نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ڈاکٹرنےکوروناسےبچاؤکی ویکسین دریافت کرنےکادعویٰ کیاتھا
  • بریکنگ :- جرمن ڈاکٹرنےمتعددافرادکواپنی بنائی ہوئی کوروناویکسین لگادی
  • بریکنگ :- جرمن پولیس نےڈاکٹرونفریڈاسٹوکرکوحراست میں لےلیا
  • بریکنگ :- چھاپےکےوقت 200افرادویکسین لگوانےکےلیےقطارمیں کھڑےتھے
Coronavirus Updates

شوبز کی دنیا کے بین الاقومی ایورڈز

شوبز کی دنیا کے بین الاقومی ایورڈز

اسپیشل فیچر

تحریر : خرم سہیل (


دادا صاحب پھالکے ایوارڈ:(بھارت)دادا صاحب پھالکے ایوارڈز ہندی سینما کے معتبر اوراعلیٰ معیار کے اعزازات ہیں۔ ان ایوارڈز کا انعقاد بھارتی حکومت کرتی ہے۔ اس میں شوبز کے علاوہ شعبہ ہائے زندگی سے متعلق دیگر مختلف طرح کے ایوارڈز دیے جاتے ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیاجاتاہے۔ ان ایوارڈز کا آغاز 1969ء میں ہوا۔ یہ ایوارڈز بہت ہی سینئر اورمعتبر ترین شخصیات کو دیے جاتے ہیں۔ یہ ایوارڈز داداصاحب پھالکے کے نام پر ہیں، ان کو ہندی سینما کا سرپرست سمجھاجاتاہے۔ یہ ایوارڈز انڈیا کے بہت سے نامور فن کاروں کو مل چکا ہے، جن میں پرتھوی راج، نوشاد، ستیاجیت رائے، راج کپور، اشوک کمار، لتامنگیشکر، دلیپ کمار، مجروح سلطان پوری، دیو آنند، یش چوپڑا، شیام بینگل اورمناڈے جیسی شخصیات شامل ہیں۔نیشنل فلم ایوارڈز:(بھارت)یہ ایوارڈز انڈیا میں بہت مقبول ہیں۔ ان ایوارڈز کے انتظامی امور میں بھارتی حکومت کے علاوہ ملک کی معروف شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں۔ 1954ء میں ان ایوارڈز کااجرا ہوا۔ ایوارڈز کی تقریب نیو دہلی میں ہوتی ہے اور وصول کنندہ کوبھارتی وزیر اعظم کے ہاتھوں یہ ایوارڈ دیاجاتاہے۔ ان ایوارڈز کی اہمیت یوں بھی زیادہ ہے کہ یہ بھارت کے قومی ایوارڈز کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان ایوارڈز میں 2 اقسام کے اعزازات ہیں، جن میں ایک فیچر فلم کے لیے جب کہ دوسری قسم نان فیچر فلم ہے اورپھر آگے ان کی مزید شاخیں تقسیم ہوجاتی ہیں، ان میں بھی اعزازات دیے جاتے ہیں۔ فلموں کے حوالے سے لکھاریوں کو بھی یہ اعزاز ملتاہے اورایک ایوارڈ اسپیشل جیوری ایوارڈ ہے جو ایسی کتاب کو دیا جاتاہے جو ہندی سینما پر لکھی گئی ہو۔ اس کے علاوہ بھارت میں 4 قومی سول ایوارڈز ہیں جو مختلف شعبوں میں دیے جاتے ہیں، ان تمام اعزازات کا اجرا 1954ء میں ہوا۔ ان کے نام، بھارت رتنا۔ پدما وی بھوشن۔ پدما شری۔ پدما بھوشن ہیں۔ایشیانیٹ فلم ایوارڈ:(بھارت)انڈیا میں ملائلم فلموں کے لیے یہ بہت بڑا ایوارڈ اورجنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ کا ایک اہم ایوارڈ ہے۔ یہ ایوارڈز بھی ٹیکنکل اورآرٹسٹک دونوں شعبوں میں دیے جاتے ہیں۔ 1998ء میں اس کی ابتدا ہوئی اوراب تک جاری ہے۔ 30 شعبوں میں ایوارڈز کے لیے فن کاروں کو نامزد کیاجاتاہے۔ میڈیا کی طرف سے دیے جانے والے شوبز کے ایوارڈزAnandalok Awards:(بھارت)یہ ایوارڈز انڈیا کی بنگالی سینما کی صنعت میں ایک اہم اورسالانہ بنیادوں پر ہونے والے ایوارڈز ہیں۔ Anandalok بنگالی زبان میں شائع ہونے والا فلمی رسالہ ہے، جس کے نام پر ان ایوارڈز کا نام رکھاگیاہے۔ یہ رسالہ بھارت کی ریاست آندرا پردیش سے شائع ہوتاہے۔ ان ایوارڈز کا تمام اہتمام یہی رسالہ کرتاہے۔ 1975ء میں یہ میگزین شائع ہونا شروع ہوا اور 1998ء میں اس نے فلمی ایوارڈز دینے کی ابتدا کی۔ یہ ایوارڈز فلم کے 19شعبوں میں دیے جاتے ہیں۔فلم فیئر ایوارڈز:(بھارت)ان ایوارڈز کا انعقاد ایک بڑے بھارتی میڈیا گروپ دی ٹائم کی طرف سے ہوتاہے۔ یہ ایوارڈز آرٹسٹک اورٹیکنیکل دونوں شعبوں میں دیے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ اسپیشل ایوارڈ اورکریٹیک ایوارڈ بھی دیاجاتاہے۔ یہ ایوارڈز ہندی فلموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 1954ء سے یہ ایوارڈز باقاعدگی سے دیے جارہے ہیں۔ ان ایوارڈز کے لیے دو طرح کا ووٹنگ سسٹم بناہوا ہے۔ ایک تو ماہرین کی کمیٹی ہے اوردوسرے عوام ہیں۔ دونوں پہلوئوں سے ایوارڈ دینے سے پہلے دیکھاجاتاہے۔ ان ایوارڈز کی بھارت میں بہت اہمیت ہے۔ یہ ایوارڈز جن شعبوں میں دیے جاتے ہیں، ا ن کی ترتیب کچھ یوں ہے۔O۔ میرٹ ایوارڈز (14شعبے)O۔ کریٹکس ایوارڈز (4شعبے)O۔ ٹیکنیکل ایوارڈز (12شعبے)O۔ اسپیشل ایوارڈز (6شعبے)انٹرنیشنل انڈین فلم اکیڈمی ایوارڈز:(بھارت)یہ ایوارڈز سالانہ بنیادوں پر بالی ووڈ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 2000ء میں ان ایوارڈز کی ریت قائم ہوئی۔ ان ایوارڈز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بھارت سے باہر کسی دوسرے ملک میں ہوتے ہیں اورانتظامیہ، حاضرین اورنامزد ہونے والے لوگ طے شدہ ملک میں جاکر اس کی تقریب میں شرکت کرتے ہیں۔ تین بنیادی شعبوں میں یہ ایوارڈز دیے جاتے ہیں، جن میں ٹیکنیکل، اسپیشل اور پاپولر ایوارڈز شامل ہیں۔ اب تک ان ایوارڈز کی تقریب جن ملکوں میں ہوچکی ہے، ان میں برطانیہ، جنوبی افریقہ، ملائشیا، سنگاپور، دبئی، بنکاک، نیدر لینڈ، روس، سری لنکا اورکینیڈا شامل ہیں۔بھارت کے دیگر ایوارڈزاس کے علاوہ بھی بھارت میں بہت سے ایوارڈز ایسے ہیں، جن کا باقاعدگی سے انعقاد ہوتاہے۔ چند ایک نمایاں ایوارڈز کی ترتیب مندرجہ ذیل ہے۔ اجرا کی تاریخ کے تناظر میں ایوارڈز کے سفر کے بارے میں اندازہ لگایاجاسکتاہے۔O۔ بک اسٹار انٹر ٹینمنٹ 2010ءO۔ فلم فیئر ایوارڈز سائوتھ۔ تیلگو، 1954ئ۔ تامل، 1954ئ۔ ملائلم، 1967ئ۔ کنادا، 1970ءO۔ گلوبل انڈین فلم ایوارڈز 2005ءO۔ گولڈن کیلا ایوارڈز 2009ءO۔ کیرالا اسٹیٹ فلم ایوارڈز 1969ءO۔ ماتھروب حامی فلم ایوارڈز 1998ءO۔ نندی ایوارڈز 1964ءO۔ سائوتھ انڈین انٹرنیشنل مووی ایوارڈز 2012ءO۔ اسٹار اسکرین ایوارڈز 1998ءO۔ اسٹار ڈسٹ ایوارڈز 2003ءO۔ وی جے ایوارڈز 2006ءO۔ زی سنے ایوارڈز 1998ءO۔ اسکرین ایوارڈز 1995ءمختلف بادشاہتوں کی جانب سے شوبز کی شخصیات کو دیے جانے والے ایوارڈزدنیا کے چند ممالک ابھی تک ایسے ہیں، جہاں بادشاہت کا وجود قائم ہے اوران بادشاہتوں کا احترام اورمرتبہ عوام اورفن کاروں کے لیے بہت بلند ہے۔ یہ بادشاہتیں ان بہترین افراد کو اعزازات سے نوازتی ہیں جو ان کے ملک کا پرچم سربلند کرے۔ ان ایوارڈز کی قدرومنزلت پوری دنیا میں ہے۔ دنیا کے چند بہترین ممالک کے اعزازات کی تفصیل کچھ یوں ہے۔آرڈر آف دی برٹش ایمپائر:(برطانیہ)یہ برطانیہ کا اعلیٰ ترین شاہی اعزاز ہے۔ یہ ان افراد کو دیاجاتاہے جو اپنے شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کریں اوربرطانیہ کے لیے مثبت تصور کو فروغ دیں۔ یہ چوں کہ شاہی اعزاز ہے لہٰذا ہر کسی کے بس میں یہ اعزاز حاصل کرنا نہیں ہے۔ 4؍جون 1917ء میں اس اعزاز کے دینے کی ابتدا ہوئی۔ ان کا اجرا کنگ جارج پنجم کے ہاتھوں ہوا۔ اب یہ اعزاز ملکہ الزبتھ دوم کے ہاتھوں دلوایا جاتاہے۔ یہ اعزازپانچ اقسام کا ہے، جن میں سویلین اورملٹری کے افراد شامل ہیں۔ ان کی ترتیب کچھ یوں ہے۔O۔ Knight Grand Cross(GBE)O۔ Knight Commander(KBE)O۔ Commander(CBE)O۔ Officer(OBE)O۔ Member(MBE)ان میں سے دو اعزازات ایسے ہیں، جن کو حاصل کرنے والے کے ساتھ کچھ القاب بھی لگ جاتے ہیں، وہ دواعزازات Knight اور Dame ہیں، اگر مرد ہے تو اپنے نام کے ساتھ Knight اور Sir کااضافہ کرسکتاہے جب کہ عورت ہے تو وہ اپنے نام کے ساتھ Dame لگاسکتی ہے۔ دونوں القاب کا مطلب باعزت اوراعلیٰ کے ہیں۔ اسی طرح برٹش ایمپائر میڈل بھی برطانیہ کا ایک معتبر اعزاز ہے۔ یہ ملٹری اورسویلین لوگوں کو بہترین خدمات پر دیاجاتاہے۔ برصغیر میں تقسیم سے پہلے کے ادوار میں اوربالخصوص مغل عہد میں اس نوعیت کے اعزازات کی روایت بہت پختہ تھی۔(جاری ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
کیا آپ سائبر حملے سے محفوظ ہیں؟ کمپیوٹر سکیورٹی کے عالمی دن پر خصوصی تحریر

کیا آپ سائبر حملے سے محفوظ ہیں؟ کمپیوٹر سکیورٹی کے عالمی دن پر خصوصی تحریر

ٹیکنالوجی کے جس دور کے ہم عینی شاہد ہیں ،ہم سے پہلے لوگ نہیں تھے۔اگر یہ کہا جائے کہ ہمارا تعلق اس خوش قسمت نسل انسانی سے ہے جس نے ٹائپ رائٹر کو کمپیوٹر،لیپ ٹاپ،پام ٹاپ اور موبائل میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ آج سے 20برس قبل ٹیلی فون کو بھی ایک آسائش سمجھا جاتا تھا اور اکثر افراد اسے فضول خرچی تصور کرتے تھے،لیکن ٹیکنالوجی نے جس برق رفتاری سے ترقی کی اس کی مثال اس کرۂ ارض پر پہلے موجود نہ تھی۔اگر آپ بھی سمارٹ فون یا کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں اور اس میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ کا تعلق بھی جدت پسند نظریہ رکھنے والی اس کلاس سے ہے جو ہر آنے والی نئی تحقیق اور ایجاد پر نظر رکھتی ہے اور کھلے دل سے اس کا استقبال کرتی ہے۔ اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ جب کوئی ایجاد یا مشین ہمیں فائدہ پہنچا رہی ہو اور ہمارے روز مرہ کے معاملات کو آسان بنانے میں ہماری مدد کر رہی ہو تو ان تمام فوائد کے ساتھ اس کے کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں ۔یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کواس وقت ہی بہترین قرار دیا جا سکتا ہے جب ہم اسے احتیاط کے ساتھ استعمال کریں۔یہ دنیا جہاں ہم رہتے ہیں ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اور ایک ڈیجیٹل بک ہے جسے کوئی بھی پڑھ سکتا ہے ۔آج ہم میلوں دور بیٹھے کسی بھی شخص سے کچھ سیکنڈ میں رابطہ کر سکتے ہیں۔ کسی ریسٹورنٹ میں جائیں یا اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزاریں ،موبائل پر تصاویر لازماً لی جاتی ہیں اوراکثر لوگ اپنا انتہائی قیمتی اور ذاتی ڈیٹا بھی محفوظ کرنے کے لئے موبائل یا کمپیوٹر کو سب سے '' محفوظ ‘‘ سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی ابہام نہیں کہ کمپیوٹر ایک بہتریں ایجاد اور اس نے دنیا کو ترقی کی ایک نئی راہ پر گامزن کیا ہے، لیکن یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ کمپیوٹر ہمیں انٹرنیٹ کے ذریعے اسی گلوبل ویلج سے منسلک کرتا ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ جب پوری دنیا آپ کے ایک کلک پر دستیاب ہے تو پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کا ڈیٹا بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے اس دنیا سے بچا رہے؟آج بھی دنیا بھر کی ہیکنگ یا ڈیجیٹل چوریاں کمپیوٹر کے ذریعے ہی کی جاتی ہیں ۔ آج کل دنیا ٹینک اور بندوق سے لڑنے سے پرہیز کرتی ہے اور کمپیوٹر پر بیٹھ کر لڑنا زیادہ فائدہ مند سمجھتی ہے۔ اس لڑائی کو جدید زبان میں (5th generation war)بھی کہا جاتا ہے اور اس جنگ میں شریک سپاہیوں کو کی بورڈ وارئیر(Keyboard Warriors) کہا جاتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل جنگجو آسانی سے آپ کے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور آپ کا قیمتی ڈیٹا چوری کر کے انٹرنیشنل مارکیٹ میں فروخت کر سکتے ہیں۔ آج30نومبر کو دنیا بھر میں ''کمپیوٹر سکیورٹی کا عالمی دن‘‘ منایا جا رہاہے۔دنیا میں بڑھتے ہوئے سائبر حملوں کے پیش نظر ایسوسی ایشن فار کمپیوٹر سکیورٹی نے 1988ء میں ہر سال 30نومبر کو کمپیوٹر سکیورٹی کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو کمپیوٹر سکیورٹی کے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا تاکہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ کس طرح وہ اپنے کمپیوٹر کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور اپنی قیمتی معلومات کو چوری ہونے سے بچا سکتے ہیں۔کچھ دیر کیلئے تصور کیجئے کہ آپ ایک بینک میں کام کرتے ہیں اور ذمہ دار پوسٹ کے حامل ہیں ۔ آپ کے پاس بینک اور صارفین کا انتہائی حساس ڈیٹا کمپیوٹر میں موجود ہے جسے آپ دنیا کی سب سے محفوظ جگہ سمجھتے ہیں۔ کسی ماہر ہیکر کو آپ کے کمپیوٹر تک پہنچنے اور وہ قیمتی معلومات چرانے کے لئے زیادہ سے زیادہ5منٹ درکار ہوں گے۔جب تک آپ کو اس کارروائی کا علم ہو گا چڑیاں کھیت چگ چکی ہو ں گی۔ ایسی صورتحال میں آپ نہ صرف اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے بلکہ شاید زندگی بھر اس نقصان کو پورا نہ کر پائیں۔ اگر آپ کمپیوٹر سکیورٹی کا علم نہیں رکھتے اور اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ کمپیوٹر کو سائبر حملے سے محفوظ بنانے کے لئے ضروری اقدامات کون سے ہیں تو یقین جانیے آپ کا ڈیٹا اور آپ بالکل محفوظ نہیں ہیں۔ کمپیوٹر اور موبائل آپ کے ساتھ چلتے پھرتے وہ اکائنٹس ہیں جو آپکی زندگی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔اس لئے جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ جس بینک میں آپکی رقم موجود ہے وہ زیادہ سے زیادہ حفاظتی اقدامات اٹھائے اسی طرح یہ قانون آپ پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ آپ بھی اپنے کمپیوٹر کو محفوظ بنانے کے لئے ضروری اور بروقت اقدامات کریں۔تنزیل الرحمن نوجوان صحافی ہیں اورتحقیق کے شعبہ سے وابستہ ہیںیہ صرف آپ کی ذاتی سکیورٹی کے لئے نہیں بلکہ آپ سے منسلک تمام لوگوں کی سکیورٹی کے لئے ضروری ہے۔

 تبرکات اور نو ادرات سے مالا مال ’’ فقیر خانہ‘‘

تبرکات اور نو ادرات سے مالا مال ’’ فقیر خانہ‘‘

شہر لاہور کی عظمت و شوکت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں اسلامی تبرکات کے آثار بھی موجود ہیں۔ تبرکات مقدسہ کا ذکر خیر بھی ان ہی بیش قیمت آثار کے ذیل میں آتا ہے ۔ لاہور میں یہ آثار دو مقامات پر ہیں بازار حکیماں کے فقیر سید مغیث الدین بخاری کے دارالنور میں اور بادشاہی مسجد کے صدر دروازے کی گیلری میں۔ ان تبرکات مقدسہ کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ بھاٹی دروازے سے قدیم لاہور میں داخل ہوں تو کچھ فاصلے پر دائیں جانب ایک بڑی سی حویلی نظر آتی ہے اسے ''فقیر خانہ‘‘ کہا جاتا ہے اس عمارت کو لاہور کا دوسرا بڑا عجائب خانہ تسلیم کیا گیا ہے ۔ یہیں دربار عالی ہے جو کہ فقیر خانہ کا ایک حصہ ہے جہاں تبرکات اپنی اصلی حالت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان تبرکات کی تعداد27 ہے۔ متولی فقیر سید مغیث الدین بخاری مرحوم نے ہزاروں روپے کے تصرف سے دربار عالی تعمیر کیا۔ ان تبرکات میں حضور نبی کریم ﷺ کا موئے مبارک، چادر، تسبیح، مسواک اور جائے نماز شامل ہیں۔ کچھ تبرکات حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت امام حسینؓ، حضرت امام حسن ؓ، حضرت امام زین العابدین ؓ، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرۃؓ اور حضرت سید شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے منسوب ہیں۔ یہاں چار تبرکات ایسے ہیں جو خاندان فقرا کو اپنے مورث اعلیٰ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت بخاری ؒسے ورثے میں ملے ہیں باقی تمام تبرکات وہ ہیں جو شاہ محمد باز سے فقیر سید نور الدینؒ نے تین لاکھ روپے کے عوض حاصل کرکے انہیں ایک خاص عمارت میں محفوظ رکھا اور ان کی دیکھ بھال کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے تقریباً آٹھ لاکھ کی جائیداد بھی وقف کی۔فقیر خانہ عجائب گھر، میں سات ہزار نوادرات موجود ہیں اس کے علاوہ چھ ہزار سکے بھی ہیں۔ سکوں کو ملا کر ان کی تعداد 13 ہزار کے لگ بھگ بن جاتی ہے تبرکات اور نوادرات کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔ خاندانی فقراء کے بزرگ وزیر فقیر سید نور الدینؒ نے 1853ء میں لارڈ لارنس کی فرمائش پر ان تبرکات کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور ان کی تفصیل فارسی زبان میں قلمبند کی۔ یہ سادات خاندان اٹھارویں صدی میں اوچ شریف سے چونیاں اور پھر لاہور آکر آباد ہوا۔ اس دور میں انہوں نے بھاٹی گیٹ سے باہر ایک مدرسہ قائم کیا جہاں دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ تکیہ غلام شاہ کے نام سے مشہور تھا۔ لاہور کے معززین نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو خط لکھا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور ہر قسم کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں اس کے بعد ان بزرگوں میں طبیب بھی تھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی آنکھیں خراب ہوئیں اور اس بیماری سے اس کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی، جب دوسری آنکھ خراب ہونے لگی تو اس نے شاہی حکماء کو علاج کیلئے طلب کیا ان میں خاندان سادات کے بزرگ حکیم فقیر سید غلام محی الدین بھی تھے جنہوں نے رنجیت سنگھ کو بتایا کہ ان کے بیٹے فقیر سید عزیز الدین ان کا علاج کریںگے ان کے ہمراہ حکیم حاکم رائے اور حکیم بشن داس بھی تھے۔ جب مہاراجہ کا علاج شروع ہوا تو فقیر سید عزیز الدین کی شخصیت سے متاثر ہو کر مہاراجہ نے ان سے کہا کہ وہ حکومتی معاملات میں بھی اس کی معاونت کریں۔ سید عزیز الدین دیوان تھے وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی عدالت میں رہے مہاراجہ ان کی خدمت سے متاثر ہوا۔ فقیر سید عزیز الدین کے ساتھ ان کے دو چھوٹے بھائی فقیر سید امام الدین اور فقیر سید نور الدین بھی تھے۔ سید نور الدین نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں پینٹنگز کی ایک نمائش کرائی جس میں لکھنئوکانگڑہ اور جموں و کشمیر کے علاقہ سے بے شمار مصوروں کی پینٹنگز لائی گئیں آج بھی کئی پینٹنگز انہی سے منسوب ہیں۔ اس کے علاوہ کتابیں، ظروف بہت اہم شاہکار ہیں۔ گندھارا تہذیب کے نوادرات میں تاریخی سکے بھی موجود ہیں۔ لکڑی کے ہاتھی دانت کی مصنوعات، پیتل اور تانبے کے کئی شاہکار بھی موجود ہیں۔ فرنیچر کے علاوہ اسلامک آرٹ یا کیلی گرافی کے بہت سے نمونے اس عجائب گھر میں موجود ہیں۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں لاہور میں107 خطاطی کے سکول تھے۔ اس لئے ہر قسم کی پینٹنگز اس عجائب گھر میں موجود ہیں۔ نوادرات کا یہ خزانہ نسل درنسل منتقل ہونے کے باوجود بالکل محفوظ ہے۔ نوادرات سے محبت ان کے خاندان کے خون میں رچی بسی ہوئی ہے۔ فقیر سید نور الدین کے بعد یہ نو ادرات جس کے حوالے ہوئے اس نے نہ صرف پوری ذمہ داری سے ان کی حفاظت کی بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا۔ اس طرح تقریباً اڑھائی سو سال سے یہ خاندان ان تبرکات کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔1901ء میں فقیر خانہ کو عام لوگوں کیلئے کھول دیا گیا۔ آج بھی دنیا بھر سے لوگ اس کو دیکھنے آتے ہیں۔ فقیر خانہ میں سیاحوں کی جو ڈائری رکھی گئی ہے اس کے مطابق اب تک تین لاکھ سے زائد افراد اس عجائب گھر کو دیکھ چکے ہیں۔ فقیر سید سیف الدین نے بتایا کہ ان کے والد فقیر سید مغیث الدین کے پاس نوادرات کا ایک بڑا خزانہ موجود تھا، جگہ نہ ہونے کے باعث بیشتر سامان آج بھی بند پڑا ہے۔1974ء میں سید مغیث الدین نے 500سے زائد نوادرات لاہور عجائب گھر کو بطور امانت دے دیئے تاکہ محفوظ رہیں اور خاص و عام ان سے مستفید ہو سکیں۔ فقیر سید مغیث الدین کے انتقال کے بعد ان کی بیگم کشور جہاں نے فقیر خانہ عجائب گھر کی اپنے بچوں کی طرح حفاظت کی۔ ایک ایک چیز کو اس کی اصلی حالت میں رکھنا، موسمی اثرات اور دیمک سے محفوظ رکھنا بڑے بڑے اداروں کے بس میں نہیں لیکن بیگم فقیر سید مغیث الدین نے بڑی جانفشانی سے ایک ایک چیز کی حفاظت کی اور ان کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ فقیر خانہ عجائب گھر ہر خاص و عام کیلئے کھلا ہے۔ سکالر، محقق، سیاح، طالب علم اور مورخ بھی اس عجائب گھر کو دیکھنے آتے ہیں۔ یہ پاکستان میں ذاتی نوعیت کا واحد عجائب گھر ہے ۔تبرکات کے علاوہ یہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت میں ہونے والی عدالتی کارروائیوں کی تفصیلات اور ان کے فرامین بھی موجود ہیں۔ چار سو سال قبل از مسیح کے سکے اور گندھارا آرٹ کے نمونے بھی موجود ہیں۔ فقیر سید سیف الدین نے بتایا کہ آج بھی اگر انہیں پتہ چلے کہ نوادرات کہیں سے مل سکتے ہیں تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ اسے فقیر خانہ کی زینت بنایا جائے۔شیخ نوید اسلم متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور تاریخی موضوعات پر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں

حکائیت ِ سعدیؒ، مقام احسان

حکائیت ِ سعدیؒ، مقام احسان

کسی بستی میں ایک عالی حوصلہ اور شریف آدمی رہتا تھا جو تنگدست ہونے کے باوجود ہر وقت دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ ایک دن اس کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا اے سخی! میں نے ایک شخص سے قرض لیا تھا وقت پر ادائیگی نہ کر سکا اور اب وہ مجھے قید کروا دینے پر بضد ہے۔اس سوالی نے جتنی رقم مانگی تھی وہ کچھ زیادہ نہ تھی لیکن اس وقت اس شخص کے پاس یہ معمولی سی رقم بھی نہ تھی۔ ایسے لوگوں کے پاس سرمایہ جمع بھی کہاں رہتا ہے۔ ان کی مثال تو بلند پہاڑوں کی سی ہے کہ جو پانی ان پر برستا ہے اسی وقت ڈھلانوں پر بہہ جاتا ہے۔سوالی کو رقم نہ ملی تو قرض خواہ نے اسے قید کرا دیا۔ مردِ سخی کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ قرض خواہ کے پاس گیا اور اس سے درخواست کی کہ آپ نے اپنے جس مقروض کو قید کرایا ہے اسے کچھ دنوں کیلئے آزاد کر دیجئے۔ اگر وہ پھر بھی آپ کی رقم ادا نہ کر سکا تو اس کی جگہ میں قید بھگتنے کو موجود ہوں۔ میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔قرض خواہ نے یہ درخواست قبول کرکے مقروض کو آزاد کر دیا۔ سخی مرد نے اس سے کہا کہ خدا نے تجھے قید سے رہائی بخش دی۔تو یہاں سے بھاگ جا، چنانچہ وہ فرار ہو گیا اور معاہدے کے مطابق قرض خواہ نے اس کی جگہ سخی مرد کو قید کرا دیا۔جب وہ قید کی سختیاں جھیل رہا تھا تو اس کے دوستوں میں سے ایک نے اس سے کہا کہ یہ بات تو دانائی کے مطابق معلوم نہیں ہوتی کہ تم نے پرائی مصیبت اپنے گلے میں ڈال لی جو خطا کار تھا وہ خود اپنے کئے کی سزا بھگتتا۔ سخی مرد نے جواب دیا تم اپنی جگہ ٹھیک سوچ رہے ہو لیکن میں نے جو کچھ کیا ٹھیک ہی کیا۔ وہ بے چارہ سوالی بن کر میرے پاس آیا تھا اور اس کی رہائی کی اس کے سوا کوئی صورت نہ تھی کہ میں اس کی جگہ قید ہو جائوں۔بیان کیا جاتا ہے کہ وہ مرد سخی قید خانے میں ہی مر گیا۔ اس کی رہائی کی کوئی سبیل پیدا نہ ہو سکی۔ بظاہر یہ کوئی اچھا انجام نہ تھا لیکن حقیقت میں اس نے حیات جادواں پا لی۔اس حکایت میں حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے مقام احسان کا حال بیان کیا ہے۔ قرآن مجید میں محسنین کا بہت بڑا درجہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے احسان کی یہ تشریح فرمائی ہے کہ قاعدے قانون کے مطابق اور عام اخلاق کی رو سے انسان پر جو فرض عائد ہوتا ہو اس سے بڑھ کر نیکی کی جائے۔ مثلاً اگر کوئی قرض دار قرض کی رقم ادا نہ کر سکے تو اسے معاف کر دینا نیکی ہے، لیکن اگر معاف کرنے کے علاوہ اس کے ساتھ کچھ اور سلوک بھی کیا جائے تو یہ احسان ہے۔

آدم بیزار

آدم بیزار

میری اس سے دوستی 2003ء میں شروع ہوئی جب یہ ایک بڑے میڈیا گروپ کے ساتھ وابستہ تھا۔ اس کا اور میرا دفتر آمنے سامنے تھے۔ ہم دونوں کے فرصت کے لمحات اکثر اکٹھے گزرتے۔ اگر اور کہیں نہیں تو لاہور پریس کلب ہی اکٹھے ہو جاتے کیونکہ یہ ہمارے دفتروں سے چند قدم کی دوری پر تھا۔ یہ نہ صرف ایک بہت اچھا لکھاری بلکہ کئی کتابوں کا مصنف بھی تھا۔ اس کو تاریخ بالخصوص تاریخ پاک و ہند اور حالات حاضرہ پر بڑا عبور حاصل تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک مرتبہ ایک قومی ادارے کی طرف سے تاریخ پاکستان کے موضوع پر کتاب تحریر کرنے پر اسے سیکنڈ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ بعدازاں اس نے ایک اور میڈیا گروپ جوائن کر لیا لیکن ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ جوں کا توں رہا۔ایک دن جب میں پریس کلب کی ایک تقریب سے فارغ ہوا تو ایک دم ذہن میں آیا کہ کیوں نہ اس سے ملتا چلوں کیونکہ اس کا دفتر یہاں سے کچھ زیادہ دور نہ تھا اس لئے تھوڑی ہی دیر میں میں اس کے دفتر جا پہنچا۔ خلاف توقع اس دن یہ مجھے کچھ ریلیکس دکھائی دیا۔ میں نے بیٹھتے ہی کہا یار اچھی سی کافی بنواؤ۔ کہنے لگا کیوں نہ آج باہر چل کے کسی اچھی جگہ بیٹھ کر گپ شپ کے ساتھ کافی پی جائے؟ تجویز اچھی تھی اس لئے تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں مال روڈ کے ایک کافی ہاؤس پہنچے ہوئے تھے۔ایسا بہت کم ہوتا کہ مال روڈ آ کر میں انارکلی کی ایک تنگ سی گلی میں واقع اولڈ بک شاپس نہ جاؤں۔ کسی زمانے میں اس گلی میں پرانی کتابوں کی بے شمار دکانیں ہوا کرتی تھیں جہاں ہر وقت کتابوں کے شائقین کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔ مگر افسوس اب سوشل میڈیا اور دوسرے پرکشش ذرائع نے نوجوان نسل کو تو کتاب سے بالکل ہی لاتعلق کر کے رکھ دیا ہے۔ جس کے سبب اس ''کتاب دوست مارکیٹ‘‘ کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں اور معدودے چند دکانیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ برسبیل تذکرہ بتاتا چلوں کہ ان دکانوں پر ایسی ایسی نایاب کتابیں بھی ملتی تھیں جن کا انسان تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔ اس مارکیٹ کا سب سے روشن پہلو یہ تھا کہ ہر موضوع حتیٰ کہ میڈیکل سے لیکر انجینئرنگ تک کی نصابی کتابیں ہمہ وقت انتہائی کم قیمت میں دستیاب ہوتی تھیں۔ اور تو اور سیکڑوں ڈالرزکی غیر ملکی کتابوں کے ''پائریٹڈ ایڈیشن‘‘ کی کتابیں محض چند سو روپوں میں طالب علموں کو مل جاتی تھیں۔ گویا شائقین کتب کے ساتھ ساتھ طلباء کے لئے بھی یہ دکانیں کسی نعمت سے کم نہ تھیں۔کافی پیتے پیتے جب میں نے اپنے اس دوست کو اس کتاب گلی جانے کا کہا تو کہنے لگا یار میں تو یہاں بہت باقاعدگی سے آتا رہتا ہوں چلو اٹھو چلتے ہیں۔ کتاب گلی زیادہ دور نہ تھی چنانچہ ہم کچھ ہی دیرمیں وہاں پہنچ گئے۔ ہم مختلف دکانوں کی کتابیں کھنگالتے کھنگالتے اس مخصوص دکان پر آ گئے جسے میں ہمیشہ آخر میں وزٹ کیا کرتا تھا۔ یہ سب سے مختلف نوعیت کی دکان یوں تھی کہ اس پر کتابوں کا ذخیرہ دوسری دکانوں کی نسبت کہیں زیادہ گاہکوں کی تعداد محدود اور دکاندار کا رویہ انتہائی خشک اور بے لچک ۔ لیکن پھر بھی جانے کیوں ہمیشہ سے یہ دکان میری ترجیحات میں شامل رہتی۔ اس دکاندار کا مخصوص انداز یہ تھا کہ یہ ہمیشہ دکان کے داخلی راستے میں ایک سٹول نما نشست پر آڑھا ترچھا بیٹھا ہوتا تھا جس کی نظریں اندر آنے والے گاہکوں اور باہر گلی کے درمیان متواتر گھومتی رہتی تھیں۔ اگر آپ کسی کتاب بارے پوچھ بیٹھتے تو بنا آپ کی طرف رخ کئے جواب دیتا، ''خود ہی ڈھونڈ لو، آگے پیچھے کہیں پڑی ہو گی‘‘۔اگر آپ قیمت کا سوال کرتے تو اس کا جواب ہوتا، ''پہلے صفحے کے اوپر پینسل سے درج ہے‘‘۔ایک مرتبہ ایک نایاب کتاب جس کی مجھے عرصے سے تلاش تھی اچانک نظر آگئی۔ میں نے اس کی قیمت دیکھی تو لکھا تھا، سات سو روپے۔ میں نے کہا محترم یہ تو ''سیکنڈ ہینڈ‘‘ کتاب ہے جبکہ اصل کی قیمت ہی آٹھ سو روپے ہے۔ میری طرف دیکھے بغیر کہنے لگا،''بہتر ہو گا آپ جا کر نئی ہی خرید لیں‘‘۔اس کی شخصیت کا ایک اور پہلو کہ یہ جہاں دیکھ رہا ہوتا تھا دوسرے سے بات کرتے ہوئے بھی اپنا رخ تبدیل نہیں کرتا تھا خواہ اس کی نظریں سامنے دیوار پر ہی کیوں نہ مرکوز ہوتیں۔میں اکثر سوچتا کہ کبھی اس سے اس کی ''آدم بیزاری‘‘ کی وجہ پوچھوں لیکن یہ سوچ کر کہ جو اپنے کاروباری معاملات بارے روکھا سا جواب دیتا ہے، وہ بھلا اپنی ذات بارے کسی کو کیوں کر کچھ بتلائے گا۔آج جانے کیسے میں نے ہمت کر کے اس سے ایک سوال کر ہی ڈالا کہ یہ اتنی ساری کتابیں جو ایک عرصے سے نہیں بک پاتیں ہوں گی تو کیا آپ کو غصہ نہیں آتا؟ چہرے پے ہلکی سی ناگواری لا کر بولا،''بھائی کیوں نہیں آتا‘‘۔ ساتھ پڑی ایک کتاب کو ان دیکھے اٹھا کے ہوا میں لہراتے ہوئے کہنے لگا، ''یہ اور اس جیسی لاتعداد منحوس کتابیں برسوں میرا منہ چڑھاتی رہتی ہیں۔ جس سے مجھے ہمیشہ نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس نے کتاب واپس اپنی جگہ پر پٹخی اور دوبارہ گلی کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھنا شروع کر دیا اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ کتاب میرے ساتھ آئے اسی دوست کی انعام یافتہ کتاب تھی جو کچھ عرصہ پہلے بہترین کتاب کا انعام حاصل کر چکی تھی۔خاورنیازی لاہور میں مقیم ایک سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں)

جب سورج ناراض ہوا! لوگ بدحواس ہوکر گھروں سے نکل آئے

جب سورج ناراض ہوا! لوگ بدحواس ہوکر گھروں سے نکل آئے

آپ نے دن کے وقت مکمل اندھیرے کا سامنا کیا ہے؟ ایسے میں سب کچھ بہت ہیبت ناک لگتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو انسان کو ہر دور میں پریشان کرتی آئی ہے اور اس کے حوالے سے ہمیشہ پراسراریت کو محسوس کیا جاتا رہا ہے۔ آج بھی اگر دن کے اوقات میں کہیں سورج اپنی روشنی سے یکسر محروم ہو جائے تو ہم اس کے نتیجے میں حیران رہ جاتے ہیں اور خوف بھی محسوس ہوتا ہے۔11اگست،1999ء کا دن بھی دنیا کیلئے ایسی ہی حیرت انگیز حقیقت لے کر آیا۔ اس دن جنوبی ایشیا میں سورج گرہن تھا اور تین سے چار منٹ کیلئے آسمان مکمل طور پربے سورج ہو گیا اور تارے نکل آئے۔ یہ منظر دیکھ کر بہت سوں پر ایسا خوف طاری ہوا کہ لوگ سجدے میں گر پڑے۔ پاکستان میں بھی سورج روشنی سے محروم ہوا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ ایسا موقع صدیوں میں کبھی ایک بار آیا کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ سورج کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کے ہوتے ہوئے آسمان تاریک کیوں ہو جاتا ہے؟ اس کی کئی وجوہ بیان کی جاتی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی وجہ اتنی مستند نہیں کہ اس پر آنکھ بند کرکے یقین کر لیا جائے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ زمین 18ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خلا کی وسعتوں میں اڑی جا رہی ہے۔ اس کا سفر مسلسل جاری رہتا ہے اور اس سفر کے دوران کئی سخت مقام بھی آتے ہیں۔ کبھی زمین کسی ستارے یا سیارے کی باقیات سے گزرتی ہے تو اس کے ذرات زمین کی فضا میں داخل ہو کر ایک فلٹر قائم کر دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایسا اندھیرا چھا جاتا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ اس قسم کے کئی واقعات کا ریکارڈ دستیاب ہے اور اس ریکارڈ کا جائزہ بہت سی حیرت انگیز باتوں کو طشت ازبام کرتا ہے۔26اپریل 1884ء کا دن امریکی شہر پریسٹن کیلئے پریشانیاں لایا۔ دن کے وقت ایسا اندھیرا چھایا جیسے کسی نے پوری فضا پر کمبل ڈال دیا ہو۔ لوگ بدحواس ہو کر گھروں سے نکل آئے۔ جانور اپنے لئے مختص جگہوں پر دبک گئے۔ اس صورت حال نے ان لوگوں کو عبادت کرنے پر مجبور کر دیا جو مذہب کی جانب زیادہ جھکائو رکھتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ اب دنیا کا خاتمہ ہونے کو ہے! آٹھ دس منٹ کے بعد سورج کی روشنی بحال ہو گئی اور زندگی معمول پر آ گئی۔ اس واقعے کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی جا سکی۔امریکی ریاست منیسوٹا کے مقام ایٹکن نے بھی 12اپریل1889ء کو یہی منظر دیکھا۔ اس دن سورج سر پر تھا اور اچانک ایسا گھنگھور اندھیرا چھایا کہ لوگ ڈر کے مارے گھروں میں دبک گئے۔19اگست 1763ء کی یہ بات ہے۔ لندن میں زندگی معمول پر تھی کہ اچانک سورج کی روشنی ماند پڑنی شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف ایسا اندھیرا چھایا کہ روشنی کئے بغیر کچھ بھی دیکھنا ممکن نہ رہا۔ ماہرین فلکیات نے حساب لگا کر بتایا کہ اس دن کوئی بھی گرہن نہیں تھا پھر بھی یہ کیوں ہوا، اس کا ماہرین کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔19مارچ1886ء کو اوشکوش، وسکونسن (امریکہ) میں دن کے تین بج کر پانچ منٹ پر مکمل تاریکی چھا گئی اور یہ عالم دس منٹ رہا۔ تاریکی کا یہ سفر کئی شہروں پر محیط تھا۔ مغرب سے سلسلہ شروع ہوا اور کئی مشرقی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لیتا رہا۔ تین گھنٹوں تک یہ آنکھ مچولی جاری رہی۔ کیا سورج کی راہ میں فلکی جسم آ گیا تھا؟ نہیں۔ تو پھر کیا فلکی جسم کی راکھ یا ملبہ؟ اس سوال کا جواب بھی ماہرین نے نفی میں دیا۔ قصہ مختصر یہ کہ اس معاملے کو بھی پراسرار قرار دے دیا گیا۔2دسمبر،1902ء کو میمفس، ٹینیسی(امریکہ)میں صبح کے دس بجے جب لوگ کام پر جانے کیلئے گھروں سے روانہ ہوئے تو اچانک انہیں مکمل تاریکی نے آ لیا اور ایسے میں لوگ اس قدر بدحواس ہوئے کہ بھگدڑ مچ گئی۔ سب ایک دوسرے کو دھکیل کر اپنے اپنے گھر پہنچنے کی فکر میں تھے کہ اگر دنیا کا خاتمہ ہونے کو ہے تو کم از کم گھر والوں کے سامنے تو مرنا نصیب ہو۔ یہ موقع بھی عبادات میں ڈوبنے کا تھا۔ اس کے بعد کئی دنوں تک گرجا گھروں میں حاضری غیر معمولی طور پر زیادہ رہی۔ اس واقعے کی کئی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ لوگوں کو نفسیاتی طور پر سکون فراہم کرنے کیلئے کہا گیا کہ جنگل میں لگنے والی آگ سے دھواں پھیلا اور بلند ہو کر اس نے سورج کے سامنے ایک انتہائی گھنیرا فلٹر قائم کر دیا اور اس کے نتیجے میں سورج کی روشنی کا زمین تک پہنچنا ناممکن ہو گیا۔ ایک اور نفسیاتی وجہ یہ پیش کی گئی کہ ریگستان سے اٹھنے والے ریتیلے بادلوں نے سورج کی روشنی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی۔24ستمبر1950ء کو پورے امریکہ میں سورج کی روشنی اچانک مدھم پڑ گئی اور پھر سورج نیلے رنگ کا دکھائی دینے لگا۔ یہ منظر دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ کسی نے سورج کے سامنے فلٹر لگا دیا ہو۔26ستمبر کو یہی حال انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کا اور اس کے بعد ڈنمارک کا ہوا۔ ڈنمارک میں سورج دو گھنٹوں تک روشنی سے محروم رہا اور اس دوران لوگوں نے یہ سمجھا کہ دنیا ختم ہونے والی ہے اور اسی لئے انہوں نے اپنی رقوم نکلوانے کیلئے بینکوں کے باہر قطاریں لگا دیں۔ چار ممالک میں سورج کے اس طرح روشنی سے محروم ہو جانے کی وجہ یہ پیش کی گئی کہ البرٹا، کینیڈا میں جنگل میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے اٹھنے والے دھویں نے یہ اندھیرا کیا، مگر یہ توجیہ غلط ثابت ہوئی ۔ ایک طرف تو دھواں مغرب کی سمت جا رہا تھا اور اسی دھویں نے مشرق کی جانب بھی سفر کیا۔یہ کیسی ہوا تھی جو بیک وقت دو سمتوں میں بہہ رہی تھی؟(محمد ابراہیم خان متعدد کتابوںکے مصنف ہیں،انہوں نے تحقیقی اور تاریخی موضوعات کا گہرا مطالعہ کررکھا ہے)

لامحدود ہوکر سوچئے! اہداف تعین آپ کی جسمانی و ذہنی توانائی کو بڑھاتا ہے

لامحدود ہوکر سوچئے! اہداف تعین آپ کی جسمانی و ذہنی توانائی کو بڑھاتا ہے

اپنے اہداف کے تعین کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو اپنے ذہن میں موجود ہر قسم کی حدود کو ذہن سے باہر جھٹکنا ہوگا۔ آپ کو سوچنا ہوگا کہ آپ ممکنات کی کائنات میں آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔ آپ کا پہلا کام یہ ہے کہ بڑے خواب دیکھیں اور وہی طے کریں جو آپ واقعی اپنی زندگی میں حاصل کرنا چاہتے ہیں، خواہ اس کا تعلق زندگی کے کسی بھی شعبے سے ہو۔ اس سے پہلے کہ آپ یہ سوچیں کہ کیا ممکن ہے، یہ طے کیجئے کہ کیا درست ہے۔ تصور کیجئے کہ آپ جو کچھ چاہتے ہیں، حقیقتاً وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں، بن سکتے اور کر سکتے ہیں جو آپ چاہتے ہیں۔اوّل، اپنے خوابوں کی فہرست بنایئے۔ عارضی طور پر یہ سوچئے کہ آپ کے پاس وقت، دولت، معلومات، تعلقات، تجربات اور تعلیم کی کوئی حد نہیں ہے۔ تصور کیجئے کہ آپ جو کچھ اس کاغذ پر لکھ سکتے ہیں وہ سب کچھ آپ کیلئے ممکن ہے۔ یاد رکھئے۔ آپ کاغذ پر جو کچھ واضح طور پر لکھتے ہیں وہ ممکن ہے، بشرطہ یہ کہ آپ اس کیلئے کافی طویل اور کافی سخت محنت اور قربانی کیلئے تیار ہیں۔بڑے اور چیلنج والے اہداف لکھنے کا عمل تین کام کرتا ہے۔اوّل: فوری طور پر آپ کے خیالات بہتر ہوتے ہیں اور آپ کی خود اعتمادی کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔اہداف کے تعین کا اقدام خود اعتمادی مانگتا ہے اور اس کے ساتھ خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ جو کچھ چاہتے ہیں، اسے لکھنے کی جرأت آپ کی اس لاشعوری شبیہ کو بہتر کرتی ہے جو آپ نے اپنے تئیں گھڑ رکھی ہے اور پھر خود توقیری (سیلف اسٹیم) میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اہداف لکھنے کا عمل بذات خود شخصی قوت اور قابلیت کا احساس پیدا کرتا ہے۔دوم: آپ اپنی ذہنی اور جسمانی قوتوں کو جلاتے ہیں۔ اہداف کا تعین دراصل آپ کے جسمانی اور ذہنی توانائی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ آپ کے دل کی رفتار اور سانس کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ اہداف کے تعین کا اقدام بہت ہی ولولہ انگیز ہوتا ہے۔ گویا، آپ اپنی جسمانی اور ذہنی قوتوں کی رفتار بڑھا دیتے ہیں۔ اگر آپ یہ کام روزانہ کریں تو نتیجہ حیران کن ہوگا۔سوم: کاغذ پر عہد کیجئے، کاغذ پر ہدف کے تعین کا عہد حیرت انگیز طور پر آپ کے اہداف کے حصول کے امکان میں اضافہ کر دیتا ہے۔ آپ کا ذہن اس انداز سے بنایا گیا ہے کہ وہ ہدف کو واضح طور پر کاغذ پر (اور کمپیوٹر پر بھی) نہیں لکھ سکتا۔ ایسے میں جب آپ ہدف تحریر کرتے ہیں تو یہ اس کے حصول کی اہلیت بھی پیدا کر دیتا ہے۔ایسی کئی ذہنی مشقیں ہیں جو آپ اپنے اہداف کے تعین کیلئے کر سکتے ہیں۔-1تصور کیجئے کہ آپ کے پاس دس لاکھ کا کیش ہے اور آپ اس رقم سے جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب کر سکتے ہیں۔ آپ سب سے پہلے کیا کریں گے؟ آپ کہاں جائیں گے؟آپ اپنی زندگی میں کیا تبدیلیاںلائیں گے؟ اگر آپ کے پاس مکمل معاشی آزادی ہے تو آپ اب کے مقابلے میں کیا مختلف انداز سے کریں گے؟-2اپنی مثالی زندگی واضح کیجئے۔ تصور کیجئے کہ آپ اپنی مثالی زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ ملک کے کس حصے میں رہنا پسند کریں گے؟ آپ کس قسم کی کمپنی میں کام کرنا پسند کریں گے؟ آپ کس قسم کی رہائش اور کار چاہیں گے؟ آپ اپنا وقت اور زندگی کیسے گزارنا چاہیں گے؟ آپ کس قسم کے تعلقات چاہیں گے؟-3اپنے آپ سے پوچھئے کہ اگر آپ کو پتا چلے کہ آپ کے پاس مزید زندہ رہنے کو صرف چھ ماہ باقی ہیں تو آپ کیسی زندگی گزاریں گے؟ اگر آپ کی زندگی میں کوئی حدود نہ ہوں تو آپ یہ چھ ماہ کیسے گزاریں گے؟ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ آپ خود سے پوچھیں۔'' میرے لئے کیا اہم ہے‘‘؟ آپ یہ وقت کس کے ساتھ گزارنا پسند کریں گے؟ آپ کیا کرنا چاہیں گے؟-4اپنی زندگی کی تمام پریشانیوں اور مسائل کی فہرست بنایئے اور ایک ایسا ہدف لکھئے ۔ اگر پیسہ مسئلہ ہے تو وہ مقدار لکھئے کہ آپ کو کتنی رقم کی ضرورت ہے؟-5اپنی فیملی اور رشتے داروں کے بارے میں سوچئے اپنے خاندان کی مثالی کیفیت بیان کیجئے اور فرداً فرداً تمام رشتے داروں، خاص کر قریبی رشتے داروں سے اپنے تعلق کو واضح کیجئے کہ وہ کیسا ہونا چاہئے۔-6اپنی صحت کی طرف دیکھئے۔ بیان کیجئے کہ آپ کیلئے مثالی صحت اور تندرستی کیا معنی رکھتی ہے۔ پھر اس معیار کے مطابق اپنی صحت و تندرستی کے حصول کا پلان بنایئے۔-7اس شخصیت (ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر) کی وضاحت کیجئے جیسی شخصیت آپ خود کو بنانا چاہتے ہیں۔ پھر اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ نمو کیلئے پلان بنایئے کہ آپ کیوں کر مطلوبہ شخصیت پا سکتے ہیں۔ ان مشقوں کے بعد کہ جب آپ نے اپنے اہداف لکھ لئے ہیں۔ اگلا مرحلہ ان اہداف کو زندگی کے اہم شعبوں میں تقسیم کرنے کا ہے۔ انسانی زندگی کے چھ بنیادی شعبے ہیں ۔-1روحانی اہداف-2معاشی اور مادی اہداف-3خاندان اور ذاتی اہداف-4صحت اور تندرستی کے اہداف-5خود نموئی(سیلف امپروومنٹ) اور تعلیمی اہداف-6سماجی اور معاشرتی اہدافاپنی زندگی میں بہترین کرنے کیلئے آپ کو اپنی زندگی میں توازن رکھنا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان تمام شعبوں میں آپ کے کچھ اہداف ضرور ہوں تاکہ آپ تمام اہم شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہوں۔