یہ پر کشش زمین
اسپیشل فیچر
برصغیر براعظم ایشیا میں ایک بڑا جزیرہ نما خطہ ہے جو بحر ہند کے شمال میں ہے۔ اس خطے کو برصغیر اس لئے کہا جاتا ہے کہ جغرافیائی اور علم ارضیات کے مطابق یہ براعظم کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے۔برصغیر میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال اور سری لنکاشامل ہیں۔ برصغیر کسی براعظم سے منسلک ایک وسیع علاقے کو کہتے ہیں تاہم برصغیر کی کوئی واضح تعریف نہیں۔ برصغیر کسی پہاڑی علاقے یا زمینی پرت کے ذریعے براعظم سے جدا علاقے کو کہہ سکتے ہیں تاہم عام طور پر برصغیر کا مطلب جنوبی ایشیا یا برصغیر پاک و ہند لیا جاتا ہے۔قشر زمین کی ساخت کے علم کے مطابق کسی چھوٹی براعظمی پرت کے کسی بڑی پرت سے ملنے کے مقام کو برصغیر کہہ سکتے ہیں اس طرح برصغیر انڈین پرت اور عربی پرت پر واقع ہے اور برصغیر کہلاتا ہے۔برصیغیر کی زمین کی تاریخ کی اہم بات یہ ہے کہ آریائوں کے یہاں قدم جمانے سے پہلے سندھ دریا کے آس پاس دنیا کی بہت ہی قدیم تہذیبوں میں سے ایک موجود تھی جس کو ہم اب وادیِ سندھ کی تہذیب کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے آثار صوبہ سندھ میں خصوصی طور پر موئن جو داڑو کے مقام پر موجود ہیں۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں کی ایک ایسی تہذیب تھی جہاں خصوصا ًشہر کی منصوبہ بندی اور دوسری سہولتوں کی فراہمی کا ایسا بندوبست کیا گیا تھا کہ ہم اس زمانے کے لوگوں کی فراست کے قائل ہو جاتے ہیں۔ شہر کی گلیاں رات میں روشن رہتی تھیں ، شہر میں پانی کی فراہمی کا انتظام تھا، اور گندگی کے نکاس کے لئے نالے تھے۔ گھروں میں کنوئیں، غسل خانے، باورچی خانے، اورصحن بھی ہوتے تھے۔ وہاں ایک عمارت ایسی پائی گئی ہے جو شاید ایک مدرسہ تھا یا خانقاہ۔ سردار، پجاری، اور رقاصہ کے مجسمے بھی پائے گئے ہیں۔ پھر انہی آریائوں نے جنہوں نے اس زمیں کو سندھ کے نام سے پکاراتھا اس کی تہذیب کوتباہ و بربادکر کے ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ خشک سالی، بیماریوں کا حملہ، یا منگولوں کی یورش کی وجہ سے یوریشیا کے میدانوں سے اتر کر یہ غیر تہذیب یافتہ قوم جتھے کا جتھہ مغرب میں یورپ اور جنوب مشرق میں ایران، ترکی اور ہندوستان میںمنتقل ہو گئی اور دنیا کی تاریخ کوایک نیا رخ دے گئی۔ وہ بانس اور لکڑی کے بنائے گھروں میں رہتے تھے۔ مویشی اور خصوصی طور پر گھوڑے انکی دولت تھے۔ہندوستان کو اس وقت گھوڑوں سے واقفیت نہیں تھی اور ان گھوڑوں نے وادی سندھ کے لوگوں کو مغلوب کرنے میں بڑی مدد کی۔ ان کا سب سے بڑا تہذیبی اثاثہ ان کی بولنے والی زبان سنسکرت تھی۔ وہ لکھنا نہیں جانتے تھے۔برصغیر لاکھ اسکوائر میل سے زیادہ علاقے پر محیط ہے۔ ہندو کش اور بلوچی پہاڑیوں کا سلسلہ مغرب میں اور برما کی پہاڑیاں مشرق میں ، اور ان دونوں کناروں کو ملاتے ہوئے شمال میں عظیم کوہ ہمالہ ایک پتھر اور برف کی دیواربن کرکھڑا ہے جو اس وسیع ملک کو قطب شمالی کی برفیلی ہوائوں اورشمال سے حملہ اوروں سے محفوظ بنائے ہوئے ہے۔ اس تکونے ملک کی جنوبی نوک بحر ہند میں جاملتی ہے جس کے مغرب میں بحیرہ عرب اور مشرق میں بحیرہ بنگال ہے۔ اس خطے کو تین جغرافیائی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ متوازی یا افقی طور پر مغر ب سے مشرق کی سمت شمال میں پہاڑی علاقہ ہے، درمیان میں دریائے سندھ اور گنگا کا میدانی علاقہ اور اسکے بعد جنوب میں دکن کا سطح مرتفع ہے۔ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب دونوں ہی سمت بر صغیر پھیلا ہو اہے۔اس وسیع زمین پر ہر طرح کی جغرافیائی خصوصیات دیکھنے کو ملتی ہیں۔اونچے نیچے پہاڑ، سطح مرتفع ، ہر سمت میں بہتی ہوئی ندیاں، گھنے جنگلات،ذرخیز میدانی علاقے، بارانی زمینیں، اورریگستان… دنیا میں سب سے زیادہ بارش کا علاقہ بھی یہاں ہی ہے۔ یہ ایک پر کشش دنیا ہے جس نے ہر طرح کے لوگوں میں ایک جادو کی لہر دوڑا دی ہو اور وہ اس کی طرف کھینچتے چلے آتے ہیں۔ بلا مقصد آنے والے، بس جانے والے، حملہ آور، تجارت کی غرض سے آنے والے، فتح کرنے والے، اور اس کو اپنی کالونی بنانے والوں میں آریائی، یونانی، ساکا، اشکانیاں، کشن، ہن، عرب، ترک، افغان، پرتگالی، ولندیزی، فرانسیسی اور انگریزسب ہی شامل ہیں۔یہ بھی ایک خوبی کی بات ہے کہ ہرآنے والے نئے رنگ ونسل، تہذیب و تمدن، ر سم و روایات، زبان اور مذہب کی دولت بھی اپنے ساتھ لائے۔ پھر یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ اس کی تصویر کے بڑے پردے پرمختلف رنگ کے چھوٹے چھوٹے بیشمار مناظر پھیلے ہوئے ہیں، اور ان میں ہر ایک اپنی خوبصورتی میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہر زمانے میں اس زمین کی ذرخیزی، گھنے جنگلات، کم آبادی، ابلتی ندیاں، دودھ دینی والی گائیں اور بھینسوں کی بہتات، کھیتی میں مدد کرنے والے جانور، معدنیات کی فراوانی، تجارتی راستوں کی سہولت، اور سونے اورجواہرات کے ذخیروں کی کہانیاں باہر سے لوگوں کو اپنی طرف بلاتی رہیں اور دوسری طرف ہندوستان سے ملحقہ علاقوں میں ذرائع سے زیادہ آبادی اور خشک اور نا قابل زراعت زمینوں نے لوگوں کو اس کی ہریالی اورذرخیز ی کی طرف دھکیلا ہے۔