حلقۂ اربابِ ذوق
اسپیشل فیچر
دبستان ِلاہور کی قدیم تنظیم و تحریک ’’حلقۂ اربابِ ذوق‘‘ ایک جمہوری اور خالص ادبی پلیٹ فارم ہے۔ ’’حلقۂ اربابِ ذوق‘‘ میں آزادیٔ اظہار وہ بنیادی عنصر ہے، جس کی وجہ سے حلقہ(قیام: 29 اپریل 1939ء) اپنی عمر کے 74برس مکمل کرنے کے بعد آج بھی توانا اور فعال ہے۔ ’’ حلقۂ اربابِ ذوق‘‘ کی تاریخ کو معروضی انداز میں پرکھنے کے لیے اب ایک پیمانہ ’’تاریخ ِ حلقۂ اربابِ ذوق‘‘ کتابی صورت میں منظر عام پر آ چکا ہے ،جو دراصل معروف افسانہ نگار و ڈراما نویس یونس جاوید کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع تھا ، جس پر پنجاب یونی ورسٹی نے اُنھیں ڈاکٹریٹ کی سند عطا کی ہے ۔’’حلقۂ اربابِ ذوق‘‘ اور پاک ٹی ہاؤس دونوں کا نام لازم و ملزوم ہے۔گذشتہ دنوں حلقۂ اربابِ ذوق(ٹی ہاؤس) کے سیکریٹری ڈاکٹر غافر شہزاد نے حلقہ کی مجلس عاملہ : زاہد مسعود، اعجاز رضوی اور شاہدہ دلاور شاہ کی منظوری سے اس کے اجلاس منعقدہ (12 مئی تا 29 دسمبر 2013ء) کی سالانہ روئداد شائع کی ہے ،جس کے مطابق خصوصی اجلاس:بیادِاحمد ندیم قاسمی، اختر حسین جعفری،عید ملن مشاعرہ۔خصوصی مضامین: ڈاکٹر طاہر حمید تنولی(اقبال اور تصوف) ڈاکٹر جواز جعفری: (کلاسیکی موسیقی میں گھرانے کا تصور) ڈاکٹر غافر شہزاد:( تعزیہ:فن اور روایت)حامد سعید اختر:(نظریہ وحدت الوجود کی فکری اساس) اکرم شیخ: (بلھے شاہ کا صوفی نظریہ)ناول:علی نواز شاہ(پتلے)، آزاد مہدی( فٹ پاتھ کی گھاس)شعری کتب :خالد احمد (تشبیب) ، سونیا خان(آدھی صدی میں کتنی صدیاں) قابل ِ ذکر ہیں۔رپورٹ کے مطابق حلقہ کا پہلا اجلاس ڈاکٹر خواجہ محمدزکریا کی زیر صدارت 12مئی الحمرا ادبی بیٹھک میں ہوا ۔قائم نقوی مہمان ِخصوصی تھے۔ اس اجلاس کے شروع میں ڈاکٹر غافر شہزادنے سابقہ مجلس عاملہ و سیکریٹری کی جانب سے کی جانے والی آئینی بے ضابطگیوں اور اس کے سبب پیدا ہونے والی صورتِ حال اور عدالتی کاروائی کے بارے میں جملہ حقائق سے اراکین حلقہ کو آگاہ کیااور غیر ادبی، غیر آئینی اقدام کے ذمہ داروں کے خلاف قرار دادِ مذمت پیش کی گئی،بعدازاں موجود شعرا نے اپنا اپناکلام سنایا۔حلقہ ٔ ارباب ِ ذوق کا دوسرا اجلاس تھا،جو ڈاکٹر اختر شمار کی صدارت میں 19 مئی کو ہوا،جس میں افسانہ ’’ درد آشنا‘‘ محمد جواد نے جب کہ غزل جاوید قاسم اور نظم شفیق احمد خان نے پیش کی۔ اس اجلاس میںبزرگ شاعر ذوقی مظفر نگری کے وصال پر قرار داد تعزیت اور فاتحہ خوانی کروائی گئی۔حلقہ کاتیسرا اجلاس فرحت عباس شاہ کی صدارت میں26 مئی کو ہوا ۔ آزاد مہدی نے اپنے زیر طبع ناولـ’’ ریلوے لائن کی گھاس‘‘ کا پہلا باب جب کہ نون عین صابر نے افسانہ’’ شانتیــ‘‘ اور منظر حسین اختر نے نظم پیش کی۔حلقہ کا چوتھا اجلاس غلام حسین ساجد کی صدارت میں 2جون کو ہوا۔ محمد حسن رائے نے طویل مختصر افسانہ، نوید صادق نے نظم ’’میری آواز سن‘‘ اور کامران ناشط نے غزل برائے تنقید پیش کی۔ اختتام پر انور زاہد اور رائے محمد خان ناصر سے کلام سنا گیا۔حلقہ کا پانچواں اجلاس ڈاکٹر امجدطفیل کی صدارت میں9 جون کو ہوا، جس میں انشائیہ علی اصغر چوہدری، غزل وقاص عزیز جب کہ نظم احسان الحق مظہر نے پیش کی۔ حلقہ کا چھٹا اجلاس شفیق احمد خان کی صدارت میں 16 جون کو ہوا۔ محمد علی نے افسانہ، ڈاکٹر خالد جاوید جان نے نظم اور کوثر ایمن نے غزل برائے تنقید پیش کی۔ اختتام پر جواد شیخ (اوسلو)اور ریاض ندیم نیازی (بلوچستان)سے اُن کا کلام سنا گیا۔حلقہ کا ساتواںاجلاس ڈاکٹر جواز جعفری کی صدارت میں23 جون کو ہوا۔ ذوہیب یاسر نے افسانہ ’’ـہار آشنا نہیںـ‘‘ تصدق شعار نے نظم ’’ٹھہرا ہوا دن‘‘ اور خالد نقاش نے غزل برائے تنقید پیش کی۔ اختتام پر روس میں رہائش پذیر پا کستانی نژاد شاعرہ وشمہ خان وشمہ سے کلام سنا گیا۔حلقہ کا آٹھواں اجلاس اعتبار ساجد کی صدارت میں30 جون کو ہوا۔ شاہدہ دلاور شاہ نے افسانہ’’پہچانـ‘‘ طاہرناصرعلی نے نظم ’’مجھے ملتی نہیںفرصت ذرا بھی‘‘ اور آفتاب کاوش نے غزل برائے تنقید پیش کی۔ حلقہ کا9واں اجلاس ڈاکٹر اخترشمار کی صدارت میں7 جولائی کو ہوا۔ ڈاکٹر آغا سلمان باقر نے انشائیہ ’’گدھیـ‘‘ اورعمرانہ انعم نے غزل برائے تنقید پیش کی۔ ڈاکٹر آصف فرخی سے انتظار حسین کے ناول ’’ـبستی‘‘ــ ـ کی انٹرنیشنل بکرز پرائزکے لیے نامزدگی کے حوالے سے انگلینڈ میں منعقدہونے والی تقریب کی روئداد سنی گئی۔حلقہ کا10واں اجلاس14 جولائی کو عباس تابش کی صدارت میں ہوا۔ رحمان فارس نے پانچ غزلیں اور جاوید اطہر نے مضمون بعنوان ـ ’’ـــپاکستان میں لوک داستانیں - ایک مطالعہــ‘‘ برائے تنقید پیش کیا۔حلقۂ اربابِ ذو ق کا 11واںاجلا س پروفیسر ڈاکٹر ضیاالحسن کی صدارت میں21جولائی کو الحمرا ادبی بیٹھک میں اختر حسین جعفری کی یاد میں منعقد کیا گیا۔ منظر حسین اختر نے اختر حسین جعفری کی چند نظمیں پڑھ کر سنائیں۔ پروفیسر ناہید اختر نے مضمون بعنوان ـ ’’ـــاختر حسین جعفری کی شاعری میں آہنگ کی موزونیت‘‘پیش کیا۔ حلقہ کا 12واں اجلا س ڈاکٹرمحمد اجمل نیازی کی صدارت میں28 جولائی کو ہوا۔خصوصی اجلاس میں ’’اقبال اور تصوف‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر طاہر حمید تنولی نے اپنا مضمون پیش کیا، جس پر بعد میں گفت گو ہوئی۔حلقہ کا13واں اجلا س ڈاکٹرخواجہ محمد زکریا کی صدارت میں4اگست کو ہوا۔ خصوصی اجلاس کا موضوع خالد احمدکے نعتیہ قصائد ’’تشبیبـ ‘‘ تھا۔حلقہ کا14واںخصوصی اجلا س، عید ملن مشاعرہ نجیب احمدکی صدارت میں 11اگست کو ہوا، جس میں حاضرشعرا نے اپنا اپناکلام سنایا۔حلقہ کا 15واں اجلاس فرحت عباس شاہ کی صدارت میں18اگست کو ہوا۔ ریحان اظہر نے افسانہ ’’محبت یہ کیسی محبتـ‘‘ جب کہ کنور امتیاز احمد نے اپنی چھ غزلیں برائے تنقید پیش کیں۔حلقہ کا 16واں اجلاس ذکا الرحمن کی صدارت میں 25اگست کو الحمرا میں ہوا۔ نعمان منظور نے افسانہ ’’تابوتـ‘‘ جب کہ محمد عاصم بٹ نے افسانہ ’’دھند‘‘ برائے تنقید پیش کیا۔ حلقہ کا17واں اجلاس ڈاکٹر ناہید شاہد کی صدارت میں یکم ستمبر کو ہوا۔ علی نواز شاہ نے اپنے زیرطبع ناول ’’پتلے‘‘ کا ایک باب تنقید کے لیے پیش کیاجب کہ آفاق نے اپنی چھ غزلیں برائے تنقید پیش کیں۔ حلقہ کا 18واں اجلاس اعجاز رضوی کی صدارت میں8 ستمبر کو ہوا۔عقیل اختر نے غزلیں برائے تنقید پیش کیں۔حلقہ کا 19واں اجلا س ڈاکٹرناصر عباس نیّر کی صدارت میں14ستمبر کو ہوا۔ اس خصوصی اجلاس میں نیر مسعود کا افسانہ ’’ مسکن ‘‘ علی نواز شاہ نے افسانہ پڑھ کر سنایا جب کہ ڈاکٹر ضیاء الحسن نے تنقیدی مضمون میں افسانے کے مختلف پہلووں پر بحث کی ۔آخر میںمعروف افسانہ نگار احمد ہمیش کی وفات پر فاتحہ خوانی کی گئی ۔حلقہ کا20واں اجلاس محمد انور زاہد کی صدارت میں پاک ٹی ہاوس میں22ستمبر منعقد ہوا۔ خالد نقاش نے اپنی چار غزلیں جب کہ سلیم سہیل نے اپنا مضمون ’’ داستان، نقاد اور ہماری تہذیبی یاداشت‘‘ تنقید کے لیے پیش کیا۔21واںاجلا س کرامت بخاری کی صدارت میں29 ستمبر کو ہوا۔ اس اجلاس میںڈاکٹر سعیداحمدکے مضمون ’’اُردو شعرا کا سائنسی شعور‘‘ کا تنقیدی جائیزہ لیا گیا جب کہ حسنین بخاری نے سائنسی شعور کے موضوع پر اپنی نظمیں سنائیں۔ 22واں اجلا س6 اکتوبر کو ڈاکٹر آغا سلمان باقر کی صدارت میں ہوا۔ اعجاز فکرال نے افسانہ ’’خواب سے حقیقت تک‘‘ جب کہ محمد ندیم بھابھہ نے چار غزلیں تنقید کے لیے پیش کیں۔23واں اجلا س ڈاکٹرایوب ندیم کی صدارت میں13اکتوبر کو ہوا۔ کہانی گو آفتاب کمذات نے اپنی کہانی ’’ لالکڑتی‘‘ سنائی جب کہ تصدق شعار نے اپنی چار غزلیں تنقید کے لیے پیش کیں۔ 24واں اجلا س سعداللہ شاہ کی صدارت میں20اکتوبرکو ہوا۔ اعجاز رضوی نے خاکہ’’ چاچا گھوڑی‘‘ جب کہ حسنین سحرؔ نے اپنی دو غزلیں اور دو نظمیںتنقید کے لیے پیش کیں۔ حلقہ کا 25واں اجلا س ڈاکٹر طارق عزیز کی صدارت میں 27 اکتوبر کو ہوا۔ سعید ابراہیم نے افسانہ ’’پاکستان کا مطلب کیا‘‘ جب کہ آفتاب خان نے اپنی چار غزلیں تنقید کے لیے پیش کیں، آخر میںکینیڈا سے مہمان شاعر افضال نوید سے کلام سنا گیا۔حلقہ کا26واں اجلا س آصف بھلی کی صدارت میں 3نومبرکوہوا۔ اظہر حسین نے افسانہ’’ زندگی تم بھی ناں‘‘ جب کہ شناور اسحاق نے اپنی چار غزلیں تنقید کے لیے پیش کیں۔ آخر میں پروفیسر ڈاکٹر صدیق جاوید کی شخصیت و فن پر ڈاکٹر خواجہ زکریا نے مختصر گفت گو کی اور اُن کے انتقال پر حلقہ میں قرا داد تعزیت پیش کی گئی۔27واںاجلا س غلام حسین ساجدکی صدارت میں10 نومبرکو ہوا۔آزاد مہدی نے اپنے نئے غیر مطبوعہ ناول کا ایک باب جب کہ افضال نوید نے اپنی چار غزلیں تنقید کے لیے پیش کیں، آخر میں آزاد کشمیر سے مہمان شاعر احمد عطااللہ سے کلام سنا گیا۔ 28واں اجلا س حسن عسکری کاظمی کی صدارت میں17 نومبر کو ہوا۔ فرحت عباس شاہ نے سلام جب کہ ڈاکٹر غافر شہزاد نے اپنا مضمون ’’تعزیہ: فن اور روایت‘‘ تنقید کے لیے پیش کیا۔سید شہر یار زیدی، محمد عباس مرزا اور حسن عسکری کاظمی سے سلام سنا گیا۔29 واں اجلا س ’’بیادِ احمد ندیم قاسمی‘‘، ڈاکٹر ناہید قاسمی کی صدارت میں24 نومبرکومنعقد ہوا،جس میں شاہدہ دلاور شاہ نے احمد ندیم قاسمی کا سوانحی خاکہ اور راجا نیّر نے تاثراتی مضمون پیش کیا، بعد ازاں حلقۂ اربابِ ذوق، کراچی کے سیکریٹری عقیل عباس جعفری سے کلام سنا گیا۔حلقہ ٔ ارباب ِذوق کا30اجلاس ڈاکٹر خواجہ محمدزکریا کی صدارت میں یکم دسمبر کو ہوا۔ مختار جاوید نے غزلیں جب کہ ڈاکٹر جواز جعفری نے مضمون ’’کلاسیکی موسیقی میں گھرانے کا تصور‘‘ تنقید کے لیے پیش کیا۔31واںخصوصی اجلاس ’’آدھی صدی میں کتنی صدیاں‘‘ کے حوالے سے اصغر ندیم سیدکی صدارت میں 8دسمبر کو ہوا۔ 32واں اجلاس15 دسمبرکو ہوا۔ حامد سعید اختر نے ’’نظریۂ وحدت الوجود کی فکری اساس‘‘ کے موضوع پر تفصیلی گفت گو کی۔ ڈاکٹر انوار احمد (امریکا) اور سکھندر (کینیڈا) سے کلام سنا گیا۔ 33واںاجلاس فرحت عباس شاہ کی صدارت میں 22 دسمبرکو ہوا۔ اکرم شیخ نے مضمون ’’بلھے شاہ کا صوفی نظریہ‘‘ جب کہ افضل ساحرؔ نے دوہے تنقید کے لیے پیش کیے ،مہمان شعراتاشی ظہیراور احمد نعیم ارشد(شکر گڑھ) سے کلام سنا گیا۔ حلقہ کا34 واں اجلاس29 دسمبرکو سرفراز سید کی صدارت میں ہوا۔منصور احمد نے نثری نظمیں جب کہ محمد ہمایوں نے خاکہ ’’ وزیر آغا : ادب کی یونی ورسٹی‘‘ تنقید کے لیے پیش کیا۔ (حلقہ ٔاربابِ ذوق (ٹی ہاؤس) کے اجلاس ہر اتوار باقاعدگی سے پاک ٹی ہاؤس کے بالائی حصہ میں منعقد ہوتے ہیں جب کہ حلقہ ٔ اربابِ ذوق کے دوسرے گروہ کے اجلاس ایوانِ اقبال،ایجرٹن روڈ منعقد ہوتے ہیں)۔٭…٭…٭