نے یہ ثابت کر دی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی انداز سے سوچتی ہے۔ ایک وقت میں وفاقی حکومت سخت مشکلات کا شکار تھی، پنجاب حکومت لانگ مارچ کو پنڈی پہنچا کر سکون سے تماشا دیکھ رہی تھی،تمام تر دبائو مرکز پر تھا۔ اس مشکل وقت میں پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملایا اوراعلیٰ سطحی وفد کے ذریعے مذاکرات کئے ،یوں ڈیڈلاک بھی ختم کیا اوراس معاہدے پر عمل درآمد کرا کر وہ الیکشن کے عمل کا شفاف بنانے کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سخت گیر سوچ رکھنے والوں کو سائیڈ پر کیا اور اس کے ثمرات بھی انہیں مل گئے۔ اگر خدانخواستہ تصادم ہوجاتا تو اس کے خوفناک نتائج نکلتے۔ لال مسجد کے سانحے کے اثرات سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے، ملک کسی اور ہولناک واقعہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پیپلز پارٹی کا اصل امتحان لانگ مارچ ڈیکلئریشن پر عمل کرانا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف منہاج القرآن ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابی اصلاحات کی خواہش موجود ہے۔ یہ اچھا موقعہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوری نظام کی تطہیر کریں، اس سے جمہوریت دشمن قوتوں کو شدید حوصلہ شکنی ہوگی۔ میڈیا اور تجزیہ کار اب یہ مان لینا چاہیے کہ میڈیا اور ہمارے تجزیہ کاروں نے علامہ طاہرالقادری کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ وہ علامہ صاحب کے شخصی اثر اور قوت کا اندازہ نہ لگا سکے۔ میڈیا کے بیشتر حصے کو یقین تھا کہ لانگ مارچ ہو ہی نہیں سکے گا۔دھرنے کے دوران بھی کوریج کرتے ہوئے انہیں شرکا ء کے موڈکا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کئی اینکر خواتین چیختی رہیں کہ آپ لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگ رہی، بچے بیمار ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ انہیںسمجھنا چاہیے تھا کہ لوگ کسی جذبے اور کمٹمنٹ کے ساتھ ہی یہاں تک آئے ہیں اور یہ یوں واپس نہیں جائیں گے۔ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں نے سب سے اہم غلطی یہ کی کہ انہوں نے طاہرالقادری کی شخصیت کو بے رحمی سے نشانہ بنایا ،مگر ان کے ایجنڈے کو نظر انداز کر گئے۔ انہیں یہ ادراک نہ ہوسکا کہ انتخابی اصلاحات کرنا اور تبدیلی لانے کے ایجنڈے کی عوام میں زبردست کشش موجود ہے۔ قادری صاحب نے اس خلا میں قدم رکھا ،جو ہماری دوسری سیاسی جماعتیں پر کرنے میں ناکام رہیں۔ جیسا کہ شرکا کے انٹرویوز سے ظاہر بھی ہوا کہ ان میں تمام لوگ منہاج القرآن کے نہیں تھے، بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے ووٹر ہیں، بعض دوسری جماعتوں کے حامی بھی تھے۔ ایجنڈے پر زیادہ بات ہونا چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی اور تمسخر،پیروڈی،طنز وتشنیع ہمارے میڈیا پر حاوی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو دھرنے کی کامیابی کے بعد بہت سے اینکروں اور تجزیہ کاروں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ردعمل دیں۔ جن باتوں کا وہ مذاق اڑاتے رہے، وہ تقریباً سب مان لی گئیں۔ جہاں تک اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کمیشن کی فوری تشکیل کی بات تھی، یہ دبائو بڑھانے کا حربہ تھا، حقیقی مطالبہ نہیں تھا۔میڈیا اور انٹیلی جنشیا کو آنے والے دنوں میں زیادہ محتاط اور باریک بین ہونا پڑے گا۔ الیکشن میں اصلاحات کے عمل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ مسلم لیگ ن مسلم لیگ ن نے بظاہر بڑی عقل مندی اور ہوشیاری سے چالیں چلیں۔ انہوں نے لانگ مارچ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ دھرنے میں خاصے لو گ آگئے ہیں اور یہ اجتماع خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تووہ متحرک ہوئے۔ میاں صاحب نے کمال مہارت سے کئی اہم جماعتوںسے رابطے کئے۔ بلوچستان سے اچکزئی صاحب اور حاصل بزنجو کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اورجماعت اسلامی کو ساتھ ملا لینا ان کی بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے اپنے مشترکہ اعلامیہ سے علامہ طاہرالقادری کو بالکل تنہا کر دیا۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا شگون تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہر قسم کی تبدیلی کے لئے انتخابات کی جانب ہی دیکھنے لگی ہیں۔ میاں صاحب نے دانستہ یا نا دانستہ ایک بڑی غلطی یہ کی کہ انہوں نے قادری صاحب کو محفوظ راستہ نہیں دیا۔اے پی سی کے شرکا میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام آباد میںکئی روز سے ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے۔دھرنے کے شرکا اور ان کے لیڈر قادری صاحب اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے لئے کچھ حاصل کئے بغیر واپس لوٹنا شرمندگی کے مترادف ہے۔ انہیں محفوظ راستہ دینا (Face saving)دینا ضروری تھا۔ دوسری صورت میں شرکاء فرسٹریٹ ہو کر تصادم کی طرف جا سکتے تھے، ایسا ہو جاتا تو پھر کچھ بھی نہ بچ پاتا۔ جس طرح کا اعلیٰ سطحی وفد حکومت نے مذاکرات کے لئے بھیجا، ویسا کام پہلے نواز شریف صاحب بھی کر سکتے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو وہ محاورے کے مطابق میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا، شائد وہ اپنی مخالف وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے تھے، مگر اختتام میں اس کا تمام تر نقصان انہیں ہی ہوا۔ ٹی وی چینلز پر ن لیگ کے رہنمائوں کی تلخی دیکھ کر انہیں پہنچنے والے دھچکے کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ؟ ہمارے اہل دانش اور تجزیہ کاروں کو ہر ایشو میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار دیکھنے کا رویہ بھی بدلنا ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا آسیب ان کی دانش کے گرد لپٹ گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ویسے بھی دو تین باتیں سمجھنی چاہیں۔ دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پر و’’ سٹیٹس کو‘‘ ہوتی ہے۔ نظام بدلنے یا تبدیلی لانے کا نعرہ کبھی انہیں راس نہیں ہوتا۔ ایسا نعرہ لگانے والوں کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قادری صاحب والے معاملے کو زیادہ غور سے دیکھنا چاہیے تھا۔ اگر اس میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتی تو معروف اسٹیبلشمنٹ نواز جماعتیں اس سے دور نہ رہتیں اور وعدہ کر کے واپس نہ چلی جاتیں۔ جو مارچ یا دھرنا اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کیا جاتا ہے ، اس کے تیور ہی الگ ہوتے ہیں، اس کے شرکا شروع ہی سے ڈنڈے لے کر چلتے ہیں اور تباہی ان کا مشن ہوتی ہے۔ ایسے جلوسوں میں لوگ خود اپنی خوشی سے اپنی بیویوں، بہنوں اور شیر خوار بچوں کو نہیں لاتے۔ پیسے خواہ جتنے ملیں، اولاد آدمی کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس دھرنے کے پرامن اختتام نے یہ ثابت کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رٹ لگانے والے تجزیہ کاروں نے ٹھوکر کھائی، اصولاً تو انہیں اپنے قارئین اور ناظرین سے معذرت کرنی چاہیے، مگرافسوس کہ ہمارے ہاں ایسی اچھی روایتیں موجود نہیں۔ ویسے اس حوالے سے فورسز کا رویہ مثبت رہا۔ کورکمانڈرز کانفرنس کو بعض حلقوں نے معنی خیز نظروں سے دیکھا ،مگر آئی ایس پی آر نے بروقت وضاحت کر دی۔ ہماری مقتدرہ قوتوں کو یہ یاد رکھناچاہیے کہ سیاست صرف سیاستدانوں کے کھیلنے کا میدان ہے۔ عسکری قوتوںکو اپنے پروفیشنل فرائض ہی انجام دینے چاہیں۔ ایسا کرنا ہی ان کے وقاراور عزت میں اضافہ کرے گا۔ اس دھرنے کا پرامن انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے اورہمارا بظاہر کمزور جمہوری سسٹم اس قسم کے بڑے دھچکوں کو برداشت کرنے کی سکت اور قوت رکھتا ہے۔اس سے ہمارے سیاستدانوں اور جمہوری قوتوں نے خاصا کچھ سیکھا ہوگا۔ تحریک انصاف عمران خان اور ان کے بعض حامیوں کو ممکن ہے اب اندازہ ہو رہا ہو کہ انہوں نے ملنے والے ایک بڑے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ تحریک انصاف میں لانگ مارچ کے حمایت میں ایک مضبوط لابی موجود تھی،ان کے کئی اہم سیاسی لیڈروں کا خیال تھا کہ ہمیں قادری صاحب کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، ان کی جماعت کا سیاسی نیٹ ورک موجود نہیں ،ا س لئے سیاسی کامیابی کے تمام تر ثمرات تحریک انصاف کو پہنچیں گے۔ اس لابی کی بات نہیں مانی گئی، عمران خان اور ان کے بعض غیر سیاسی مگر پارٹی کے لئے تھنک ٹینک کا درجہ رکھنے والے لوگوں کی بات مانی گئی۔ تاہم عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے پر تنقید بالکل نہیں کی، وہ اسے بڑی احیتاط سے دیکھتے رہے، جائزہ لیتے رہے ،مگر شامل نہیں ہوئے۔ ممکن ہے انہیں خطرہ ہو کہ یہ دھرنا کسی اور جانب جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ انتخابات کی جانب مبذول کی اور اس حوالے سے دبائو بڑھانے کی کوشش کی ،مگر تحریک انصاف کے بہت سے نوجوان کارکنوں کو اب یقیناً مایوسی ہو رہی ہوگی۔پی ٹی آئی نے اس معاملے میں اگرچہ کھویا بھی زیادہ نہیں۔ ان کے لئے انتخابات کے حوالے سے قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ملانے کی آپشن موجود ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف آنے والے دنوں میں کیسے پتے چلتی ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ  ،  سزائے موت سنانے والا انگریز جج ہلاک، کسی افسر کو پھانسی دینے کی جرأت نہ ہوئی

انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ ، سزائے موت سنانے والا انگریز جج ہلاک، کسی افسر کو پھانسی دینے کی جرأت نہ ہوئی

بارہویں صدی ہجری کے آغاز میں برصغیر پاک و ہند کے افق پرگہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے،جہالت وبربریت کے بادل، وہ مسلمان جن کے دم سے یہاں صدیوں اللہ اور رسول پاک ﷺ کے نغمے گونجتے تھے وہ خود بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دور ہو چکے تھے ،وہ مسلمان مدتوں جن کی عظمت کے قصے سنائے جاتے تھے ،جن کی عظمت و شہرت کے پرچم لہراتے رہے ،در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے۔ان کی سلطنت کا چراغ گل ہو چکا تھا، مسلمان بے انتہا زوال کا شکار ہو چکے تھے ۔ان حالات میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ نے تاریکیوں و گمراہیوں کے اس ظلمت کدہ میں حق کے چراغ روشن کئے۔لیکن دنیا ابھی ایک او رمرد میداں کی منتظر تھی اور وہ تھے حضرت مقام محمد اسمعٰیل شہید۔ان کی تحریک زور پکڑنے لگی اور انگریزوں نے گھبرا کر چن چن کر مسلمانوں کو شہید کرنا شروع کر دیا ، انڈیا ان کی قتل گاہ بنتا جا رہا تھا لیکن جانثاروں کے قدم ڈگمگائے نہ کوئی لغزش آئی۔ان رہنمائوں کے دم سے 1863ء میں ایک تحریک شروع ہوئی۔جسے معرکہ ''معرکہ امبیلا‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ امبیلے میں ہونے والی یہ لڑائی کئی مہینے تک جاری رہی، انگریز فوج کے سپاہ سالار جنرل چیمبرلین پرمجاہدین نے چاروں طرف سے دھاوا بول دیا اور وہ امبیلے کی ایک گھاٹی میں محصور ہو کر رہ گئے،انہوں نے پنجاب کی تمام چھائونیوں سے فوج طلب کرلی ،لیکن عوام کے سامنے بے بس رہے ، ان کے سات ہزار تربیت یافتہ گورے سپاہی ،غیر تربیت یافتہ مسلمان دیہاتیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔جنرل چیمبرلین خود بھی زخموں سے چور چور تھا۔ اس جنگ میں جگ ہنسائی کے بعد انگریز وائسرائے لارڈ ایلجن انڈیا سے لندن پدھار گیا۔1864ء میں انگریز انتظامیہ نے اس تحریک کے رہنمائوں کو چن چن کر گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ مولانا محمد جعفر تھانیسری بھی انگریزوں کی نظروں میں کھٹکنے لگے۔ وہ بھی تحریک میں پیش پیش تھے۔ ان کے خلاف ایک سپاہی نے انگریز افسروں کے کان بھر دیئے تھے ۔غزن خان نامی ایک افغان پانی پتی کرنال چوکی میں بطور سپاہی تعینات تھا ۔ اس نے ترقی کے لالچ میں جعفر تھانیسری کے بارے میں کہانی گھڑ کر آگے بیان کر دیں۔ڈپٹی کمشنر نے اطلاع ملتے ہی تھانیسری کی تلاشی کا پروانہ روانہ کر دیا ۔تار کے انبالہ پہنچتے ہیڈ سپرٹنڈنٹ بھاری جمعیت کے ساتھ گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔ پولیس کو وہاں سے دینی رہنمائوں کے کچھ خطوط ملے جنہیں وہ مشکوک جان کر ساتھ لے گئے۔بعد ازاں ان خطوط کی بناء پر ان کی گرفتاری کا بھی فیصلہ ہوا۔مگر اس وقت تک وہ فرار ہو چکے تھے۔ حکومت نے گرفتاری کیلئے سر کی قیمت دس ہزار روپے مقرر کر دی۔قیمت بہت زیادہ تھی، مخبری ہو نے پر جلد ہی علی گڑھ میں دھر لئے گئے ۔جیل کا کھانا دو روٹیوںاور ساگ پر مشتمل تھا، ساگ میں ڈنٹھل زیادہ تھے جنہیں چبانا بھی مشکل تھا۔ اسی لئے جب قیدیوں کو پیسنے کے لئے گندم دی جاتی تھی تو یا تو سیروں گندم ہی کچی چبا جاتے تھے یا پھر آتے کو پانی میں ملا کر پی لیتے تھے۔ اگلے روز تھانیسری کو ڈی سی کے بنگلے پر پیش کیا گیا۔انہوں نے سرکاری گواہ بنانے کے لئے ساتھیوں کے نام پوچھے ، اور رہائی کے بعد ایک بڑے عہدے پر لگانے کی پیش کش بھی کی مگر تھانیسری نے صاف انکار کیا۔ہر طرح سے مایوس ہونے کے بعد ڈی سی نے انہیں رات آٹھ بجے واپس جیل بھجوا دیا ۔علی گڑھ میں مظاہروں کا اندیشہ تھا لہٰذا مقدمہ انبالہ میں چلایا۔ان کے مقدمے کی کہانی بھی عجیب ہے، جعفر تھانیسری جو کچھ بھی کہتے، ریکارڈ کاحصہ ہی نہیں بنایا جاتا، جبکہ بے سر و پاء الزامات ان کے سر تھوپ دیئے گئے۔اس دوران ایشری پرشاد (استغاثہ)نے انہیںنپولین اور مہدی سوڈانی جیسا انگریزوں کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی۔کچھ عرصے بعد یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں پیش ہوا۔عدالت میں پیروی کے لئے مولاناعبدالرحیم، الہٰی بخش، میاں جان منشی عبدالغفور اور کئی دیگر قیدیوںنے حکومت کی جانب سے پیش کردہ وکیلوں کے وکالت ناموں پر دستخط کر دیئے مگر تھانیسری نے خود مقدمہ لڑنے کا قصد کیا۔جبکہ سرکاری وکیل میجرنکفیل اور پارسن تھے۔ان کے پاس تھانیسری کے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔لوگ سرکاری وکلاء کی بے بسی پر ہنستے تھے۔جب کچھ نہ بن پڑا تو جج صاحب نے کہا، ''تمہارے جواب کا کوئی فائدہ نہیں ہے بہتر ہے کہ تم اپنا گناہ تسلیم کر لواور عدالت سے مہربانی اور رحم کی اپیل کر کے معافی مانگو‘‘۔ہمارے ساتھیوں کے وکیل بہت قابل تھے انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ جس جگہ کو وقوعہ کا مقام بتایا جا رہا ہے وہ حکومت کے دائرہ کار میں شامل ہی نہیں ہے۔اس لئے اسے کیس کی سماعت کا سرے سے اختیار ہی نہیں ہے۔ اس دوران وائسرائے سے بھی مشورہ کیا گیا انہوں نے ہر صورت میں سزا دینے پر زور دیا۔طریق کار کے مطابق 2مئی 1864ء کو تھانیسری نے اپنے گواہ پیش کئے تو انہیں سننے کی بجائے اچانک فیصلہ سنا دیا گیا۔ پھانسی کی سزا ہوئی، انگریز جج نے تمام جائیدادوں (جو زیادہ نہ تھیں) کی ضبطی کا حکم بھی صادر کیاتاکہ بچے بھی سڑکوں پر آجائیں اور کوئی کچھ نہ کر سکیں ۔ یوں اپیل کے راستے بھی بند کر دئیے گئے۔جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ '' تم بہت ذہین فطین، صاحب علم اور قانون دان ہو، شہر کے نمبردار اور رئیس ہونے کے باوجود تم نے اپنا علم وہنر اور دھن دولت کو سرکار کے خلاف استعمال کیا، اور عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کی بجائے صرف انکار سے کام چلایا ۔لہٰذا پھانسی کے حقدار ہو، اور میں تمہیں پھانسی گھاٹ پر لٹکتا ہوا دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سمائوں گا‘‘۔جعفر تھانیسری سزا سننے کے بعد پرسکون رہے۔ بلکہ جج کی خوشی میں وہ خود بھی شریک تھے، انگریز حیران تھے کہ دنیامیں ایک شخص ایسابھی ہے جسے سزائے موت کا کوئی خوف نہیں بلکہ وہ اس حالت میں بھی مسکرا رہا ہے جس حالت میں دوسروں کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں ۔تھانیسری نے عدالت میں صرف اتنا کہا......''تم کیا میری جان لو گے ، جان دینا اور لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے،وہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے اس بات پر بھی کہ وہ میری موت سے پہلے تمہاری جان نکال لے‘‘۔ان کے اس جملے کی گونج دور دور تک سنی گئی۔ہر جگہ ان کی ہمت کے چرچے ہوئے۔اپیل کا حق بنتا تھا لیکن کرتے کس کے پاس؟ اور پیسے کہاں سے لاتے؟ پھر ہر جگہ ان کا سامنا الزامات سے کم اور ایک سوچ سے زیادہ تھا۔مسلمانوں کو کچلنے کی سوچ۔ پھانسی کی سزا سنانے کے بعد بھی انگریزوں نے معافی کی گنجائش رکھی، کئی طرح کے لالچ دیئے گئے، ساتھ دینے پر سزا کا پروانہ پھاڑنے کا بھی ذکر ہوا لیکن تھانیسری کہتے ہیں کہ ''میں گرفتاری کے خوف سے بھاگ نکلا تھا ،میرے اللہ کو اسلام کی راہ میں میرا ڈرجانااچھا نہیں لگا اور اس نے مجھے پکڑوا دیا۔ لہٰذ ا دوبارہ میں نے یہ حرکت نہ کرنے کی ٹھان لی تھی‘‘۔ان کی دلیری کا سن کر جیل میں انہیں دیکھنے کیلئے آنے والوں کاتانتا بندھ گیا۔ایک گورے نے سوال کیا کہ '' پھانسی کی سزا سننے کے بعد یہ مسرت کیسی؟ آپ نے کہا.... ''اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ مجھے اللہ کی راہ میں شہادت نصیب ہو رہی ہے ؟اسی دوران ایک انہونی ہو گئی۔پھانسی کی سزا سنانے والا جج چند ہی دنوں میں قضائے الہٰی سے ہلاک ہو گیا۔اب پھانسی کی سزا پر عمل کرنے کی ہمت کسی انگریز میں نہ ہوئی ۔چنانچہ سزا کو فوراََ ہی عمر قید میں بدل دیا گیا۔فروری 1865ء تک انبالہ جیل میں رکھنے کے بعد لاہورکی جیل میں منتقل کر دیئے گئے۔ یہاں سے 22فروری کوملتان منتقل کئے گئے لیکن پھر سکھر ٹھٹھہ، کوٹری اور کراچی کی جیلوں کے رنگ بھی دیکھے ۔ ایک ہفتہ کراچی میں رکھنے کے بعد بذریعہ سمندری جہاز ممبئی روانہ کئے گئے۔ 8 دسمبر 1865 ء کو وہاں سے کہیں اور منتقل کرنے کے بعد 22جنوری 1868ء کو کالا پانی بھجوا دیئے گئے ۔ کالا پانی سے 17سال 10ماہ بعد ایک بیوی اور دس بچوں کے ساتھ ہندوستان روانہ ہوئے اور 20نومبر کو انبالہ پہنچئے!(مولانا جعفر محمد تھانیسری کی کتاب ''کالا پانی سے منقبس)

ہوائی جہازوں کی ریس، خواتین پائلٹس کی ریس کو سرخی پاؤڈر ریس کہا جانے لگا

ہوائی جہازوں کی ریس، خواتین پائلٹس کی ریس کو سرخی پاؤڈر ریس کہا جانے لگا

ہوائی جہازوں کی ریس کا کبھی آپ نے سنا ہے ؟12مارچ 2021ء کوسماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہوائی جہازوں کی ایک ریس اپ لوڈ ہوئی جسے ایک کروڑ پندرہ لاکھ افراد نے دیکھا۔ ایک مسافر ٹوہے میٹ ( TahoeMatt) نے دو جہازوں کی ریس کی وڈیو کو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا کہ ''دو طیاروں کی فضا میں ریس ابھی ابھی ختم ہوئی ہے‘‘۔ مسافر میٹ شیشے کے ساتھ تونہیں بیٹھے تھے لیکن بیرونی مناظر صاف نظر آ رہے تھے۔پھر ان کا شعبہ بھی ریکارڈنگ کرنا ہے اس لئے انہوں نے ریس بھی ریکارڈ کر لی۔اس روز وہ بوئنگ 787-8 میں سوار تھے،ان کے طیارے نے حسب معمول سان فرانسسکو کے ہوائی اڈے سے ٹیک آف کیا۔کیا دیکھتے ہیں کہ اسی ہوائی اڈے سے ٹیک آف کرنے والا ایک اور بوئنگ طیارہ بھی قریب ہی پرواز کر رہا ہے۔ ابھی وہ اسے نوٹ کر ہی رہے تھے کہ ایک آواز گونجی:'' لیڈیز اینڈ جینٹل مین !میری بات سنو ،میں طیارے کا کپتان ہوں۔اگر آپ مڑ کر اپنے دائیں جانب دیکھیں تو ایک اور طیارہ آپ کے سامنے ہو گا، یہ ہے فلائٹ 198 .... اس پرواز کا کپتان ہمیں ریس لگانے کے لئے چیلنج دے رہا ہے، کیا آپ تیار ہیں؟ سیٹ بیلٹ باندھ لیجئے، کیونکہ یہ سب کچھ حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے‘‘۔اس کے ساتھ ہی طیارے میں سیٹ بیلٹ باندھنے کی بتیاں روشن ہو گئیں۔بس پھر کیا تھا دونوں طیارے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ،پہلو بہ پہلو ہوا میں اڑنے لگے ۔کچھ منٹ کے مقابلے کے بعددونوں اپنی الگ ہو گئے ۔اس ریس کے بارے میں سینڈرا پیڈرسن نے لکھا کہ ''مسافر ہوتی تو میرا دل ہی بند ہو جاتا‘‘ ۔انتیا نے ریمارکس دیئے کہ '' سبھی نے جہاز سے اترنے کے بعد شکرادا کیا ہوگا ،زندگی بچ گئی اور خطرناک سفر سے بھی لطف اندوز ہوئے ، ٹکٹ میں یہ نیا اضافہ ہے‘‘۔ہوائی جہازوں کی ریسیں کیوں بند ہوئیں : 2019ء تک ہوائی جہازوں کی ریسیں ہوا کرتی تھیں۔کورونا کی وجہ سے روک دی گئی ہیں۔کورونا وباء کے خاتمے کے ساتھ ہی ہوائی جہازوں کی ریسوں کا دوبارہ آغاز ہوگا ، پھر ''پائلٹ آف دی ایئر‘‘ کے انعامات دیئے جائیں گے۔دوسرے مقابلوں کی طرح اس کھیل میں بھی کئی پائلٹس نے جانیں گنوائیں ،کئی طیارے تباہ ہوئے لیکن کسی نے ہمت نہیں ہاری ۔سرخی پائوڈر ریس: کئی خواتین نے بھی عالمی سطح پر نام کمایا ۔ 1929ء میں ''ویمنز ڈربی ‘‘ کے نام سے خواتین کے مقابلے شروع کئے گئے تھے۔بعض افراد نے ان مقابلوں کو '' میک اپ ڈربی‘‘ کہنا شروع کر دیا اور کچھ نے ''سرخی پائوڈر ڈربی‘‘ کے نام سے یاد کیا۔ یہ مقابلے 1949ء تک جاری رہے۔1947ء میں ''آل وویمنز بین البراعظمی ایئر ریس ‘‘ بھی شروع ہو گئی۔یہ مقابلے 1977 تک جاری رہے ۔ جہازوں کی بربادی کے باوجود خواتین حصہ لیتی رہیں، ہوا باز فلورنس لوو پنچو بارنس نے بہت نام کمایا۔جہازوں کی پہلی ریس:پہلی دوڑ 23مئی 1909ء کو فرانس میں ''ایوی ایشن ائرپورٹ ‘‘پر ہوئی تھی، جس میں چار ہوا بازوں نے حصہ لیا تھا۔اس ریس میں لیپس فاتح قرار پائے۔ 22سے 29 اگست 1909ء تک فرانس کے ایک اور ہوئی اڈے پر بھی فضائی ریس کے مقابلے منعقد ہوئے جس میں مالی تعاون کیلئے طیارہ ساز کمپنیاں بھی شریک ہوئیں۔ چنانچہ پہلا اہم مقابلہ '' فرسٹ گارڈن بینٹ ٹرافی کمپی ٹیشن‘‘ کہلاتا ہے۔گلن کرٹس اس مقابلے کے فاتح قرار پائے۔لوئیس بلیرئٹ صرف پانچ سیکنڈ پیچھے رہنے کی وجہ سے مات کھا گئے۔چنانچہ کرس کو '' چیمپئن آف دی ایئر ریسر ورلڈ ‘‘ کا ٹائٹل مل گیا۔امریکہ میں جہازوں کی پہلی ریس: پہلی ریس 10 سے20جنوری 1910ء تک لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر منعقد ہوئی۔ریس کا اہتمام پائلٹس رائے نیبن شو اور چارلس وللرڈ نے ریلوے بزنس کے ٹائیکون ہنری ہنگٹن اورلاس اینجلس مرچنٹ اینڈ مینوفیکچررز ایسوسی ا یشن کے اشتراک سے کیا تھا۔43پائلٹس نے نام لکھوائے مگر مقابلے کے دن 16پائلٹس پیش ہوئے۔جنگ عظیم اول سے پہلے کا کھیل: جنگ عظیم اول سے پہلے یورپ میں ہوائی جہازوں کی ریسیں کافی مقبول ہو چکی تھیں ۔ان مقابلوں میں 1911ء میں شروع ہونے والے ''سرکٹ آف یورپ ریس ‘‘، ''دی ڈیلی میل سرکٹ آف بریٹن ایئر ریس ‘‘ اور ''ایرئیل ڈربی‘‘ کے مقابلے بھی شامل تھے ۔ 1913ء میں ''سی پلین ریس ‘‘ کے اولین مقابلے بھی منعقد ہوئے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران کچھ تعطل آ گیا۔جنگ بند ہوتے ہی مقابلے پھر شروع ہو گئے ،یہی وجہ ہے ، یورپ کو دوسری جنگ عظیم میں بہترین پائلٹس مل گئے تھے ۔بین البراعظمی ریس:19اکتوبر 1919ء میں بین البراعظمی ریس کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ ہوابازوں نے نیو یارک سے سان فرانسسکو تک 2700میل (4345کلومیٹر) کا فاصلہ طے کرنا تھا ۔ 1924ء میں امریکہ میں پہلی ''نیشنل ایئر ریس‘‘ کے مقابلے شروع ہوئے۔بعد ازاں کئی دیگر ممالک میں بھی قومی مقابلے شروع ہو گئے۔ 1970ء میں امریکہ کی ''فارمولہ ون ریسنگ ‘‘کو یورپ نے بھی اپنا لیا۔ اس میں ہر طیارے کو الگ الگ اڑانے کے بعد ان کا وقت نوٹ کیا جاتا ہے۔ 2019ء میں ''ریڈ بل ایئر ریس ورلڈ چیمپئن شپ ‘‘ اہم مقابلوں میں شامل تھی۔اہم ''ریسر‘‘:فضائی ریسنگ کے حوالے سے اینتونیو دی سینٹ، فلورنس ، پنجو بارنس ، لوول بیلز، آندرے بیومنٹ، جیکولین ککران، گلین کرٹس، پیٹر بیسینئی، ایلن کوبہن، جیفرے ڈی واوی لینڈ، پائول بونہومی، جمی ڈولٹل، ایملیا ایئرہارٹ، رولینڈ گراس، یوگین گلبرٹ، کلاڈ گراہم، ہنری ہاکر، فرینک ہاکس، ایلیکس ہین شاء، سکپ ہوم، ایمی جانسن،مارٹن سونکا، فلوریان برگر، مائیکل بریکجٹ، نائجل لیمب، مائیک مین گولڈ میتھیاز گوڈرر اور ہینس آرچ نامی پائلٹس اہم ہیں ۔

تھکن سے بچنے کے آسان طریقے

تھکن سے بچنے کے آسان طریقے

مسلسل کام کرنے سے تھکن اور اکتاہٹ فطری بات ہے، کام کرتے کرتے تھک جانا کوئی نئی بات نہیں ،لیکن مسلسل کام کرتے چلے جانا اچھی علامت نہیں ہے، یہ دراصل ایک ایسے مرض کی علامت ہے جس میں فرد یوں محسوس کرنے لگتا ہے کہ جیسے اسے کسی کام یا ادارے سے محبت سی ہو گئی ہے اور وہ وہی کام کرتا چلا جاتا ہے،تھک جاتیا ہے لیکن کرتا رہتا ہے۔ آپ اسے ''برن آئوٹ کی شروعات بھی کہہ سکتے ہیں۔بیماری کی علامت: ''عالمی ادارہ صحت‘‘ نے اس نئے مرض ''برن آئوٹ ‘‘ سے خبردار کیا ہے۔ اس مرض کا شکار لوگ کام کے دوران تھک جاتے ہیں لیکن کام ترک نہیں کرتے۔فرض کیجئے کہ ان کے ہاتھ میں موبائل ہے تو وہ موبائل پر کام کرتے ہی رہیں گے ۔خواہ کھانا کھا رہے ہوں یا پھر واش روم میں چلے جائیں، لیکن وہ موبائل کو نہیں چھوڑیں گے۔ یہ محنتی ہونے کی نہیں بلکہ بیماری کی علامت ہے۔ کچھ اداروں نے اسے ''عالمی وبائی مرض ‘‘ قرار دیا ہے۔برن آؤٹ دراصل ایک وارننگ ہے جو دماغ دے رہا ہوتا ہے کہ اب کام روک دیا جائے ۔یہ مرض یکدم لاحق نہیں ہوتا ماہرین نے اس کے پانچ مرحلے بتائے ہیں۔مسلسل ذہنی دباؤ کا احساس: اس صورت میں فرد محسوس کرتا ہے کہ ابھی ڈھیر سارا کام باقی ہے، اسی خیال کے ساتھ آنکھ کھلتی ہے۔ نیند بھی اسی کیفیت میں آتی ہے۔دوسرا مرحلہ: فرد کام کر درمیان وقفہ لینا بند کر دیتا ہے ۔گھر میں اور چھٹی کے دن بھی کام جاری رہتا ہے۔تیسرا مرحلہ: جسمانی علامات آہستہ آہستہ بڑھنے لگتی ہیں۔ سر درد ،مگرین کی شکایت، جسم میں درد رہنااور بار بار زکام ہونا۔چوتھا مرحلہ:فرد غصے اور بے صبری کا شکار ہو جاتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض یا بحث میں پڑ جاتاہے۔ زیادہ غلطیاں کرنے لگناہے ۔ پیٹھ، کمر اور گردن میں درد بھی ہونے لگتا ہے۔پانچواں مرحلہ: گھبراہٹ ،تھکن ،ڈیپریشن پیدا ہو جاتی ہے۔تھکن کے باوجود کام کرنے کے نقصانات :یہ مرض فرد کوایسے کھوکھلا کر دیتا ہے جیسے لکڑی جل کر بھربھری ہو جاتی ہے۔مرض اگر بڑھنے لگے تو ڈپریشن یا دائمی سٹریس میں بدل سکتا ہے ۔ جاپان میں ا سی مرض کو خود کشی کا بڑا سبب سمجھا جا رہا ہے۔ایک سروے کے مطابق اس مرض یعنی ''برن آئوٹ ‘‘ کا سب سے زیادہ نشانہ برطانوی شہری بن رہے ہیں۔جہاں 57فیصد ملازمین نے یہ شکایت کی ہے۔پاکستان میں بھی یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔اس سے متلی کے علاوہ مگرین ،پیٹ میں شدید درد، جلد پر خراشوں اور ایکزیما کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔تھکن کا علاج:ماہرین نے ''برن آئوٹ‘‘ کا آسان سا حل ڈھونڈ لیا ہے ان کا کہنا ہے کہ کئی طریقوں سے آپ تھکے بغیر کام کی مقدار اور معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ہی ضروری ہیں۔ اس بات کا بھی خیال رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف بنایا ہے لہٰذا ہر کلیہ آپ پر فٹ نہیں آئے گا،بلکہ ہر ایک کو نیا انداز اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ٹھنڈے ملک میں رہنے والے لوگ ٹھنڈے پانی کا شاورلینا شروع کر دیں تو وہ خود کو مشکل میں ڈال دیں گے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے مقدار پر زور دیجئے کیونکہ مقدار بڑھنے کے باعث وقت کے ساتھ ساتھ میعار خود ہی بہتر ہو جائے گا اس میں پختگی آجائے گی،سب سے پہلے وہ کام کیجئے جس میں آپ کی دلچسپی زیادہ ہو۔گھریلو کام کے دوران آرام کیسے؟: گھروں میں بچوں کے ساتھ والدین کو کسی نہ کسی حد تک ملٹی ٹاسکنگ کرنا ہی پڑتی ہے ،وہ اس سے بچ نہیں سکتے۔پھر چھوٹے گھروں یا چھوٹے کمروں میں کام مسلسل کرنے سے بھی گریز کیجئے،آپ کام کی جگہ بھی بدل سکتے ہیں، ایک ہی چھوٹی سی جگہ جم کر کام کرنے سے تھکن ہو سکتی ہے۔اگر آپ کمپیوٹر پر کام کرتے ہیں تو گھر جاتے (یا آتے ) وقت کچھ دیر کسی باغ میں بیٹھ کر بھی کام کر سکتے ہیں جیسا کہ سوشل میڈیا کا استعمال یا وڈیوز کی اپ لوڈنگ۔ اپنی کوئی بات کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لیجئے،اچھا لگے گااور کام کی مقدار بھی بڑھ جائے گی۔صاف ستھری اور ہوا دار جگہ پر کام :اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آفس یا گھر میں کام کی جگہ زیادہ صاف نہیں ہے تو کتنی دیر لگے گی؟آپ خود صاف کرلیجئے۔ گھرکے کچن کو بھی صاف ستھرا بنا ئیں گے تو آپ کا دل بھی وہاں کام کرنے کو چاہے گا۔ صرف پانچ منٹ میں آپ کے سامنے ایک اچھا صاف ستھرا کچن ہو گا۔اسی طرح آپ چند ایک برتنوں کی صفائی بھی کر سکتے ہیں ورنہ یہ سارا سارا دن (اگرآپ گھر پر کام کر رہے ہیں تو )آپ کا موڈ آف کرتے رہیں گے۔ آپ کی چھٹی خراب ہو گی۔ کام کی مقدار اور معیار کو بہتر بنانے کے لئے سب سے پہلے کام کی جگہ کو صاف ستھرا، ہوا دار اور اچھا رکھنا ضروری ہے۔گھٹن آپ کو تھکا دے گی۔ انجوائے منٹ بھی لازمی ہے اسے کام کاحصہ جانیے۔کام کے دوران وقفہ لے کر انٹرنیٹ پر ڈرامہ یا فلم بھی انجوائے کر سکتے ہیں، اس سے کام کی رفتار بھی بہترہو جائے گی اور خود کو وقت دینے کا موقع بھی مل جائے گا ۔گھریلو کام کرنے والوں کی صلاحیت میں اضافہ:میں آپ کو یونیورسٹی آف انڈیانا کی ایک شاندار تحقیق سے آگاہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں ۔ ان کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ '' گھروں میں کام کرنے والے افراد دوسروں کی بہ نسبت زیادہ متحرک اور خوشگوار موڈ میں رہتے ہیں۔ کیونکہ بے ترتیبی سے سٹریس ہارمونز کارٹیسول (cortisol) کا اخراج بڑھنے سے اہل خانہ کا موڈآف ہو سکتا ہے ، ڈپرپشن کا بھی اندیشہ ہے ۔ یہ ہارمونز خون میں شوگر کی مقدار میں اضافے کا موجب بنتے ہیں ۔40منٹ کام کے بعد 5منٹ کا آرام :ہر 40منٹ کام کے بعد 5منٹ آرام کیجئے۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ کمپیوٹر اور موبائل فون کی نیلی روشنی آنکھوں کے لئے نقصاندہ ہے ، پانچ منٹ کے وقفے کے دوران آدھے منٹ کے لئے کسی دور کی شے کو دیکھئے، اس سے نیلی روشنی کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔اس ضمن میں فون میں ٹائمر بھی لگا سکتے ہیں۔

روم۔۔عظیم سلطنت سے شہر کیسے بنا؟    کئی موجودہ ممالک انگلستان ، اسپین ، فرانس، اٹلی ، یونان ، ترکی اور مصر اس میں شامل ہوا کرتے تھے

روم۔۔عظیم سلطنت سے شہر کیسے بنا؟ کئی موجودہ ممالک انگلستان ، اسپین ، فرانس، اٹلی ، یونان ، ترکی اور مصر اس میں شامل ہوا کرتے تھے

روم تاریخ عالم کا ایک قدیم ترین اور مختلف ثقافتوں کا حامل عظیم شہر گرداناجاتا تھا۔یہ مرکزی اٹلی کے علاقے لازیو میں واقع تھا۔ قدیم روایتوں کے مطابق 753 قبل مسیح میں روم کا شہر دیوتا مارس کے بیٹے رومولس نے اپنے بھائی ریموس کو قتل کر کے دریائے ٹیبر اور دریائے آنییے کے کنارے سات پہاڑوں پر بسایا تھا۔اس کی آبادی 5.7 کروڑ اور رقبہ 59 لاکھ مربع کلو میٹر تھا۔ وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی موجودہ ممالک جن میں انگلستان ، اسپین ، فرانس، اٹلی ، یونان ، ترکی اور مصر اس میں شامل تھے اس عظیم سلطنت کا حصہ ہوا کرتے تھے۔لیکن 286 قبل مسیح کے بعد سلطنت روم میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں تو شام اور مصر سلطنت روم کی دست برد سے باہر ہو گئیں۔ یہ یورپ میں سب سے قدیم اور مسلسل زیر قبضہ شہروں میں تصور ہوتا ہے۔اسکی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یونیسکو نے اسے عالمی ورثے میں شامل کر رکھا ہے۔509 قبل مسیح میں یہ رومن جمہوریہ میں تبدیل ہوا جس کی پارلیمنٹ دو منتخب شورائی نظام سینیٹ اور کونسل سے تشکیل پائی۔یہ دراصل جمہوریت کی ابتدائی شکل تھی جو آج بھی دنیا کے بیشتر ممالک میں ملتے جلتے ڈھانچے کے ساتھ نافذ ہے۔ سینیٹ ،اسمبلیاں ، ووٹنگ سسٹم اور ویٹو پاور روم ہی کی اختراع تھی۔27قبل مسیح میں اس سلطنت کا پہلا بادشاہ آگسٹس سیزر تھاورنہ اس سے پہلے روم ایک جمہوری ملک تھا جو سیزر اور پومپئے کی خانہ جنگی اور گائس مارئیس اور سولا کے بڑھتے ہوئے تنازعات کے باعث کمزور ہوتا چلا گیا ۔مغربی رومی سلطنت 4 ستمبر 476 عیسوی کو جرمنوں کے ہاتھوں تباہ ہوئی جبکہ بازنطینی سلطنت 29 مئی 1453 ء کو عثمانیوں کے ہاتھوں فتح قسطنطنیہ کے ساتھ ختم ہو گئی ۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک زمانے میں روم جو ایک وسیع و عریض ملک اور سلطنت کی حیثیت سے اعلیٰ درجے کی تہذیب و تمدن کی شناخت رکھتا تھا اب نہ ہی ایک سلطنت اور نہ ہی ایک ملک رہا ہے بلکہ سکڑتے سکڑتے اٹلی کے دارالحکومت تک محدود ہو کے رہ گیا ہے۔روم اب ایک میٹروپولیٹن شہر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک سے شہر میں تبدیل ہو جانے والے شہر کے اندر ہی دو نئے خود مختار ملکوں '' ویٹی کن سٹی‘‘ '' ہولی سی ‘‘ نے جنم لیا ۔قدیم مذہب:قدیم رومی مذہب ریلیجیو رومانا تھا ۔ بعد میں جوں جوں روم کے اندر دوسری تہذیبیں ضم ہوتی چلی گئیں تو کئی دیگر مذاہب بھی شامل ہوتے چلے گئے۔اسی طرح تاریخ کی کتابوں میں قدیم ترین مذہب یہودیت کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ جب مسیحیت کا آغاز ہوا تو پہلے پہل اسے زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن چوتھی صدی عیسوی تک مسیحیت خاصی پھیل چکی تھی۔جبکہ روم میں 313 ء کے اوائل میں اسے قانونی تحفظ تو دے دیا گیا لیکن طویل عرصے تک مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 380 عیسوی میں عیسائیت کو باضابطہ مذہب کا درجہ ملنے سے یہ شہر عیسائیت کاپہلا اہم مرکز بنا۔ کچھ روایات کے مطابق یہیں پر پہلی صدی عیسوی میں سینٹ پیٹر ( پطرس)اور سینٹ پاول (پولس)کا قتل ہوا تھا۔ یہیں سے روم کے لاٹ پادری نے بعد میں پوپ یا پاپائے روم کا لقب اپنایا۔اور اس کو باقی تمام پادریوں پر برتری حاصل ہوئی۔رومی سلطنت کے زوال کے اسباب :رومی سلطنت کے زوال پر مور خین اور ناقدین بہت عرصے سے تجزئیے کرتے آ رہے ہیں لیکن سب سے اہم تجزیہ ایڈون گبن کاہے۔جس نے رومی دور کے کھنڈرات کی ''عظمت‘‘ سے متاثر ہو کر تباہی کی وجوہات جاننے کا تہیہ کیا تھا۔وہ جاننا چاہتا تھا کہ اپنے زمانے کی وسیع و عریض اور مضبوط سلطنت رفتہ رفتہ کھنڈرات میں کیوںبدلتی چلی گئی؟۔وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اداروں کی سیاست میں بے جا مداخلت، اپنی مرضی کے حکمرانوں کومنتخب کرانے ، رومی شہنشاہوں کے یکے بعد دیگرے قتل ، سرحدوں پر حملوں اور زراعت کی تباہی کی وجہ سے یہ سلطنت سکڑتی چلی گئی۔ بے روزگار کسانوں کی شہروں کی طرف نقل مکانی اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے شہروں میں صفائی کا نظام قائم نہ کیا جا سکا ۔ رہی سہی کسر عوامی جھگڑوں اور فسادات نے پوری کر دی جن سے شہری غیر محفوظ ہوگئے تھے۔ امراء نے دیہات میں محلات بنا لئے تھے جس سے ریاست روم کی جڑیں کھوکھلی کرتے چلے گئے۔اس تبدیلی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک جانب رومی معاشرہ ذہنی طور پربنجر ہو گیا تو دوسری طرف اس کی افواج اس قابل نہ رہیں کہ وہ باربیرین قبائل کا مقابلہ کرسکتیں۔چنانچہ 410 عیسوی میں ویزو گوتھ روم پر قابض ہوئے اور مغربی رومی ایمپائر کا خاتمہ ہو گیا۔کتنی عجیب بات ہے کہ ایک وقت میں رومیوں سے شکست کھانے والے شہر میں فاتح بن کر آئے۔اور یوں اپنے وقتوں کی وسیع و عریض رومن سلطنت اپنے انجام کو پہنچی۔ اپنے وقت کی ترقی یافتہ سلطنت نے دوسرے ملکوں کو بھی سائنس ، فن تعمیر، ریاستی ڈھانچے کے علوم اور فن حرب سمیت بے شمار شعبوں میں رہنمائی مہیا کی۔ لیکن تاریخ دان یورپ کے اس کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پڑوسی قبائل کو غیر مہذب اور وحشی کا لقب دے کر ان کا قتل عام کیا ۔ ان کو اپنا غلام بنایا اور ان کی دولت لوٹ کر محلات اور پر شکوہ عمارات تعمیر کیں ۔ یہ تاریخ کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ ان کے پرامن ہمسایہ قبائل غیر مہذب ٹھہرے جبکہ بلا اشتعال حملے کر کے لوٹ مار کا بازارگرم کرنے والے مہذب گردانے گئے۔

دنیا کا سب سے بڑا گول مقبرہ

دنیا کا سب سے بڑا گول مقبرہ

دنیا کا سب سے بڑا گول مقبرہ کسی اور کا نہیں روم کے بادشاہ بادشاہ آگسٹس کا ہے جو اس نے 31سے 28قبل مسیح میں خود اپنے لئے بنوایاتھا۔31قبل مسیح میں ''جنگ آکٹیم‘‘ (Actium) میں کامیابی کے بعد اس نے دیگر منصوبوں کے ساتھ یہ منصوبہ بھی شروع کرایا۔ اس نے اس خوبصورت مقبرے کی تعمیر کے لئے دنیا بھر سے کے ماہرین سے مشورے بھی کئے تھے۔ مقبرے کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کی تعمیر میں بادشاہ نے اپنے تمام مقبوضہ علاقوں سے مٹی منگواکر ڈلوائی۔وہ کہتا تھا کہ ''میرے مقبوضہ علاقوں کی مٹی بھی آخری وقت تک میرے ساتھ رہے۔کیونکہ مجھے پتھروں کا شہر ملا تھا اور میں سنگ مرمر کا شہر چھوڑ کر جا رہا ہوں‘‘۔بد قسمتی سے اس مقبرے کا بھی انجا م اچھا نہیں ہوا۔ 410 میں بہت لوٹ مار ہوئی۔ سونے کے کوزے بھی لوٹ لئے گئے۔ہر طرف راکھ بکھری ہوئی تھی ۔ 10ویں صدی عیسوی میں مقبرہ زمین میں دھنس گیا تھا ۔ 12 ویں صدی میں اسے قلعے میں بدل دیا گیا۔ 1167ء میں ہونے والی جنگ یہاں خاصی تباہی مچی، ایک بادشاہ نے یہاں باغ بنا دیا جبکہ 19ویں صدی میں یہ مقبرہ سرکس اور 20صدی میں اس کا مرکزی حصہ کنسرٹ ہال کے طور پر بھی استعمال ہوا۔مقبرے کا قطر 90میٹر(295فیٹ)اور اونچائی 42 میٹر (137) ہے۔زیریں حصے کے قریب پہنچتے ہی ایک بڑا سا راستہ نظرآئے گا جو سیدھا مقبرے کے اندر لے جائے گا۔یہاں دور سے ہی بلند و بالا طاق پر رکھے ہوئے سونے کے کوزوں میں شاہی خاندان کے افراد کی راکھ نظرآئے گی۔ ستونوں پر بادشاہ کا نام ''ریس گیسٹو ڈیوی آگسٹی ‘‘ جلی حروف میں کندہ ہے ۔جس کے نیچے اس کے کارہائے نمایاں اور فتوحات درج ہیں۔مرکزی حصے کے عین اوپر مخروطی چھت پرپیتل کا قد آور مجسمہ نصب ہے۔نیچے خود دفن ہے اور اوپر مجسمہ ہے تا کہ پتہ چل سکے کہ مرنے والا کس شکل کا تھا۔بادشاہ نے خوبصورتی کو چار چاند لگانے کے لئے ہر وقت شاداب رہنے والے خاص قسم کے درخت (cypresses) منگوا کر لگوائے۔ زیریں حصے کے قریب مشہور عجاب گھر ''میوزیم آف آراء پیسس‘‘ بھی واقع ہے۔یہ ''پیازہ آگسٹو امپیریٹور‘‘ کے مشہور مقام پر واقع ہے اور چاروں اطراف سے درختوں اور پھر مکانات میں گھرا ہوا ہے ،اس علاقے میں یہی واحدسرسبز جگہ ہے جس کے چاروں طرف درختوں کی بہار ہے۔میسو لینی نے بحالی کے لئے اسے عارضی طور پر بند کرنے کا حکم جاری کیاتھا،لیکن وہ آرئش نیہ کروا سکا۔ میسولینی کہتا تھا کہ ''آگسٹس نے میری شکل میں دوبارہ جنم لیا ہے‘‘۔ جنوری 2017ء میں آرائش و تزئین کی گئی لیکن اپریل 2019ء تک نا مکمل رہی ، اس لئے عوام کے لئے نہیں کھولاجا سکا،بلکہ اونچے درختوں کی اوٹ میں چھپنے کی وجہ سے دنیا کی نظروں سے بھی اوجھل ہو گیا تھا۔ 13سال سے جاری آرائش وتزئین کا کام یکم مارچ 2021ء کو مکمل ہوا۔کئی شاعروں نے مقبرے کی خوبصورتی پر اشعار کہے ہیں۔ ایک شاعر کی نظم کا ترجمہ کچھ یوں ہے ،'' یہ مقبرہ ہر وقت خوشبوئوں سے مہکتا رہتا ہے،دل کرتا ہے کہ میں بھی اپنے بالوں میں ان خوشبوئوں کو سمیٹ لوں۔ گرمیوں میں برف کا دلربا نظارہ اور پھولوں کی سیج دل کو کھینچ لیتی ہے۔منظر اس قدر کشش ہوتا ہے کہ آنے والے کا جانے کو من نہیں چاہتا لیکن اس میں ایک سبق بھی ہے وہ یہ کہ جودنیا میں آیا ہے ،خواہ وہ دیوتاہی کیوں نہ ہو،اس نے ایک نہ ایک دن مرنا بھی ہے‘‘۔

غربت ایک چڑیل ہے اپنی بستی میں

غربت ایک چڑیل ہے اپنی بستی میں

ہمارے آبائی گاؤں سکھوچک کے پاس سے ''بئیں ندی‘‘ کے نام سے ایک ندی بہتی ہے جو تحصیل شکرگڑھ اور اسکے مضافات سے ہوتی ہوئی کرتارپور کے نزدیک دریائے راوی سے مل جاتی ہے ہمارے پورے علاقے میں بئیں ندی کے متعلق مشہور ہے کہ یہ ہر سال ایک بندہ کھا جاتی ہے یعنی کہ برسات کے ایام میں اکثر کوئی نہ کوئی اس ندی میں ڈوب کر مر جاتا ہے۔کْچھ ایسی ہی صورتحال تھرڈ ورلڈ کے مختلف ممالک میں روائتی تہواروں کے دوران پیش آتی ہے جہاں پر غربت کے سبب کئی لوگ اپنے بچوں کی فرمائشیں پوری نہ کرنے کے غم میں خودکشی کر لیتے ہیں بلکہ اکثر اوقات تو پورے خاندان کو مار کر خود کو مار لینے کی خبریں مِلتی ہیں ۔ ہر سال ہر تہوار کوئی نہ کوئی خاندان ہڑپ کر جاتا ہے یا یوں کہہ لیجئےغربت ایک چڑیل ہے اپنی بستی میںجسکی ہر تہوار پہ آنکھیں ہوتی ہیںپچھلے دنوں شیخوپورہ میں پیش آنے والے ایسے ہی ایک حادثے نے دردِ دل رکھنے والوں کو رلا کر رکھ دیا کہ عید پر نئے کپڑوں کی فرمائش بچوں کی زندگی کی آخری فرمائش بن کر رہ گئی ۔خاوند کی بیوی سے پہلے ہی نوک جھونک رہتی تھی اوپر سے بے روزگاری نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔گھریلو جھگڑے، غربت اور بدحالی... ایسی صورت حال میں کْچھ بھی ہو سکتا ہے ۔تو وہی ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا ۔فیصل آباد کے رہائشی علاقے بنڈالہ کے محنت کش باپ نے تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کو شیخوپورہ کے قریب نہر میں پھینک دیا اور پولیس کے سامنے اعتراف جرم بھی کرلیا ۔یہاں پر یہ کہنا بالکل بھی بے جا نہ ہوگا کہ اس جْرم کا اعتراف اس علاقے کے مخیر حضرات اور کرتا دھرتاؤں کو بھی کر لینا چاہئے جن کی ناک کے نیچے ایک گھر میں غربت کی وجہ سے لڑائی جھگڑا جاری رہا ، نوبت انتہائی اقدام تک آگئی اور کسی کو پتہ تک نہ چلا اگر اسی محلے کا کونسلر اور مخیر حضرات چاہتے تو اس خاندان کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے اسی طرح اور بھی بے شمار لوگ ایسی صورت حال سے دوچار ہیں، ان کو بچانے کے لئے بھی کردار ادا کیا جا سکتا ہے وہ کردار بے روزگار شخص کو روزگار دلا کر بھی ادا کیا جا سکتا ہے یا پھر اس شخص کے اخراجات اس کی آمدن سے کہیں زیادہ ہیں تو اسے بیت المال سے وظیفہ دلوا کر بھی ادا کیا جاسکتا ہے یا کسی مخیر شخص سے اس کی چْپ چاپ مدد کروا کر بھی کیا جاسکتا ہے۔اچھا ایک اور بات کہ ایسے لوگوں کی تعداد کوئی اتنی زیادہ بھی نہیں ہوتی ،مثال کے طور پر اگر ایک محلے میں پانچ گھر ایسے ہیں تو بیس گھر ایسے بھی ہیں جو کروڑ پتی ہیں جن کی سینکڑوں ایکڑ زمینیں ہیں یا انکم کے اور بھی کئی پوشیدہ ذرائع ہیں تو کیا بیس کروڑ پتی اپنے محلے کے پانچ مجبوروں کا بوجھ بھی برداشت نہیں کر پاتے؟ میں اکثر ان سے ہاتھ باندھ کر گزارش کرتا ہوں کہ دو دو چار چار سو روپیہ بانٹنے کے لئے میلہ لگانے سے بہتر ہے کہ چار پانچ افراد کو اکٹھی رقم دی جائے تاکہ وہ عید کے تہوار کو بخوشی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ منا سکیں ۔پھر اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ مختلف باتیں بناتے ہیں، کوئی اسکی بیوی پر بدچلنی کا الزام لگاتا ہے کا تو کوئی مرد کے نشئی ہونے کا دعویٰ کرتاہے،میں نے خود اپنے کانوں سے لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ یہ لوگ حالات کامقابلہ کرنے کی بجائے مرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔کیا دو روٹی کھا لینا اور پڑے رہنا یہی ایک اشرف المخلوقات کی زندگی ہے ؟ کیا اچھا لباس اوررہائش وغیرہ انسان کی ضرورت نہیں ہیں؟کیا تمام انسانوں کے سینوں میں دھڑکتے دلوں میں خواہشات نہیں ہوتیں؟ اگر ہوتی ہیں تو پھر اْن کے پورا نہ ہونے سے جو احساس محرومی پیدا ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ احساس کمتری میں بدل جاتا ہے، احساسِ کمتری کا شکار انسان ذہنی مریض بن جاتا ہے اور ذہنی مریض سے آپ کسی بھی عمل کی توقع رکھ سکتے ۔اگر یہ ظاہری اور پوشیدہ دولت مند حضرات ایک طریقہ کار پر چلتے ہوئے زکوٰۃ کی ادائیگی کو ہی احسن طریقے سے سرانجام دیں تو یقین کیجئے، پورے پاکستان میں کوئی بھی تہوار کوئی بندہ نہ کھائے۔آخر میں نہر برد ہونے والے بچوں اور اْن کے جیسے لاکھوں کروڑوں ننھے منے بھوکے پیاسے بچوں کے لئے عید الفطر کے چاند کی آنسوؤں سے لبریز لوریچندا ماموں دور سےدیکھ رہے ہیں گھور کےکس نے روٹی کھا لی ہےقسمت کے تندور سےچندا ماموں روتے ہیںاور رو رو کر کہتے ہیںمیرے لاکھوں بھانجھے ہیںاکثر بھوکے رہتے ہیںخالی فیڈر ہوتا ہےآنکھ سے آنسو بہتے ہیںدیکھ کے مْنا روتا ہےماں پانی سے بھرتی ہےپی کر مْنا سوتا ہےہر شب ایسا ہوتا ہےچندا ماموں دور سےدیکھ نہ پائیں گھور کےاْن کا بھانجا روتا ہےپی کر پانی سوتا ہےچندا ماموں دور سےدیکھ نہ پائیں گھور کے......!